تازہ ترین
میری خاک وطن ماتم کناں نہ ہو
الطاف جمیل ندوی
آج صبح سویرے اٹھ کھڑا ہوا تو اخبار کی محبت میں اخبارات کی تلاش کرنے چل پڑا اخبارات کی کچھ کاپیاں لیں اور ورق گردانی کے لئے اپنے مخصوص کمرے میں جاکر بیٹھ گیا نگاہوں میں اب میں نیند کے ہلکے ہلکے سے اثرات تھے اخبارات میں اول اکثر کالم نگاروں کی نگارشات دیکھنے کو اولین ترجیح دینا اب مزاج کا حصہ سا بن گیا ہے اسی لئے مخمور سی کیفیت میں کالموں کے حصے کو دیکھنا شروع کیا پر خمار آلود نگاہوں نے سرکانا شروع کیا کمبل جو کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا تو اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جو کہ 11جولائی کو ایک مقامی اخبار میں شائع ہوئی ایک خبر ہے .
منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ایک سروے رپورٹ میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں ۔نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیرو سائنس رپورٹ میںیہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت2+10ہے جبکہ 20فیصد گریجویٹ اور10فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔اعدادوشمار سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں .
میں اچھل پڑا نیند غائب ہوگئی دل اداس ہوگیا کہ ہائے ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے کس نے اسے اس ذلت کی دلدل میں دھکیل دیا خیالون ہی خیالوں میں میرے اک معصوم سی صورت نگاہوں کے سامنے کھڑی ہوگئی یہ ایک اچھے خاندان کا جیالا اور لاڑلا معصوم سا نوجوان تھا جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی جس کے جسم پر ہلکی سی خراش سے بھی اس کے گھر میں چیخیں بلند ہوتی تھیں اپنے والدین کی وہ اکیلی اولاد تھی جو جی چاہتا وہ اسے ملتا یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھا اپنے والدین کے لئے شکل و صورت بھی حد سے زیادہ دینے والے نے دی تھی اسی لئے تو ہر نگاہ اس پر پڑھ کر نگاہ کے مالک کے دل میں ہوں سی اٹھا دیتی تھی نگاہ اس پر پڑھ تو جاتی تھی پر ظالم نگاہ ہٹائے سے بھی نہ ہٹتی تھی اسے بھی ناز تھا اپنے حسن و شباب کے نکھار پر آہستہ آہستہ اس کے قدم جوانی کی دہلیز پر پڑھنے لگئے تو اس کی شوخیاں اور بھی بڑھنے لگیں اب اس کا حلقہ یاراں بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا والدین نے کبھی کوئی روک نہ لگائی سوچا یہ محو پرواز ہے تو خوب اڑے ستاروں سے کھیلے اک روز انہی خوشیوں کے درمیان اس کے والد ایک ایکسیڈنت میں مالک کو پیارے ہوگئے اسے دکھ تو ہوا پر محفل میں شامل دوستوں نے اس کے غم کا مداوا بتا دیا کہ آئے ہمارے دوست ہم تیرے غم کو چل کافور کرتے ہیں تو جام چڑھا ہم بھر دیں گئے پھر کیا تھا اسے غم کے رفع کرنے کا ایک ایسا طریقہ ملا جو اس کی بربادیوں کی ایک دلخراش داستان الم سنانے والا تھا اب جام کے ساتھ انجیکشن مل گئے پھر پوڑر اور پھر اس کی کربناک ازیتوں کا سلسلہ چل پڑا نہ نیند نہ آرام نہ سکوں جسم کی ہیت بھی بدلنے لگئی اعضاء جسمانی مضحمل ہاتھ پاؤں میں مسلسل درد کی ٹھیس جوانی میں ہی چہرے کی رونق غائب بے نور سی آنکھیں ماتھے کی شکنین اس کی بدحالی کی چغلیاں کھانے کو کافی تھیں چڑ چڑا پن نفرت و کدورت بھرا جگر اپنے ہی خیالات میں مگن بال بکھرے ہوئے دنیا کی ہر خوشی سے ناواقف وہ کش لگاتا نوجوان والدہ اس کی حالت کو دیکھ دیکھ کر خون کے آنسو روتی رہتی پر اس پر اثر نہ ہورہا تھا کبھی کسی نالی سے ماں اٹھاتی تو کبھی کسی کیچڑ کے ڈھیر سے امی کے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہ تھے جو اسے کبھی جی بھر کر دیکھنے کے متمنی ہوا کرتے تھے وہ اب نگاہیں نیچی کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے .
اس کے رگ و پے میں سرایت ہوئی وہ نشے کے اجزاء اسے تباہ کرگئے تھے وہ دوست جن کا یہ کبھی اپنا تھا سب اسے بے یار و مددگار چھوڑ چکے تھے والدہ کے بازو بھی کمزور ہوکر اسے سہارا دینے کے لئے ناکافی سے تھے جب والدہ کے بازؤں میں اسے سہارا دینے کی سکت نہ رہی تو یہ اب گندی نالیوں اور کیچڑ کے ڈھیروں کی زینت بنتا گیا پھر وہ دن بھی آئے کہ اک روز شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں اس کی امی اس کے قدموں کو چوم چوم کر رو رہی تھی پر اس کا وہ نور نظر لخت جگر بے ہوش و حواس پڑا ہوا تھا اور پھر اپنی امی کے کمزور بازؤں کے سہارے اک روز مٹی کے ڈھیر تلے دب گیا،یہ کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ کچھ سال پہلے ایک نحیف و نزار بھیک مانگتی اک خاتون بے سنا دی اپنی درد میں ڈوبی داستان جس کے ہاتھوں میں ہی نہیں انگ انگ میں لرزہ تھا پر اسے جینے کو مجبور اس کی سانسیں کر رہی تھیں ورنہ اس کے لخت جگر نے تو اسے کب کا مزار پہنچا دیا تھا تو ائے میری ملت کے پاک باز شاہین صفت نوجوانو میں تم سے مخاطب ہوں آئے میرے جگر کے ٹکڑو تم سے کہتا ہوں میری ملت کے خیر خواہو تم میرے مخاطب ہو …
پڑھ سکو تو پڑھو نا میرے دل کی صداؤں کو
مولائے کریم گواہ ہے میں اس سرمایہ کے غم میں اداس ہوں میری اجڑی بستی میں ماتم کناں ہوں میرے یہ جگر کے ٹکڑے میں شرمندہ ہوں میں نے ہی تو ان کا خیال نہ کیا جو یہ ظلمت کے شکار ہوگئے میں نے ہی تو انہیں برائی کی دلدل میں جانے دیا ہائے میری بربادی ہائے میری بے کسی
ائے قوم کے بچو میں شرمندہ ہوں
مجھے معاف کرکے اپنا کل سنوار دو نا
ہائے میری قوم کا سرمایہ کس طرح اپنی زندگیوں سے کھیل رہا ہے کس طرح اپنی خوشیوں کو آگ کی لپیٹ میں دے رہا ہے آئے میری ملت و قوم کے پاسبانو اٹھتے کیوں نہیں چلاتے کیوں نہیں
سامنے آتے ہو کیوں نہیں
دل تمہارے پرسکون ہیں کیونکر
ہائے تمہیں نیند کیسے آتی ہے
اف اداس ہوں کہ تم مسکراتے کیسے ہو
ہائے میں کیا کہوں کچھ تو سوچو
سامنے تو آؤ
میرے بچے بک رہے ہیں اپنی جاوانیاں برباد کر رہے ہیں
کوئی تو انہیں گلے لگائے کوئی تو ان کا مسیحا بن جائے
کیا یہ تمہارے بچے نہیں ہیں چلے آؤ ان بچوں کو بچانے کی فکر لے کر
میں اپنے ان لخت جگروں کو ہرگز نہ کوسوں گا ان پر الزام نہ دوں گا یہ میری بے بسی ہے یہ میری خطا ہے
یہ اجتماعی سطح پر غلطی ہے جو میرے بچے اس لعنت کا شکار ہوگئے یہ حالات و حوادث کا شاخسانہ ہے کہ میری ملت کی کوکھ اجڑنے کو چلی ہے
جو چہرے چومنے کے قابل تھے جو ہاتھ سہارے کے طالب تھے جو قدم ہماری مدد کے طالب تھے
آہ میری ملت کے خیر خواہو ہم نے انہیں بربادی کی اور دھکیل دیا ہے ہم نے ان ہاتھوں میں نشے کی اشیا دی ہیں ہم نے ان جگر کے ٹکڑوں کو بے سہارا کر دیا ہے
کیا ملت و قوم ایسے پنپتی ہے کیا قومیں ایسے عروج پاتی ہیں کہ اپنے جگر گوشوں کو فراموش کرکے چلتے رہیں نہیں.
رب کعبہ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی و بربادی کے لئے یہ کافی ہے کہ اس کا سرمایہ یوں زیاں کا شکار ہوتا رہے اور قوم اجتماعی غفلت میں خراٹے بھرتی رہے
میری ملت کے بچو
آئے پروردگار کے پیارے بندو
آئے رسول رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے شاہینو
آئے قوم کے جگر کے ٹکڑو ۔
تم میری ملت کا سرمایہ ہو تم ہی تو میری غیرت ہو
اٹھو نا میرے جگر کے ٹکڑو
اٹھو نا آئے میری ملت کے پاسبانو
تم ہی تو ہو جو میرا سرمایہ ہیں
تم یوں نہ زندگیاں داؤ پر لگاؤ
تمہاری خوشیاں منانے کے دن ہیں نشہ کرنے کے نہیں
تمہارے بازؤں کا فن دیکھانے کا وقت ہے بازو شل کرنے کا نہیں
تمہاری بہنیں تمہاری منتظر ہیں آئے ان کے محافظو یوں نہ لٹاؤ نا اپنی زندگیاں
تم ہی تو ہو جو میری ملت کا آنے والا کل ہے
تمہیں کیا ہوگیا کہ تم سرراہ گر رہے ہو ۔آئے میرے لخت
جگرو اٹھو نا تمہاری منزل تمہاری منتظر ہے
یہ سکون نہیں رب کبریاء کی قسم
یہ تمہارے لئے ناسور بن جائے گا
چلو آؤ اک نئی صبح کی نوید سنانے چلتے ہیں
میرا مولا میری ملت کے جگر کے ٹکڑوں کو سلامت رکھے
آپکا ایک گمنام بھائی آپ کے اس درد و کرب والی زندگی پر آپ کو پکارتا ہے آؤ میرے بچو میں تمہارے لب چوم لوں تم ہی تو ہو جو میری روح کی تسکین کا باعث ہیں میں تمہاری بے بسی میں تمہیں یاد کرتا ہوں .
دنیا
ٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ان نقصانات کا معاوضہ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ ایران کی وجہ سے امریکی شہریوں اور فوجیوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو واشنگٹن کی جانب سے جنگی ہرجانے کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران سے ”50 سال” کے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گی۔ انہوں نے اسے تہران کے مطالبے کے براہِ راست جواب کے طور پر پیش کیا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک امریکہ جنگی ہرجانہ ادا کرنے اور پابندیاں ختم کرنے پر رضامند نہیں ہوتا۔ جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔
ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں، تاہم ٹرمپ کے نئے مطالبات سمندری راستہ دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے لیے معاوضہ مانگا ہے اور ان کے بقول انہوں نے جواب دیا، ”یہ ایک اچھا خیال ہے۔” تاہم انہوں نے کہا کہ امریکا بھی ایران سے گزشتہ 50 برس کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گا۔
ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاوضے میں خطے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتیں بھی شامل ہوں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ایران میں 52 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب تہران کا کہنا ہے کہ جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران تقریباً 3,117 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل ہوئے تھے۔
امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) نے فروری میں تقریباً 7 ہزار ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی، جن میں 6,500 مظاہرین شامل تھے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اکتوبر 2000 میں یمن میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے 17 امریکی ملاحوں کے خاندانوں کو بھی معاوضہ دینا چاہیے۔ تاہم اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی گئی تھی، نہ کہ ایران پر۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا کہ ایران کو لبنان، شام، یمن اور غزہ میں لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات اور ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کا معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ٹرمپ نے بارہا سخت فوجی کارروائی کی دھمکیوں اور امن معاہدہ قریب ہونے کے دعووں کے درمیان اپنا مؤقف تبدیل کیا ہے۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے ایران کو ”بہت سخت” مارنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں پیچھے ہٹتے ہوئے اشارہ دیا کہ امن معاہدہ قریب ہے۔ اس ہفتے کے آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ تنازع سے متعلق اپنا طریقہ کار ”کم شدت” رکھ رہے ہیں اور مزید فوجی حملوں کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما کے سابق خصوصی معاون چارلس کپچن نے ٹرمپ کے معاوضے کے مطالبے کو ”سیاسی بیان بازی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریق معاہدہ کرنے میں مضبوط مفاد رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق ایران اپنے تیل کی برآمد جاری رکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، جبکہ ٹرمپ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل گیس کی بلند قیمتوں کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہونے کی اطلاعات کے باعث پینٹاگون پر بھی دباؤ ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب کے رہائشی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔
یمنی فوج کے مطابق پیر کو کیے گئے ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے ایک روز قبل المخا اور اس کی بندرگاہ پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد ہوئے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔ حملوں سے بندرگاہی علاقے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی وسطی صوبے شبوا میں حوثیوں کے ڈرون حملے میں یمنی حکومت کے دو فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔
یمنی فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی الجوف، شمال مغربی صعدہ اور وسطی مارب کے علاقوں میں حوثیوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یمن میں فریقین کے درمیان حالیہ جھڑپوں کو کئی برسوں میں ہونے والی شدید ترین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد سے بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی سے 2022 کی جنگ بندی سے حاصل ہونے والی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یمن ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے، جس کے ملک کے عوام کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا18 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان23 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا23 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا17 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا17 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا15 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر16 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا11 minutes agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا2 minutes agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
