تازہ ترین
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوت عثمان و علی و جابر کے گھر

مصنف:جاوید اختر بھارتی
جنگ خندق کے موقع پر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شکم انور پر پتھر بندھا دیکھا تو بیچین ہو گئے صبر کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے گھر کے لئے روانہ ہوگئے گھر پہنچ کر اپنی بیوی سے کہا کہ کیا گھر میں کچھ ہے تا کہ ہم آقا صل اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ پکائیں اور انہیں کھلائیں؟ بیوی نے جواب دیا تھوڑا سا جو ہے اور یہ بکری کا چھوٹا سا بچہ ہے اسے ذبح کرلیتے ہیں
آپ حضور صل اللہ علیہ وسلم کو بلا لائیے مگر چونکہ وہاں لشکر بہت زیادہ ہے اس لیے آقا سے تنہائی میں کہئیے گا کہ وہ اپنے ہمراہ کچھ کم ہی آدمیوں کو لائیں- جابر نے کہا کہ اچھا تو لاؤ میں بکری کے بچے کو ذبح کرتا ہوں اور تم کھانا پکاؤ میں حضور کو بلالاتا ہوں،، چنانچہ حضرت جابر بارگاہ نبی میں پہنچے اور کان میں عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ میرے گھر تشریف لے چلیں اور اپنے ساتھ کچھ تھوڑے سے آدمیوں کو لیلیں حضور نے سارے لشکر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا چلو میرے ساتھ چلو جابر نے کھانا پکوایا ہے
ادھر جابر حیران ہوئے کہ کھانا کم ہے آدمی زیادہ ہیں لیکن دل سے یہ صدا بھی ارہی تھی کہ نبی کی دعوت میں نے دی ہے اور لشکر کو دعوت نبی نے دی ہے اور سارے لشکر کو لیکر نبی کریم جابر کے گھر تشریف لاتے ہیں ادھر جابر اپنی بیوی سے کہتے ہیں کہ میں نے تنہائی میں نبی کو دعوت دی اور دس آدمیوں سے کم ساتھ میں لے کر تشریف لانے کو کہا مگر حضور نے سارے لشکر کو مخاطب کرکے کہا کہ چلو جابر کے گھر دعوت ہے اور سارے لوگ آ بھی گئے،، حضرت جابر کی بیوی پوچھتی ہے کہ نبی پاک تشریف لائے کہ نہیں تو جابر نے کہا کہ نبی پاک بھی تشریف لائے ہیں تب بیوی کہتی ہے کہ اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے آپ نے نبی کو دعوت دی اور نبی نے لشکر کو دعوت دی ہے،، نبی کریم نے آٹے میں اپنا لعاب مبارک ڈال دیا اور گوشت میں بھی لعابِ مبارک ڈال دیا اور فرمایا کہ ہانڈی چولہے پر چڑھا دو اور روٹیاں پکانا بھی شروع کردو گوشت اور روٹی یعنی کھانا تیار ہوگیا
پھر نبی نے فرمایا کہ اسے کپڑے سے ڈھک دو اور اس میں سے نکال نکال کر دسترخوان پر لے آؤ دسترخوان لگ گیا نبی کریم اور صحابہ کرام بیٹھ گئے فرمانِ نبی کے مطابق دسترخوان پر کھانا آنے لگا اٹھائیے احادیث کی متعدد کتابیں اور نبی کریم کے لعاب دہن کی برکت دیکھئیے اتنی برکت ہوئی کہ ایک ہزار آدمیوں نے کھانا کھایا نہ روٹی کم ہوئی نہ بوٹی کم ہوئی صحابہ کرام کی جماعت کھانا کھا کر شکم شیر ہوگئی (مشکوٰۃ شریف ص 524)
آئیے ایک دوسری دعوت کا بھی ذکر کیا جائے ایک مرتبہ سخاوت کے دھنی حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کی اور عرض کیا یارسول اللہ! میرے غریب خانے پر آپ تشریف لائیں اور دوستوں سمیت تشریف لائیں اور ماحضر تناول فرمائیں نبی پاک نے عثمان غنی کی دعوت منظور فرمائی اب آقائے دوعالم تشریف لے جارہے ہیں عثمان غنی کے گھر اور نبی کے پیچھے پیچھے چل رہے ہیں عثمان غنی اور نبی پاک کے قدموں کو گنتے جارہے ہیں کہ معلوم ہوسکے کہ میرے گھر تک آنے میں نبی کونین کے قدموں کی تعداد کتنی ہے جب حضرت عثمان کا یہ طریقہ نبی نے دیکھا تو پوچھا اے عثمان یہ کیا کررہے ہو کیوں میرے قدموں کی گنتی کررہے ہو،،
یہاں یہ بات بھی بتادینا ضروری ہے تاکہ آج دنیا بھر کے حکمرانوں کو ہوش آجائے کاروں کے قافلے کے جھرمٹ میں چلنے والوں دیکھو، غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر عیش و آرام کرنے والوں دیکھو، گارڈ آف آنر کی سلامی لینے دینے والے پوری دنیا کے حکمرانوں دیکھو غربت کو چھپانے کے لئے دیوار کی تعمیر کرنے والوں دیکھو، پھول اور مالا پہن کر اپنے استقبال پر ناز کرنے والوں دیکھو نبی کا استقبال ہورہا ہے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم کا استقبال کررہے ہیں کہتے ہیں کہ یارسول اللہ اس لئے آپ کے قدموں کی گنتی کررہا ہوں کہ میں نے پروگرام بنارکھا ہے آپ کے ہر ہر قدم پر ایک ایک غلام آزاد کرونگا میرے گھر تک تشریف لے جانے میں آپ کے جتنے بھی قدم پڑیں گے میں آپ کے استقبال میں اتنے غلام آزاد کروں گا جامع المعجزات میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی کے گھر تک پہنچ نے میں نبی پاک کے جتنے بھی قدم پڑے عثمان غنی نے نبی کی تعظیم و توقیر میں اتنے غلام آزاد کئے –
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سخاوت کے دھنی تھے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے محب اور طالب تھے آپ کے عقد میں یکے بعد دیگرے سرکار دو عالم کی دو دو بیٹیاں بھی آئیں یہ شان ہے عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی-
آئیے تیسری دعوت کا بھی ذکر کریں جب عثمان غنی کے گھر دعوت ہو چکی تو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنے گھر تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیکھا کہ آپ کچھ مغموم ہیں چہرے سے کسی خاص خواہش کا اظہار ہورہا ہے حضرت فاطمہ نے پوچھا کہ اے میرے سرتاج آپ پریشان کیوں ہیں تو علی نے کہا کہ اے فاطمہ آج میرے بھائی عثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی شاندار دعوت کی ہے اور حضور کے ایک ایک قدم کے بدلے انہوں نے غلام آزاد کیا ہے اے کاش! ہم بھی حضور کی ایسی دعوت کرتے لیکن ہمارے پاس اتنا مال و دولت نہیں ہے، ہمارے پاس اتنی وسعت نہیں ہے آخر ہم کیسے نبی پاک کی دعوت کریں تو حضرت فاطمہ نے کہا کہ اس میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ جائیے اور رسول اللہ کی دعوت بول آئیے حضرت علی نے کہا کہ اتنا زبردست انتظام اور ہر قدم کے عوض غلام آزاد یہ کیسے ممکن ہے ہم کیسے یہ سب کچھ کریں گے تو فاطمہ نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں، پریشان نہ ہوں انشاءاللہ سارا انتظام ہو جائے گا آپ جاکر حضور کی دعوت بول دیجیے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کی خدمت میں حاضر ہوکر دعوت عرض کردی اور نبی نے دعوت قبول فرمالی اور اپنے اصحاب سمیت فاطمہ کے گھر تشریف لے چلے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی پاک کو اور اصحاب کرام کو بیٹھایا اور خود خلوت میں تشریف لے جاکر سجدہ ریز ہو گئیں –
آج بڑی بڑی شادیاں کرنے والوں، اس میں قسم قسم کے لوازمات کا انتظام کرنے والوں، امیری و غریبی کا دسترخوان الگ الگ کرنے والوں، اپنی شادیاں اور دعوت کی ویڈیو بنا کر یادگار بنانے والوں دیکھو یادگار کسے کہتے ہیں، ذکر کس کا ہوتا ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا الہ العالمین میں نے تیرے محبوب کی دعوت کی ہے اب تو ہماری لاج رکھ تیری بندی کا تجھی پر بھروسہ ہے اور یقین کامل ہے کہ تیری بندی کو شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا پھر اس کے بعد چولہے پر ہانڈی چڑھائی اور پھر سجدے میں سر رکھ کر رورو کر عرض کیا اے اللہ میں نے چولہے پر ہانڈی چڑھادی ہے اب انتظام کرنا تیرا کام ہے تو اپنی بندی کی لاج رکھ لے ادھر رحمت کا دریا جوش میں آیا اور اللہ نے اس ہانڈی کو جنت کے کھانوں سے بھر دیا حضرت فاطمہ نے اس ہانڈی سے دسترخوان پر سب کے لیے کھانا بھیجنا شروع کیا نبی کریم نے اور اصحاب کرام نے کھانا کھایا لیکن اس ہانڈی میں کھانا کم نہیں ہوا اب کھانے کا ذائقہ ایسا تھا کہ سب کے سب حیرت میں مبتلا تھے کہ ایسا عظیم الشان ذائقہ کہ آج سے پہلے کبھی ایسے لذیذ کھانے کا اتفاق ہی نہیں ہوا تب نبی کریم نے فرمایا کہ جانتے ہو یہ کھانا کہاں سے آیا ہے،، یہ کھانا جنت سے آیا ہے یہ جنتی کھانا جب یہ سنا تو صحابہ کرام بہت خوش ہوئے –
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پھر خلوت میں گئیں اور سجدہ ریز ہوکر یہ دعا کرنے لگیں،،
اے اللہ! عثمان نے تیرے محبوب کے ایک ایک قدم کے بدلے ایک ایک غلام آزاد کیا ہے اے اللہ تیری بندی فاطمہ کے پاس اتنی استطاعت نہیں ہے رب العالمین جہاں تونے میری خاطر جنت سے کھانا بھیج کر میری لاج رکھی وہاں تو میری خاطر اپنے محبوب کے ان قدموں کے برابر جتنے قدم چل کر وہ میرے گھر تشریف لائے ہیں محبوب کی امت کے گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کردے،،
حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب اس دعا سے فارغ ہوئیں تو جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور سید الکونین سے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بشارت دے کر بھیجا ہے کہ آپ کی صاحبزادی کی دعا قبول فرماتے ہوئے آپ کے ہر قدم کے عوض ایک ہزار گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کردیا گیا یہ بشارت سن کر نبی پاک اور اصحاب کرام بیحد خوش ہوئے –
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مقام و مرتبہ بڑا بلند ہے آپ کی خاطر اللہ نے جنت سے کھانا بھیجا اور کل بروز قیامت جب پل صراط سے فاطمہ کی سواری گذرے گی تو اعلان کردیا جائے گا کہ سارے مرد اپنی نگاہیں نیچی کرلیں خاتون جنت فاطمہ کی سواری گذرنے والی ہے،، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ شان ہے –
تحریر: جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو یوپی
رابطہ 8299579972، Javedbharti508@gmail.com
ہندوستان
اروناچل ہندستان کا اٹوٹ حصہ، سرحد کی صورتحال ہی چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی بنیاد:ہندستان
نئی دہلی ہندستان نے اروناچل پردیش کو اپنا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اس کے دوطرفہ تعلقات سرحد کی صورتحال پر مبنی ہوں گے اور سرحدی صورتحال کا ان تعلقات پر براہِ راست اثر ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ دراصل چین کی جانب سے اروناچل پردیش اور اس کے کچھ مقامات کے نام تبدیل کرنے کے ردعمل میں ہندستان نے حال ہی میں اروناچل پردیش کی 27 اہم جگہوں کو سروے آف انڈیا کے نقشے میں سرکاری طور پر نشان زد کر دیا ہے۔ اس پر چین کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا ہے۔ چین کے اس ردعمل کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندستان کا ناقابلِ تقسیم اور اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کوئی بھی اس ناقابلِ تردید سچائی کو بدل نہیں سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ہندستان سرحد سے جڑے معاملات کو انتہائی سنجیدہ مانتا ہے اور سرحد پر امن و استحکام اس کی ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد کی صورتحال کا ہندستان اور چین کے تعلقات پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ ترجمان نے کہا، “ہندستان اور چین کے درمیان سرحدی علاقوں سے جڑے معاملات میں، ہم نے ہمیشہ چین کے ساتھ بات چیت میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم ان مسائل کو بے حد سنجیدہ مانتے ہیں اور ان علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سرحدی معاملات کی صورتحال ہمارے وسیع دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کی عکاسی کرے گی۔ اس بات کو 06 اگست کو حال ہی میں منعقدہ ‘ہند-چین سرحدی معاملات پر مشاورت اور ہم آہنگی کے ورکنگ میکانزم’ کی 36ویں میٹنگ میں بھی دہرایا گیا۔ اس میٹنگ میں دونوں فریقوں نے کھلی اور واضح بات چیت کی اورحقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر صورتحال کا جائزہ لیا۔”
مسٹر جیسوال نے کہا کہ میٹنگ میں ہندستان نے اس بات پر زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات کی ہمہ گیر ترقی کے لیے سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر غلط فہمی اور غلط اندازوں سے بچنے نیز باقی بچے ہوئے مسائل کو حل کرنے کے لیے ورکنگ میکانزم کی میٹنگوں، مقامی کمانڈر سطح کی میٹنگوں اور دیگر میکانزم سمیت موجودہ سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری رکھا جائے گا۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
موساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
یروشلم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے کہا ہے کہ انہوں نے ماضی میں ایران کی فردو یورینیم افزودگی تنصیب کا کئی مرتبہ دورہ کیا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دورے کب کیے گئے اور ان کے ہمراہ کون تھا۔
عبرانی زبان کے میڈیا کے مطابق صفد میں منعقدہ گیلیلی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کوہن نے کہا، ’’ہم نے فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا تاکہ اس مقام کو سمجھ سکیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’امریکیوں کی جانب سے اس پر بمباری میرے تمام خوابوں کی تکمیل تھی۔‘‘
فردو کے علاوہ ایران کی اصفہان اور نطنز میں موجود جوہری تنصیبات کو بھی جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ اسرائیل۔ایران جنگ کے دوران امریکی حملوں سے شدید نقصان پہنچا تھا۔
بعد ازاں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ان تنصیبات پر موجود تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم زمین میں دفن کر دی گئی تھی۔ تاہم اسرائیل نے بعد میں اندازہ لگایا کہ تہران نے اس مواد میں سے کچھ کو ممکنہ طور پر پکیکس ماؤنٹین کے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔
کوہن کے مطابق 60 فیصد تک افزودہ یورینیم اب بھی ’’بم بنانے سے بہت دور‘‘ ہے۔ تاہم یہ دعویٰ جوہری ماہرین کی بعض جائزہ رپورٹس سے مختلف ہے۔ جوہری ماہر ڈیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ 60 فیصد افزودہ یورینیم کو مزید افزودہ کرکے چند ہفتوں یا حتیٰ کہ چند دنوں میں ہتھیاروں کے درجے کے مواد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کوہن اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے والی موساد کی کارروائیوں کے بارے میں بھی کھل کر بات کر چکے ہیں۔ 2021 میں موساد کی سربراہی چھوڑنے کے فوراً بعد ایک غیر معمولی ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کئی کارروائیوں کی تفصیلات فراہم کی تھیں، جن میں 2018 میں تہران کے ایک گودام سے ایران کے جوہری محفوظ شدہ ریکارڈ چوری کرنے کی کارروائی بھی شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا تھا کہ نطنز میں ایران کی زیر زمین سینٹری فیوج تنصیب کے ایک حصے کی تباہی کے پیچھے بھی موساد کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کو موساد نے ہی ہلاک کیا تھا اور تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے باز رہنے کی تنبیہ کی تھی۔
چینل 12 کو دیے گئے اس انٹرویو میں موساد کے سابق سربراہ نے ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے سے اپنی واقفیت کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دیان کو نطنز میں زیر زمین موجود اس ’’تہہ خانے‘‘ میں لے جائیں گے جہاں، ان کے بقول، ’’سینٹری فیوجز گھومتے تھے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان5 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر3 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا8 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا8 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
-
ہندوستان5 hours agoسندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
