تازہ ترین
نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پاکستانی ٹیم کا اعلان
نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ہوم سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا جس میں مڈل آرڈر بلے باز حارث سہیل کی ٹیم میں واپسی ہوئی جب کہ آل راؤنڈر شاداب خان کو انجری کے باعث ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
قومی کرکٹ ٹیم کے عبوری چیف سلیکٹر شاہد خان آفریدی کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران 3 ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان کیا۔
بابر اعظم قومی ٹیم کی قیادت کریں گے جب کہ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں فخر زمان، حارث رؤف، حارث سہیل، امام الحق، کامران غلام، محمد حسنین، محمد نواز، محمد رضوان، وسیم جونیئر، نسیم شاہ، سلمان علی آغا، شاہنواز دھانی، طیب طاہر اور اسامہ میر شامل ہیں۔فاسٹ باؤلر حسن علی ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے جب کہ شاداب خان کو انجری کے باعث ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق بلے باز طیب طاہر اور اسپنر اسامہ میر کو پاکستان کپ میں شاندار کارکردگی کے باعث پہلی مرتبہ اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔اسی طرح ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل کامران غلام کو بھی پہلی مرتبہ ون ڈے ٹیم میں بھی شامل کیا گیا۔شان مسعود اور حارث سہیل کو بالترتیب 2019 اور 2020 میں ون ڈے کرکٹ سے باہر ہونے کے بعد ٹیم میں واپسی ہوئی۔
پی سی بی کے مطابق انگلینڈ کے خلاف راولپنڈی میں پہلے ٹیسٹ کے دوران زخمی ہونے والے فاسٹ باؤلر حارث رؤف مکمل فٹ ہوگئے ہیں اور انہیں لائن اپ میں شامل کر لیا گیا ہے۔
تاہم شاہین شاہ آفریدی کو فٹنس میں بہتری کے باوجود ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے جب کہ سلیکٹرز نے میڈیکل پینل کے ساتھ مشاورت کے بعد انہیں مکمل فٹنس حاصل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا۔توقع ہے کہ دراز قد فاسٹ باؤلر آئندہ ماہ پاکستان سپر لیگ سیزن 8 کے دوران ایکشن میں نظر آئیں گے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ نظر آرہا ہے، ہمیں بطور سلیکشن کمیٹی کوٸی مسٸلہ نہیں ہورہا، ہمیں صرف اس سیریز کےلیے ذمہ داریاں ملی ہیں۔
عبوری چیف سلیکٹر نے کہا کہ شاداب خان سے بات ہوئی تو اس نے کہا میں یہ سیریز کھیل سکتا ہوں لیکن میں نے انہیں کہا کہ بولنگ کرکے دیکھو، جب اس نے باؤلنگ کی تو انہیں انگلیوں میں تکلیف محسوس ہوئی، اس لیے انہیں اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ٹیم سلیکشن اور کھلاڑیوں کے حوالے سے کپتان بابر اعظم سے بات ہوتی ہے، سیم پیج کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہر فیصلے پر ایک پیچ پر ہوں، بابر اعظم کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اور ہماری اپنی ذمہ داری ہے، ہم چاہتے ہیں بابر جتنا بڑا کھلاڑی ہے اتنا بڑا کپتان بھی بنے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ اس کرسی پر بہت سارے لوگ مجھ سے ناراض ہوں گے، میری کوشش ہے میں یہاں انصاف کروں، اگر ایک فارمیٹ میں پرفارمنس نہیں ہوتی تو دوسروں سے بھی نکال دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسامہ میر نے اچھی پرفارمنس دی ہے، ہم ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کو بھولیں گے نہیں، جو اچھ کارکردگی دکھائےگا، اس کو یاد رکھا جائے گا، فاسٹ باؤلر حسن علی ڈومیسٹک میں پر فارم کرے تو ٹیم میں سلکیٹ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کرکٹ اکیڈمی میں کام نہیں ہورہا تو آپ آگے کیسے بڑھیں گے، اے ٹیم اور انڈر 19 ٹیمز کے کیمپ اور میچز ہونے چاہییں، شرجیل خان کو چیئرمین کی جانب سے گرین سگنل نہیں ملا، جب چیئرمین گرین سگنل دیں گے تو شرجیل کو سلیکٹ کریں گے، ہمارا زیادہ فوکس جونیئر لیول پر ہونا چاہیے، ڈومیسٹک کرکٹرز کو 135 کے اسٹرائک ریٹ سے کھیلنا ہوگا۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان ون ڈے اور ٹی 20 میں ہمارا اہم پلیئر ہے، بہت خوش ہوں کہ سرفراز احمد ٹیم میں واپس آیا ہے، بطور بیک اپ وکٹ کیپر بلے باز وہ ہماری نظروں میں ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ون ڈے میچز کی سیریز کا آغاز رواں ماہ 9 تاریخ سے ہو ہوگا، سیریز کا دوسرا میچ 11 اور تیسرا میچ 13 جنوری کو کراچی میں کھیلا جائے گا۔
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم گزشتہ سال ستمبر میں راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلے میچ کے شروع ہونے سے چند منٹ قبل سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنا دورہ پاکستان ختم کرکے واپس روانہ ہوگئی تھی
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا19 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا5 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر28 minutes agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
