دنیا
واشنگٹن اپنی مشرق وسطیٰ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دے سکتا:جے ڈی وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنی ’’مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو اسرائیل کے تابع‘‘ نہیں ہونے دے سکتا اور اسے امریکی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
منگل کو آل اِن پوڈکاسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وینس نے اسرائیل کو فوجی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار قرار دیا، تاہم کہا کہ دونوں حکومتیں ہر معاملے پر متفق نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلاف کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
وینس نے نیتن یاہو کے عرفی نام ’’بی بی‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں گزشتہ 40 برس کے تقریباً ہر صدر کے مقابلے میں انہوں نے اس بات پر اختلاف کرنے کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کی ہے کہ جب انہیں محسوس ہو کہ امریکی عوام کے مفادات اسرائیلی حکومت کے مفادات سے مختلف ہیں تو وہ بی بی نیتن یاہو سے راستہ الگ کر سکتے ہیں۔‘‘
وینس نے کہا کہ ٹرمپ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار رہے ہیں کہ اسرائیل کے نقطۂ نظر سے نیتن یاہو درست ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکہ کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس تعلق سمیت تمام تعلقات کو امریکی مفاد کی بنیاد پر استوار کرنا ہی اس معاملے پر حقیقت پسندانہ گفتگو کا راستہ ہے۔‘‘
انہوں نے واشنگٹن کے نیٹو کے ساتھ تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اہم شراکت داریاں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی اس اتحاد کے تابع ہو جائے۔
وینس نے کہا، ’’ہم جب کسی کے ساتھ کام کریں گے تو کریں گے، جب اختلاف ہوگا تو اختلاف کریں گے، اور ہم امریکہ کے مفادات کو آگے بڑھائیں گے۔ یہی ایک حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا واحد طریقہ ہے۔‘‘
دریں اثنا، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔
بدھ کو شائع ہونے والے ’وائی نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہکابی نے کہا کہ دونوں ممالک ’’انتہائی قریبی تعاون‘‘ کر رہے ہیں اور اشارہ دیا کہ ان کا تعاون عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی کے حوالے سے ہکابی نے اس کی وجہ وہ چیز قرار دی جسے انہوں نے ’’غلط معلومات‘‘ کہا۔
انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا تصادم صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے نہیں ہے۔
ہکابی نے کہا، ’’جب ہم ایران کے خلاف شراکت داری کر رہے ہیں تو ہم اسرائیل کا دفاع نہیں کر رہے، ہم امریکہ کا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایران کی جانب سے طویل عرصے سے جاری ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعروں کا حوالہ دیا۔انہوں نے مزید کہا، ’’اسرائیل شاید ابتدائی پیش خیمہ ہے، لیکن اصل ہدف ہم ہیں۔‘‘
ہکابی نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلا اور کہا کہ صدر نے یہ فیصلہ آزادانہ طور پر کیا۔
انہوں نے کہا، ’’انہوں نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کیا۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل کو کسی وجودی خطرے سے بچانے کے لیے امریکہ کو ایران یا کسی دوسری طاقت کے ساتھ جنگ میں جانا پڑے تو کیا امریکہ ایسا کرے گا، تو ہکابی نے کہا، ’’اگر یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہوا تو صدر کارروائی کریں گے۔ لیکن یہی وہ کام ہے جو ان سے مطلوب ہے۔‘‘
انہوں نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آباد کاروں کے تشدد پر بھی بات کی، جس کی وہ پہلے بھی مذمت کر چکے ہیں۔ ہکابی نے زور دیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار افراد پوری آباد کار برادری کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے کبھی بھی ان تمام کارروائیوں کو آباد کاروں سے منسوب نہیں کیا۔ درحقیقت، میں کہتا ہوں کہ یہ آباد کار نہیں بلکہ ’اَن سیٹلرز‘ ہیں۔‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
تہران، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون مارگرایا ہے۔
سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی فضائی دفاعی نظاموں نے منگل کی شب جزیرے کے اوپر اس ڈراون کا تعین کرتے ہوئے اسے گرا دیا۔
انہوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ جنگ کے دوران گرایا جانے والا اسی قسم کا 52 واں ڈراون تھا ۔
امریکی فوج نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے ہرمز اور آس پاس کے علاقوں میں تین امریکی ایم کیو-1 ڈراون مارگرائے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں حکومتی عمارات، فوجی مقامات، مِسائل کے بنیادی ڈھانچے اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اسرائیل اور خطے بھر میں امریکی اڈوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
تب سے یہ تنازعہ خطے میں پھیل چکا ہے اور دشمنی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
مغربی ایشیا میں کشیدگی کے درمیان وانگ یی اور عراقچی کے درمیان بیجنگ میں مذاکرات
بیجنگ، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بدھ کو بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کیے۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
عراقچی ایک روزہ دورے پر سفارتی وفد کی سربراہی کرتے ہوئے بدھ کو بیجنگ پہنچے اور وانگ یی کے ساتھ ملاقات کی۔
یہ ملاقات رواں ماہ کے اواخر میں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات سے قبل ہوئی ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع کیے جانے کے بعد بیجنگ میں وانگ یی اور عراقچی کی یہ دوسری بالمشافہ ملاقات ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے جولائی میں کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کی تھی، جبکہ رواں ماہ نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کے دوران بھی ان کی ملاقات ہوئی تھی۔
عراقچی کے دورے سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ عراقچی اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
چین اور ایران کے درمیان ’’جامع اسٹریٹجک شراکت داری‘‘ قائم ہے، جس میں اقتصادی اور توانائی کے تعلقات اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ چین ایرانی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ہے، جبکہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت 41 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن میں سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات، میزائل انفراسٹرکچر اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے جواباً اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اس کے بعد تنازع پورے خطے میں پھیل گیا، جبکہ جنگ بندی اور دشمنانہ کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر نئی دہلی میں منعقدہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں ایران کے وفد کی قیادت کی۔ اجلاس کے موقع پر عراقچی اور وانگ یی کو مختصر گفتگو کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
چین کے ساتھ حالیہ روابط کے دوران پزشکیان نے بیجنگ کے ساتھ ریت اور گرد کے طوفانوں اور صحرائی پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے پانچ سالہ ایکشن پلان تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔
یہ تجویز ایران اور چین کے درمیان 2025 میں لانژو میں دستخط کیے گئے مفاہمت کی یادداشت کے بعد سامنے آئی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت صالحیہ ویٹ لینڈ، جو ایران کے البرز، قزوین اور تہران صوبوں کو متاثر کرنے والی گرد کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور تباس صحرا کو مشترکہ منصوبوں کے لیے پائلٹ علاقوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
پزشکیان نے ایرانی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ساتھ قریبی تعاون کریں اور مجوزہ منصوبے کے تحت تحقیق اور اقدامات کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔
خشک اور نیم خشک ملک ایران کو مسلسل بڑھتی ہوئی خشک سالی، کم ہوتی بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں صحرائی پھیلاؤ اور گرد کے طوفانوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات نے زراعت، عوامی صحت اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔
ایران نے اس مسئلے پر بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی بھی کوششیں کی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے جولائی میں نیویارک میں ریت اور گرد کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی تھی۔
ایروانی نے گرد کے طوفانوں کو صحت، غذائی تحفظ، نقل و حمل، معیشت اور ماحولیات کو متاثر کرنے والا عالمی چیلنج قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا تھا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی اور مالی وسائل تک رسائی سمیت دیگر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2023 میں ایران کی تجویز کے بعد 12 جولائی کو ’’ریت اور گرد کے طوفانوں سے نمٹنے کے عالمی دن‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سعودی عرب نے مکہ کے قریب حوثی ڈرون مار گرایا، مقدس مقامات کو ’ریڈ لائن‘ قرار دیا
ریاض، سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو مکہ کے ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل روک کر تباہ کردیا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے یہ اطلاع دیتے ہوئے یمن کی حوثی تحریک پر الزام عائد کیا کہ اس نے یہ ڈرون اسلام کے مقدس ترین شہر کی جانب روانہ کیا تھا۔
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ دونوں مقدس مساجد اور زائرین کی سلامتی ’’ریڈ لائن‘‘ ہے اور خبردار کیا کہ سعودی افواج مزید حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کریں گی۔
اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کے مضافات کو نشانہ بنانے کی مبینہ ڈرون کارروائی کی علاقائی اور اسلامی تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ اس واقعے سے خطے میں جاری تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
ترکی المالکی نے کہا کہ ڈرون کو مکہ کے قریب مار گرایا گیا اور اسے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو دانستہ طور پر مشتعل کرنے کی کوشش قرار دیا۔
المالکی نے کہا، ’’یہ دشمنانہ کوشش انتہا پسند دہشت گرد حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ میں ایک سیاہ داغ کے طور پر بھی برقرار رہے گی۔‘‘ انہوں نے عہد کیا کہ سعودی عرب ’’ضروری اور روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات‘‘ کرے گا۔
تاہم حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔ ان کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کے حملوں کا رخ سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کی جانب تھا جو ’’مقدس مقامات سے بہت دور‘‘ واقع ہیں۔
یہ تقریباً ایک دہائی میں مکہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی پہلی مبینہ کوشش ہے۔ 2017 میں مقدس شہر کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل سعودی افواج نے راستے میں ہی روک لیا تھا۔
57 رکن ممالک پر مشتمل مسلم اکثریتی ممالک کی نمائندہ تنظیم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے ’’مقدس مقامات اور مساجد کی حرمت کی خلاف ورزی‘‘ کرتے ہیں اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بزدلانہ اور گھناؤنا‘‘ اقدام قرار دیا اور سعودی عرب کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ڈرون کو روکنے کا یہ واقعہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی میں شدید اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے رواں ہفتے کے اوائل میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت سعودی عرب کے متعدد شہروں کی جانب بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، جن میں 13 شہری زخمی ہوئے۔
حوثیوں نے اتوار کو ایک سعودی فوجی اڈے پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔
حوثی گروپ کے مطابق سعودی افواج نے اس کے زیرِ قبضہ یمن کے علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
حوثیوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف اپنی کارروائیاں بھی تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں توسیع اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کے لیے اہم راستوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب وسیع تر امریکہ-ایران تنازع خطے کی سلامتی اور توانائی کے راستوں کو متاثر کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر تیل کی ترسیل کے حوالے سے اہم محاذ بن کر ابھرے ہیں۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث تیل کی قیمتیں 100 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی پر تنازع کے اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر4 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے شہری اور توانائی کے مراکز پر حملے، سعودی عرب میں 73 افراد زخمی
-
جموں و کشمیر4 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا4 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
دنیا5 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر6 days agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا6 days agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
کھیل1 week agoایشیائی جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ: ہندوستان نے جنوبی کوریا کو 7-3 سے شکست دی
-
جموں و کشمیر4 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
جموں و کشمیر1 week agoمیڈیکل انٹرنز نے بھوک ہڑتال شروع کردی، عمر عبداللہ نے مسئلے کے جلد حل پر زور دیا
