جموں و کشمیر
کبھی علاحدگی پسندی کا گڑھ رہنے والے قصبہ سوپور میں سیاسی سرگرمیاں بام عروج پر
سری نگر، ایک دور میں علاحدگی پسندی اور ملی ٹنسی کا گڑھ رہنے والے شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور، جو ’اپیل ٹائون‘ کے نام سے بھی مشہور ہے، میں ان دنوں انتخابی سرگرمیاں بام عروج پر ہیں۔اس علاقے میں جو ایک زمانے میں خوف کے گھنائوںے بادل سایہ فگن رہتے تھے وہ زائل ہوئے ہیں اور آج انتخابی میدان میں سرگرم امید وار ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے ہمہ تن کوشاں ہیں۔
جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لئے یکم اکتوبر کو کشمیر کی جن 16 سیٹوں کی پولنگ ہو رہی ہے ان میں سوپور حلقہ انتخاب بھی شامل ہے۔سیب باغات سے بھر پور یہ خوشحال قصبہ جہاں ملی ٹنسی کا مرکز رہا ہے وہیں حزب المجاہدین اور تحریک جہاد اسلامی جیسی ملی ٹنٹ تنظیوں کے اعلیٰ کمانڈروں کا تعلق بھی اسی خطے سے رہا ہے۔
سوپور حلقہ انتخاب کی ایک منفرد سیاسی تاریخ ہے یہی وہ سیٹ ہے جہاں سے سخت گیر حریت لیڈر مرحوم سید علی گیلانی تین بار سال1972 ،1977 اور سال1987 میں رکن اسمبلی بن گئے۔
تاہم سال 1989 میں ملی ٹنسی شروع ہونے کے ساتھ ہی وہ مین اسٹریم سیاست سے دستبردار ہوگئے۔
جموں وکشمیر کے رواں اسمبلی انتخابات کے دوران سوپور حلقے میں ایک بار پھر سیاسی سرگرمیاں نقطہ عروج پر ہیں اور سیٹ پر کم و بیش بیس امید وار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔
ان امید واروں میں سے محمد لطیف وانی ایک نمایاں امید وار ہیں جن کا خاندانی سلسلہ کشمیر کی علاحدگی پسند سیاست کے بڑے لیڈر صوفی اکبر سے ملتا ہے۔صوفی اکبر جن کا شمار شیخ محمد عبداللہ کے معتمد ساتھیوں میں کیا جاتا تھا، نے سال1975 میں دلی میں ہونے والے اندرا – شیخ معاہدے کے بعد بغاوت کی اور سال 1977 میں انہوں نے محاذ آزادی فرنٹ کی بیناد ڈالی اور سال1987 تک اپنی زندگی کی آخری سانسیں لینے تک علاحدگی پسند کاز کے ساتھ وابستہ رہے۔
محمد لطیف نے اپنی سیاسی بنیادوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: ’جو کردار صوفی اکبر (صاحب) نے جموں وکشمیر کے سیاسی میدان میں انجام دیا ہے وہ ہر کسی کے سامنے روشن ہے‘۔انہوں نے کہا: ’میں بچپن سے ہی سوپور کے سیاسی منظر نامے پر سرگرم تھا، میں ہمیشہ سوپور کو چندی گڑھ جیسے ترقی یافتہ علاقے کی طرح دیکھنے کا خواب دیکھتا تھا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’لیکن جتنے بھی رکن اسمبلی آئے ان میں سے کوئی بھی میرے اس خواب کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا جس کے نتیجے میں سوپور 1947 کے دور کی تعمیر و ترقی کے لحاظ سے پسماندگی میں ہی پھنس گیا‘۔
محمد لطیف جو ایک مذہبی و تعلیمی باڈی انجمن معین الاسلام کے صدر ہیں، نے اپنی گھر گھر انتخابی مہم کے دوران اشی پیر علاقے،جہاں ایک زمانے میں جانے کی کوئی ہمت نہیں کرتا تھا، کا بھی دورہ کیا اور وہاں لوگوں کو ان کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔انہوں نے وہاں لوگوں سے کہا: ’ہم سالہاسال سے تکلیفوں سے دوچار ہیں لیکن یہ اب لوگوں کے ہاتھوں میں ہے کہ ایک اہل لیڈر کو چن کر اسمبلی میں بھیج دیں‘۔اس دوران ان کی ٹیم نے لوگوں میں پمفلٹ بھی تقسیم کئے۔
سوپور اسمبلی حلقے پر انتہائی دلچسپ مقابلے کی امید ہے اور اس نشست پر نیشنل کانفرنس اور کانگریس، جو اتحادی شراکت دار ہیں، ایک “دوستانہ مقابلہ” میں حصہ لے رہے ہیں۔اس حلقے پر نیشنل کانفرنس کے ارشاد کار اور کانگریس کے سابق رکن اسمبلی عبد الرشید ڈار مقابلے میں ہیں۔ارشاد کار کا کہنا ہے: ’دوستانہ مقابلے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم ہاتھوں پر ہاتھ دھر کر بیٹھیں،بہر حال ایک مقابلہ ایک مقابلہ ہی ہوتا ہے‘۔سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں اس سیٹ ہر کانگریس کے رشید ڈار نے کامیابی کا جھنڈا گاڑ کر نیشنل کانفرنس کے امید وار کو ہر دیا تھا۔
تاہم آزاد امید وار لطیف وانی کا کہنا ہے کہ اب کی بار اس حلقے پر بدلائو ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا: ’مجھے یقین محکم ہے کہ سوپور کے لوگ یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ ماضی میں یہاں روایتی جماعتوں نے تعمیر و ترقی اور سیاسی محاذ پر کیا کیا اب وقت آگیا ہے کہ ان کے ماضی کے کارناموں کا بدلہ لیا جائے کیونکہ ان جماعتوں نے لوگوں کے منڈیٹ کو ذاتی مفادات پر قربان کیا‘۔ان کا کہنا ہے: ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مجھے کسی سیاسی جماعت کی پشت پناہی حاصل نہیں ہے لیکن میں یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ مجھے اپنے لوگوں کی حمایت حاصل ہے‘۔حالیہ لوک سبھا الیکشن کے دوران سوپور میں 44 فیصد ووٹر ٹرن آئوٹ ریکارڈ کیا گیا جو ماضی کی انتہائی مایوس کن ووٹنگ شرح کے مقابلے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔
سوپور نشست کا ایک پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ اس حلقے میں کالعدم جماعت اسلامی کی مضبوط بنیاد ہے اور جماعت سے حال ہی میں سابق حریت لیڈر حاجی منظور احمد کلو،جو آزاد امید وار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، کو حمایت دینے کا اعلان کیا ہے،تاہم جماعت اس معاملے پر منقسم ہے۔سوپور کے نور باغ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک جماعت حامی کا کہنا ہے: ’چہ جائیکہ جماعت نے ایک آزاد امید وار کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن میں اس کو کبھی ووٹ نہیں دوں گا‘۔تاہم سوپور حلقے کے انتخابات کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یکم اکتوبر کو جماعت اسلامی کے حامی کس طرح اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکتے ہیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو پناہ گزینوں کی تنظیم نے یادداشت پیش کی
جموں، پی او جے کے سے بے گھر افراد کی تنظیم ایس او ایس انٹرنیشنل کے ایک وفد نے منگل کو یہاں جسٹس پرکاش پربھاکر نولیکر (ریٹائرڈ) کی سربراہی میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق پینل کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کی۔
ایس او ایس انٹرنیشنل کے چیئرمین راجیو چونی کی قیادت میں وفد میں پروفیسر این این شرما (نائب چیئرمین)، ونود کمار دتہ (جنرل سکریٹری)، بھائی رام سنگھ (سکریٹری) اور وید راج بالی (سکریٹری) شامل تھے۔ وفد نے یادداشت پیش کرتے ہوئے 1947 سے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی ہندو اور سکھ آبادی کے ساتھ روا رکھے گئے تاریخی ناانصافی کو ریکارڈ پر لایا اور پینل سے ٹھوس اصلاحی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
جاری کردہ بیان کے مطابق یادداشت میں نشاندہی کی گئی کہ 1947 کے حملے کے بعد اس وقت کی جموں و کشمیر حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 31,600 خاندانوں کا اندراج کیا تھا، جبکہ تقریباً 9,500 خاندانوں کو معمولی اور غیر معقول وجوہات کی بنیاد پر من مانے طریقے سے رجسٹریشن سے محروم کر دیا گیا۔
رجسٹرڈ خاندانوں میں سے صرف تقریباً 26,300 خاندانوں کو ریاست کے اندر آباد کیا گیا، جبکہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ خاندانوں کے ساتھ ساتھ 9,500 غیر رجسٹرڈ خاندانوں کو ہندوستان کے دیگر حصوں میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ باقاعدہ طور پر رجسٹر کیے گئے خاندانوں کے ریکارڈ اب بھی جموں و کشمیر حکومت کے سرکاری ریکارڈ میں موجود ہیں۔
یادداشت میں کہا گیاکہ ’’یہ خاندان مہاراجہ ہری سنگھ کے 1927 کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت ریاست کے اصل باشندے تھے اور انہوں نے بارہا اپنے آبائی وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘
تاہم بحالیِ آبادکاری کی کسی جامع پالیسی یا ادارہ جاتی مدد کی مکمل عدم موجودگی کے باعث ان کے پاس دوسری جگہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ بیان کے مطابق اس وقت ریاست سے باہر رہنے والی ان کی آبادی کا تخمینہ پانچ سے چھ لاکھ ہے۔
ایس او ایس انٹرنیشنل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر کی اُس وقت کی حکومت کے 2014 کے کابینہ فیصلے میں ہر متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے نقد امداد، تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے 8,500 سرکاری ملازمتیں اور پیشہ ورانہ و تکنیکی اداروں میں ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن جموں و کشمیر یا سابق ریاست سے باہر جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے خاندانوں کے لیے اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
جاری۔یواین آئی۔ طـ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
جموں و کشمیر5 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا9 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا5 hours agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا9 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا9 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا8 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
