اہم خبریں
کشمیر پریمیئر لیگ، پی سی بی بھارتی کرکٹ بورڈ سے نالاں کیوں ہے؟
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ہفتے کو ایک بیان میں بھارتی کرکٹ بورڈ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور غیر ملکی کھلاڑیوں پر کے پی ایل میں حصہ نہ لینے کے لیے دباؤ ڈالنے سے گریز کرے۔
یہ معاملہ اس وقت موضوعِ بحث بنا جب جنوبی افریقہ کے سابق جارح مزاج اوپننگ بلے باز ہرشل گبز نے ٹوئٹ کی کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے اُنہیں کہا گیا ہے کہ اگر وہ کشمیر پریمیئر لیگ کا حصہ بنے تو اُنہیں کرکٹ کے حوالے سے کسی بھی سرگرمی میں شرکت کے لیے بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہرشل گبز کا اپنی ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیاسی معاملات کو کرکٹ میں لانا غیر ضروری ہے۔
Completely unnecessary of the @BCCI to bring their political agenda with Pakistan into the equation and trying to prevent me playing in the @kpl_20 . Also threatening me saying they won’t allow me entry into India for any cricket related work. Ludicrous ?
— Herschelle Gibbs (@hershybru) July 31, 2021
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر تقسیمِ ہند کے بعد سے ہی برقرار ہے۔ دونوں ممالک کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتے ہیں اور یہ علاقہ پاکستان اور بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بٹا ہوا ہے۔
ہرشل گبز کی اس ٹوئٹ کے بعد پی سی بی نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام بین الاقوامی روایات اور کرکٹ جیسے جینٹلمین گیم کی روح کے منافی اور دوسرے ممالک کے کرکٹ بورڈز کے معاملات میں مداخلت ہے۔
پی سی بی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا یہ اقدام ناقابلِ قبول اور کھیل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
پی سی بی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی سطح پر بھی اُٹھایا جائے گا۔
کشمیر پریمیئر لیگ کیا ہے؟
کشمیر پریمیئر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد میں رواں ماہ چھ اگست سے شروع ہو رہی ہے جسے پاکستانی حکومت اور کرکٹ بورڈ کی منظوری حاصل ہے۔ ایونٹ کا فائنل 17 اگست کو کھیلا جائے گا۔
ایونٹ میں چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جن کا نام ریجن کے اہم شہروں مظفر آباد، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ اور میر پور سے منسوب کیا گیا ہے۔
کرکٹ ویب سائٹ ‘کرک انفو’ کی رپورٹ کے مطابق شاہد آفریدی، شعیب ملک، عماد وسیم، محمد حفیظ، کامران اکمل اور شاداب خان ٹیموں کی قیادت کریں گے۔
جن غیر ملکی کھلاڑیوں نے ایونٹ میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے ان میں ہرشل گبز کے علاوہ انگلینڈ کے سابق اسپنر مونٹی پنیسر، انگلیںڈ کے میٹ پرائر، فل مسٹرڈ، ویسٹ انڈیز کے ٹینو بیسٹ اور سری لنکا کے سابق اوپننگ بلے باز تلکا رتنے دلشان شامل ہیں۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کا ردِعمل
بھارتی خبر رساں ادارے ‘اے این آئی’ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ نے ہرشل گبز اور پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
‘اے این آئی’ کے مطابق بی سی سی آئی کے ایک اہل کار کا کہنا ہے کہ ہرشل گبز میچ فکسنگ کے الزامات کے تحت بھارتی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیش (سی بی آئی) کی تحقیقات میں شاملِ تفتیش رہ چکے ہیں۔ لہٰذا پی سی بی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر گبز کے بیان کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی بھارتی کرکٹ بورڈ کرکٹ میں شفافیت کے لیے اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
بی سی سی آئی اہل کار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس معاملے پر کنفیوژ دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی کھلاڑی کو اپنے ملک میں کھیلنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا حق مذکورہ ملک کا ہے۔
بی سی سی آئی اہل کار نے ‘اے این آئی’ کو بتایا کہ پی سی بی شوق سے یہ معاملہ آئی سی سی کے سامنے اُٹھائے۔
اس معاملے پر سوشل میڈیا پر بھی دونوں ممالک کے صارفین کا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
کرکٹ ماہر ڈاکٹر نعمان نیاز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ردِعمل کو سراہا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ کرکٹ سیاست اور تنازعات سے پاک رہنی چاہیے۔
PCB’s reaction over BCCI forcing other boards to stop their retired cricketers from participating in the Kashmir Premier League is welcoming. We need to show solidarity & condemn such a petty act. Cricket is much bigger than it’s commercial value & way above small town politics.
— Dr. Nauman Niaz (@DrNaumanNiaz) July 31, 2021
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ایک بار پھر بھارتی کرکٹ بورڈ کھیل کو سیاست میں دھکیل رہا ہے۔
Really disappointing that BCCI is once again mixing cricket and politics! KPL is a league for Kashmir, Pakistan and cricket fans around the world. We will put up a wonderful show and won’t be deterred with such behaviour!! https://t.co/J9XcbEeUF6
— Shahid Afridi (@SAfridiOfficial) July 31, 2021
ایک صارف اشعر رضا خان نے تو یہاں تک مطالبہ کر دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اکتوبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کر دینا چاہیے۔
Pakistan Should boycott India match in t20 cup. They deliberately put pak india in one group to generate revenue. Otherwise according to ranking they shouldn’t be in same group. So pak can hit them that way. But not sure if PCB has guts to do that. #boycottindiancricket
— Ashar Raza Khan (@asharrkhan1) July 31, 2021
راگوان چندک نامی بھارتی صارف نے ٹوئٹ کی ہے کہ جو بھی کشمیر پریمیئر لیگ میں کھیلنا چاہتا ہے تو کھیلے اس کے بعد اس کے لیے بھارت میں کرکٹ کے دروازے بند ہو جائیں گے۔
And for us Our India?? comes first And then others…If anyone want to play there they can freely but after that Their relations with bcci are over and they can’t work with them ….But this things will Not last long as POK will be under control of India soon..#India ??
— Raghav Chandak (@IamRvCk) July 31, 2021
ایک اور بھارتی صارف نے ہرشل گبز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس علاقے میں آپ کشمیر پریمیئر لیگ کے میچز کھیلنے جائیں گے وہ بھارت کا ‘حصہ’ ہے۔ لہٰذا ایسا کر کے ایک طرح سے آپ بھارت کی مخالفت کریں گے۔
The place where the matches will be played is legal area of Union of India, illegally occupied by pakistan so you taking part in that Kashmir premier league is going against the Union of India. It means you support the illegal occupatian of Kashmir by Pakistan.
— ?? (@Dinshastic) July 31, 2021
پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں سرد مہری کے باعث دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیمیں صرف انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ایونٹس یا ایشیا کپ میں ہی مدِ مقابل آتی ہیں۔
دونوں ممالک کی ٹیمیں اکتوبر میں متحدہ عرب امارات اور عمان میں شیڈول آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا14 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا10 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان15 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا9 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا17 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا9 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر8 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا7 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر8 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
