ہندوستان
ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے:ڈاکٹر شمس اقبال
نئی دہلی، اردو کو غیر اردو داں تک پہنچانے اور اردو رسم الخط کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب بھی ہے اور تہذیب کی حفاظت پیٹ کے لئے نہیں کرتے, ساتھ ہی کہاکہ ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ڈائرکٹر کے عہدہ پر ایک سال مکمل ہونے پر ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے ڈائرکٹر شپ کی ایک سال کی مدت کے دوران آپ اپنی کارکردگی، دقتیں، مسائل اور حصولیابیوں کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے درمیان اس ادارے کی ادبی، ثقافتی اور دیگر سرگرمیاں دیکھ لیجیے وہ خود ہی میری حصولیابیوں، دقتوں اور مسائل کی کہانیاں بیان کریں گی۔ اس ایک سال کے عرصے میں بہت سی سطحوں پر دقتیں بھی آئیں اور بہت سارے مسائل بھی سامنے آئے مگر میں نے حسن تدبیر اور وزارت تعلیم حکومت ہند کے تعاون سے ان تمام دقتوں اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور میرے رفقائے کار کا تعاون بھی اس میں شامل رہا، اس لیے موانع اور مشکلات کے باوجود قومی اردو کونسل کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں، مختلف علاقوں میں کتاب میلوں کا انعقاد ہوا، کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور سمیناروں کے علاوہ دیگر ثقافتی سلسلے بھی جاری رہے اور ممکنہ طو رپر جو کچھ ہوسکتا تھا وہ میں نے مقدور بھر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مجھے کامیابی ملی یا نہیں اس کا فیصلہ محبانِ اردو ہی کرسکیں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ تقریباً چار سالوں سے مالی معاونت کی ساری اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں ا س کی وجوہات کیا ہیں؟ کے جواب انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ وجوہات کی بناپر کچھ اسکیمیں تعطل کا شکار رہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ قومی اردو کونسل کی جو بنیادی اسکیمیں ہیں ان میں کسی طرح کا جمود یا تعطل آیا ہو، ڈسٹینس ایجوکیشن، سرٹی فیکٹ ڈپلوما کورس اور CABA-MDTP کی ساری اسکیمیں حسب دستور جاری رہیں، صرف کچھ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے کتابوں کی خریداری اور مسودہ پر مالی تعاون کی اسکیمیں ضرور متاثر ہوئیں اور نئی درخواستیں نہیں منگوائی جاسکیں۔
اردو کونسل کا کتاب میلوں اور سمیناروں کے انعقاد پر بہت زور ہے کیا اردو زبان و ادب کا ان چیزوں سے فروغ ممکن ہے؟کے سوال کے جواب میں ڈائرکٹر اقبال نے کہاکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کی بہت ساری صورتیں ہیں ان میں ایک صورت کتاب میلے اور سمیناروں کا انعقاد بھی ہے۔ کتاب میلہ صرف ناشرین اور تاجرانِ کتب کا ایک اجتماع نہیں ہوتا بلکہ کلچرل ڈسکورس کا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں مختلف زبان اور ادبیات سے تعلق رکھنے والو ں کے درمیان آئیڈیاز کا ایکسچینج ہوتا ہے اور ادب و ثقافت کی صورتِ حال پر صحت مند مکالمے کی صورت بھی نکلتی ہے اور اسی میلے کے ذریعے ناشرین کتب کو بھی ایک اچھا پلیٹ فارم بھی مل جاتا ہے۔ کتاب میلہ خواندگی کو فروغ دینے کا بھی ایک مؤثر اور مضبوط وسیلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لٹریسی کمپین (Literacy Campaign) کے لیے بھی یہ تکنیک اپنائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں خواندگی کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں بھی کتاب میلے کو خواندگی مہم سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتاب میلوں کی وجہ سے بہت سے ایسے افراد جن تک کتاب کی رسائی نہیں ہوپاتی یا جو اپنے ذوق کی کتابیں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان تک کتابیں پہنچ جاتی ہیں۔ خاص طور پر جہاں نہ کتابوں کی دکانیں ہیں اور نہ ہی کتابوں تک رسائی کا کوئی اور انتظام ہے وہاں کتاب میلوں کے انعقاد کے بہت مفید اور مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، اسی طرح سمیناروں کے ذریعے ادب کے اہم رجحانات اور رویوں سے ہم نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں بہت سے تجاویز اور مشوروں سے بھی آشنا ہوتے ہیں، اس لیے اگر کتاب میلے اور سمینار کا مثبت استعمال کیا جائے تواردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں یہ بہترین وسیلہ اور ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
آپ کے دور میں کتاب میلے اور نمائش کتب میں خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اس کے کیا کچھ مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں؟کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ کتاب میلے ماضی میں بھی منعقد ہوتے رہے ہیں اور بہت سے تاریخ ساز میلے بھی ہوئے اور ان میلوں میں کثیر تعدادمیں کتابیں فروخت بھی ہوئیں۔ کتاب میلہ ہمارے مینڈٹ میں شامل ہے، اسی لیے میں نے خواندگی مہم کو فروغ دینے اور کتابوں کی نکاسی کے مقصد سے نہ صرف کتاب میلے کے انعقاد پر زور دیا بلکہ مختلف علاقوں میں نمائش کتب کا بھی اہتمام کیا اور یقینی طور پر اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ اگر ایسے علاقوں کی تلاش کی جائے جہاں ایسا کوئی انتظام یا اہتمام نہیں ہے تو یقینی طور پر اور بھی بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اس سلسلے میں ہماری کوششیں جاری ہیں۔ ہم ایسے تمام علاقوں کی جستجو میں ہیں جہاں کتابوں کی نمائش کا چھوٹے یا وسیع پیمانے پر اہتمام و انتظام کیا جائے، اس سلسلے میں ہمیں محبانِ اردو سے بھی درخواست ہے کہ کچھ ایسے علاقوں کی نشاندہی فرمائیں جہاں اردو کتابوں کی رسائی ضروری ہو۔
اس سوال پر کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب کرنے کے لیے کونسل کے پاس کیا منصوبے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب لانے کے لیے کونسل کے پاس کئی منصوبے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ عنوان کے تحت نئی نسل کو پرگتی میدان کے عالمی کتاب میلے میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرایا گیا تھا جس میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور معاصر ادب کے مسائل و متعلقات کے حوالے سے گفتگو کی۔ نوجوانوں نے یہ محسوس کیا کہ پہلی بار انھیں قومی اردو کونسل کے توسط سے ایک بڑاپلیٹ فارم میسرآیا ہے جہاں وہ نہایت خوداعتمادی کے ساتھ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیے کئی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو قومی اردو کونسل نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی بھی کرتی رہی ہے۔
س: بچوں کی بہت بڑی دنیا ہے اردوکونسل بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کیا کررہی ہے؟ڈاکٹر شمس اقبال نے بتایا کہ بچوں کے ادب کے فروغ پر کونسل کا خصوصی ارتکاز ہے اس لیے گذشتہ ایک سال کے دوران ادبِ اطفال پر بہت سے ورکشاپ منعقد کیے گئے اور بچوں کے ادیبوں کو ورکشاپ میں بطور خاص مدعو کیا گیا تاکہ وہ بچو ں کے لیے الگ الگ موضوعات پر تخلیقی مواد تیار کرسکیں، چنانچہ ورکشاپ کی وجہ سے بچوں کے لیے خاصا تخلیقی مواد تیار ہوگیا اور اب قومی اردو کونسل عالمی معیار کے مطابق اس تخلیقی مواد کو کتابی صورت میں شائع کررہی ہے جس میں بچوں کی نفسیات اور ترجیحات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ تمام کتابیں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں تاریخی اور ثقافتی وراثت، سائنس فکشن، نامور شخصیات کی سوانح، تہذیبی و لسانی تنوع، صنفی مساوات، انٹرنیٹ سیفٹی یا حفاظتی تدابیر، مالیاتی خواندگی، جسمانی اثباتیت، رویہ جاتی مسائل، ہجرت، خاندانی نامیات جیسے اہم موضوعات پر تیار کی گئی ہیں۔ یہ کتابیں باتصویر بھی ہیں اور نہایت معلوماتی بھی، جن سے بچوں کی دلچسپی میں نہ صرف اضافہ ہوگابلکہ وہ ذوق و شوق کے ساتھ یہ کتابیں پڑھیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ کونسل سائنسی موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں دیتی توسائنسی اور تکنیکی موضوعات پر کونسل کا اشاعتی منصوبہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قومی ارد وکونسل سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماضی میں بھی کتابیں شائع کرتی رہی ہے اور اس کے لیے ایک خاص پینل بھی ہے جس کے تحت نئے نئے سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماہرین کی میٹنگ کے بعد سائنسی اور تکنیکی مواد تیار کیا جاتا ہے اور پھر کتابی شکل میں اسے شائع کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی کتابیں قومی اردو کونسل سے شائع ہوں جو سائنس اور تکنیک کے تعلق سے بچوں اور نوجوانوں کی معلومات میں اضافہ کرسکیں اور عصر حاضر کے سائنسی اور تکنیکی رجحانات سے انھیں مکمل طور پر روشناس کراسکیں۔
اردو رسم الخط کی بقا اور تحفظ کے لیے کونسل کیا اقدامات ہیں، کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اردو رسم الخط اردو زبان کی روح ہے اور اس کے تحفظ کے لیے کونسل کوشاں ہے۔ اردو کونسل ہر سال اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو اردو رسم الخط سکھا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے رسم الخط کے تحفظ کے ساتھ ہم اردو زبان و ادب کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کریں اور جو علاقے اردو کے لیے نامانوس یا اجنبی ہیں ان علاقوں تک بھی ہماری زبان کی رسائی ممکن ہوسکے۔ آج بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جو رومن یا دیوناگری رسم الخط میں اردو کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں تو ایسے قارئین کے لیے بھی ہم اب ذولسانی کتابوں کی اشاعت پر غور کررہے ہیں۔
س: کیا کونسل نے ان امکانی علاقوں کی تلاش کی ہے جہاں اردو زبان کو فروغ دیا جاسکتا ہے؟کے جواب میں ڈائرکٹر صاحب نے کہا کہ کونسل ہمیشہ سے نئے امکانی علاقوں کی تلاش میں رہی ہے۔ قومی اردو کونسل نے شمال مشرق کے کئی ریاستوں میں اردو کمپیوٹر سینٹر اور فاصلاتی تعلیم کے مراکز قائم کیے ہیں اور ان علاقوں میں اردو خواندگی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے اور وہاں بھی اردو کا ذوق شوق تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اب ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ان علاقائی زبانوں سے اردو کا تال میل قائم کیا جائے تاکہ دونوں زبانوں کے مابین لین دین کی کوئی صورت نکل سکے۔ اس تعلق سے ہم وہاں کے علاقائی زبانوں میں لغت اور فرہنگ پر بھی کام کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ اردو قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کے جواب انہوں نے کہاکہ اردو کے لیے میرا تو ہمیشہ ایک مثبت پیغام رہا ہے کہ ہم منفی سوچ کے حصار سے باہر نکلیں اور مخلصانہ جذبے کے ساتھ اردو کاز کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو ہمارے راستے کی ساری مشکلات اور رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔گھر گھر اردو پہنچانے کے لیے جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ پرخلوص جذبے اور جنون کی ضرورت ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا9 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا5 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان9 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا12 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر2 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا1 hour agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
