ہندوستان
ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے:ڈاکٹر شمس اقبال
نئی دہلی، اردو کو غیر اردو داں تک پہنچانے اور اردو رسم الخط کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیب بھی ہے اور تہذیب کی حفاظت پیٹ کے لئے نہیں کرتے, ساتھ ہی کہاکہ ہماری کوشش ان علاقوں تک اردو کی رسائی کو ممکن بنانا ہے جہاں اردو نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے ڈائرکٹر کے عہدہ پر ایک سال مکمل ہونے پر ایک انٹرویو میں کہی۔
انہوں نے ڈائرکٹر شپ کی ایک سال کی مدت کے دوران آپ اپنی کارکردگی، دقتیں، مسائل اور حصولیابیوں کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے درمیان اس ادارے کی ادبی، ثقافتی اور دیگر سرگرمیاں دیکھ لیجیے وہ خود ہی میری حصولیابیوں، دقتوں اور مسائل کی کہانیاں بیان کریں گی۔ اس ایک سال کے عرصے میں بہت سی سطحوں پر دقتیں بھی آئیں اور بہت سارے مسائل بھی سامنے آئے مگر میں نے حسن تدبیر اور وزارت تعلیم حکومت ہند کے تعاون سے ان تمام دقتوں اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی اور میرے رفقائے کار کا تعاون بھی اس میں شامل رہا، اس لیے موانع اور مشکلات کے باوجود قومی اردو کونسل کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں، مختلف علاقوں میں کتاب میلوں کا انعقاد ہوا، کتابوں کی نمائش لگائی گئی اور سمیناروں کے علاوہ دیگر ثقافتی سلسلے بھی جاری رہے اور ممکنہ طو رپر جو کچھ ہوسکتا تھا وہ میں نے مقدور بھر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مجھے کامیابی ملی یا نہیں اس کا فیصلہ محبانِ اردو ہی کرسکیں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ تقریباً چار سالوں سے مالی معاونت کی ساری اسکیمیں تعطل کا شکار ہیں ا س کی وجوہات کیا ہیں؟ کے جواب انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ کچھ وجوہات کی بناپر کچھ اسکیمیں تعطل کا شکار رہیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ قومی اردو کونسل کی جو بنیادی اسکیمیں ہیں ان میں کسی طرح کا جمود یا تعطل آیا ہو، ڈسٹینس ایجوکیشن، سرٹی فیکٹ ڈپلوما کورس اور CABA-MDTP کی ساری اسکیمیں حسب دستور جاری رہیں، صرف کچھ تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے کتابوں کی خریداری اور مسودہ پر مالی تعاون کی اسکیمیں ضرور متاثر ہوئیں اور نئی درخواستیں نہیں منگوائی جاسکیں۔
اردو کونسل کا کتاب میلوں اور سمیناروں کے انعقاد پر بہت زور ہے کیا اردو زبان و ادب کا ان چیزوں سے فروغ ممکن ہے؟کے سوال کے جواب میں ڈائرکٹر اقبال نے کہاکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کی بہت ساری صورتیں ہیں ان میں ایک صورت کتاب میلے اور سمیناروں کا انعقاد بھی ہے۔ کتاب میلہ صرف ناشرین اور تاجرانِ کتب کا ایک اجتماع نہیں ہوتا بلکہ کلچرل ڈسکورس کا پلیٹ فارم بھی ہے جہاں مختلف زبان اور ادبیات سے تعلق رکھنے والو ں کے درمیان آئیڈیاز کا ایکسچینج ہوتا ہے اور ادب و ثقافت کی صورتِ حال پر صحت مند مکالمے کی صورت بھی نکلتی ہے اور اسی میلے کے ذریعے ناشرین کتب کو بھی ایک اچھا پلیٹ فارم بھی مل جاتا ہے۔ کتاب میلہ خواندگی کو فروغ دینے کا بھی ایک مؤثر اور مضبوط وسیلہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لٹریسی کمپین (Literacy Campaign) کے لیے بھی یہ تکنیک اپنائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان ممالک میں خواندگی کی شرح میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں بھی کتاب میلے کو خواندگی مہم سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کتاب میلوں کی وجہ سے بہت سے ایسے افراد جن تک کتاب کی رسائی نہیں ہوپاتی یا جو اپنے ذوق کی کتابیں حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں ان تک کتابیں پہنچ جاتی ہیں۔ خاص طور پر جہاں نہ کتابوں کی دکانیں ہیں اور نہ ہی کتابوں تک رسائی کا کوئی اور انتظام ہے وہاں کتاب میلوں کے انعقاد کے بہت مفید اور مثبت اثرات سامنے آئے ہیں، اسی طرح سمیناروں کے ذریعے ادب کے اہم رجحانات اور رویوں سے ہم نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے سلسلے میں بہت سے تجاویز اور مشوروں سے بھی آشنا ہوتے ہیں، اس لیے اگر کتاب میلے اور سمینار کا مثبت استعمال کیا جائے تواردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں یہ بہترین وسیلہ اور ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
آپ کے دور میں کتاب میلے اور نمائش کتب میں خاصا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اس کے کیا کچھ مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں؟کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ کتاب میلے ماضی میں بھی منعقد ہوتے رہے ہیں اور بہت سے تاریخ ساز میلے بھی ہوئے اور ان میلوں میں کثیر تعدادمیں کتابیں فروخت بھی ہوئیں۔ کتاب میلہ ہمارے مینڈٹ میں شامل ہے، اسی لیے میں نے خواندگی مہم کو فروغ دینے اور کتابوں کی نکاسی کے مقصد سے نہ صرف کتاب میلے کے انعقاد پر زور دیا بلکہ مختلف علاقوں میں نمائش کتب کا بھی اہتمام کیا اور یقینی طور پر اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے۔ اگر ایسے علاقوں کی تلاش کی جائے جہاں ایسا کوئی انتظام یا اہتمام نہیں ہے تو یقینی طور پر اور بھی بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اس سلسلے میں ہماری کوششیں جاری ہیں۔ ہم ایسے تمام علاقوں کی جستجو میں ہیں جہاں کتابوں کی نمائش کا چھوٹے یا وسیع پیمانے پر اہتمام و انتظام کیا جائے، اس سلسلے میں ہمیں محبانِ اردو سے بھی درخواست ہے کہ کچھ ایسے علاقوں کی نشاندہی فرمائیں جہاں اردو کتابوں کی رسائی ضروری ہو۔
اس سوال پر کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب کرنے کے لیے کونسل کے پاس کیا منصوبے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو زبان سے قریب لانے کے لیے کونسل کے پاس کئی منصوبے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ’آؤ کہ کوئی خواب بنیں‘ عنوان کے تحت نئی نسل کو پرگتی میدان کے عالمی کتاب میلے میں ایک پلیٹ فارم مہیا کرایا گیا تھا جس میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور معاصر ادب کے مسائل و متعلقات کے حوالے سے گفتگو کی۔ نوجوانوں نے یہ محسوس کیا کہ پہلی بار انھیں قومی اردو کونسل کے توسط سے ایک بڑاپلیٹ فارم میسرآیا ہے جہاں وہ نہایت خوداعتمادی کے ساتھ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں۔نوجوانوں کے لیے کئی ورکشاپ کا بھی انعقاد کیا گیا جن میں نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ اس طور پر دیکھا جائے تو قومی اردو کونسل نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی بھی کرتی رہی ہے۔
س: بچوں کی بہت بڑی دنیا ہے اردوکونسل بچوں کے ادب کے فروغ کے لیے کیا کررہی ہے؟ڈاکٹر شمس اقبال نے بتایا کہ بچوں کے ادب کے فروغ پر کونسل کا خصوصی ارتکاز ہے اس لیے گذشتہ ایک سال کے دوران ادبِ اطفال پر بہت سے ورکشاپ منعقد کیے گئے اور بچوں کے ادیبوں کو ورکشاپ میں بطور خاص مدعو کیا گیا تاکہ وہ بچو ں کے لیے الگ الگ موضوعات پر تخلیقی مواد تیار کرسکیں، چنانچہ ورکشاپ کی وجہ سے بچوں کے لیے خاصا تخلیقی مواد تیار ہوگیا اور اب قومی اردو کونسل عالمی معیار کے مطابق اس تخلیقی مواد کو کتابی صورت میں شائع کررہی ہے جس میں بچوں کی نفسیات اور ترجیحات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ تمام کتابیں قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں تاریخی اور ثقافتی وراثت، سائنس فکشن، نامور شخصیات کی سوانح، تہذیبی و لسانی تنوع، صنفی مساوات، انٹرنیٹ سیفٹی یا حفاظتی تدابیر، مالیاتی خواندگی، جسمانی اثباتیت، رویہ جاتی مسائل، ہجرت، خاندانی نامیات جیسے اہم موضوعات پر تیار کی گئی ہیں۔ یہ کتابیں باتصویر بھی ہیں اور نہایت معلوماتی بھی، جن سے بچوں کی دلچسپی میں نہ صرف اضافہ ہوگابلکہ وہ ذوق و شوق کے ساتھ یہ کتابیں پڑھیں گے۔
کہا جاتا ہے کہ کونسل سائنسی موضوعات پر زیادہ توجہ نہیں دیتی توسائنسی اور تکنیکی موضوعات پر کونسل کا اشاعتی منصوبہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ قومی ارد وکونسل سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماضی میں بھی کتابیں شائع کرتی رہی ہے اور اس کے لیے ایک خاص پینل بھی ہے جس کے تحت نئے نئے سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر ماہرین کی میٹنگ کے بعد سائنسی اور تکنیکی مواد تیار کیا جاتا ہے اور پھر کتابی شکل میں اسے شائع کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایسی کتابیں قومی اردو کونسل سے شائع ہوں جو سائنس اور تکنیک کے تعلق سے بچوں اور نوجوانوں کی معلومات میں اضافہ کرسکیں اور عصر حاضر کے سائنسی اور تکنیکی رجحانات سے انھیں مکمل طور پر روشناس کراسکیں۔
اردو رسم الخط کی بقا اور تحفظ کے لیے کونسل کیا اقدامات ہیں، کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اردو رسم الخط اردو زبان کی روح ہے اور اس کے تحفظ کے لیے کونسل کوشاں ہے۔ اردو کونسل ہر سال اپنی مختلف اسکیموں کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو اردو رسم الخط سکھا رہی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ اپنے رسم الخط کے تحفظ کے ساتھ ہم اردو زبان و ادب کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کریں اور جو علاقے اردو کے لیے نامانوس یا اجنبی ہیں ان علاقوں تک بھی ہماری زبان کی رسائی ممکن ہوسکے۔ آج بڑی تعداد میں ایسے نوجوان ہیں جو رومن یا دیوناگری رسم الخط میں اردو کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں تو ایسے قارئین کے لیے بھی ہم اب ذولسانی کتابوں کی اشاعت پر غور کررہے ہیں۔
س: کیا کونسل نے ان امکانی علاقوں کی تلاش کی ہے جہاں اردو زبان کو فروغ دیا جاسکتا ہے؟کے جواب میں ڈائرکٹر صاحب نے کہا کہ کونسل ہمیشہ سے نئے امکانی علاقوں کی تلاش میں رہی ہے۔ قومی اردو کونسل نے شمال مشرق کے کئی ریاستوں میں اردو کمپیوٹر سینٹر اور فاصلاتی تعلیم کے مراکز قائم کیے ہیں اور ان علاقوں میں اردو خواندگی کی شرح روز بروز بڑھ رہی ہے اور وہاں بھی اردو کا ذوق شوق تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ اب ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ان علاقائی زبانوں سے اردو کا تال میل قائم کیا جائے تاکہ دونوں زبانوں کے مابین لین دین کی کوئی صورت نکل سکے۔ اس تعلق سے ہم وہاں کے علاقائی زبانوں میں لغت اور فرہنگ پر بھی کام کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ اردو قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کے جواب انہوں نے کہاکہ اردو کے لیے میرا تو ہمیشہ ایک مثبت پیغام رہا ہے کہ ہم منفی سوچ کے حصار سے باہر نکلیں اور مخلصانہ جذبے کے ساتھ اردو کاز کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو ہمارے راستے کی ساری مشکلات اور رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔گھر گھر اردو پہنچانے کے لیے جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ پرخلوص جذبے اور جنون کی ضرورت ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
پی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز بھارتیہ جن سنگھ کے نظریہ ساز پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یومِ پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیز انسانیت کے علم بردار اور انتودیہ کے حامی کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا کہ پنڈت اپادھیائے کے خیالات شمولیت پر مبنی ترقی، سماجی انصاف اور تعمیرِ ملت کی ہندوستان کی کوششوں کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، “میں پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی جینتی پر ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
پنڈت اپادھیائے کو ایک “صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیزانسانیت کے علم بردا اور انتودیہ کے رہنما” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے “عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے اورقطار کے آخری شخص کو اوپر اٹھانے کے لازوال نظریات” ملک کے ترقیاتی سفر میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ نظریات جامع پیش رفت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کی طرف ہمارے اجتماعی سفر کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔”
25 ستمبر 1916 کو پیدا ہوئے پنڈت اپادھیائے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پیشرو، بھارتیہ جن سنگھ کی اہم نظریاتی شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جن سنگھ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے نظریاتی فریم ورک کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انسانیت کے فلسفے نے متوازن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کے اندر فرد اور معاشرے کو رکھنے کی کوشش کی۔ انتودیہ کا تصور، جسے موٹے طور پر سماجی اور اقتصادی نظام کے سب سے نیچے والے شخص کی ترقی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، بعد میں بی جے پی کی سیاسی اور پالیسی سے جڑی گفتگو میں ایک بار بار آنے والا موضوع بن گیا۔
پنڈت اپادھیائے کے یوم پیدائش پر مسٹر مودی کے خراج عقیدت نے آخری شخص کی فلاح و بہبود پر مسلسل زور دینے کو اجاگر کیا اور ان کی نظریاتی میراث کو جامع ترقی اور سماجی انصاف کے وسیع تر اہداف سے جوڑ دیا۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
