تازہ ترین
ہمیں جمہوریت پر بھروسہ ہے،آپکو ہم پر بھروسہ نہیں وہ الگ بات ہے:عمرعبد االلہ
لوگوں کی بڑی تعدادنے پھر ایک بار 5اگست کو فیصلے کو مسترد کیا
جمہوریت کی اگر واقعی جیت ہوئی ہے تو آپکو لوگوں کی بات سننی پڑے گی
خبراردو:-
سرینگر:جموں و کشمیر کے عوام کی بھاری اکثریت نے پھر ایک بار5اگست2019کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عوامی اتحاد برائے گپکار کو ووٹ دیا ہے ”ہمیں جمہوریت پر بھروسہ ہے لیکن آپکو ہم پر بھروسہ نہیں ہے وہ الگ بات ہے“ان باتوں کا اظہارجموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے نوائے صبح کمپلکس میں پارٹی ورکران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
انہوں نے کہا اگر واقعی جموں و کشمیر میں جمہوریت کی جیت ہوئی،تو آپکو یہاں کی لوگوں کی آواز کو سننا پڑے گا۔عمرنے کہا ان انتخابات میں بی جے پی حالت کو دیکھ کر جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا فلحال کوئی امکان نہیں ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ونیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے گپکار عوام اتحاد کی جانب سے کشمیر وادی اور جموں میں بڑے پیمانے پر جیت درج کرنے کے بعدسرینگر کے پارٹی ہیڈ کواٹر پر بدھ کے روز کہا ہے کہ‘میں کن کن کی طرف اشاروں کروں؟۔جو لوگ کل تک ہمارے جلسے میں زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے اور پھر موقعہ ملتے ہی ایلائنس کے خلاف کھڑا ہوئے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاسب کہتے ہیں کہ جمہوریت کی جیت ہوئی ہے ہم بار بار یہ سنتے ہیں کل سے ٹیلی ویژن چنلوں پر یہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا اگر اس طرح کے تنائج نہیں ہوتے تو وہ بڑی بڑی عمارتوں سے ڈنڈورا پیٹتے کہ،گپکار والے ہار گئے،ایلائنس کی ہار ہوئی،موقعہ پرست ہار گئے،پرو پاکستان وغیرہ ہار گئے۔اور اب انہیں ایلائنس کی جیت ہضم نہیں ہوتی تو آپ کہتے ہیں کہ جمہوریت جیت گئی۔سابق وزیر اعلیٰ نے بتایا ہم نے کب کہا ہمیں جمہوریت پر بھروسہ نہیں ہے؟۔
انہوں نے بتایا ”آپ کو ہم پر بھروسہ نہیں ہے وہ الگ بات ہے۔“عمر نے کہا ہم نے پہلے ہی دن سے کہا ہم اپنے حقوق کے لئے لڑے گئے جمہوری اور آئنی کے حدود میں۔انہوں نے کہا ہم اس ریاست کا ماحول کو خراب کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کے لئے آئے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا اگر واقعی جمہوریت جیت گئی ہے تو آپ کو لوگوں کی آواز سننی پڑے گی۔وہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات میں بڑے پیمانے پر جیت درج کرنے کے بعد بدھ کے روز پارٹی ہیڈ کواٹر نوائے صبح پر میں پارٹی لیڈران اور ورکران کے ساتھ بات کر رہے تھے۔انہوں نے کہا اور بھاری اکثریت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں 5اگست2019کا فیصلے کو مسترد کیا ہے،عمرنے کہا یہ میرا کہنا نہیں ہے بلکہ یہ یہاں کے لوگوں کا فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کل تک کہتے ہیں عمر عبد اللہ ہوا میں باتیں کر رہا ہے فاروق عبد اللہ کے پیچھے کوئی کھڑا نہیں ہے۔ایلائنس کو دو خاندانوں کا اتحاد کا نام دیا گیاہے۔
انہوں نے بتایا ہم نے انتخابات میں حصہ لے کرآپ کو بتایا کہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔اب کب تک لوگوں کو بتاتے رہو گے کہ جموں و کشمیر کی آبادی کو370سے کوئی لین دین نہیں ہے وہ5اگست کے فیصلے سے خوش ہیں۔عمر عبد اللہ نے کسی کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ اگر آپ کا دعویٰ سچ ہوتا تو آج آپکی یہ حالت نہیں ہوتی۔ اور نتیجے آپ کے سامنے ہیں ایک واحد جماعت جس کی جڑ کشمیر اور جموں میں بھی ہے،جس کے جڑ جموں کے نچلے اور پہاڑی علاقوں سے کرگل تک ہیں لوگ ہمارے ساتھ ہے۔
اس انتخاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ نیشنل کانفرنس کے مر مٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔عمر نے کہا اللہ تعالیٰ کے بعد یہاں کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا اپ نے سازشیں کی پرپاگنڈا چلایابتائیں لوگوں کو جھوٹ۔کبھی نہ کبھی آپ کا جھوٹ،جھوٹ ہی ثابت ہوگا۔لیکن ہمیں یہ مان کے چلنا ہوگا کچھ جگہوں میں ہمیں کمزوریاں تھی،چاہے اس میں ہمار گمنڈ یا غلط فہماں تھی،شائد ہم لوگوں سے تال میل بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہوتے۔
اب اسمبلی انتخابات جلدی نہیں ہوں گے کیوں کہ اس الیکشن میں بی جے پی کی جو حالت ہوئی ہے اس کو دیکھ کر وہ فلحال یہاں اسمبلی انتخابات نہیں کریں گے۔اس لئے ہمیں جماعت کو مذید مضبوط کرنا ہوگا۔اس لئے ہمیں اپنی کمزوریوں کو دن رات ایک کر کے کام کرنا ہوگا۔اسے قبل عمر عبداللہ نے کہاایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کی شاندار کارکردگی سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ”ہم صرف کشمیر نشین جماعتیں ہی نہیں بلکہ جموں میں بھی مقبول ہیں“۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کشمیر میں 3نشستوں پر جیت درج کرنے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے جبکہ جموں میں اْن کی 35نشستوں پر کامیابی کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔موصوف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا”میں بی جے پی کی طرف سے کشمیر میں تین نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کو بڑھا چڑھا پیش کرنے کی کاوشوں کو سمجھتا ہوں لیکن جموں صوبے میں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کی 35 نشستوں پر کامیابی کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟“۔(کے این ایس)
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
