تازہ ترین
یوم شہداء: گورنر کے مشیر، درجنوں سیاسی لیڈران کی مزار پر حاضری: مکمل رپورٹ
خبراردو: مزاحمتی جلسہ خراج کے پیش نظر 1931کے شہدا کی آخری آرام گاہ واقع مزار شہداء نقشبند صاحب پر انتظامیہ نے سیکورٹی اہلکاروں کا کڑا پہرہ عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کے 7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں کے علاوہ ترہگام، ہندوارہ کے علاوہ سوپور میں بھی عملاً کرفیوں نافذکردیا۔
13جولائی1931کے شہدائے کشمیر کی یاد میں مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مکمل کشمیر بند کی کال دی تھی، جس کے پیش نظر وادی کے شمال وجنوب میں سنیچر کو مکمل ہڑتال رہی اور عام زندگی پٹری سے نیچے اتر گئی۔ سرینگر کے علاوہ وادی کے دیگر قصبہ جات اور علاقوں میں بھی مکمل بند رہا اور ہر طرف سکوت اور خاموشی چھائی رہی۔احتجاجی ہڑتال کی وجہ سے دکانیں اور کاروباری مراکز مکمل طور پر مقفل رہے۔سرکاری تعطیل کے باعث سرکاری دفاتر اور نجی وسرکاری تعلیمی ادارے بند رہے،تاہم پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پرغائب رہا جسکی وجہ سے ہر سو ہو کا عالم رہا۔مزاحمتی قیادت کی جانب سے جلسہ خراج عقیدت کے پیش نظر مزار شہداء واقع نقشبند صاحب ؒ کے ارد گرد والے تمام علاقوں اور محلوں میں فورسز کی اضافی کمک تعینات کی گئی تھی جبکہ جگہ جگہ پر پولیس اور فورسز اہلکار گشت کر تے ہوئے نظر آرہے تھے۔ انتظامیہ نے احتیاتی طور پر پہلے ہی شہر خاص کے6تھانوں اور سیول لائنزکے ایک پولیس تھانہ کے تحت آنے والے علاقوں میں سختی کے ساتھ دفعہ 144نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ان ہی احکامات کے پیش نظر ان علاقوں میں بندشیں اور قدغنیں عائد کی گئی تھیں۔
مزار شہداء نقشبند صاحب ؒ کی طرف جانے والے راستے کو مکمل طور پرسیل کر کے رکھ دیاگیا تھا اور خانیار سے لے کر نوہٹہ تک اس حساس علاقے میں فورسز کے موبائل بینکر اور جدید ساز و سامان سے لیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھاتاکہ کسی بھی ممکنہ گڑ بڑ سے بروقت نمٹا جاسکے۔ ادھربم ڈسپوزل اسکارڈ دستہ نے پہلے ہی مزار شہداء نقشبند صاحب ؒ کے علاقے کی تلاشی لی تھی جبکہ شہر خاص کے حساس علاقوں میں غیر اعلانیہ کرفیو جیسی صورتحال تھی۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ سمیت شمالی کشمیر کے کپوارہ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ علاقوں میں سخت ہڑتال سے عام زندگی مفلوج رہی جبکہ ہر سو سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کررہی تھیں۔ ہڑتال کی وجہ سے ضلع و تحصیل ہیڈکوارٹروں پر ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طور پر بند رہی جس کے نتیجے میں ہسپتالوں کو جانے والے مریضوں اور تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔معلوم ہوا کہ شمالی کشمیر کے سوپور، ہندوارہ، ترہگام، لنگیٹ، رفیع آباد، پٹن، حاجن سمیت کئی علاقوں میں انتظامیہ نے فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کردیا تھا جس دوران یہاں عام لوگ سڑکوں پر شاذو نادر ہی نظر آئے۔ادھر مزاحمتی قیادت کی ہڑتال کال اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمرفاروق کی جانب سے مزار شہدا تک ریلی کے اعلان کے بعد انتظامیہ نے ایک روز قبل ہی حریت لیڈران و کارکنان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے انہیں خانہ و تھانہ نظر بند کردیا۔
اطلاعات کے مطابق حریت (ع) چیرمین کی جانب سے مجوزہ ریلی جو جامع مسجد سے مزار شہداء نقشبند صاحبؒ تک نکالے جانے کا پروگرام پروگرام پر انتظامیہ نے پابندی عائد کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق کو ایک روز قبل ہی اپنی رہائش گاہ واقع نگین میں خانہ نظر بند کردیا۔ ادھر حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی جو کئی برسوں سے اپنی رہائش گاہ واقع حیدرپورہ میں نظر بند ہے، کے دفتر کی جانب جانے والے تمام راستوں پر انتظامیہ نے سیکورٹی کے اضافی دستوں کو الرٹ رکھا تھا جس دوران سنیچر کو یہاں کسی بھی شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ معلوم ہو اکہ انتظامیہ نے حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی کی جانب سے مزار شہدا تک نکلنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے حیدرپورہ میں سیکورٹی کے غیر معمولی اقدامات کئے تھے جس دوران یہاں کی گلی کوچوں میں دن بھر بکتر بند گاڑیاں گشت کرتی ہوئی نظر آرہے تھیں۔ادھر انتظامیہ نے مزاحمتی خیمے کی جانب سے دی گئی ہڑتال کال کے پیش نظر امرناتھ یاترا کو ایک روز کیلئے معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے ہڑتال کال کے بیچ جموں سے کسی بھی یاتری کو سرینگر جموں شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام یاتریوں کی سلامتی سے متعلق اُٹھایا گیا تھا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو۔ اس دوران ریلوے محکمے نے بھی بانہال سے بارہمولہ ٹریک پر چلنے والی ریل سروس کو سنیچر کے روز بند رکھنے کافیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ 13جولائی1931کوسینٹرل جیل سرینگر کے باہرایک غیرمقامی شخص عبدالقدیر کے خلاف درج کیس کافیصلہ سننے کیلئے جمع ہوئے ہزاروں کشمیریوں کے مجمع پرڈوگرہ فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔یہاں نماز ادا کرنے کیلئے جب موزن اذان دینے کیلئے کھڑے ہوئے،تو ڈوگرہ فوج نے بندوقوں کے دھانے کھولے،ایک ایک کرکے 22کشمیریوں نے دنیائے تاریخ کی پہلی اذان مکمل کی اور ساتھ ہی جموں وکشمیر میں شخصی راج کے خلاف نا قابل فراموش تاریخ رقم کی۔
اولین شہدائے کشمیر کی برسی کے موقعہ تاریخی مزارشہداء نقشبندصاحب کوگذشتہ 29برسوں کی طرح امسال بھی مکمل طورپرسیل رکھاگیا اورمین اسٹریم لیڈران وکارکنان کو چھوڑ کرکسی بھی ہرخاص وعام کویہاں آنے سے روکنے کیلئے پولیس اورسی آرپی ایف اہلکاروں کی بھاری تعداد مختلف مقامات پر تعینات کردی گئی تھی۔اس دوران شہداء کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے گورنر کے خصوصی مشیر خورشید احمد گنائی، صوبائی کمشنر کشمیر بصیر احمد خان، نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، کانگریس صدر غلام احمد میر، سی پی آئی (ایم) کے محمد یوسف تاریگامی،عوامی اتحاد پارٹی کے انجینئر رشید، ڈی پی این کے غلام حسن، پی ڈی ایف کے حکیم محمد یاسین سمیت درجنوں سیاسی لیڈران نے مزار پر حاضری دے کر 1931کے شہدا کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کے مزار وں پر پھول نچھاور کئے۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
