اہم خبریں
یہ اقتدار کی لڑائی نہیں ، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے،تو لوگ کبھی معاف نہیں کریں گے :عمر عبداللہ
جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو نئی دہلی سے مخاطب ہو کر کہا ’آپ کیا چاہتے ہیں ،کیا آپ چاہتے ہیں ہم مین اسٹریم چھوڑ کر چلے جائیں ؟‘۔ان کا کہنا تھا کہا کہ جموںوکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اقتدار کی لڑائی نہیں ہے، یہ لڑائی وزیر اعلیٰ کی کرسی کیلئے نہیں ہے، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے اور اگر آج بھی ہماری نظریں سکریٹریٹ پر مرکوز رہیں تو لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے ‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اراضی قوانین میں ترمیم کرکے ملک کے کسی بھی شہری کو جموں وکشمیر میں زمین خریدنے کا اہل بنانے کے حکومت ہندکے اقدام کو ناقابل قبول کرتے ہوئے جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ’ہمارا سب کچھ اس زمین کیساتھ جڑا ہوا ہے اگر ہم اپنی زمین کو نہیں بچاسکے تو ہم اپنی آنے والی نسل کیلئے کیا چھوڑ کر جائیں گے، آخر ہمارے پاس اس زمین کے علاوہ اپنے بچوں کو دینے کیلئے رہا ہی کیاہے؟زرعی اصلاحات نے ہی کشمیریوں کو غربت، افلاس اور چکداری سے باہر نکالا، اسی زرعی اصلاحات نے ہمیں زندہ رکھا اور مرکز نے یہی قانون تہس نہس کردیااور یہ لوگ سوچتے ہیں کہ ہم خاموش بیٹھیں گے۔“عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ”5 اگست 2019کو ایسا زلزلہ آیا جس سے ہم آ ج بھی ہل رہے ہیں، گذشتہ سال کے ابتداءمیں جہاں ہم پارلیمانی انتخابات کے بعد اسمبلی انتخابات کی تیاری کا سوچ رہے تھے اور یہاں کی مقامی جماعتیں ایک دوسری کی مخالفت میں لگے ہوئے تھے، لیکن مرکز کے سازش کے نتیجے میں ایسا ماحول پیدا ہوا کہ ہم مشترکہ پلیٹ فارم پر آنے کیلئے مجبور ہوگئے۔ ہم نے اپنی چھوٹی سیاسی لڑائیوں میں الجھنے کے بجائے اتحاد کو ترجیح دی کیونکہ آج موقع نہیں کہ ہم الیکشن اور حکومت بنانے کی بات کریں۔ جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں وہ ایک دن، ایک ہفتے اور ایک مہینے کی لڑائی نہیں ہے، معلوم نہیں اس جدوجہد کے دوران ہم میں سے کتنے دم توڑ بیٹھیں گے، لیکن اس لڑائی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں۔ہمارا سارا کچھ اس لڑائی سے جڑا ہوا ہے۔یہ لڑائی ہمارے تشخص، ہماری پہچان، ہمارے آنے والے کل اور اپنے وطن کو بچانے کیلئے ہے۔
یہ لڑائی ہم ہارنے کیلئے تیار نہیں۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہا کہ جموںوکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اقتدار کی لڑائی نہیں ہے، یہ لڑائی وزیر اعلیٰ کی کرسی کیلئے نہیں ہے، اگر ہم آج بھی اقتدار کے پیچھے بھاگے اور اگر آج بھی ہماری نظریں سکریٹریٹ پر مرکوز رہیں تو اس سے زیادہ گھناونی بات کیا ہوسکتی ہے جبکہ لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے‘۔ان کا کہناتھا ’لعنت ہم اگر ان حالات میں بھی ہم اقتدار پیچھے بھاگے ‘۔ عمر عبداللہ نے کہا ’ 2019کے ابتداءمیں ہم جموں و کشمیر میں الیکشن کی بات کررہے تھے اور آج ہم جموں وکشمیر کے تشخص اور پہچان بچانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں۔ ان دلی والوں نے ہمیں بے اختیار کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑا، مرکز نے بار بار کوشش کی کہ ہماری آواز بے وزن ہوجائے ، اُن کی سازش کامیاب ہوگئی اور اہم بکھر گئے اور اس کمزور آواز کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے‘۔انہوں نے کہا کہ مرکز نے جموںوکشمیر کیساتھ مسلسل امتیازی سلوک جاری رکھا ہو اہے۔ ہمارچل ، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، سکیم اور دیگر ریاستوں میں ایسے اراضی قوانین ہیں جن کے تحت وہاں ملک کے باشندے زمین نہیں خرید سکتے ہیں، لیکن پتہ نہیں جموں و کشمیر کے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ یہاں پورے ملک کے لوگوںکو اندھا دھند زمین خریدنے کی اجازت دی جائیگی اور جب ہم اس کیلئے آواز اُٹھائے ہیں تو ہمیں ملک دشمن کہا جاتا ہے اور ہمیں ملک کیخلاف باغی کہا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا ’جو بات ہم کررہے ہیں وہ اس ملک کے آئین میں ہی درج تھی ،جو ہم سے 5اگست 2019کو چھینا گیا وہ کسی اور ملک کے آئین میں درج نہیں تھا وہ اسی ملک کے آئین میں درج تھا۔ اگر جموں وکشمیر کو وہ خصوصی درجہ نہیں دیا گیا ہوتا تو شائد 1947میں کوئی اور ہی کہانی بن گئی ہوتی۔‘انہوں نے کہا کہ یہ دلی والے جب ناگالینڈ والوں سے بات کرتے ہیں، جو نہ ہندوستان کا آئین اور نہ جھنڈا مانتے ہیں ، تو انہیں ملک دشمن نہیں کہا جاتا اور نہ ہی ٹی وی چیلنجوں پر ان پر بغاوت کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن جب جموں وکشمیر کے عوام اپنی زمین اور اپنی پہچان کو بچانے کیلئے آواز اُٹھاتے ہیں تو اسے ملک کیخلاف بغاوت کا رنگ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں بغاوت کرنی ہوتی تو ہم نے 30سال تک بے بہا قربانیاں پیش نہیں کی ہوتیں۔ ہمارا یہ ماننا تھا کہ ہم جو کچھ بھی حاصل کریں گے آئین کے اندر اور پُرامن طریقے سے ہی کریں گے لیکن آج ہمیں دھکیلا جارہا ہے، آج یہی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا راستہ غلط تھا۔سمجھ میں نہیں آتا یہ لوگ ہم سے کیا چاہتے ہیں، ہمیں ہر لحاظ سے الگ ترازو میں کیوں تولا جاتاہے۔عمر عبداللہ نے کہا ’آپ چاہتے کیا ہیں ؟کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم مین اسٹریم کو چھوڑ کر چلے جائیں ؟‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ کل ہی جموں میں پی ڈی پی کو نئے اراضی قوانین کیخلاف پُرامن احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی لیکن آج جب اسی جماعت نے سرینگرمیں احتجاج کی کوشش کی تو انہیں گرفتار کیا گیا۔ عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ ”آخر آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ کیا آپ یہی چاہتے ہیں کہ ہم مین سٹریم چھوڑ دیں؟جس چیز کیلئے ہم نے 30سال قربانیاں دیں،کیا آپ کہتے ہیں کہ وہ چھوڑ دیں۔“ انہوں نے کہا کہ ”سیاسی ماحول کس طرف کروٹ لیتا ہے اور ہمیں کس طرح کے فیصلے لینے کیلئے مجبور کرتا ہے کسی کو نہیں پتہ۔ کیا پتہ اللہ نے ہمارے لئے کیا سوچا ہوگا۔اللہ نے جو بھی سوچا ہوگا آخر کار اچھا ہی سوچا ہوگا اور کوئی بھی اچھی چیز آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اور اچھی چیز حاصل کرنے کیلئے مشکل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔“تقریب پر سینئر پارٹی لیڈران علی محمد ڈار، محمد سعید آخون، پیر آفاق احمد، منظور احمد وانی، پروفیسر عبدالمجید متو، ڈاکٹر محمد شفیع، سلمان علی ساگر، عمران نبی ڈار، احسان پردیسی، صبیہ قادری، مدثر شہمیری سید توقیر احمد شاہ اور دیگر لیڈران بھی موجو دتھے۔ اس تقریب کا انعقاد سابق ایم ایل سی اور پی ڈی پی لیڈر سیف الدین بٹ کی نیشنل کانفرنس میں باضابطہ شمولیت کے سلسلے میں کیا گیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
ہندوستان4 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر22 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
