تازہ ترین
14روزہ ملک گیر لاک ڈاون کا تیسرا مرحلہ شروع
بھارت میں سوموار یعنی(4 مئی)سے لاک ڈاون کا14 روزہ تیسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جبکہ کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 42 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور تقریباً1400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اس دوران مرکزی وزیر، پرکاش جاوڈیکر نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں عملی طور پر آدھے ملک میں پوری طرح کام کاج شروع ہو جائے گا۔ادھراپوزیشن کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاون ختم کرنے اور ملک کی معیشت کو بحال کرنے کا کوئی واضح اورٹھوس لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے۔
کشمیر نیوز سروس مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کورونا کے بڑھتے انفکشن کو روکنے کے لیے اعلان کیے گئے لاک ڈاؤن۔2(دوسرا مرحلہ) کی مدت ختم ہوگئی اور سوموار سے لاک ڈاؤن۔(3 تیسرے مرحلہ) کا لاک ڈاؤن شروع ہوگیا جوکہ 17مئی تک جاری رہے گا۔حالانکہ اس لاک ڈاؤن میں حکومت کی جانب سے ریڈ، اورینج اور گرین زون بنا کر کچھ سہولتیں دی گئیں ہیں۔تاہم مجموعی طور پر پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں گی۔لاک ڈاون کے اس تیسرے مرحلے میں مرکزی حکومت نے کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کو اس وبا کی شدت کے لحاظ سے تقسیم کرکے بعض خدمات اور کاروبار میں مشروط رعایت دی ہے۔ ان میں شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت شامل ہے۔ تمام مذاہب کے عبادت خانے البتہ بند رہیں گے۔ کووڈ۔19کی وبا کے پھیلنے کا سلسلہ بھارت میں فی الحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
مرکزی وزارت صحت کے مطابق اتوار کو2816 نئے معاملات کی تصدیق ہوئی جس کے ساتھ ہیبھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد42546 ہوگئی ہے جبکہ1393 افراد موت کا شکار ہوچکے ہیں۔ اس دوران11775مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں گزشتہ روز427 نئے معاملات کی تصدیق ہوئی جو ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ دہلی میں اب تک 4549 مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 64 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مارچ کے بعد سے ہی بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی رفتار مسلسل تیز ہورہی ہے۔ صرف پانچ دنوں میں دس ہزار نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ پہلے دس ہزار افراد کے متاثرہونے میں 43 دن لگے تھے۔ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد تین ریاستوں مہاراشٹر، گجرات اوردہلی میں ہے۔ یہ تینوں ہی خوشحال ریاستیں سمجھی جاتی ہیں۔
بھارت میں مجموعی متاثرین کا 56 فیصد ان تین ریاستوں میں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اس امر کا اشارہ ہے کہ میٹرو شہراس عالمگیر وبا کو پھیلانے میں کتنا سرگرم رول ادا کررہے ہیں۔بھارت میں سب سے زیادہ متاثرہ شہر ملک کا اقتصادی دارالحکومت ممبئی ہے۔ صرف ممبئی میں ہی 8800 مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے او ر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ممبئی میں ایشیا کی سب سے بڑی کچی بستی، ساڑھے آٹھ لاکھ کی آبادی والے، دھاراوی میں اگر اس وبا نے پاؤں پھیلا دیے تو متاثرین کی تعداد کو روکنا مشکل ہوجائے گا۔وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں متاثرین کی تعداد5428 سے تجاوز کرچکی ہے۔مودی حکومت کا دعوی ہے کہ کووڈ۔19 پر قابو پانے کے حوالے سے بھارت بالکل درست سمت میں جارہا ہے۔ وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں شرح اموات 3.2 فیصد ہے جو کہ دنیا میں سب سے کم ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ میں بھارت کامیابی کے راستے پرگامزن ہے۔ گزشتہ چودہ دنوں میں مریضوں کے دو گنا ہونے کی تعداد10.5 دن سے بڑھ کر12 دن ہوگئی ہے۔کووڈ۔19پر نگاہ رکھنے والی بھارت کی اعلی سطحی ٹیم کے رکن اور دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ ’ہمارے سامنے چیلنج یہ ہے کہ نئے کیسز ریڈ یا اورینج زون سے گرین زون میں نہ پہنچنے پائیں۔ اس کے بعد ہی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیسز کے بڑھنے کی رفتار سست ہونے لگی ہے‘۔
حکومت نے گرین زون ایسے علاقے کو قرار دیا ہے جہاں پچھلے21 دنوں سے کورونا کا کوئی نیا معاملے سامنے نہیں آیا ہو۔ادھراطلاعات ونشریات کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہاہے کہلاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں 4مئی سے عملی طور پر آدھے ملک میں پوری طرح کام کاج شروعہوجائے گا۔انہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زبردست کامیابیملی ہے اور ملک نے کورونا وبا سے نمٹنے میں دیگر ملکوں کی بہ نسبت کافی بہتر کارکردگیکا مظاہرہ کیا ہے۔تاہم بعض حلقوں نے لاک ڈاون میں توسیع کے فیصلے کی نکتہ چینی کی ہے۔
2014 میں وزیر اعظم مودی کی انتخابی حکمت عملی طے کرنے والے پولیٹیکل اسٹریٹیجسٹ پرشانت کشور نے کہا کہ صرف لاک ڈاون کے سہارے بھارت کورونا پر فتح حاصل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا’ہمیں اس سچائی کو تسلیم کرنا چاہیے کہ گزشتہ40 دنوں کے لاک ڈاون کے دوران صورت حال خراب ہوئی ہے، لیکن ہم یہ سچائی تسلیم کرنے اور اپنا لائحہ عمل بدلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، بدقسمتی سے 17مئی کے بعد ہی حالات اسی طرح خراب ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔‘اس دوران اپوزیشن کانگریس پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاون ختم کرنے اور ملک کی معیشت کو بحال کرنے کا کوئی واضح اورٹھوس لائحہ عمل عوام کے سامنے پیش کرے۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
