جموں و کشمیر
عظیم الشان تعلیمی کانفرنس سرینگر میں منعقد، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر اور بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین نمایاں مہمانوں میں شامل
بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ کی جموں و کشمیر کے نجی تعلیمی شعبے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
“تجدیدِ تعلیم کا آغاز کلاس رومز سے ہونا چاہیے”: آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی کی اصلاحِ تعلیم پر زور
جے کے بورڈ کی بڑھتی مشکلاتپیشِ نظر: اگر تعلیمی مسائل حل نہ ہوئے تو قومی بورڈز کا رخ ناگزیر ہوگا: صدر پی ایس اے جے کے، جی این وار
“جدید نظامِ تعلیم ہی کشمیر کو عالمی قیادت کے سفر پر لے جا سکتا ہے”: بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم اشوک کمار
سرینگر، جموں و کشمیر میں تعلیمی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے موضوع پر ایک غیر معمولی، تاریخی اور فکرانگیز تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عہدیداران، ماحولیاتی ماہرین اور نجی اسکولوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اہم کانفرنس کریسنٹ پبلک اسکول، نسیم باغ، سرینگر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا آغاز ایک پُراثر اور پُرتپاک استقبالیہ تقریب سے ہوا، جہاں معزز مہمانوں کا خیرمقدم پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا اور ان کی خدمت میں کشمیری روایتی شال بطور تحفہ و اعزاز پیش کی گئیں—جو وادی کی مہمان نوازی، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی روشن علامت ہیں۔
شرکاء میں شامل ممتاز شخصیات: ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس)، چیئرمین، بھارتیہ شکشا بورڈ؛ پروفیسر بی ایس مورتی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد؛ پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر؛ اشوک کمار ٹھاکر، بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرِ تعلیم و چیئرمین مونی انٹرنیشنل اسکول نئی دہلی؛ پروفیسر ایم اے شاہ، این آئی ٹی سرینگر۔
علاقائی قائدین کی نمایاں شرکت: جی این وار (صدر، پی ایس اے جے کے، منظور احمد ونگنو (چیئرمین، بلالیہ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ)، انجینئر محمد شکیل ڈار (چیئرمین) و انجینئر محمد شاہد ڈار (ڈائریکٹر، کریسنٹ اسکول)، مشتاق کینی (سینئر تعلیمی رہنما)، عشرت ٹنکی (صدر خواتین ونگ پی ایس اے جے کے)، فیصل اسلام میر (جنرل سیکرٹری)، شاہ گلزار (چیف آرگنائزر)، مجید بٹ (ڈویژنل آرگنائزر)، بلال بٹ (ضلع صدر)، طاہر وگے (ضلع سیکرٹری)، سیدہ رفیدہ صولیحہ (پی آر او) کے علاوہ ایم وائی وانی (چیئرمین گرین ویلی) اور فاروق فاضلی (چیئرمین، ڈالفن اسکول) وغیرہ۔
بھارتیہ شکشا بورڈ، چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس) نے اپنے خطاب میں کہاکہ “بھارتیہ شکشا بورڈ ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ قومی تعلیمی بورڈ ہے، جس کا مقصد ہندوستانی تہذیب اور فکری ورثے پر مبنی ایک خالص دیسی نظامِ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس بورڈ کی اسناد کو ملک بھر میں تعلیمی اور ملازمت کے تمام مقاصد کے لیے مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ “بھارتیہ شکشا بورڈ، CBSE اور دیگر قومی بورڈز کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ، خصوصاً شعبہ اسکول ایجوکیشن و خواندگی (Department of School Education & Literacy) پر جائیں، تو آپ دیکھیں گے کہ CBSE اور بھارتیہ شکشا بورڈ دونوں کو قومی تعلیمی بورڈز کے طور پر سرکاری سطح پر درج کیا گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا “یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتِ ہند نے اپنے طور پر ایک قومی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے۔ اس بورڈ کو انڈین یونیورسٹیز کی ایسوسی ایشن (AIU) نے مساوات کا درجہ دے رکھا ہے، جس سے اس کی اسناد کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے تعلیمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا “کشمیر نے ہندوستانی تہذیب اور علمی شناخت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کے عروج کی کہانی، کشمیر کی علمی، روحانی اور خدماتی بلندیوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سرزمین ہمیشہ سے عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہی ہے۔”
انہوں نے جموں و کشمیر کے نجی اسکولوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات اور مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا “ایک قومی تعلیمی بورڈ کے نمائندے کی حیثیت سے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور ان کے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں گے۔”
اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا “ایک سینئر آئی اے ایس آفسر کی حیثیت سے، جس نے 34 برس پالیسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، میں بخوبی جانتا ہوں کہ پالیسی سازی میں بعض اوقات غلط فہمیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ٹیم کی صورت میں ہم مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں گے۔”
ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد پروفیسر بی ایس مورتی نے اپنے خطاب میں کہا “ہندوستان اُس وقت ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا جب ہمارا نظامِ تعلیم طلبہ کو صرف اچھی ملازمتوں کے حصول کی ترغیب نہ دے، بلکہ انہیں بامقصد اختراعات کرنے، خود روزگار پیدا کرنے اور قوم کی تعمیر میں بھرپور حصہ لینے کے قابل بھی بنائے۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “قومی فخر، بین الشعبہ جاتی سوچ اور تخلیقی آزادی جیسے عناصر کا فروغ اسکول کی سطح سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ ہم جب تک طلبہ کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کریں گے، ہم ’وکست بھارت‘ کا خواب پورا نہیں کر پائیں گے۔”
پروفیسر مورتی نے آئی آئی ٹی حیدرآباد میں رائج اختراعی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارے یہاں طلبہ کو پہلے ہی سال سے اپنا کاروباری خیال عملی شکل دینے کے لیے سیمسٹر بریک کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہم انہیں ابتدائی سرمایہ (Seed Funding) بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبوں پر کام کر سکیں۔”
پروفیسر مورتی نے کہا کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اب تک 260 سے زائد اسٹارٹ اپس وجود میں آ چکے ہیں، جنہوں نے 1500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ ایک زندہ مثال ہے کہ اگر نوجوان ذہنوں کو سازگار ماحول، اعتماد اور وسائل میسر آئیں، تو وہ محض خواب نہیں دیکھتے بلکہ اُنہیں عملی شکل دے کر انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبے، اس سوچ اور اس نظام کو ملک کے ہر اسکول اور ہر تعلیمی ادارے تک وسعت دی جائے۔”
پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر نے کہا “یونیورسٹی سب کے لیے ہے۔ میں یہاں موجود تمام طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ دل کے ساتھ محنت کریں، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کریں، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ آپ کے خواب قابلِ قدر ہیں، اور اگر آپ اخلاص، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں گے، تو یقیناً آپ اُنہیں حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں اور اپنے والدین کا فخر بن سکتے ہیں”۔
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی آف کشمیر وادی کے تمام اسکولوں کے لیے کھلی ہے۔ اگر ہم، ایک یونیورسٹی کے طور پر، معاشرے سے تعلق مضبوط نہیں کریں گے، تو پھر یہ فریضہ کون ادا کرے گا؟ یہ ادارہ طلبہ کا ہے، اور میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔”
“میرے تجربے میں، طلبہ کی تین اقسام سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسم اُن طلبہ کی ہے جو بالکل غیر سنجیدہ ہوتے ہیں، وہ صرف والدین کے دباؤ پر اسکول آتے ہیں، اُن کا کوئی مقصد یا شوق نہیں ہوتا۔ میں سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اس زمرے میں آتے ہیں، تو مستقبل آپ کے لیے سخت دشوار ہوگا۔ جب تک آپ خود اپنی مدد نہیں کریں گے، کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
دوسری قسم میں وہ طلبہ آتے ہیں جو مخلص اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ ملک و بیرونِ ملک میں مواقع آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ کو صرف محنت کرنی ہے، اپنے اساتذہ کا احترام، والدین سے محبت اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنا ہے۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں ہیں، محض ایک افسانہ ہے۔
میری طلبہ سے عاجزانہ گزارش ہے: یہ وقت آپ کا ہے—اسے ضائع نہ کریں۔ محنت کریں۔ ایک اچھے سول سرونٹ، پروفیسر، یا کسی بھی شعبے کے ماہر بنیں۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کریں۔ اُن کی محبت اور قربانیوں کا بدلہ ادا کریں۔ تبدیلی ہمیشہ فردِ واحد سے شروع ہوتی ہے۔ کسی اور کے انتظار میں مت رہیں—پہلا قدم آپ خود اٹھائیں۔”
صدر پی ایس اے جےکے، جی این وار نے اپنے خطاب میں کہا کہ”جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے پیدا کی جانے والی مسلسل رکاوٹوں، غیر ضروری این او سی کی شرائط، فیسوں میں بلا جواز اضافے، جی ایس ٹی کے نفاذ، اور تاخیر سے فیس جمع ہونے کے بہانے سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کے پیش نظر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سنجیدگی سے قومی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن اور ایفلیشن پر غور کر رہی ہے”۔
اس وقت رجسٹریشن اور تجدید سے متعلق سینکڑوں فائلیں زیر التوا ہیں اور اسکولوں کو مختلف غیر ضروری کاغذی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو بارہا اجاگر کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر کی اعلیٰ ترین انتظامیہ کی توجہ میں بھی لایا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
حال ہی میں جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے چند معمولی تکنیکی نکات کی بنیاد پر طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت نہ دینا — حالانکہ اسکولوں نے تمام بنیادی تقاضے پورے کیے تھے — ایک انتہائی بیوروکریٹک اور غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
“ہم ایک بار پھر انتہائی مؤدبانہ انداز میں حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دیرینہ اور سنگین مسائل کا فوری اور جامع حل نکالا جائے۔ اگر معاملات اسی طرح التوا کا شکار رہے، تو ہم قوم کے مفاد اور طلبہ کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتیہ شکشا بورڈ یا دیگر قومی بورڈز سے الحاق کا سنجیدگی سے جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری اولین ترجیح ہمیشہ طلبہ کا مستقبل رہی ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تعلیم کسی کی انا یا بیوروکریسی کا شکار نہیں بننی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی شعبے کو سیاست اور پیچیدہ عمل سے نکال کر اصلاحات کی راہ پر ڈالا جائے۔”
بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم، اشوک کمار ٹھاکر نے کہا “تعلیم محض نصابی کتابوں کے صفحات یا امتحانات کی کامیابیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا دائرہ فکر و شعور، خود شناسی، خود مختاری اور قیادت کے جوہر تک پھیلنا چاہیے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف روزگار کے پیچھے نہ دوڑے، بلکہ اپنے کردار، وژن اور عمل سے معاشرے میں بیداری اور تبدیلی کی شمع روشن کرے۔ کشمیر کے نوجوان فکری بالیدگی، تخلیقی قوت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انہیں صرف ایک ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو ان کے خوابوں کو پر دے، ان کی سوچ کو وسعت دے، اور انہیں عالمی سطح پر قیادت کی نئی راہوں پر گامزن کرے۔ تعلیم اگر دلوں کو روشن کرے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
پروفیسر ایم اے شاہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT) سرینگر نے کہا “کشمیر ہمیشہ سے ایک علمی اور فکری مرکز رہا ہے۔ ہمیں اپنی اس شان دار علمی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے سائنسی تعلیم کو اسکولوں کی سطح پر عام اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔ صرف نظری علم کافی نہیں، ہمیں طلبہ کو تجرباتی طریقے سے سکھانا ہوگا تاکہ وہ سائنسی حقائق کو محسوس کر سکیں، سمجھ سکیں، اور ان پر تحقیق کر سکیں۔ مستقبل ان ہی طلبہ کا ہے جو تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”
چیف آرگنائزر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن شاہ گلزار نے اپنے خطاب میں کہا “یہ تعلیمی کانفرنس جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی شعبے کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک مشترکہ عزم ہے—طلبہ کی بہتری، معیاری تعلیم، اور ایک روشن تعلیمی مستقبل کے لیے۔ میں دل کی گہرائیوں سے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، ماہرین تعلیم، اسکول منتظمین، اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت اور خیالات سے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ آگے راستہ مشکل ہے، لیکن اگر ہم سب متحد رہیں، تو ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے اور تعلیمی شعبے میں ایک مؤثر اور دیرپا تبدیلی ممکن ہے”۔
کانفرنس ایک پرامید عزم پر اختتام ہوئی—ایک ایسے نظامِ تعلیم کی تشکیل پر اتفاق، جو برابری، جدت اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی، پیپلز کانفرنس کی قیادت پر سیاسی مخالفین کو دھمکانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے جمعرات کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس (پی سی) کی اعلیٰ قیادت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام لے کر اس کے رہنماؤں کو دھمکا رہی ہے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنماؤں التجا مفتی، وحید پارہ اور سابق رکن قانون ساز کونسل یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے نام لے کر سیاسی مخالفین کو دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت رکن اسمبلی سجاد لون کر رہے ہیں۔
التجا مفتی نے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت کشمیر کی سیاسی فضا میں “خوف کا ماحول” پیدا کر رہی ہے اور پی ڈی پی رہنماؤں کو ڈرانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ واضح کریں آیا یہ سب کچھ مرکز کی معلومات میں ہو رہا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو متعلقہ ایجنسیوں کے نام کے مبینہ غلط استعمال کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا، “ہمارا مقابلہ بیلٹ کے ذریعے کریں، ای ڈی، این آئی اے یا سی بی آئی کے ذریعے نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ مکالمے اور انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ دھونس، دھمکی یا تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال سے۔مسٹر التجا نے مزید الزام لگایا کہ پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔
دریں اثنا یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انہیں حال ہی میں مرکزی ایجنسیوں کے بعض اہلکاروں کی ایک مبینہ میٹنگ کے بارے میں اطلاع ملی، جس میں ان کے خلاف کارروائی پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عسکریت پسندی یا علیحدگی پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے۔
مسٹر یاسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسیاں ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں سے براہ راست پوچھ گچھ کریں یا ان کے خلاف کارروائی کریں۔
رکن اسمبلی وحید پارہ نے کہا کہ مبینہ سیاسی دباؤ دراصل جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مباحث کا مرکز دفعہ 370، سیاسی قیدیوں، جماعت اسلامی پر پابندی، ملازمین کی برطرفیوں اور خطے کے عوام کو درپیش دیگر اہم مسائل ہونے چاہئیں۔وحید پارہ نے کہا، “دو کشمیریوں کے درمیان لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں عوامی مباحث کو جان بوجھ کر کیوں آلودہ اور تقسیم کیا جا رہا ہے”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 کے بعد پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں، جن میں ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کو دباؤ ڈال کر پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات نمٹانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی یا کسی بھی دوسرے دباؤ کے طریقے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
آخر میں وحید پارہ نے کہا، “اگر ہم کشمیر کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اسے نقصان نہ پہنچائیں۔” انہوں نے میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی الزامات سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل پر مرکوز، صاف ستھرے اور تعمیری سیاسی مباحث کو فروغ دیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان16 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا16 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا12 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا11 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا19 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا11 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر10 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا9 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر10 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
