جموں و کشمیر
عظیم الشان تعلیمی کانفرنس سرینگر میں منعقد، آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر اور بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین نمایاں مہمانوں میں شامل
بھارتیہ شکشا بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ کی جموں و کشمیر کے نجی تعلیمی شعبے کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
“تجدیدِ تعلیم کا آغاز کلاس رومز سے ہونا چاہیے”: آئی آئی ٹی حیدرآباد کے ڈائریکٹر پروفیسر بی ایس مورتی کی اصلاحِ تعلیم پر زور
جے کے بورڈ کی بڑھتی مشکلاتپیشِ نظر: اگر تعلیمی مسائل حل نہ ہوئے تو قومی بورڈز کا رخ ناگزیر ہوگا: صدر پی ایس اے جے کے، جی این وار
“جدید نظامِ تعلیم ہی کشمیر کو عالمی قیادت کے سفر پر لے جا سکتا ہے”: بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم اشوک کمار
سرینگر، جموں و کشمیر میں تعلیمی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے موضوع پر ایک غیر معمولی، تاریخی اور فکرانگیز تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عہدیداران، ماحولیاتی ماہرین اور نجی اسکولوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اہم کانفرنس کریسنٹ پبلک اسکول، نسیم باغ، سرینگر میں منعقد ہوئی۔
کانفرنس کا آغاز ایک پُراثر اور پُرتپاک استقبالیہ تقریب سے ہوا، جہاں معزز مہمانوں کا خیرمقدم پھولوں کے گلدستوں سے کیا گیا اور ان کی خدمت میں کشمیری روایتی شال بطور تحفہ و اعزاز پیش کی گئیں—جو وادی کی مہمان نوازی، تہذیب اور ثقافتی ورثے کی روشن علامت ہیں۔
شرکاء میں شامل ممتاز شخصیات: ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس)، چیئرمین، بھارتیہ شکشا بورڈ؛ پروفیسر بی ایس مورتی، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد؛ پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر؛ اشوک کمار ٹھاکر، بین الاقوامی اعزاز یافتہ ماہرِ تعلیم و چیئرمین مونی انٹرنیشنل اسکول نئی دہلی؛ پروفیسر ایم اے شاہ، این آئی ٹی سرینگر۔
علاقائی قائدین کی نمایاں شرکت: جی این وار (صدر، پی ایس اے جے کے، منظور احمد ونگنو (چیئرمین، بلالیہ ایجوکیشنل انسٹیٹیوٹ)، انجینئر محمد شکیل ڈار (چیئرمین) و انجینئر محمد شاہد ڈار (ڈائریکٹر، کریسنٹ اسکول)، مشتاق کینی (سینئر تعلیمی رہنما)، عشرت ٹنکی (صدر خواتین ونگ پی ایس اے جے کے)، فیصل اسلام میر (جنرل سیکرٹری)، شاہ گلزار (چیف آرگنائزر)، مجید بٹ (ڈویژنل آرگنائزر)، بلال بٹ (ضلع صدر)، طاہر وگے (ضلع سیکرٹری)، سیدہ رفیدہ صولیحہ (پی آر او) کے علاوہ ایم وائی وانی (چیئرمین گرین ویلی) اور فاروق فاضلی (چیئرمین، ڈالفن اسکول) وغیرہ۔
بھارتیہ شکشا بورڈ، چیئرمین ڈاکٹر ناگندر سنگھ (آئی اے ایس) نے اپنے خطاب میں کہاکہ “بھارتیہ شکشا بورڈ ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ قومی تعلیمی بورڈ ہے، جس کا مقصد ہندوستانی تہذیب اور فکری ورثے پر مبنی ایک خالص دیسی نظامِ تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ اس بورڈ کی اسناد کو ملک بھر میں تعلیمی اور ملازمت کے تمام مقاصد کے لیے مکمل طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ “بھارتیہ شکشا بورڈ، CBSE اور دیگر قومی بورڈز کے مساوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر آپ وزارتِ تعلیم، حکومتِ ہند کی ویب سائٹ، خصوصاً شعبہ اسکول ایجوکیشن و خواندگی (Department of School Education & Literacy) پر جائیں، تو آپ دیکھیں گے کہ CBSE اور بھارتیہ شکشا بورڈ دونوں کو قومی تعلیمی بورڈز کے طور پر سرکاری سطح پر درج کیا گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا “یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتِ ہند نے اپنے طور پر ایک قومی تعلیمی بورڈ قائم کیا ہے۔ اس بورڈ کو انڈین یونیورسٹیز کی ایسوسی ایشن (AIU) نے مساوات کا درجہ دے رکھا ہے، جس سے اس کی اسناد کو ملک گیر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔”
جموں و کشمیر کے تعلیمی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا “کشمیر نے ہندوستانی تہذیب اور علمی شناخت کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستان کے عروج کی کہانی، کشمیر کی علمی، روحانی اور خدماتی بلندیوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سرزمین ہمیشہ سے عظیم شخصیات کی جنم بھومی رہی ہے۔”
انہوں نے جموں و کشمیر کے نجی اسکولوں کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات اور مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا “ایک قومی تعلیمی بورڈ کے نمائندے کی حیثیت سے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے تمام مسائل کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور ان کے قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں گے۔”
اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا “ایک سینئر آئی اے ایس آفسر کی حیثیت سے، جس نے 34 برس پالیسی اور انتظامی شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں، میں بخوبی جانتا ہوں کہ پالیسی سازی میں بعض اوقات غلط فہمیاں کس طرح جنم لیتی ہیں۔ لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایک ٹیم کی صورت میں ہم مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کریں گے۔”
ڈائریکٹر آئی آئی ٹی حیدرآباد پروفیسر بی ایس مورتی نے اپنے خطاب میں کہا “ہندوستان اُس وقت ایک ترقی یافتہ ملک بنے گا جب ہمارا نظامِ تعلیم طلبہ کو صرف اچھی ملازمتوں کے حصول کی ترغیب نہ دے، بلکہ انہیں بامقصد اختراعات کرنے، خود روزگار پیدا کرنے اور قوم کی تعمیر میں بھرپور حصہ لینے کے قابل بھی بنائے۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ “قومی فخر، بین الشعبہ جاتی سوچ اور تخلیقی آزادی جیسے عناصر کا فروغ اسکول کی سطح سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ ہم جب تک طلبہ کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کریں گے، ہم ’وکست بھارت‘ کا خواب پورا نہیں کر پائیں گے۔”
پروفیسر مورتی نے آئی آئی ٹی حیدرآباد میں رائج اختراعی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا “ہمارے یہاں طلبہ کو پہلے ہی سال سے اپنا کاروباری خیال عملی شکل دینے کے لیے سیمسٹر بریک کی اجازت دی جاتی ہے۔ ہم انہیں ابتدائی سرمایہ (Seed Funding) بھی فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے منصوبوں پر کام کر سکیں۔”
پروفیسر مورتی نے کہا کہ آئی آئی ٹی حیدرآباد میں اب تک 260 سے زائد اسٹارٹ اپس وجود میں آ چکے ہیں، جنہوں نے 1500 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ یہ ایک زندہ مثال ہے کہ اگر نوجوان ذہنوں کو سازگار ماحول، اعتماد اور وسائل میسر آئیں، تو وہ محض خواب نہیں دیکھتے بلکہ اُنہیں عملی شکل دے کر انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبے، اس سوچ اور اس نظام کو ملک کے ہر اسکول اور ہر تعلیمی ادارے تک وسعت دی جائے۔”
پروفیسر نصیر اقبال، رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر نے کہا “یونیورسٹی سب کے لیے ہے۔ میں یہاں موجود تمام طلبہ کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ دل کے ساتھ محنت کریں، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کریں، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔ آپ کے خواب قابلِ قدر ہیں، اور اگر آپ اخلاص، محنت اور نظم و ضبط کو اپنا شعار بنائیں گے، تو یقیناً آپ اُنہیں حقیقت کا روپ دے سکتے ہیں اور اپنے والدین کا فخر بن سکتے ہیں”۔
میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی آف کشمیر وادی کے تمام اسکولوں کے لیے کھلی ہے۔ اگر ہم، ایک یونیورسٹی کے طور پر، معاشرے سے تعلق مضبوط نہیں کریں گے، تو پھر یہ فریضہ کون ادا کرے گا؟ یہ ادارہ طلبہ کا ہے، اور میرے دفتر کے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے ہیں۔”
“میرے تجربے میں، طلبہ کی تین اقسام سامنے آئی ہیں۔ پہلی قسم اُن طلبہ کی ہے جو بالکل غیر سنجیدہ ہوتے ہیں، وہ صرف والدین کے دباؤ پر اسکول آتے ہیں، اُن کا کوئی مقصد یا شوق نہیں ہوتا۔ میں سچائی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ اس زمرے میں آتے ہیں، تو مستقبل آپ کے لیے سخت دشوار ہوگا۔ جب تک آپ خود اپنی مدد نہیں کریں گے، کوئی آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
دوسری قسم میں وہ طلبہ آتے ہیں جو مخلص اور سنجیدہ ہوتے ہیں۔ اُن کے لیے دنیا کے دروازے کھلے ہیں۔ ملک و بیرونِ ملک میں مواقع آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ کو صرف محنت کرنی ہے، اپنے اساتذہ کا احترام، والدین سے محبت اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنا ہے۔ یہ کہنا کہ نوکریاں نہیں ہیں، محض ایک افسانہ ہے۔
میری طلبہ سے عاجزانہ گزارش ہے: یہ وقت آپ کا ہے—اسے ضائع نہ کریں۔ محنت کریں۔ ایک اچھے سول سرونٹ، پروفیسر، یا کسی بھی شعبے کے ماہر بنیں۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کریں۔ اُن کی محبت اور قربانیوں کا بدلہ ادا کریں۔ تبدیلی ہمیشہ فردِ واحد سے شروع ہوتی ہے۔ کسی اور کے انتظار میں مت رہیں—پہلا قدم آپ خود اٹھائیں۔”
صدر پی ایس اے جےکے، جی این وار نے اپنے خطاب میں کہا کہ”جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے پیدا کی جانے والی مسلسل رکاوٹوں، غیر ضروری این او سی کی شرائط، فیسوں میں بلا جواز اضافے، جی ایس ٹی کے نفاذ، اور تاخیر سے فیس جمع ہونے کے بہانے سے طلبہ کو ہراساں کیے جانے جیسے مسائل کے پیش نظر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن سنجیدگی سے قومی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن اور ایفلیشن پر غور کر رہی ہے”۔
اس وقت رجسٹریشن اور تجدید سے متعلق سینکڑوں فائلیں زیر التوا ہیں اور اسکولوں کو مختلف غیر ضروری کاغذی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو بارہا اجاگر کیا گیا ہے اور جموں و کشمیر کی اعلیٰ ترین انتظامیہ کی توجہ میں بھی لایا گیا ہے، لیکن بدقسمتی سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔
حال ہی میں جے کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے چند معمولی تکنیکی نکات کی بنیاد پر طلبہ کو امتحانات میں شرکت کی اجازت نہ دینا — حالانکہ اسکولوں نے تمام بنیادی تقاضے پورے کیے تھے — ایک انتہائی بیوروکریٹک اور غیر حساس رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
“ہم ایک بار پھر انتہائی مؤدبانہ انداز میں حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کو درپیش دیرینہ اور سنگین مسائل کا فوری اور جامع حل نکالا جائے۔ اگر معاملات اسی طرح التوا کا شکار رہے، تو ہم قوم کے مفاد اور طلبہ کے روشن مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتیہ شکشا بورڈ یا دیگر قومی بورڈز سے الحاق کا سنجیدگی سے جائزہ لینے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری اولین ترجیح ہمیشہ طلبہ کا مستقبل رہی ہے، اور اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ تعلیم کسی کی انا یا بیوروکریسی کا شکار نہیں بننی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیمی شعبے کو سیاست اور پیچیدہ عمل سے نکال کر اصلاحات کی راہ پر ڈالا جائے۔”
بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعلیم، اشوک کمار ٹھاکر نے کہا “تعلیم محض نصابی کتابوں کے صفحات یا امتحانات کی کامیابیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا دائرہ فکر و شعور، خود شناسی، خود مختاری اور قیادت کے جوہر تک پھیلنا چاہیے۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف روزگار کے پیچھے نہ دوڑے، بلکہ اپنے کردار، وژن اور عمل سے معاشرے میں بیداری اور تبدیلی کی شمع روشن کرے۔ کشمیر کے نوجوان فکری بالیدگی، تخلیقی قوت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ انہیں صرف ایک ایسا تعلیمی نظام درکار ہے جو ان کے خوابوں کو پر دے، ان کی سوچ کو وسعت دے، اور انہیں عالمی سطح پر قیادت کی نئی راہوں پر گامزن کرے۔ تعلیم اگر دلوں کو روشن کرے، تو قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔”
پروفیسر ایم اے شاہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (NIT) سرینگر نے کہا “کشمیر ہمیشہ سے ایک علمی اور فکری مرکز رہا ہے۔ ہمیں اپنی اس شان دار علمی روایت کو برقرار رکھنے کے لیے سائنسی تعلیم کو اسکولوں کی سطح پر عام اور قابلِ رسائی بنانا ہوگا۔ صرف نظری علم کافی نہیں، ہمیں طلبہ کو تجرباتی طریقے سے سکھانا ہوگا تاکہ وہ سائنسی حقائق کو محسوس کر سکیں، سمجھ سکیں، اور ان پر تحقیق کر سکیں۔ مستقبل ان ہی طلبہ کا ہے جو تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت اور باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔”
چیف آرگنائزر، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن شاہ گلزار نے اپنے خطاب میں کہا “یہ تعلیمی کانفرنس جموں و کشمیر میں نجی تعلیمی شعبے کے لیے ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ یہ صرف ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک مشترکہ عزم ہے—طلبہ کی بہتری، معیاری تعلیم، اور ایک روشن تعلیمی مستقبل کے لیے۔ میں دل کی گہرائیوں سے تمام معزز مہمانوں، اساتذہ، ماہرین تعلیم، اسکول منتظمین، اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنے قیمتی وقت اور خیالات سے اس کانفرنس کو کامیاب بنایا۔ ہم جانتے ہیں کہ آگے راستہ مشکل ہے، لیکن اگر ہم سب متحد رہیں، تو ہر رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے اور تعلیمی شعبے میں ایک مؤثر اور دیرپا تبدیلی ممکن ہے”۔
کانفرنس ایک پرامید عزم پر اختتام ہوئی—ایک ایسے نظامِ تعلیم کی تشکیل پر اتفاق، جو برابری، جدت اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہو، تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوان عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خودمختاری قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے حزب اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سابق اسمبلی کی 2000 کی خودمختاری کی قرارداد کے حوالے کو اس میں شامل کیے جانے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے جب خودمختاری کی قرارداد منظور کی گئی تھی، اسی وقت اسے مسترد کر دیا تھا اور سوال کیا کہ موجودہ ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے۔
سنیل شرما نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے کہا، ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام علاقے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خودمختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ بی جے پی کے ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔
حزب اختلاف کے رہنما نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خودمختاری کے حوالوں‘‘ پر ان کے موقف کی وضاحت بھی طلب کی۔
شرما نے سوال کیا، ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خودمختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ بھی سوال کیا کہ جب خودمختاری کی قرارداد مسترد کی گئی تھی تو اس وقت سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے ساتھ ان کا کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیا، ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کر کے پھاڑ دیا تھا، تو کیا عمر عبداللہ اس وقت این ڈی اے حکومت میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے اتحادی کے طور پر برقرار نہیں رہے تھے؟‘‘
شرما نے الزام عائد کیا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے کو طول دینے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خودمختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور تب تک ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا7 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
