جموں و کشمیر
عید سے قبل بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے؛ اس مقدس موقع پر ملازمین کو مشکلات سے دوچار نہ کیا جائے: رفیق راتھر
جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رہنما محمد رفیق راتھر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ عید کے موقع پر تمام زمروں کے ملازمین، بشمول مستقل، ڈیلی ویجرز، ایڈہاک ٰعارضی اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔
اپنے ایک بیان میں رفیق راتھر نے کہا کہ عید محض ایک تہوار نہیں بلکہ قربانی، خوشی، ہمدردی اور باہمی بھائی چارے کی علامت ہے، اور یہ انتظامیہ کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہر گھرانے کو باوقار طریقے سے عید منانے کا موقع فراہم کیا جائے۔ انہوں نے تنخواہوں اور اجرتوں کی ادائیگی میں تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس کا سب سے زیادہ اثر کمزور طبقے کے ملازمین پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “ڈیلی ویجرز، ایڈہاک اور عارضی ملازمین پہلے ہی معاشی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایسے اہم موقع پر ان کی جائز تنخواہوں کی عدم ادائیگی ان کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے اور ان کے خاندانوں کو عید کی بنیادی خوشیوں سے بھی محروم کر دیتی ہے۔”
رفیق راتھر نے مزید کہا کہ اس عید پر بہت سے خاندان قربانی کے جانور خریدتے ہیں جس کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے، لہٰذا ملازمین کو بروقت تنخواہیں ملنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ “یہ موقع مالی اعتبار سے اہم تقاضے رکھتا ہے اور اجرتوں میں تاخیر پہلے سے پریشان حال خاندانوں پر اضافی بوجھ ڈالتی ہے،” انہوں نے کہا۔
رفیق راتھر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں یہ ایک دیرینہ روایت رہی ہے کہ عید سے قبل سرکاری ملازمین کی تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں تاکہ لوگ خوشی سے تہوار منا سکیں۔ “یہ روایت انتظامی حساسیت اور عوام دوست طرز حکمرانی کی عکاس ہے۔
اس سے انحراف ہزاروں خاندانوں کے لیے مایوسی کا باعث بنتا ہے جو ان آمدنیوں پر انحصار کرتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کوئی رعایت نہیں بلکہ ہر ملازم کا بنیادی حق ہے، اور خاص طور پر مذہبی مواقع پر اس میں تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے تمام بقایا جات کی ادائیگی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔
ڈیلی ویجرز اور عارضی ملازمین کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ افراد اہم خدمات کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر مالی تحفظ کے معاملے میں سب سے زیادہ نظرانداز ہوتے ہیں۔ “حکومت کو چاہیے کہ ان کی خدمات کو تسلیم کرے اور ان کے ساتھ انصاف اور عزت کا برتاؤ کرے،” انہوں نے کہا۔
رفیق راتھر نے متعلقہ محکموں اور مالیاتی حکام سے اپیل کی کہ تمام ضروری کارروائیاں تیز کی جائیں تاکہ تنخواہیں بروقت جاری ہو سکیں اور ملازمین اپنے اہل خانہ کے ساتھ بغیر مالی دباؤ کے عید منا سکیں۔
انہوں نے کہا، “عید ہمیں ہمدردی اور باہمی تعاون کا درس دیتی ہے۔ حکومت کو اس موقع پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کسی بھی خاندان کو انتظامی کوتاہیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
پی ڈی پی نے امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کی، پیپلز کانفرنس کی قیادت پر سیاسی مخالفین کو دھمکانے کا الزام
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے جمعرات کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس (پی سی) کی اعلیٰ قیادت مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کے نام لے کر اس کے رہنماؤں کو دھمکا رہی ہے اور خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی رہنماؤں التجا مفتی، وحید پارہ اور سابق رکن قانون ساز کونسل یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے نام لے کر سیاسی مخالفین کو دھمکایا اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت رکن اسمبلی سجاد لون کر رہے ہیں۔
التجا مفتی نے الزام لگایا کہ پیپلز کانفرنس کی قیادت کشمیر کی سیاسی فضا میں “خوف کا ماحول” پیدا کر رہی ہے اور پی ڈی پی رہنماؤں کو ڈرانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں اور وزارت داخلہ کے نام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ واضح کریں آیا یہ سب کچھ مرکز کی معلومات میں ہو رہا ہے یا نہیں، اور اگر ایسا نہیں ہے تو متعلقہ ایجنسیوں کے نام کے مبینہ غلط استعمال کو روکا جائے۔
انہوں نے کہا، “ہمارا مقابلہ بیلٹ کے ذریعے کریں، ای ڈی، این آئی اے یا سی بی آئی کے ذریعے نہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ مکالمے اور انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ دھونس، دھمکی یا تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال سے۔مسٹر التجا نے مزید الزام لگایا کہ پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں کو دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کی قیادت کی ذاتی ملکیت نہیں ہیں۔
دریں اثنا یاسر ریشی نے الزام لگایا کہ انہیں حال ہی میں مرکزی ایجنسیوں کے بعض اہلکاروں کی ایک مبینہ میٹنگ کے بارے میں اطلاع ملی، جس میں ان کے خلاف کارروائی پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا عسکریت پسندی یا علیحدگی پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو وہ پیش کرے۔
مسٹر یاسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور دباؤ میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایجنسیاں ان پر جھوٹے الزامات لگانے والوں سے براہ راست پوچھ گچھ کریں یا ان کے خلاف کارروائی کریں۔
رکن اسمبلی وحید پارہ نے کہا کہ مبینہ سیاسی دباؤ دراصل جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مباحث کا مرکز دفعہ 370، سیاسی قیدیوں، جماعت اسلامی پر پابندی، ملازمین کی برطرفیوں اور خطے کے عوام کو درپیش دیگر اہم مسائل ہونے چاہئیں۔وحید پارہ نے کہا، “دو کشمیریوں کے درمیان لڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں عوامی مباحث کو جان بوجھ کر کیوں آلودہ اور تقسیم کیا جا رہا ہے”
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ 2019 کے بعد پی ڈی پی کے متعدد رہنماؤں، جن میں ارکان اسمبلی، سابق ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کو دباؤ ڈال کر پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جس سے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو منظم انداز میں کمزور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات نمٹانے کے لیے تحقیقاتی ایجنسیوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطی یا کسی بھی دوسرے دباؤ کے طریقے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔
آخر میں وحید پارہ نے کہا، “اگر ہم کشمیر کو کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم اسے نقصان نہ پہنچائیں۔” انہوں نے میڈیا اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی الزامات سے گریز کرتے ہوئے عوامی مسائل پر مرکوز، صاف ستھرے اور تعمیری سیاسی مباحث کو فروغ دیں۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا15 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان19 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا19 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا14 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا14 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر13 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا11 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر13 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
