ہندوستان
وینزویلا کے دورے پر روبیو کے ریمارکس پر کانگریس کا سوال،ہندوستانی حکام سے پہلے دورے کا انکشاف
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما جےرام رمیش نے جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جو انہوں نے وینزویلا کی قیادت کے مجوزہ دورۂ ہندوستان کے سلسلے میں دیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ واشنگٹن کی جانب سے نئی دہلی سے پہلے ہی ہندوستانی سفارت کاری سے جڑی پیش رفت کا اعلان کرنے کی یہ ایک روایت بن گئی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے یاد دلایا کہ مسٹر روبیو وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے 10 مئی 2025 کو ‘آپریشن سندور’ کو روکنے کا عوامی طور پر اعلان کیا تھا۔ مسٹر رمیش نے کہا، “10 مئی 2025 کو شام 5:37 بجے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ‘آپریشن سندور’ کو روکنے کا اعلان کرنے والے پہلے شخص تھے۔”
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مسٹر روبیو نے ایک بار پھر ہندوستانی حکام سے پہلے یہ انکشاف کر دیا کہ وینزویلا کی صدر اگلے ہفتے ہندوستان کا سفر کریں گی۔ کانگریس رہنما نے لکھا، “کل، روبیو پھر سے سب سے پہلے یہ اعلان کرنے والے شخص تھے کہ وینزویلا کی صدر اگلے ہفتے ہندوستان کا دورہ کریں گی۔ یہ اس وقت ہوا جب ہندوستان اور وینزویلا نے اس خبر کا اشارہ یا تصدیق تک نہیں کی تھی۔”
مسٹر رمیش نے کہا کہ وینزویلا کی قیادت سے نئی دہلی میں ‘انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس’ کے آغاز میں شرکت کی امید تھی، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ افریقہ کے کچھ حصوں میں ایبولا کی وبا کی وجہ سے اب اس تقریب کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا، “امریکی وزیر خارجہ کے پاس ہندوستانی خارجہ پالیسی کے لیے اور کیا کچھ ہے؟”
مسٹر روبیو نے اس سے پہلے واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان توانائی کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز ہندوستان کا دورہ کریں گی، یہ اعلان ہندوستان یا وینزویلا کے کسی بھی باضابطہ بیان سے پہلے سامنے آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مجوزہ دورہ ‘انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس’ کے پہلے سربراہی اجلاس سے جڑا تھا، جو کہ عالمی سطح پر بگ کیٹس کی سات اہم انواع کے تحفظ کے لیے 2023 میں ہندوستان کی جانب سے شروع کیا گیا ایک تحفظاتی اقدام ہے۔
افریقہ کے کچھ حصوں میں ایبولا کے نئے پھیلاؤ کے خدشات کے بعد، اس سربراہ اجلاس کے ساتھ ساتھ انڈیا-افریقہ فورم سمٹ کو بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ وزارتِ خارجہ اور افریقی یونین نے کہا کہ ابھرتی ہوئی صحت کی صورتحال پر مشاورت کے بعد ان میٹنگوں کو دوبارہ شیڈول کیا جائے گا۔
مسٹر رمیش کے ریمارکس نے ‘آپریشن سندور’ اور اس کے بعد جنگ بندی کے اعلان سے نمٹنے کے حکومتی طریقے پر اپوزیشن کی تنقید کو بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ تصادم روکنے کا پہلا عوامی اشارہ نئی دہلی کے بجائے واشنگٹن سے کیوں آیا۔
یواین آئی۔ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
دنیا19 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان23 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا23 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا18 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا16 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا18 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر17 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر17 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا48 minutes agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا39 minutes agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا34 minutes agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
