دنیا
آبنائے ہرمز میں نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آنے سے بحری جہاز متاثر، عملے کا ایک رکن زخمی
دبئی، آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کرنے والے ایک بحری جہاز کو منگل کے روز نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس سے اس کا انجن روم متاثر ہوا اور عملے کا ایک رکن زخمی ہوگیا۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) مرکز نے یہ اطلاع دی۔ یو کے ایم ٹی او نے ایک بیان میں کہا، ’’کمپنی کے سکیورٹی افسر نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر کی جانب سفر کے دوران بحری جہاز نامعلوم پروجیکٹائل کی زد میں آیا۔‘‘ بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں انجن روم کو نقصان پہنچا اور عملے کا ایک رکن متاثر ہوا۔ باقی عملے کے ارکان کو عمانی کوسٹ گارڈ کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی تھی۔
یو کے ایم ٹی او نے کہا کہ واقعے کے نتیجے میں ماحول پر کسی اثر کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ادارے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ کے گرد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی جہازرانی اور عالمی توانائی کی رسد میں خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، تنازع کے دوران کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے۔
بحری ٹریفک سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والی جہازرانی میں نمایاں کمی آئی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف چند تجارتی بحری جہازوں کے وہاں سے گزرنے کی اطلاع ملی ہے۔
یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہازرانی برقرار رکھنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے دوران بھی پیش آیا ہے۔ عمان نے آبی گزرگاہ کے ذریعے جہازرانی بحال رکھنے کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمان کو بمباری کی دھمکی بھی دی تھی، بظاہر اس لیے کہ عمان ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے آبنائے ہرمز سے جہازرانی بحال کرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ آبنائے ہرمز سے جہازرانی کی بحالی اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی ایک شرط بھی تھی، جسے ٹرمپ نے ماضی میں مشرق وسطیٰ کا ’’اب تک کا سب سے عظیم امن معاہدہ‘‘ قرار دیا تھا۔ حکام نے ابھی تک یہ شناخت نہیں کی ہے کہ بحری جہاز کو کس قسم کے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ اس واقعے کا ذمہ دار کون ہوسکتا ہے۔ بحری جہاز کی قومیت اور زخمی ہونے والے عملے کے رکن کی حالت کے بارے میں بھی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
انقرہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر کی جانب سے منگل کے روز جاری بیان میں بتایا گیا کہ مسٹر اردوغان اور مسٹر ٹرمپ کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان کے مطابق، صدر اردوغان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی دور کرنے کے لیے سفارت کاری کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی اہمیت پر زور دیا اور بات چیت جاری رہنے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ قیام امن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
مسٹر اردوغان نے کہا کہ انقرہ، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر تینوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت علاقائی استحکام اور سلامتی یقینی بنانے کے لیے مضبوط موقف اپنا رہا ہے۔ انہوں نے غزہ کی پٹی کی صورت حال پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن عمل کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے کی کوششوں کے درمیان فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکام کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔
صدر اردوغان نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ خطے میں طویل المدتی قیام امن کی کوششوں اور غزہ کی پٹی کی بحالی و تعمیرِ نو کی سمت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
امریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی ملک عمان کو ان کی انتظامیہ اور ایران کے درمیان بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے کی صورت میں بمباری کی دھمکی دی ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور عمان دونوں ہی تہران کے ساتھ الگ الگ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران یہ راستہ تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصے سے بند رہا ہے۔ ‘فاکس’ کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ امریکی صدر نے عمان کو یہ دھمکی ایک فون انٹرویو کے دوران سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دی۔
اس سے قبل دن میں ایرانی حکام نے کہا تھا کہ وہ عمان کے ساتھ ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا مستقبل غیر یقینی ہے کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان 60 روزہ مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) ختم ہونے کو ہے۔ پیر کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، جب بی بی سی نیوز نے ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ ایم او یو کی مدت میں توسیع کرنا چاہتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: “نہیں۔”
فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے، تہران نے کافی حد تک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے، جہاں سے عام طور پر دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے۔ اسے دوبارہ کھولنا مذاکرات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
عمان اس آبنائے کے جنوبی حصے سے متصل ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس تنازع میں ایک غیر جانبدار ملک ہے۔ تاہم، اسے ایران کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب وہ اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن نے بھی اسے دوبارہ کھلوانے کے لیے اپنی کوششیں کی ہیں۔ فاکس کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ نے ٹرمپ کے حوالے سے بتایا، “اگر عمان راستے میں آیا، تو ہم ان پر شدید بمباری کریں گے۔” یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کے مطابق ڈیل کی خواہشات کے راستے میں آنے کا کیا مطلب ہے۔
فاکس کے ساتھ اسی انٹرویو کے دوران، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا ایران میں ایک بڑی فوجی، اقتصادی اور سیاسی قوت ‘، اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آرجی سی) کے ساتھ براہ راست بیک چینل رابطہ ہے۔ تاہم ایک ترجمان نے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم نیوز’ کو بتایا، “آئی آر جی سی کے حکام اور امریکیوں کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کا یہ جھوٹ صرف ان کے وہم اور برے خوابوں کا نتیجہ ہے، جو انہیں جنگ میں شکست اور مایوسی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔”
مشرق وسطیٰ کے ایک نقشے میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، عمان اور ایران دکھائے گئے ہیں۔ اس میں خلیج اور آبنائے ہرمز کو نشان زد کیا گیا ہے، جو ایران اور عمان کے درمیان اس تنگ آبی گزرگاہ کو دکھاتا ہے جو خلیج کو خلیجِ عمان سے جوڑتی ہے۔
ٹرمپ نے عمان کو یہ دھمکی اس وقت دی جب ایران نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس آبنائے سے جہازوں کے گزرنے کو لے کر معاہدہ ہو گیا ہے۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بتایا کہ “ٹرانزٹ روٹ کے نقشے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ بیان جاری کرنے سے پہلے دونوں فریق تفصیلات کو حتمی شکل دیں گے۔ عمان نے اس سے قبل ہی اس بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
تل ابیب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کرنے والے ہیں تاکہ غزہ سے متعلق 15 نکاتی منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے، جسے اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔
یہ ملاقات پیر کے روز کشنر کے مصر کے شہر العلمین کے دورے کے ایک روز بعد ہو رہی ہے، جہاں انہوں نے قطری، ترک اور مصری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کی۔ ان کے ہمراہ ’بورڈ آف پیس‘ کے ڈائریکٹر جنرل نکولائی ملادینوف اور برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی تھے۔
کشنر نے حماس کی سیاسی قیادت کے ارکان سے بھی ایک نایاب ملاقات کی۔ معاملے سے واقف ایک عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ ملاقات کا مقصد ’’روڈ میپ میں شامل ذمہ داریوں کو ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات میں تبدیل کرنا‘‘ تھا۔ جولائی کے اواخر میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کا سہرا امریکہ کی قیادت میں قائم ’بورڈ آف پیس‘ کو دیا گیا، جس کا افتتاح فروری 2026 میں ہوا تھا۔ اس میں تقریباً 40 ممالک شامل ہیں، جن میں اسرائیل اور کئی عرب ممالک بھی شامل ہیں، تاہم فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ ٹرمپ کو اس بورڈ کا تاحیات چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
اکتوبر میں دوبارہ انتخاب کی کوشش کرنے والے نیتن یاہو نے عوامی طور پر اس منصوبے کو مسترد کردیا ہے۔ انہیں منصوبے کی اس شق پر اعتراض ہے جس کے تحت حماس بتدریج غیر مسلح ہوگی اور غزہ کی حکمرانی ایک بین الاقوامی فورس کے حوالے کرے گی، جبکہ اس کے بدلے اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کرے گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے منصوبے کو قبول کرلیا ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں اپنی فوجوں کا انخلا اور حملے روکنا شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے ’بورڈ آف پیس‘ کے عہدیداروں نے تصدیق کی تھی کہ کشنر سفارتی تعطل ختم کرنے کے لیے ایک وفد کی قیادت کریں گے، جو مصر اور اسرائیل کا دورہ کرے گا۔ ’بورڈ آف پیس‘ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 2025 کے اواخر میں طے پانے والی ایک وسیع تر جنگ بندی کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں کم از کم 1,260 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر6 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر7 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
ہندوستان5 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 days agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
