ہندوستان
ذات پرمبنی مردم شماری پر مودی حکومت نے پھر ماری پلٹی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے ذات پر مبنی مردم شماری کے تعلق سے مودی حکومت پر ایک بار پھر یو ٹرن لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ 21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامے میں ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، حلف نامے کے پیرا 12 (ڈی) میں حکومت نے کہا تھا کہ 2011 کی مردم شماری سے پہلے ذاتوں کا کوئی رجسٹر تیار نہیں کیا گیا تھا اور بہتر ہوتا کہ ذاتوں کے انتخاب کے لیے ‘ڈراپ ڈاؤن مینو’ یعنی ذاتوں کی پہلے سے تیار شدہ فہرست ہوتی، جس سے یکساں اور قابلِ اعتماد اعداد و شمار جمع کیے جا سکتے۔
مسٹر رمیش نے سوال کیا کہ جب حکومت نے خود ایسے نظام کو مثالی بتایا تھا تو مردم شماری 2027 میں ذاتوں کی ایسی فہرست کیوں نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بہار اور تلنگانہ میں ذات پر مبنی سروے سے پہلے ایسی فہرست تیار کی گئی تھی۔
کانگریس صدر نے بھی 5 مئی 2025 کو وزیرِ اعظم کو لکھے گئے خط میں ایسے نظام کی تجویز دی تھی۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مودی حکومت ذات پرمبنی مردم شماری کے نظام کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 30 اپریل 2025 کو ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا اعلان کر کے اپنے پرانے موقف سے یو ٹرن لیا تھا، لیکن اب وہ اپنے اسی فیصلے سے بھی پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ مسٹر رمیش نے وزیرِ اعظم کو ‘یو ٹرن استاد’ بھی قرار دیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
جھارکھنڈ کے طلبہ کی بھوک ہڑتال کا ختم ہونا اچھا، لیکن ان کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے جھارکھنڈ کے طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان اتفاقِ رائے بننے اور طلبہ کی بھوک ہڑتال ختم ہونے پر مسرت کا اظہار کیا، لیکن کہا کہ طلبہ کے سوالوں کے جواب ملنے چاہئیں مسٹر گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین اور جھارکھنڈ حکومت نے بات چیت کا راستہ چنا اور حل نکالا۔ طلبہ نے صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور اپنی بات منوائی۔
انہوں نے کہا، “یہی درست طریقہ ہے- طلبہ سوال پوچھیں، تو جواب ملنا چاہیے۔ میں ہر طالب علم کے ساتھ کھڑا ہوں اور ‘اس وصولی کے نظام’ کو جڑ سے بدل کر رہیں گے، تاکہ ہر طالب علم کو اس کی محنت کا پورا پھل اور منصفانہ مسابقت کا حق ملے۔”
انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں یہ نظام بدلے گا اور ایسا نظام بنے گا جو طلبہ کو آگے بڑھائے، انہیں پیچھے نہ دھکیلے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
محض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
نئی دہلی، ’دماغی نکسل‘ کے مسئلے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ پی چدمبرم کونشانہ بنایا اور کہا ہے کہ محض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے بی جے پی کے قومی ترجمان سدھانشو تریویدی نے پیر کے روز پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی کے موقع پر ’دماغی نکسل‘ کا اہم موضوع اٹھایا تھا، جو آج کے تناظر میں انتہائی اہم اور بروقت ہے۔
انہوں نے مسٹر چدمبرم کو نشانہ بناتے ہوئے کہا، “ہمیں حیرانی اس بات پر ہوئی کہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی، جس شخص کے ذہن میں نکسلی خیالات تھے، وہ خود سامنے آ گیا۔ مسٹر چدمبرم خود سامنے آئے اور کہا کہ انہیں ’دماغی ماؤنواز‘ ہونے پر فخر ہے۔”
انہوں نے کہا کہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ وزیر اعظم نے بات کی اور اتنی تیزی سے ردِعمل آیا نیز پورے ملک کے سامنے یہ بات آ گئی کہ کس کے ذہن میں ماؤسٹ خیالات پل رہے ہیں، اور وہ خود اس پر فخر محسوس کرنے لگے ہیں۔
بی جے پی ترجمان نے کہا، “میں کانگریس اور مسٹر چدمبرم کو بتانا چاہتا ہوں کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 13 اپریل 2006 کو کہا تھا کہ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہوگی کہ نکسلی خطرہ ہندوستان کی اندرونی سلامتی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا خطرہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جس نکسل واد کو کانگریس حکومتیں ختم کرنے میں ناکام رہیں، اسے مسٹر مودی کی قیادت میں فیصلہ کن طور پر قابو میں کیا گیا۔
مسٹر تریویدی نے کہا کہ یو پی اے کی حکومت کے دوران پشوپتی سے تروپتی تک ریڈ کوریڈور بن گیا تھا، 180 سے زیادہ اضلاع نکسلی انتہاپسندی سے متاثر تھے، 2010 میں دنتے واڑہ میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے 75-76 جوان شہید ہوئے تھے، اور اس کے بعد دارالحکومت کی ایک نامور یونیورسٹی میں جشن منایا گیا تھا۔ دماغی طور پر دیوالیہ ہو چکے نکسلیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ مسٹر چدمبرم کے دورِ حکومت میں سی آر پی ایف کے جوان شہید ہوئے اور وہاں جشن منایا گیا۔ اسی کو ’دماغی نکسل‘ کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو پی اے کے دورِ حکومت میں نکسل مخالف مہمات میں 1,913 جوان شہید ہوئے۔ 180 اضلاع نکسل متاثرہ ہو گئے تھے۔ مسٹر چدمبرم کے دور میں 5,000 سے زیادہ بے گناہ شہری مارے گئے۔ نکسلیوں کے پاس 92 فیصد سے زیادہ ہتھیار ایسے تھے جو پولیس سے لوٹے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں اس علاقے میں 1,800 سے زیادہ بینک شاخیں کھلی ہیں، 1,200 سے زیادہ اے ٹی ایم لگائے گئے ہیں اور چھ ہزار سے زیادہ موبائل فون ٹاور لگائے گئے ہیں، تاکہ وہ لوگ ملک کے مرکزی دھارے کے ساتھ ترقی کر سکیں۔
بی جے پی ترجمان نے بتایا کہ 22 لاکھ لوگوں کو آیوشمان بھارت کارڈ دیے گئے ہیں۔ جسے یہ منظر قابلِ اعتراض لگتا ہے، وہ ذہنی نکسلی ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے یو جی سی – نیٹ کے تین امتحانات کو تقریباً دو مہینے بعد منسوخ کرنے پر مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ ہی سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے اور اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے
یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب اور کانگریس کی سینئر رہنما ڈاکٹر چینیکا انیال نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یو جی سی – نیٹ امتحان منعقد ہونے کے دو مہینے بعد این ٹی اے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اب تین پیپر دوبارہ کرانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب این ٹی اے کو اپنی غلطی معلوم کرنے میں دو مہینے لگ گئے تو نہ جانے اور کتنی غلطیاں ہوں گی، جن سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
یوتھ کانگریس کے صدر نے کہا کہ طلبہ سے امتحانات کے نام پر بھاری فیس لینے کا کوئی جواز نہیں ہے، اس لیے طلبہ سے تمام امتحانات کی درخواست کے لیے صرف ایک روپیہ فیس لی جانی چاہیے۔
مسٹر چب نے کہا کہ شاید بی جے پی حکومت ان غلطیوں کو قسطوں میں سامنے لانا چاہتی ہے، تاکہ جین- زی کا غصہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امت شاہ پر نہ پھوٹے۔ انہوں نے کہا کہ جب جنتر منتر پر طلبہ احتجاج کر رہے تھے تو کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا ہٹنا پہلا قدم ہے، آخری نہیں اور آج وہی ہو رہا ہے۔ جب تک پورے سسٹم میں جوابدہی طے نہیں ہوگی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوان جب مسٹر مودی اور مسٹر شاہ سے جوابدہی مانگ رہے تھے تب وزیر اعظم اور وزیرِ داخلہ 20 دن تک ایوان میں نہیں آئے۔ ایسے میں ان سے جوابدہی کی امید نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنا ان کی صلاحیت سے باہر ہے، لیکن جب ملک کی زمین اپنے دوست اڈانی کو دینے کی بات آتی ہے تو وزیر اعظم سے کوئی غلطی نہیں ہوتی، مگر جیسے ہی طلبہ کے مسائل آتے ہیں، حکومت کی کارکردگی صفر ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر انیال نے کہا کہ وزارتِ تعلیم کو سمجھنا ہوگا کہ معاملہ صرف سوالنامے اور جواب کی کاپی سے جڑا نہیں ہے، بلکہ طلبہ کے جذباتی اور مالی نقصان سے بھی جڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تین امتحانات منسوخ کیے گئے تو کیا ایسی سنگین غلطی کرنے والے حکام اور ماہرین پر کارروائی ہوگی، کیا ان کے نام عام کیے جائیں گے، کیا طلبہ کو حکومت کی طرف سے ہرجانہ دیا جائے گا اور جن طلبہ کے داخلے کی ڈیڈ لائن نکل گئی ہے، کیا انہیں معاوضہ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ جس نظام سے طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے، اس پر جواب دینا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ٹی اے نے اپنے پریس ریلیز میں قبول کیا ہے کہ یو جی سی – نیٹ کے سوالنامے میں سائنس دانوں کے ناموں کی اسپیلنگ، کتابوں کے عنوانات اور تلفظ تک میں غلطیاں تھیں۔ انہوں نے پھر سوال کیا کہ سوالنامہ تیار کرنے والے کون تھے، طلبہ کے وقت کی قیمت کون چکائے گا، سوالنامے کی جانچ کس نے کی، تلفظ کی تصدیق کس نے کی اور آخری منظوری کس نے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے محض ایک بھول کہنا مناسب نہیں ہے اور سوال اٹھتا ہے کہ کیا پورا امتحانی نظام ہی ناکام ہو چکا ہے؟ حکومت کو اس پر جواب دینا چاہیے۔
ڈاکٹر انیال نے اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں طلبہ کے احتجاج کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جین- الفا کے بچے سڑک پر اتر کر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کا الزام ہے کہ اسکولوں میں اساتذہ کی بھاری کمی ہے، بورڈ کے امتحانات کی تیاری نہیں کرائی جا رہی، بچوں کو خراب کھانا دیا جاتا ہے اور بیمار پڑنے پر علاج تک نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت دعوے تو بہت کرتی ہے، لیکن اسکولوں میں بنیادی سہولیات تک کا فقدان ہے اور بچوں کو تعلیم کے ساتھ بنیادی سہولیات کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر6 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر7 days agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 week agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان5 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 days agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا7 days agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
