دنیا
ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھایا، اسے تاریخ کا ‘سب سے زبردست’ قدم قرار دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پہلے سے عائد سخت پابندیوں کے علاوہ مزید معاشی دباؤ ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسے ایران کے خلاف تاریخ کی “سب سے زبردست اقتصادی مہم” قرار دیا ہے، کیونکہ ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، “اسلامک ریپبلک آف ایران کو معاہدہ کرنے کا اتنا بڑا موقع میں نے دیا جتنا کسی اور نے نہیں دیا۔ افسوس کی بات ہے کہ وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس لیے، آج میں کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے زبردست اقتصادی مہم شروع کرنے کا اعلان کر رہا ہوں!”
امریکی صدر نے کہا کہ جو بھی ملک ایران کو اپنے کاروبار اور سرکاری اداروں کے ذریعے مدد فراہم کرے گا، اسے شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مسٹر ٹرمپ نے مزید لکھا، “آج میں یہ بھی اعلان کر رہا ہوں کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کو ایران کو کسی بھی قسم کی مدد (لائف لائن) دینے کی اجازت دے گا، اسے خود بھاری معاشی نتائج بھگتنے ہوں گے۔ تیل کی اسمگلنگ، سوئیپ لائنز، کیش ٹرانسفر، ایکسچینج ہاؤسز، جہازوں کی رجسٹریشن، فرنٹ کمپنیاں — یہ سب ابھی بند ہونا چاہیے!”
انہوں نے ایران کے خلاف اپنی معاشی مہم کو بے مثال سطح پر الگ تھلگ کرنے والا قدم بتایا اور امریکی اتحادیوں سے ان اقدامات میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، “یہ بے مثال سطح پر اقتصادی جنگ اور الگ تھلگ کرنے والا قدم ہوگا۔”
اس سے قبل، ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ پہلے سے نافذ سخت پابندیوں کے علاوہ ایران پر مزید معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مسٹر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، “ہمارے پاس ایسی چیزیں ہیں جن پر ہم پابندیاں عائد کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس بہت سخت پابندیاں ہیں اور دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکام نے اپنے سیاسی اتحادیوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے آہستہ آہستہ معاشی طور پر اس کا “دم گھوٹنے” کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس ہفتے ایران کے خلاف پابندیوں کا ایک نیا پیکیج پیش کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
منگل کے روز مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
ٹرمپ کی بار بار ’بہت جلد‘ جنگ ختم ہونے کی یقین دہانیوں کے باوجود ایران جنگ چھ ماہ کے قریب پہنچ گئی
واشنگٹن/تہران، ایران جنگ اگلے ہفتے چھ ماہ کا عرصہ مکمل کرنے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ اس دوران مسلسل کشیدگی میں اضافے اور امریکی فوج پر بڑھتے دباؤ کے باوجود واشنگٹن اور تہران دونوں اس امید پر قائم ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا وعدہ کیا تھا کہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ہوگی اور یہ ’’بہت جلد‘‘ ختم ہو جائے گی۔تاہم جنگ کے طویل ہونے کے باعث قومی سلامتی سے متعلق ایسے معاملات جو پہلے صرف ماہرین تک محدود تھے، اب عوامی بحث کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان میں گولہ بارود کے ذخائر، دفاعی معاہدے اور سمندر میں فوجی بحری جہازوں کو دوبارہ رسد فراہم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔ یہ رپورٹ ایکسیوس نے شائع کی ہے۔
امریکی بحریہ خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی تعیناتیوں سے جنگی جہازوں، ملاحوں، میرینز اور ان کے خاندانوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
ٹرمپ نے رواں ہفتے کہا کہ وہ امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قبضہ چاہتے ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک نقشہ بھی پوسٹ کیا جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو ’’امریکی علاقہ‘‘ قرار دیا گیا۔
انہوں نے عمان کو ’’بری طرح بمباری‘‘ کرنے کی دھمکی بھی دی، حالانکہ خلیجی ملک امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔
امریکی بحریہ پر پڑنے والا دباؤ بھی اب زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔ بحرالکاہل میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ بھیجا جا رہا ہے تاکہ یو ایس ایس ابراہم لنکن کی جگہ لے سکے، جو 250 سے زائد دن سمندر میں گزار چکا ہے۔
لنکن کی طویل تعیناتی اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنی جب رپورٹس سامنے آئیں کہ شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے کئی ملاحوں نے جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
دوسری جانب پینٹاگون کو جنگ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کا سامنا ہے۔
محکمہ دفاع نے کئی ماہ سے کوئی باقاعدہ پریس بریفنگ نہیں کی اور اس پر آن لائن ہلاکتوں کے ریکارڈ کے ذریعے امریکی فوجی اہلکاروں کی ہلاکتوں سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک اور عارضی جنگ بندی مسترد کردی، ’’مستقل جنگ بندی‘‘ کا مطالبہ
تہران، ایرانی حکام کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ ایک اور عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جنگ کے ’’مستقل خاتمے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ 60 روزہ عبوری معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد سفارتی کوششیں بدستور تعطل کا شکار ہیں۔ یہ بات گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں کہی۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 17 جون کو دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت کرکے حتمی تصفیے کی کوشش کی جانی تھی۔
اس معاہدے کی مدت 17 اگست کو کسی پیش رفت یا توسیع کے معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرچکے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے معاہدے کو ’’جنگ کا خاتمہ، جنگ بندی نہیں‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ تہران نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ آیا امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں یا نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی اپنی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، تیل پر عائد پابندیاں نہیں ہٹاتا، منجمد ایرانی اثاثے جاری نہیں کرتا اور فوجی دھمکیاں ختم نہیں کرتا۔انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد کردیا کہ امریکہ کا بڑھتا ہوا دباؤ تہران کو ان شرائط کو قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہے جو مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں تھیں۔
قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ واشنگٹن بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ ’’ایران پر مزید دباؤ ڈالنے سے ایسی رعایتیں حاصل کی جاسکتی ہیں جو کبھی معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھیں۔‘‘
انہوں نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کی اس نوعیت کا نتیجہ حاصل کرنے کی صلاحیت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں عہدیدار ’’اپنی صلاحیت سے کہیں باہر‘‘ کام کر رہے ہیں۔
قالیباف نے مزید کہا، ’’اس مسخرہ ٹیم کے کسی کرتب کے ذریعے آپ کے پیدا کردہ بحران کو حل کرنے کا انتظار کرنا بند کریں۔‘‘
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ ’’کوئی مذاکرات یا بات چیت جاری نہیں، نہ ہی طے شدہ ہے۔‘‘ انہوں نے مؤقف برقرار رکھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی جاری ہے اور آبنائے ہرمز ’’کھلی‘‘ ہے، جو تہران کے مؤقف سے براہ راست متصادم ہے۔
عبوری معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ہی اس میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی تھیں۔ ٹرمپ نے جولائی کے اوائل میں عمان کے راستے سفر کرنے والے بحری جہازوں پر حملوں کے بعد معاہدے کو ’’ختم‘‘ قرار دے دیا تھا۔ واشنگٹن نے ان حملوں کا الزام ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) پر عائد کیا تھا، جبکہ تہران نے چند روز بعد معاہدے کو معطل کردیا۔
اس کے بعد سے لڑائی نسبتاً کم شدت کے ساتھ جاری ہے، تاہم آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے بحری آمدورفت میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور بڑے ٹینکر آپریٹرز نے ان دونوں آبی راستوں سے گریز شروع کردیا ہے۔
دونوں ممالک کے موجودہ مؤقف نے سفارت کاری کے لیے گنجائش انتہائی محدود کردی ہے۔ تہران ایک اور عارضی وقفہ قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتا، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوبارہ منظم ہونے کا وقت مل سکتا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن مستقل تصفیے کی جانب بڑھنے سے قبل سخت تر معاشی دباؤ اور مسلسل ناکہ بندی کے ذریعے اپنی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ بیانات میں تہران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی پر مسلسل زور دیا گیا ہے، جبکہ ایران پر مالی اور تزویراتی دباؤ ڈالنے کے لیے پابندیاں اب بھی ایک مرکزی ذریعہ ہیں۔
یہ تعطل عالمی توانائی کے شعبے پر بھی سنگین اثرات مرتب کررہا ہے۔ بدھ کی صبح برینٹ خام تیل کی قیمت 91.02 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ نے جوہری ہتھیار استعمال کیے تو ہم منہ توڑ جواب دیں گے: ایرانی رکن پارلیمنٹ
تہران، ایک ایرانی قانون ساز نے بدھ کے روز کہا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران پر ممکنہ جوہری حملے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا جواب دے گا۔
یہ بات ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی نے ایرانی نیوز میڈیم ‘خبر آن لائن’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر جوہری حملے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر، مسٹر مالکی نے کہا، “میں (امریکی صدر ڈونلڈ) ٹرمپ کی جانب سے کسی غیر ذمہ دارانہ اقدام کے امکان کو مسترد نہیں کرتا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایسا کرنے کی ہمت کریں گے، کیونکہ اس طرح کی کارروائی سے دنیا ایک خطرناک جنگ میں ڈوب سکتی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کارروائی کی گئی تو اسلامی جمہوریہ ایران اس کا جواب دے گا اور اس کا ردعمل ایران کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے مطابق ہوگا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو ایران استعمال کرے گا، مالکی نے کہا، “امریکہ جو بھی استعمال کرے گا، ایران جواب دے گا۔” مسٹر مالکی نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔ انہوں نے امریکہ کو مزید کسی بھی فوجی کارروائی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس “بہت سے آپشنز” ہیں اور کسی بھی امریکی اقدام کا “اسی سطح یا اس سے بھی زیادہ” جواب دیا جا سکتا ہے۔
مسٹر مالکی نے کہا کہ “ایران کے بہت سے ہتھیاروں اور فوجی صلاحیتوں کے بارے میں ابھی تک انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران ایک دفاعی موقف سے فعال اور جارحانہ مزاحمت کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے، مسٹر مالکی نے مسٹر ٹرمپ پر دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کے تحت کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت تک مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا جب تک امریکہ اپنے سابقہ وعدوں کو پورا نہیں کرتا، انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور دیگر مسائل حل طلب رہیں گے۔ مسٹر مالکی نے کہا کہ عمان کے ساتھ یران کی بات چیت ایک الگ دو طرفہ عمل ہے۔ ایران نے ان مذاکرات میں امریکہ کی شمولیت کو مسترد کردیا ہے۔ ایران اور امریکہ نے جون کے وسط میں پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو ختم کرنا اور حتمی تصفیہ کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ آبنائے ہرمز سے متعلق مسائل سمیت یادداشت پر عمل درآمد پر اختلافات کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
تازہ ترین کشیدگی 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئی۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پورے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
ہندوستان7 days agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
ہندوستان7 days agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا7 days agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
