دنیا
ٹرمپ کا دعوی “ہرمز امریکی ملکیت” ہے، بیان کے بعد تصویر شیئر کر دی
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین قرار دینے پر مبنی بیان جاری کرنے سے چند روز بعد ایک ایسی تصویر شیئر کی ہے جس میں اس اہم آبی گزرگاہ کو امریکی ملکیت دکھایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک نقشے کی تصویر شیئر کی جس میں آبنائے ہرمز کو “نئی امریکی سرزمین” قرار دیا گیا تھا۔ یہ اقدام ٹرمپ کے اس آبی گزرگاہ کو امریکی سرزمین قرار دینے سے متعلقہ سابقہ بیانات کی تکرار ہے۔
14 اگست کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت ایران شدید شکست کا سامنا کر رہا ہےجیسے ہی یہ شکست قطعی شکل اختیار کرتی ہے میں آبنائے ہرمز کو ریاستہائے متحدہ کی سرزمین قراردے دوں گا۔
سوشل میڈیا سے جاری کردہ ایک اور بیان میں ٹرمپ نےکہا ہے کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز پر “مکمل کنٹرول” حاصل ہے اور واشنگٹن کو یقین ہے کہ وہ اس کنٹرول کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ جب تک آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت اور بحری ناکہ بندی ختم نہیں ہو جاتی اور 17 جون کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں تب تک آبنائے کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی ریفائنریاں وینزویلا کی نصف تیل پیداوار وصول کر رہی ہیں: امریکی عہدیدار
واشنگٹن، امریکی عہدیدار کے مطابق وینزویلا اپنی یومیہ 12 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل کی پیداوار میں سے 5 لاکھ سے زائد بیرل خلیجِ میکسیکو کے ساحلی علاقوں میں قائم ریفائنریوں کو بھیج رہا ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق وینزویلا اپنی تیل کی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ امریکہ برآمد کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیے جانے اور کراکس میں عبوری حکومت قائم کیے جانے کے سات ماہ بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی کے انڈر سیکریٹری کائل ہاوسٹویٹ نے منگل کو ہیوسٹن میں تیل کی صنعت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا سے اب روزانہ 5 لاکھ سے زائد بیرل تیل امریکہ پہنچ رہا ہے، جبکہ ملک کی مجموعی یومیہ پیداوار تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تیل ایسی ریفائنریوں کو بھیجا جا رہا ہے جو ’’خاص طور پر اسی قسم کے خام تیل کو پراسیس کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں‘‘۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کا تخمینہ 303 ارب بیرل ہے۔ یہ عالمی ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتے ہیں۔
تاہم کئی دہائیوں تک سرمایہ کاری کی کمی اور امریکی پابندیوں کے باعث وینزویلا کی پیداوار عالمی پیداوار کے تقریباً ایک فیصد تک محدود ہو گئی تھی۔ 2025 کے اختتام پر ملک میں روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تیل پیدا ہو رہا تھا، جس میں سے تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار بیرل یومیہ امریکہ بھیجا جاتا تھا۔
وینزویلا کا خام تیل بھاری اور زیادہ سلفر والا ہوتا ہے، جسے پراسیس کرنے کے لیے امریکی خلیجی ساحل کی ریفائنریاں خاص طور پر تیار کی گئی ہیں۔ اس لیے وینزویلا سے تیل کی درآمد دوبارہ شروع ہونا ان ریفائنریوں کے لیے براہ راست فائدہ مند ہے۔
ہاوسٹویٹ نے کہا کہ واشنگٹن وینزویلا میں تیل کی پیداوار بڑھانے میں بھی مدد کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ روزانہ ایک لاکھ بیرل سے زائد نیفتھا وینزویلا بھیج رہا ہے، جسے وہاں بھاری خام تیل کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔انہوں نے اس انتظام کو ’’ایک خوبصورت توانائی شراکت داری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دونوں جانب تجارت سے حقیقی قدر پیدا ہو رہی ہے‘‘۔
اسی تقریب میں وینزویلا کے حکام نے کہا کہ ملک اپنی تیل کی پیداوار میں مزید اضافہ کرنے کی امید رکھتا ہے۔
سرکاری تیل کمپنی پی ڈی وی ایس اے کے نائب صدر جووانی مارٹینیز نے کہا کہ اگست کے اختتام تک وینزویلا کی خام تیل کی پیداوار 12 لاکھ 45 ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی، جبکہ رواں سال تیل کی برآمدات میں 19.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال اب تک ایندھن کی پیداوار میں 12.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ ملک میں مقامی طور پر دستیاب ایندھن میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
واشنگٹن، سات ترک امریکی تنظیموں نے امریکی کانگریس کے اراکین کو بھیجے گئے ایک خط میں قانون سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ ترکیہ کو ایف-35 جنگی طیاروں کی فروخت کی حمایت کریں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ “تقریباً 75 سالہ نیٹو اتحادی اور ایک سیکورٹی اور سفارتی شراکت دار کے طور پر جمہوریہ ترکیہ کی امریکی دفاعی نظام تک مسلسل رسائی بنیادی امریکی اسٹریٹجک مفادات کے عین مطابق ہے ، اس لیے ہم احترام کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ آپ امریکی ایف-35 جنگی طیاروں کی زیر التوا فروخت کی حمایت کریں اور اس تعاون کی راہ میں حائل غیر ضروری پابندیوں اور رکاوٹوں کو دور کریں۔”
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سودے کی حمایت کرنا نیٹو کے اتحاد، علاقائی استحکام اور حقیقی و بڑھتی ہوئی قدر کے حامل دوطرفہ تعلقات میں ایک سرمایہ کاری ہے، ہم آپ کی حمایت کے طلبگار ہیں اور اس معاملے پر مزید بات چیت کے موقع کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”
اس خط پر اسمبلی آف ٹرکش امریکن ایسوسی ایشنز، ٹرکش امریکن کوالیشن، فیڈریشن آف ٹرکش امریکن ایسوسی ایشنز، ٹرکش امریکن نیشنل اسٹیرنگ کمیٹی، مو سیاد یو ایس اے، ٹرکش امریکن چیمبر آف کامرس آف دی ساؤتھ اور اسکون یو ایس اے نے دستخط کیے۔
امریکہ نے 2019 میں ترکیہ کی جانب سے روسی ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر اعتراض کے بعد اسے ایف-35 پروگرام سے معطل کر دیا تھا؛ امریکہ کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ نظام جنگی طیاروں کو خطرے میں ڈالے گا اور یہ نیٹو سسٹمز کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔
ترکیہ نے بارہا کہا ہے کہ دونوں نظاموں کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے اور اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور جنوبی کوریا کا مشترکہ فوجی مشقوں کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ: رپورٹ
سیول، جنوبی کوریا اور امریکہ نے جاری الچی فریڈم شیلڈ (یوایف ایس) مشترکہ فوجی مشقوں کا دورانیہ 11 دن سے گھٹا کر پانچ دن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف (جے سی ایس) کے حوالے سے کے بی ایس براڈکاسٹر نے بتایا کہ یہ فیصلہ امریکی فریق کی تجاویز پر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، فیلڈ ٹریننگ مشقوں کی تعداد بھی نصف کر دی جائے گی۔ پیر سے شروع ہونے والی یہ فوجی مشقیں پہلے 27 اگست تک جاری رہنے والی تھیں۔ جے سی ایس نے بتایا کہ مشترکہ فیلڈ ٹریننگ ایکسرسائز (ایف ٹی ایکس) کی مدت میں بھی جزوی طور پر کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور دونوں فریق فی الحال اس کی تفصیلی ترتیب پر ہم آہنگی پیدا کر رہے ہیں۔
براڈکاسٹر کے مطابق اس کٹوتی کا اثر زیادہ تر مجوزہ فیلڈ مشقوں پر پڑے گا۔ رواں سال پہلے ہی ان کی تعداد 17 سے گھٹا کر 14 کر دی گئی تھی۔ اب 14 مجوزہ مشترکہ فیلڈ مشقوں میں سے آدھے سے زیادہ کے منسوخ ہونے کا امکان ہے۔ جے سی ایس نے یہ بھی بتایا کہ مشترکہ کمان جنگی وقت کی کمان کے دو مراکز— سی پی ٹیگو اور کیمپ ہمفریز—کا استعمال کرتے ہوئے مشقیں کر رہی ہے۔ براڈکاسٹر کے مطابق، یوایف سی کے دوران عموماً مشترکہ کمان کا ہیڈ کوارٹر صرف سی پی ٹیگو میں ہوتا تھا، لیکن اس بار امریکی جانب سے کیمپ ہمفریز کو بھی استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
براڈکاسٹر نے مشقوں میں کٹوتی کے فیصلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ حکم سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے امریکہ-جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی سطح کرم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
گزشتہ 16 اگست کو مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا ‘ٹروتھ’ پر کہا تھا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کے ساتھ ان کے “بہت اچھے تعلقات” ہیں اور انہیں جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں حصہ لینے کے امریکہ کے دیرینہ معاہدے پر اعتراض ہے۔ امریکی صدر نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کو دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقوں کی سطح کو کافی حد تک کم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر7 days agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا1 week agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا1 week agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان6 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
ہندوستان6 days agoتبدیلی، اتحاد، آئین کے تحفظ کے لیے سیاسی طاقت ضروری: کھرگے
-
دنیا6 days agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
