ہندوستان
راجیو گاندھی کو 82 ویں یومِ پیدائش پر کانگریس لیڈران نے خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی، پارٹی صدر ملیکارجن کھرگے، سابق صدر راہل گاندھی سمیت کانگریس کے کئی سینئر لیڈران نے جمعرات کو سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے 82 ویں یومِ پیدائش پر ان کی یادگار ‘ویر بھومی’ پر پھول پیش کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔سابق وزیرِ اعظم کی یادگار پر مسٹرکھرگے، محترمہ گاندھی، اور ان کے بیٹے راہل گاندھی کے علاوہ ان کی بیٹی پرینکا گاندھی واڈرا اور ان کے شوہر رابرٹ واڈرا نے بھی راجیو گاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مسٹرگاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے والد راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج جب ملک بھر میں نوجوانوں کے درمیان بڑھتی ہوئی بے چینی اور ہلچل کو دیکھا جا رہا ہے، تب یہ یاد کرنا اہم ہے کہ سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی نے نوجوانوں اور ملک کے مستقبل کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی نے آئین میں ترمیم کر کے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کی اور 18 سال کے نوجوانوں کو حقِ رائے دہی دیا۔ مسٹرراجیو گاندھی نے سوامی وویکانند کے یومِ پیدائش 12 جنوری کو ‘نیشنل یوتھ ڈے‘ قرار دیا تھا اور 1988 میں نئی تعلیمی پالیسی نافذ کی، جس کے تحت ملک بھر میں نوودیہ ودیالیہ کا نیٹ ورک قائم کرنے سمیت کئی نئی کوششیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ملک کے تمام اضلاع کو کور کرنے والے ‘نہرو یوتھ سینٹر آرگنائزیشن’ کی بنیاد رکھی، جس کا نام اب بدل کر ‘میرا یووا بھارت’ کر دیا گیا ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ راجیو گاندھی نے ہندستان کو فیصلہ کن طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں پہنچایا، جس سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوئے۔
مسٹر گاندھی نے مزید لکھا: ”ہندستانیوں کے درمیان خیر سگالی، ہر دل میں ہمدردی اور ہر شہری کو انصاف و جمہوریت میں مساوی حقوق۔ پاپا، آپ کی یہ تعلیمات میری طاقت ہیں اور آپ کی یادیں میری ہمت۔ آپ کے خوابوں کا ہندستان بنانے کا عزم ہمیشہ میری رہنمائی کرتا رہے گا۔“
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
وزیراعظم مودی نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو ان کے یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو ان کے یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا انہوں نے کانگریس لیڈر راجیو گاندھی کو یاد کیا، جنہوں نے 1984 سے 1989 تک ہندستان کے وزیراعظم کے طور پر خدمات انجام دی تھیں وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا، “آج ان کے یومِ پیدائش پر، سابق وزیراعظم مسٹرراجیو گاندھی جی کو میرا خراجِ عقیدت۔”
20 اگست 1944 کو پیدا ہونے والے راجیو گاندھی، اکتوبر 1984 میں اپنی والدہ اور اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 40 سال کی عمر میں ہندستان کے سب سے کم عمر وزیراعظم بنے۔ اس کے بعد انہوں نے 1989 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی شکست تک کانگریس اور ملک کی قیادت کی۔
راجیو گاندھی کا دورِ حکومت جدید کاری اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی حکومت نے تعلیم اور پنچایتی راج جیسے شعبوں میں اقدامات کرنے کے علاوہ، کمپیوٹرائزیشن اور ٹیلی کمیونیکیشن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی حکومت نے ووٹ دینے کی عمر بھی 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کر دی تھی۔
سال 1989 میں کانگریس کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد راجیو گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنے۔ 21 مئی 1991 کو تمل ناڈو کے سری پیرومبدور میں لوک سبھا الیکشن کی مہم کے دوران ایک بم دھماکے میں ان کا قتل کر دیا گیا تھا۔
کانگریس ان کے یومِ پیدائش کو ‘سدبھاونا دیوس’ کے طور پر مناتی ہے، جس میں پارٹی کے لیڈران اور کارکنان نئی دہلی میں ان کی یادگار ‘ویر بھومی’ پر جا کر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی باقاعدگی سے راجیو گاندھی کو ان کے یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کرتے رہے ہیں۔ 2024 میں بھی انہوں نے پوسٹ کیا تھا، “ہمارے سابق وزیراعظم مسٹرراجیو گاندھی جی کو ان کے یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت۔”
یہ خراجِ عقیدت ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب راجیو گاندھی کی سیاسی میراث نہرو-گاندھی خاندان اور کانگریس سے گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے بیٹے، راہل گاندھی، فی الحال لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ہیں اور پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
راجیو گاندھی نے نوجوانوں کو خودمختار بنایا اور ہندستان کے آئی ٹی انقلاب کی راہ ہموار کی: جے رام رمیش
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے نوجوانوں کو خودمختار بنانے کے تعاون کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات، تعلیم، نوجوانوں کی ترقی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کے کیے گئے اقدامات ملک بھر کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی “بے چینی اور اضطراب ” کے درمیان آج بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم کے 82ویں یومِ پیدائش کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا کہ ایسے وقت میں جب نوجوانوں کی آرزوئیں اور خدشات ایک بار پھر قومی بحث کے مرکز میں ہیں، سابق وزیرِ اعظم کے تعاون کو یاد رکھنا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے سابق وزیرِ اعظم سے جڑے سلسلہ وار اقدامات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہا، “آج جب ہم ان کا 82واں یومِ پیدائش منا رہے ہیں اور ملک بھر میں نوجوانوں کے اندر بے چینی اور اضطراب دیکھ رہے ہیں، تو یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ یہ وزیرِ اعظم راجیو گاندھی ہی تھے جنہوں نے…”
مسٹر رمیش نے آئینی ترمیم کا ذکر کیا جس کے ذریعے ووٹنگ کی کم از کم عمر 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کی گئی، جس سے لاکھوں نوجوان ہندستانیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق ملا۔ 1988 میں منظور کی گئی 61ویں آئینی ترمیم نے 18 سال کی عمر کے نوجوانوں کو اہل ووٹر تسلیم کرتے ہوئے ہندستان کی انتخابی جمہوریت میں ایک بڑی وسعت کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے سوامی وویکانند کے یومِ پیدائش 12 جنوری کو ‘قومی یومِ نوجوانان’ یا نیشنل یوتھ ڈے کے طور پر منانے کے راجیو گاندھی کے فیصلے کو بھی یاد کیا۔ اس موقع کو تب سے ہر سال قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرنے اور سوامی وویکانند کی تعلیمات نیزہندستان کی فکری و سماجی زندگی میں ان کے تعاون کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔
مسٹر رمیش نے 1986 کی نئی تعلیمی پالیسی لانے کا سہرا بھی راجیو گاندھی کے سر باندھا، جس کے بعد 1980 کی دہائی کے اواخر میں کئی اہم اقدامات نافذ کیے گئے۔ انہوں نے بالخصوص ‘جواہر نوودے ودیالیہ’ نیٹ ورک کے قیام اور توسیع کا حوالہ دیا، جس کا مقصد ہونہار بچوں، خاص طور پر دیہی علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔
کانگریس رہنما نے ‘نہرو یووا کیندر سنگٹھن’ کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ اس کا قیام ملک بھر کے اضلاع کا احاطہ کرنے اور سماجی و برادری کی سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شرکت کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔ انہوں نےواضح کیا کہ حکومت کی جانب سے نوجوانوں سے کی جانے والی سرگرمیوں کے فریم ورک کی نئی تنظیمِ نو کے بعد اس تنظیم کو اب ‘مائی بھارت’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
مسٹر رمیش کا آخری نقطہ راجیو گاندھی کے ہندستان کو فیصلہ کن طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں لے جانے کے کردار پر مرکوز تھا۔ انہوں نے راجیو گاندھی کے دورِ حکومت میں کیے گئے تکنیکی اور مواصلاتی اقدامات کے طویل المدتی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، “وہ ہندستان کو فیصلہ کن طور پر آئی ٹی کے دور میں لے گئے، جس سے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوئے۔”
راجیو گاندھی 1984 میں 40 سال کی عمر میں وزیرِ اعظم بنے تھے، جس سے وہ اس وقت اس عہدے پر فائز ہونے والے سب سے کم عمر شخص بنے۔ 1984 سے 1989 تک ان کا دورِ حکومت تکنیکی جدت طرازی، کمپیوٹرائزیشن، ٹیلی کمیونیکیشن، تعلیم اور انتظامی اصلاحات پر زور دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں نے اکثر اس جدید کاری کے ایجنڈے کو اس ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی اہم بنیاد رکھنے کے طور پر بیان کیا ہے جسے ہندستان نے بعد کی دہائیوں میں تیار کیا۔
کانگریس بالخصوص راجیو گاندھی کے یومِ پیدائش اور یومِ وفات پر نوجوانوں، ٹیکنالوجی اور جدید کاری پر ہونے والی بحثوں میں ان کی میراث کا ذکر کرتی رہی ہے۔ مسٹر رمیش کے یہ بیانات طلباء اور نوجوانوں کے خدشات بشمول امتحانات، روزگار اور تعلیمی مواقع سے متعلق مسائل پر شروع ہونے والی نئی سیاسی بحث کے درمیان آئے ہیں۔
نوجوان ہندستانیوں کے موجودہ خدشات کو راجیو گاندھی کے اقدامات سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے کانگریس کے اس موقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ نوجوان شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے نہ صرف روزگار کے مواقع بلکہ سیاسی شراکت، معیاری تعلیم، ادارہ جاتی تعاون اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی کی بھی ضرورت ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
چار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
نئی دہلی، حکومت نے مغربی بنگال، اڈیشہ، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے چار منصوبوں کو منظوری دی ہے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کی میٹنگ میں ان منصوبوں کو منظوری دی گئی تقریباً 410 کلومیٹر طویل ان منصوبوں کی تعمیر کی تخمینہ لاگت تقریباً 9,450 کروڑ روپے ہے اور انہیں سال 31-2030 تک مکمل کیا جانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں مغربی بنگال اور اڈیشہ میں 173 کلومیٹر طویل کھڑگپور – بھدرک (رانی تال) چوتھی لائن، اڈیشہ میں 75 کلومیٹر طویل بھدرک – ہرپرداس پور چوتھی لائن، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں 90 کلومیٹر طویل گمڈی پونڈی – گڈور تیسری و چوتھی لائن نیز اڈیشہ میں 72 کلومیٹر طویل کٹک – پارادیپ (بدابندھا) تیسری و چوتھی لائن شامل ہیں۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ ان چاروں منصوبوں کے مکمل ہونے سے آٹھ اضلاع میں ریل رابطہ مضبوط ہوگا اور تقریباً 6,448 دیہات کو اس کا فائدہ ملے گا۔ منصوبوں کی تکمیل سے ان ریاستوں کی تقریباً 60 لاکھ آبادی مستفید ہوگی، اس سے ریل آپریشن کی صلاحیت بڑھے گی، بھیڑ کم ہوگی اور مسافروں نیز سامان کی آمد و رفت آسان ہوگی۔ ان منصوبوں سے کوئلہ،خام لوہے، سیمنٹ، لوہا و اسٹیل، کنٹینر، گاڑیاں اور اناج وغیرہ کی نقل و حمل کے لیے سالانہ تقریباً 7.6 کروڑ ٹن اضافی مال برداری کی صلاحیت بہتر ہوگی۔
مسٹر ویشنو نے بتایا کہ ان منصوبوں سے کلڈیہا وائلڈ لائف سینکچری، بھیتر کنیکا نیشنل پارک، ماں بھدرکالی مندر، ماں دھامرائی مندر، پنچ لنگیشور مندر، ساحلی سیاحتی مقامات، پلیکٹ جھیل، نیلا پٹو برڈ سینکچری، ویر راگھو پیرومل مندر، گڈا کنجنگا جگن ناتھ مندر، سرلا مندر، ڈھابلیشور مندر اور للت گیری جیسے اہم سیاحتی مقامات کو بہتر ریل رابطہ ملے گا۔
ان منصوبوں سے تقریباً 13 کروڑ لیٹر تیل کی درآمد میں کمی اور تقریباً 65 کروڑ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آنے کا تخمینہ ہے۔ یہ منصوبے پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoاسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
ہندوستان7 days agoملک کی اجتماعی یادداشت کے محافظ اور مستقبل کے تصور کے خالق ہیں فنکار: مرمو
-
دنیا1 week agoشام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
-
دنیا1 week agoکولمبیا کے صدر نے معاشی ہنگامی حالت نافذ کی
-
جموں و کشمیر1 week agoمعروف کشمیری مصنف سروا نند کول ‘پریمی’، ان کے چھوٹے بیٹے ویریندر کول کے قتل کیس میں جموں و کشمیر میں نو مقامات پر چھاپے
-
ہندوستان7 days agoکھرگے کی توہین پر پرینکا نے جتایا سخت اعتراض، مودی سے مانگا جواب
-
دنیا1 week agoموساد کے سابق سربراہ کا انکشاف، ماضی میں ایران کی فردو جوہری تنصیب کا کئی بار دورہ کیا
-
دنیا7 days agoلبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:اسرائیل کاتز
-
دنیا1 week agoعمان کے تباہ حال ٹینکر سے ساحل تک تیل پہنچ گیا، 40 کلومیٹر ساحلی پٹی متاثر
-
دنیا1 week agoایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
-
دنیا1 week agoکولمبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
