تازہ ترین
کورونا وائرس نے آخری رسومات کو بھی تبدیل کردیا
ہر مذہب میں آخری رسومات کے انداز مختلف ہیں، مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والے مختلف انداز میں اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔مگر کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں آخری رسومات سے جڑی روایات میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کئے گئے رہنما خطوط اور سماجی دور ی کی ہدایات کے تحت کورونا وائرس سے فوت ہونے والے افراد کی تدفین میں گنے چنے لوگ ہی شرکت کرتے ہیں جبکہ تدفین کا سارا عمل پولیس اور انتظامیہ کی نگرانی میں ہوتا ہے،تاکہ کسی طرح کی کوتائی سامنے نہ آجائے۔
کورونا وائرس نے آخری رسومات کو کیسے تبدیل کیا،اُسکی ایک جھلک منگلوار کو اُس وقت کی دیکھنے کو ملی جب پولیس اہلکاروں کو کووڈ۔19سے متاثرہ رعناواری کی فوت خاتون کو سپرد خاک کرنے کیلئے قبر کھودنی پڑی۔ فوت خاتون کے سبھی افراد ِ خانہ کو کورنٹائن میں رکھا گیا،جسکی وجہ سے چند ایک ہی مرحومہ کی آخری رسومات میں شرکت کرنے پڑی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چنانچہ روایتی طور قبر کھود نے والے افراد کیساتھ کوئی رابطہ نہ ہوسکا اور سبھی افراد خانہ کو بھی کورنٹائن میں رکھا گیا،اس لئے پولیس کے اہلکاروں نے مرحومہ کی آخری رسومات سر انجام دیں۔سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ایک ویڈ یو بھی وائر ل ہوا،جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرحومہ کی قبر پولیس اہلکار کھود رہے ہیں۔مرحومہ کو آبائی قبرستان واقع ملقاہ نزدیک گنڈولہ پروجیکٹ بیرون کاٹھی دروازہ رعناواری میں منگل کی شام کو سپرد لحد کیا گیا۔
مرحومہ کو سانس لینے میں تکلیف کے بعد سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ سرینگر میں علاج ومعالجہ کی خاطر داخل کیا گیا تھا،جہاں اُس کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا اور منگلوار کو اُسکی موت ہوئی۔مذکورہ خاتون کے 40افراد خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو کورنٹائن میں رکھا گیا،جسکی وجہ سے اس کی آخری رسومات میں چند ہی افراد نے شرکت کی جبکہ خاتون کی آخری رسومات کووڈ۔19پرو ٹوکول کے مطابق ہوئیں۔ پولیس کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مرحومہ کی آخری رسومات مذہبی اصولوں کے تحت انجام دی گئیں جبکہ اس دوران رہنما خطوط کا خاص خیال رکھا گیا۔پولیس نے اُن رپورٹس کو سختی کیساتھ تردید کی کہ مرحومہ کے اہلخانہ نے اُسکی میت لینے سے انکار کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ خاتون کے سبھی افراد خانہ اور دیگر رشتہ داروں کو احتیاطی اقدامات کے تحت کورنٹائن میں رکھا گیا جبکہ پروٹوکول کے تحت ہی مرحومہ کی نماز جنازہ میں لوگوں نے شرکت کی۔اس قبل فوت ہونے والے افراد کی بھی پولیس نے تصاویر جاری کیں اور واضح کیا کہ کووڈ۔ 19مرض سے مرنے والے کی گائیڈ لائنز کے تحت ہی آخری رسومات انجام دی جارہی ہے۔
جموں وکشمیر میں اب تک عالمگیر وبا سے8افراد کی موت ہوگئی،جن میں 7کا تعلق کشمیر اور ایک کا تعلق صوبہ جموں سے ہے۔گائیڈ لائنز:عالمی ادارہ صحت نے 24 مارچ کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ۔ 19 سے انتقال کرنے جانے والے افراد کی لاشیں وائرس کو منتقل نہیں کرتیں۔تاہم عالمی ادارے نے رشتے داروں کو میت کو نہ چھونے کا مشورہ دیا جبکہ دنیا بھر میں حکومتوں کی جانب سے سماجی دوری کی ہدایات کے نتیجے آخری رسومات اور تدفین کے عمل میں بھی کافی کچھ تبدیل ہوا۔بھارت اور اسرائیل:بھارت میں اس حوالے سے نئی ہدایات کے تحت آخری رسومات کے دوران20 سے زیادہ افراد کی اجازت نہیں۔اس مرض سے مرنے والوں کی لاشیں جلانے کے بعد راکھ کو دریا میں بہانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔اسرائیل میں ایسے افراد کی لاش کو ایک شیشے کے بوتھ میں رکھا جاتا ہے جہاں سے رشتے دار آخری دیدار کرپاتے ہیں اور تدفین کے عمل میں 20 سے زیادہ لوگوں کو اجازت نہیں، جبکہ یہودی مذہب کی دیگر روایات پر عمل کرنے کی بھی اجازت نہیں، جس کے تحت بیلچے کو چھوا جاتا ہے اور قبر پر مٹی ڈالی جاتی ہے۔پاکستان اور ترکی:پاکستان میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی نماز جنازہ اور تدفین کے عمل کے حوالے سے باقاعدہ گائیڈ لائنز جاری ہوئی ہیں۔
ان ہدایات کے تحت میت کو غسل دینے کے لیے مناسب حفاظتی ملبوسات کا استعمال ہوگا جبکہ تدفین کے دوران بھی کم لوگوں کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے سماجی دوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ترکی میں بھی پرہجوم رسومات کو فاصلے سے تدفین میں بدل دیا گیا ہے اور صرف ان افراد کو میت کے غسل کی اجازت دی جارہی ہے جو تدفین کے عمل میں بھی شامل ہوں، قریب ترین رشتے دار اس میں شریک ہوں سکیں گے۔امام کی جانب محفوظ فاصلے سے نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور ماسک کا استعمال لازمی ہوگا، وہاں تابوت کے قریب جانے اور آخری دیدار کی بھی اجازت نہیں۔آئرلینڈ اور اٹلی:آئرلینڈ میں بھی نئے قوانین کا اطلاق ہوا ہے، جس کے تحت گرجا گھروں میں تقریب کی اجازت نہیں، یہاں تک کہ لاش کو بھی فیس ماسک پہنا دیا جاتا ہے، جبکہ تدفین کے دوران بھی کئی، کئی فٹ کا فاصلہ یقینی بنانا ہوگا، ایسی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
اٹلی کے مختلف حصوں میں اب لاشوں کو دفن کرنے کی جگہ انہیں جلایا جارہا ہے کیونکہ تعداد بہت زیادہ بڑھنے سے تدفین کے انتظامات ممکن نہیں رہے۔اسی طرح آخری رسومات کے دوران لوگوں کو اجازت نہیں بلکہ اس کے لیے ورچوئل انتظامات کیے جارہے ہیں۔فرانس اور برازیل:متعدد ممالک میں تدفین میں شرکت کے لیے لوگوں کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے، برازیل اور فرانس دونوں ممالک میں انتظامیہ کی جانب سے لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ تدفین کے دوران10 سے زیادہ لوگوں کی اجازت نہیں ہوگی۔۔چین اور فلپائن:چین میں فروری میں اس حوالے سے ضوابط جاری کرتے ہوئے اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات، تدفین اور دیگر متعلق سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ان ہدایات کے مطابق وائرس سے ہلاک مریضوں کی تدفین کی بجائے ان کی لاشوں کو قریبی مرکز میں جلایا جائے گا، جبکہ کسی کو بھی یعنی رشتے داروں کو اس عمل کے دوران جلانے والے مرکز میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔فلپائن میں حکومت کی جانب سے ایک حکم جاری کرتے ہوئے اس مرض سے ہلاک ہونے والے افراد کی میتیں 12 گھنٹے کے اندر جلانے کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے، تاہم اگر مریض مسلمان ہے تو میت کو سیل بیگ میں رکھ کر قریبی مسلم قبرستان میں مسلم روایات کے مطابق 12گھنٹے میں تدفین کی جائے گی۔
خیال رہے کہ فلپائن میں کیتھولک عیسائی افراد کی تعداد زیادہ ہے جن کی تدفین اور آخری رسومات کا عمل اکثر 3 سے 7دن تک جاری رہتا ہے۔عراق اور ایران: ایران میں بھی سب کچھ پہلے ویسے ہی ہوتا تھا مگر اب تدفین کے عمل کے لیے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کیا جاتا ہے، یعنی حفاظتی ملبوسات اور دور دور رہ کر تدفین ہوتی ہے۔عراق میں بھی اب لوگوں کے اجتماع کی اجازت نہیں اور حفاظتی ملبوسات کے استعمال کے ساتھ سماجی دوری کے اقدامات کو مدنظر رکھ کر یہ عمل مکمل کیا جاتا ہے۔برطانیہ اور اسپین:برطانیہ میں متعدد کونسلز میں تدفین کی تقریبات پر پابندی عائد کی گئی اور خاندانوں کو آخری رسومات میں شرکت سے روک دیا گیا، جبکہ تدفین کے موقع پر10 سے زیادہ لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔چرج آف انگلینڈ نے بھی گرجا گھروں میں فرنیل سروسز پر پابندی عائد کی ہے تاہم مسلمانوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ غسل اور نماز جنازہ کی اجازت دی گئی ہے۔
اسپین میں بھی اسی طرح کی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا ہے اور لوگوں کو تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں ہے، زیادہ سے زیادہ 3 افراد کسی تدفین کے عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔امریکا:امریکا میں بھی حالات مختلف نہیں اور اب وہاں آخری رسومات اور تدفین کے موقع پر زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی ہے۔اب امریکا بھر میں صرف خاندان کے افراد (10 یا اس سے کم) ہی اس کا حصہ بن سکتے ہیں جبکہ آخری رسومات کو لائیو اسٹریم بھی کیا جاتا ہے۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا13 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا9 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان14 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا8 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا16 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا8 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر7 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا6 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر7 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
