تازہ ترین
ڈانگر پورہ پلوامہ فورسز اور جنگجوءوں کے درمیان مسلح تصادم
فورسز نے پلوامہ کے ڈانگر پورہ نامی گاؤں میں جنگجوؤں کے موجود گی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعدعلاقے کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا،جس دوران طرفین کے درمیان ایک خون ریز جھڑپ ہوئی ہے جس میں 3جنگجو جاں بحق ہوئے۔اس دوران جھڑپ کے ساتھ ساتھ یہاں مقامی نوجوانوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کے لئے فورسز پر پتھراؤ کیا، جس دوران فورسز نے نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کے لئے آنسوگیس کے گولے داغے،جس کے نتیجے میں متعدد نوجوانوں کو چوٹیں آئیں۔انتظامیہ نے ضلع میں امن قانون کو قائم کرنے اور افواہ بازی کو روکنے کے لئے انٹر نیٹ سروس کو معطل کر دیا۔ادھر شمالی کشمیر کے راجوارہ ہندوارہ میں بھی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان چار بجے کے قریب جھڑپ شروع ہوئی ہے جو آخری اطلاع ملنے تک جاری تھی۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جنوبی کشمیر میں فورسز نے جنگجوؤں مخالف کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے،جمعہ اورسنیچر کی درمیانی رات کو مین بازارپلوامہ کے قریب میں واقع پلوامہ اونتی پورہ روڑ پرواقع ڈانگر پورہ میں 2سے 3جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔اس دوران فوج کے55RR،-183-182بٹالین سی آر پی ایف اور ایس او جی نے اطلاع موصول ہونے کے فوراً بعد بستی کو محاصرے میں لیا اور گھر گھرتلاشی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔پولیس ذرائع نے بتایاجب تلاشی پارٹی اس مکان کے صحن میں داخل ہوئی جس میں انہیں جنگجوؤں کی موجود گی کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی تھی،تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر شدید فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی ہے،تاہم یہاں فورسز نے مصدقہ اطلاع موصول ہونے کی بناء پر محاصرہ عمل میں لایا تھا،جس کے نتیجے میں یہاں موجود فورسز اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی اور جنگجوؤں کو فرار ہونے کا موقع نہیں دیا۔
اس دوران فورسز نے علاقے میں مزید کمک کو طلب کر کے تمام راستوں کو سیل کر دیا،اور ان اس مکان کو گھیرے میں لیا،جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان گولیوں تبادلہ شروع ہو کر ایک خون ریز جھڑپ شروع ہوئی ہے جو دن کے2بجے تک جاری رہی۔مقامی ذرائع نے بتایا علاقے میں جنگجوؤں کے محاصرے میں آنے اور فائرنگ کے ساتھ ہی نوجوانوں کی ایک کی ایک ٹولی نمودار ہوئی اورجھڑپ میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے فورسز پر چاروں اطراف سے پتھراو کرنے لگے۔فورسز نے نوجوانوں کو جھڑپ سے دور کرنے اور انہیں تتر بتر کرنے کے لئے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغ کر انہیں یہاں سے تعاقب کر کے بھگانے کی کوشش کی۔اس دوران فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔اس واقعے میں اگر چہ سرکاری طور کوئی بھی پتھراؤکرنے والا زخمی نہیں ہوا، تاہم بتایا جا تا ہے متعدد نوجوانوں کو اس دوران چوٹیں آئیں۔
ادھر دن کے2بجے ذرائع نے بتایا اس جھڑپ میں 2جنگجوجاں بحق ہوئے ہیں۔جن کی شناخت نہیں کی گئی ہے اور جھڑپ کی جگہ تلاشی کارروائی جاری تھی۔اس معرکہ آرائی میں دو بھائیوں نثار احمد اور بشیر احمد کے لاکھوں روپے مالیت کے2مکان بھی زمین بھوس ہوئے۔ انتظامیہ نے ضلع میں امن و قانون کی صورت حال پو قابو میں رکھنے اور افواہ بازی کو روکنے کے لئے صبح سویرے ہی انٹرنیٹ سروس پر روک لگایا ہے۔خیال رہے، جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ،کولگام۔لورمنڈا، شوپیان گزشتہ2ہفتوں کے دورا ن18کے قریب جنگجو مارے گئے۔
ادھر شمالی کشمیر کے رواجور ہند میں اس وقت فورسز اور جنگجوؤ ں کے درمیان ایک جھڑپ شروع ہوئی ہے جبکہ سنیچر کے روزبعد سپہر چار بجے کے قریب فوج سی آر پی ایف نے ایک مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا جس دوران چانج ملہ کے مقام پر تلاشی آپریشن کے دوران جنگجوؤں نے فورسز پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں ایک جھڑپ شروع ہوئی ہے۔جو آخری اطلات ملنے تک جاری تھی ذرائع نے بتایا یہاں 2جنگجوؤ ں کے چھپے ہونے کا خدشہ ہے۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا12 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا8 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان12 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا15 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا7 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر6 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا4 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر6 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
