تازہ ترین
عربی زبان و ادب کا شہزادہ
الطاف جمیل ندوی
مصروف العمل ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موصوف وادی کشمیر کے لہلہاتے سبز زاروں کے مکین ہیں جہاں عربی زبان و ادب کے بارے میں مخصوص افراد ہی واقفیت یا اس پر کام کر رہے ہیں جن میں سے کچھ عالمی شہرت کے حامل ہیں ( یہاں گر میں کشمیر کے عظیم عالم و فاضل کا نام نہ لوں تو یہ خلاف ادب ہوگا میری مراد ہیں علامہ انور شاہ لولابی کشمیری رحمہ اللہ جن کے علمی وقار سے متعارف پوری دنیا کا علمی حلقہ ہے ) ان کے علاوہ بھی کچھ شخصیات ہیں جو عربی زبان و ادب پر کام کررہے ہیں
پر مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تردد نہیں کہ اس بار میرے محترم بازی مار گئے ہیں سب سے آگئے ہیں عربی زبان و ادب کی خدمات انجام دینے میں کچھ سال سے موصوف کی شگفتہ مزاجی سے حض اٹھانے میں مصروف ہوں اور موصوف بھی اپنی شگفتہ مزاجی میں نکھار لاتے جارہے ہیں
جن کا مختصر علمی و ادبی خاکہ پیش خدمت ہے
میری مراد ہیں ڈاکٹر معراج الدین ندوی حفظہ اللہ
والد محترم : عبدالرحمن
سکونت پانتہ چوک
تعلیمی قابلیت : ڈاکٹریٹ مؤرخ ناقد اور ادیب احمد امین مصری کے تنقیدی اور ادبی و تاریخی خدمات پر
تبسہ یونیورسٹی الجزاء سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عربی زبان و ادب کی خدمات پر
زیان یونیورسٹی الجزاء کی طرف سے سینٹفک بورڈ ممبر۔
آیدن یونیورسٹی ترکی کی جانب سے مجلہ تلمیذ اور اس کے چیف ایڈیٹر ہونے کے ناطے یک سالہ مالی معاونت
عربی زبان میں ان کی کچھ تالیفات
1- ترجم عشرة اجزاء من القرآن الحكيم
2- الاستاذ أحمدأمين ناقدا وأديبا
3- رائدالاختبار لنجاح الأبرار
4- تعالوا نتعلمِ العربية
5- الفكرة اللغوية عند الاستاذ أحمد أمين
6- رئيس التحرير لمجلة التلميذ
7- قنديل أم هاشم “دراسة تحليلية” (باللغة الأردية)
8- ماه صيام بحيثيت طبيب حاذق
9- نور الأريب من قواعد الأديب
لکھنے کا شوق
۱۴ سال کی عمر میں غیر مربوط طریقے سے لکھنا پڑھنا شروع کیا تھا۔۔۔پھر ۱۵ سال کی عمر میں ” لا اکراہ فی الدین ” کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا تھا جو نامساعد حالات کی وجہ سے ضائع ہوگیا
عزیز مکرم جو سب سے بہترین کام عربی زبان و ادب کے لئے انجام دے رہے ہیں وہ ہے مجلة التلمیذ
کی اشاعت اس بارے میں مشہور نقاد و مصنف ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب رقم طراز ہیں
ڈاکٹر معراج الدین ندوی خود بھی بحیثیت لیکچرر عربی زبان و ادب کی تدریس سے منسلک ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عربی زبان وادب کی خدمت مجلہ “التلميذ” کی مسلسل اشاعت سے سرانجام دے رہے۔ یہ رسالہ اپنے معیار کی بدولت عالمی سطح کے رسائل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب نظر آرہا ہے کیونکہ ایک تو اس کی معیاری تحریرات اور دوسرا عربی دنیامیں اس کی پزیرائی سے عیاں ہے کہ حلقہ قارئین نہ صرف اسے پسند کرتے ہیں بلکہ بطور مدیر مجلہ ڈاکٹر معراج الدین بھی رسالے کی زینت معروف ومعتبر اساتذہ کرام اور ادباء وشعراء کی تحریر اور کلام سےبڑھا رہے ہیں۔ راقم کی نظر سے چند شمارے گزرے ہیں اور پڑھ کر اطمینان ہوا کہ رسالہ کامیابی کی طرف گامزن ہے۔۔عربی زبان کے اسکالرز اور طلبہ کے لئے ایک مفید رسالہ ہے
مجلة التلمیذ کا سفر عزیز محترم کی زبانی
2011 میں اپنی ڈاکٹریٹ مکمل ہونے کے بعد اپنے مشفق استاذ محترم پروفیسر صلاح الدین عمری نے مجھے سے کہا، آپ کوئی علمی و ادبی مجلہ نکالے مجھے ایک لمحے کے لئے اپنی ذات پر ترس آیا کہ یا الله کہی میرے استاذ محترم مجھ سے ناراض ہوکر مجھے کسی مصیبت میں ڈالنا تو نہیں چاہ ریے ہیں رب کی رحمت پر کامل بھروسہ رکھ کر اور اپنی ہمت کو تحریک دے کر میں نے بسم اللہ کرنے کا ارادہ باندھ لیا اور اپنے استاد محترم کے حکم پر عمل کرتے ہوئے اور ان کی رہنمائی میں دسمبر 2011 میں اس کام کو عملی شکل دے کر پہلا شمارہ تلمیذ کا صرف 24 صفحات پر شائع ہوا
لیکن یہ کام محنت طلب ہونے کے ساتھ ساتھ مالی وسائل کے بغیر بالکل ممکن نہ تھا اپنے دیگر اساتذہ اور رفقاء سے مشورے لینے کے بعد اس بات کا انداز ہوا پر اسے جاری رکھنے کے لئے طے کر لیا کہ چاہئے کتنی بھی مشکلات آئیں چاہئے مجھے کسی درگاہ یا مسجد کے سامنے ہاتھ کیوں نہ پھیلانا پڑے پر کام کو جاری ہی رکھوں گا اور اس کی اشاعت کو برابر جاری رکھنے کے لئے کبھی کچھ رقم دوستوں سے اور کبھی کچھ رقم اپنے والد محترم سے لیتا رہا حالانکہ والد محترم حفظہ اللہ نے ایک بار کہا کہ آپ عربی کے بجائے اردو میں مجلہ نکالیں لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے اللہ نے آپ کو اردو میں لکھنے بولنے کی صلاحیت دی ہے پر میں نے ادب و احترام سے ان سے کہا کہ میرے استاد کا حکم ہے میں کیسے چھوڑ سکتا ہوں میں آپ کے حکم کے مطابق اردو میں بھی مستقبل میں شائع کرنے کی کوشش کروں گا ( یاد رہے اردو میں شاہین نامی رسالہ جاری کرنے کا ارادہ کرچکے تھے پھر نہ معلوم کیا ہوا )
خیر والد محترم نے دعائیں دے کر خاموشی اختیار کر لی اور میں پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگیا
یوں یہ سلسلہ چلتا رہا کہ ایک بار پھر 2013 میں میرے حوصلوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا کہ اب اس مجلے پر درود فاتحہ پڑھ کر دفن کردیا جائے کیوں کہ ہر ماہ ایک موٹی رقم کا انتظام کرنا مشکل ہوچکا تھا ایک اہل و عیال کی ذمہ داریاں اور دوسری طرف اس مجلے پر اخراجات ۔۔۔بڑا مشکل لمحہ تھا۔۔۔جب اس صورت حال کو میری شفیق و رفیق زوجہ محترمہ ڈاکٹر نور افشاں صالحاتی نے دیکھا کہ میں پریشانی میں مجلے کو بند کرنے جا رہا ہوں تو انہوں نے اپنے زیورات لاکر میرے سامنے رکھ کر کہا کہ علم اور علمی کاموں کے لئے اگر یہ زیورات کام نہ آئیں تو ہمارا جاہل رہنا ہی بہتر تھا ان کے جذبہ ایثار اور ذوق علمی کو دیکھ کر میں نے اپنے اندر ایک عجیب و غریب خوشی و مسرت کو محسوس کیا جس کی بنیاد پر آج تک میں کھڑا ہوں اور اس مجلے کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کشمیر ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے میں کسی حد تک کامیاب بھی ہورہا ہوں یہی وجہ ہے کہ 2017 میں جناب ڈاکٹر اصغر حسن سامون پرنسپل سیکریٹری ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس مجلے کو اپنی سرپرستی میں لیکر مالی بوجھ سے کسی حد راحت دی جس کا میں مشکور و ممنون ہوں
موصوف کے اساتذہ جن کا تذکرہ انتہائی ادب سے کرتے ہیں
میرے کچھ اساتذہ :
مولانا بہاؤالدین سلفی ۔۔۔ان سے میں۱۴ /۱۵
سال کی عمر میں حدیث کا درس لیا اور ان سے ایک سال تک استفادہ کرتا رہا
۱۵ سے ۱۶ کی عمر کے درمیان عربی زبان کے قواعد اور “منہاج العربیہ”محمد عبداللہ وانی سابقہ امیر جماعت اسلامی سے پڑھیں اور استفادہ حاصل کیا جو کہ میرے لئے تعلیمی سفر کا آغاز تھا
پھر اس کے بعد جامعة الفلاح کی ایک دور دراز شاخ “چوکنیاں ” نامی دیہات ميں واقع مصباح العلوم میں ایک سال گزارا پھر وہاں کے اساتذہ کو میرے جمعہ بیانات پر اعتراضات اور ان کے پڑھانے کے دوران میرے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات سے پریشان ہونا سبب اخراج ہوا اس کے بعد ندوہ العلماء کا رخ کیا جہاں گرچہ پانچ چھ ماہ تک ہوسٹل کی سہولیات سے محروم رہا پر پھر اپنے اساتذہ کی شفقت و محبت کے زیر سایہ مجھے بھی ہوسٹل کی سہولیات میسر رہیں جہاں میں نے بہت سے اساتذہ سے استفادہ کیا جن میں مولانا فیصل بھٹکلی صاحب سے خاص تعلق بھی رہا اور عربی ادب کے حوالے سے بہت کچھ سیکھا بھی ان سے یوں علم کا سفر اپنی منازل طے کرتا رہا جو میری تمنا و خواہش تھی طبری علامہ زمخشری اور تفسیر ماجدی وغیرہ کے ساتھ ساتھ تفھیم القرآن کا مطالعہ کرتا رہا مولانا مودودی رحمہ اللہ نے سابقہ تفاسیر کو جس خوبی سے عام فہم بنا کر اپنی تفسیر کو تیار کیا ہے مجھے اس پر فخر ہے یہ عظیم علمی کارنامہ ہے جو کہ ہر خاص و عام کے لئے قابل استفادہ ہے
محترم ایک انتہائی سادہ مزاج کے حامل شخصیت کے مالک ہیں اور علمی و ادبی خدمات کے لئے انتہائی تیزی کے ساتھ محو سفر انکی سادگی کا یہ عالم کہ ایک بار سرینگر کے ایک سادہ سے ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کے لئے چلے آئے اور چائے پینے کے لئے آرڈر دے کر باتوں میں لگ گئے گرچہ میں ان کے علمی وقار سے متعارف ہونے کے سبب کچھ احتیاط کر رہا تھا پر موضوف مسلسل اپنے علمی سفر کی روداد سناتے رہے یہ اور بات ہے کہ ان سے باتیں کرنے کے دوران گر کوئی میری طرح کا انسان پھنس جائے تو ہوائیں اڑتی محسوس ہوں گی کیونکہ موصوف اچانک بات کرتے کرتے اردو کشمیری کو بول جاتے ہیں اور اپنی بات کا اختتام عربی الفاظ میں کرتے ہیں اور زبان سے ناواقف پریشان ہوجاتا ہے کہ اب کیا کروں اس بندے کا میری تو سمجھ کچھ نہیں آیا بس پھر ہاں ہوں کرنے میں ہی عافیت ہے ویسے محترم ہیں بڑے ہی سخنور اور پاکیزہ مزاج کے
دعا گو ہوں کہ رب الکریم مزید ترقی سے نوازے اور اپنی رحمتوں کا سایہ قائم و دائمی بنائے رکھے آپ پر اور یہ علمی و ادبی ستارہ چمکتا ہی رہے
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
دنیا
آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ویانا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی جانے والی نئی شرائط نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ تہران کے اس مؤقف نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اہم مراعات دیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 7:30 بجے اکتوبر کے لیے برینٹ خام تیل کے فی بیرل مستقبل کے سودوں کی قیمت 84.11 ڈالر تھی، جو 0.7 فیصد زیادہ ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد عالمی بینچ مارک کی قیمت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے الجزیرہ کو بتایا، ’’ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاہدے کی عملی تفصیلات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہر گزرتا دن جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، تاجروں کو مزید محتاط بنا رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کی تلافی سمیت بعض شرائط پوری کیے جانے تک یہ آبی گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، لیکن فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ شدہ تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق 4، 5 اور 6 اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف 8 سے 15 بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے آبنائے میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ بین الاقوامی بحری قانون میں سمندری راستوں سے آزادانہ آمدورفت کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت والے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم 64 پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے اہم انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.65 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ تیزی جمعے کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سامنے آئی۔
توقعات سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اس بات پر مارکیٹ کے شکوک کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قابلِ عمل معاہدہ کتنی جلد طے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر بالآخر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مفاہمتیں نازک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’معاہدہ ہونے کے باوجود دوبارہ صورتحال بدل جانے کا جو خطرہ برقرار رہے گا، اس کے باعث سفارتی پیش رفت کی صورت میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا8 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان8 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا3 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا10 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا2 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا2 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 hour ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر1 hour agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
