تازہ ترین
افغان امن بات چیت میں اہم پیش رفت، مذاکرات کا طریقۂ کار طے پا گیا
اسلام آباد —
طویل انتظار کے بعد طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ جس کے مطابق وہ آئندہ لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مصالحت زلمے خلیل زاد نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ افغان فریق ایک اہم سنگِ میل پر پہنچ چکے ہیں۔
خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید بتایا کہ یہ ایک سیاسی روڈ میپ اور جامع جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے قواعد و ضوابط کو تین صفحوں پر مشتمل معاہدہ ہے۔ اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کرنے والی ٹیمیں سخت معاملات پر اتفاق رائے کر سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں کئے جانے والے امن معاہدے کے بعد تمام تر نظریں بین الافغان امن مذاکرات پر مرکوز ہو گئیں تھیں۔
12 ستمبر کو طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں کی ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد اب بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز ممکن ہو پائے گا۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغانستان میں تشدد کی لہر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں فریقین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے دورہ کابل میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو امن کے حصول کے لئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی۔
افغان صدر نے عمران خان کے دورہ افغانستان کو تاریخی قرار دیا تھا۔
دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ بدھ کے روز دونوں فریقین کے درمیان اجلاس ہوا اور اس کے اختتام پر مشترکہ ورکنگ کمیٹی کو آئندہ آنے والے ایجنڈے کے عنوانات تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ امن مذاکرات کرنے والی ٹیموں کی موجودہ بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ پائیدار امن کے حصول کے لئے افغانوں میں رضامندی ہے اور دونوں فریقین افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی مخلصانہ کوششوں کو جاری رکھیں گے۔
پاکستان کا خیرمقدم
پاکستان نے بھی طالبان اور افغان حکومتی وفد کے مابین قواعد و ضوابط سے متعلق اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ اہم پیش رفت ہے جس کے ذریعے کامیاب بین الافغان امن مذاکرات ممکن ہو پائیں گے۔ اور اس کا سب کو شدت سے انتظار تھا۔ دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بین الافغان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا جس کا نتیجہ ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کی راہ ہموار کرنے کے لئے ایک جامع، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل پر ہو گا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اعلان کے بعد وہ ممکنہ طور پر افغانستان میں تشدد کی لہر میں کمی کی توقع کرتے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقیم پژواک نیوز ایجنسی کے سینئر ایڈیٹر، جاوید حمیم کاکڑ، نے بتایا کہ طالبان اور افغان حکومتی وفود کے درمیان دو ماہ سے زائد جاری مذاکرات کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے تھے جس کی وجہ سے افغانستان میں ہر جانب شورش کی لہر برپا تھی۔ اور مقامی افراد کی تمام تر امیدیں دم توڑ رہیں تھیں۔
جنگ بندی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تجزیہ کار
ان کے مطابق آج قطر سے بہت اچھی خبریں سننے کو ملیں۔ جس کے مطابق دونوں فریق آئندہ ہونے والے مذاکرات کے طرزالعمل پر راضی ہو گئے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ بہت جلد بین الافغان امن مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈے پر بھی راضی ہو جائیں گے جس کے بعد حصول امن کی راہ میں تمام رکاوٹیں ختم ہو جائیں گیں۔
یاد رہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً تین ماہ سے دوحہ میں آئندہ ہونے والے بین الافغان امن مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔ تاہم دونوں فریقوں کے مابین واضح اختلافات موجود تھے، جس کی وجہ سے اکثر ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا تھا۔
بدھ کے روز ایسے تمام اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب ایجنڈہ کی تیاری کی جائے گی جس کے بعد براہ راست مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔
پژواک نیوز کے سینئر ایڈیٹر کے مطابق کابل میں دوپہر سے ہی ایسی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلنی شروع ہو گئیں تھیں۔ اور لوگوں نے خوشی کا اظہار کابل کی سڑکوں، سوشل میڈیا اور مختلف ٹیلی وژن کے پروگراموں کے ذریعے کیا۔ اور لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔
یاد رہے کہ فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے اور بعد میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان چھ ہزار سے زائد قیدیوں کے تبادلے کے باوجود تشدد کی لہر میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ تاہم جاوید حمیم کاکڑ سمجھتے ہیں کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اب شورش میں واضح کمی دیکھنے میں آئے گی اور وہ سمجھتے ہیں ایجنڈہ میں سر فہرست جنگ بندی کے موضوع پر بات چیت کی جائے گی جس کی وجہ سے افغانستان میں امن کا قیام ممکن ہو پائے گا۔
افغان امور کی ماہر امینہ خان اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسڈیز میں بطور ڈائریکٹر فرایض سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک اچھا اقدام ہے اور یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ ان کے مطابق دونوں فریق 19 سال بعد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھ رہے ہیں اس لحاظ سے یہ بہت نازک ڈائیلاگ ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ بھی افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی تاکہ 40 سال سے جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امینہ خان نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا شروع دن سے خواہاں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے پہلے امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کو ممکن بنایا جس کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ڈائیلاگ میں مثبت اور اہم کردار ادا کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان امن کے حوالے سے کوششیں عالمی برادری کو خوش کرنے کے لئے نہیں کر رہا بلکہ 19 سالہ شدت پسندی نے پاکستان کو صحیح معنوں میں امن کی اہمیت سکھائی ہے اور پاکستانی معیشت کی کامیابی کے لئے افغانستان میں امن کا قیام بہت ضروری ہے۔
امینہ خان نے مزید بتایا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے حصول کے لئے طالبان اور افغان حکومت، دونوں،کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اور وہ سمجھتی ہیں کہ راستے میں مزید رکاوٹیں آئیں گیں اور بین الافغان امن مذاکرات کئی مہنے جار رہ سکتے ہیں۔ تاہم دونوں فریقوں کو مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو بھی دونوں فریقوں پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بہت پیجیدہ اور حساس عمل ہے اور جلد بازی میں ہونے والا معاہدہ زیادہ دیرپا نہیں رہ سکے گا اور یوں امن کی خاطر تمام کوششیں ضائع ہو جائیں گیں۔
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا20 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا5 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان3 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا5 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
