تازہ ترین
افغان امن بات چیت میں اہم پیش رفت، مذاکرات کا طریقۂ کار طے پا گیا
اسلام آباد —
طویل انتظار کے بعد طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ جس کے مطابق وہ آئندہ لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مصالحت زلمے خلیل زاد نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ افغان فریق ایک اہم سنگِ میل پر پہنچ چکے ہیں۔
خلیل زاد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید بتایا کہ یہ ایک سیاسی روڈ میپ اور جامع جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے قواعد و ضوابط کو تین صفحوں پر مشتمل معاہدہ ہے۔ اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کرنے والی ٹیمیں سخت معاملات پر اتفاق رائے کر سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں کئے جانے والے امن معاہدے کے بعد تمام تر نظریں بین الافغان امن مذاکرات پر مرکوز ہو گئیں تھیں۔
12 ستمبر کو طالبان اور افغان حکومتی نمائندوں کی ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد اب بین الافغان امن مذاکرات کا آغاز ممکن ہو پائے گا۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب افغانستان میں تشدد کی لہر میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور دونوں فریقین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے دورہ کابل میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو امن کے حصول کے لئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی تھی۔
افغان صدر نے عمران خان کے دورہ افغانستان کو تاریخی قرار دیا تھا۔
دوحہ میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ بدھ کے روز دونوں فریقین کے درمیان اجلاس ہوا اور اس کے اختتام پر مشترکہ ورکنگ کمیٹی کو آئندہ آنے والے ایجنڈے کے عنوانات تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ امن مذاکرات کرنے والی ٹیموں کی موجودہ بات چیت سے پتا چلتا ہے کہ پائیدار امن کے حصول کے لئے افغانوں میں رضامندی ہے اور دونوں فریقین افغانستان میں پائیدار امن چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی مخلصانہ کوششوں کو جاری رکھیں گے۔
پاکستان کا خیرمقدم
پاکستان نے بھی طالبان اور افغان حکومتی وفد کے مابین قواعد و ضوابط سے متعلق اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ اہم پیش رفت ہے جس کے ذریعے کامیاب بین الافغان امن مذاکرات ممکن ہو پائیں گے۔ اور اس کا سب کو شدت سے انتظار تھا۔ دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بین الافغان امن مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا جس کا نتیجہ ایک پُرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کی راہ ہموار کرنے کے لئے ایک جامع، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل پر ہو گا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اعلان کے بعد وہ ممکنہ طور پر افغانستان میں تشدد کی لہر میں کمی کی توقع کرتے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقیم پژواک نیوز ایجنسی کے سینئر ایڈیٹر، جاوید حمیم کاکڑ، نے بتایا کہ طالبان اور افغان حکومتی وفود کے درمیان دو ماہ سے زائد جاری مذاکرات کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے تھے جس کی وجہ سے افغانستان میں ہر جانب شورش کی لہر برپا تھی۔ اور مقامی افراد کی تمام تر امیدیں دم توڑ رہیں تھیں۔
جنگ بندی کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تجزیہ کار
ان کے مطابق آج قطر سے بہت اچھی خبریں سننے کو ملیں۔ جس کے مطابق دونوں فریق آئندہ ہونے والے مذاکرات کے طرزالعمل پر راضی ہو گئے ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ بہت جلد بین الافغان امن مذاکرات کے حوالے سے ایجنڈے پر بھی راضی ہو جائیں گے جس کے بعد حصول امن کی راہ میں تمام رکاوٹیں ختم ہو جائیں گیں۔
یاد رہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً تین ماہ سے دوحہ میں آئندہ ہونے والے بین الافغان امن مذاکرات کے حوالے سے بات چیت جاری تھی۔ تاہم دونوں فریقوں کے مابین واضح اختلافات موجود تھے، جس کی وجہ سے اکثر ڈیڈ لاک پیدا ہو جاتا تھا۔
بدھ کے روز ایسے تمام اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب ایجنڈہ کی تیاری کی جائے گی جس کے بعد براہ راست مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔
پژواک نیوز کے سینئر ایڈیٹر کے مطابق کابل میں دوپہر سے ہی ایسی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلنی شروع ہو گئیں تھیں۔ اور لوگوں نے خوشی کا اظہار کابل کی سڑکوں، سوشل میڈیا اور مختلف ٹیلی وژن کے پروگراموں کے ذریعے کیا۔ اور لوگ بہت زیادہ خوش ہیں۔
یاد رہے کہ فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے اور بعد میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان چھ ہزار سے زائد قیدیوں کے تبادلے کے باوجود تشدد کی لہر میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ تاہم جاوید حمیم کاکڑ سمجھتے ہیں کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ اب شورش میں واضح کمی دیکھنے میں آئے گی اور وہ سمجھتے ہیں ایجنڈہ میں سر فہرست جنگ بندی کے موضوع پر بات چیت کی جائے گی جس کی وجہ سے افغانستان میں امن کا قیام ممکن ہو پائے گا۔
افغان امور کی ماہر امینہ خان اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسڈیز میں بطور ڈائریکٹر فرایض سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک اچھا اقدام ہے اور یہ بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔ ان کے مطابق دونوں فریق 19 سال بعد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھ رہے ہیں اس لحاظ سے یہ بہت نازک ڈائیلاگ ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ نئی امریکی انتظامیہ بھی افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی تاکہ 40 سال سے جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امینہ خان نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کا شروع دن سے خواہاں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے پہلے امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کو ممکن بنایا جس کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ڈائیلاگ میں مثبت اور اہم کردار ادا کیا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان امن کے حوالے سے کوششیں عالمی برادری کو خوش کرنے کے لئے نہیں کر رہا بلکہ 19 سالہ شدت پسندی نے پاکستان کو صحیح معنوں میں امن کی اہمیت سکھائی ہے اور پاکستانی معیشت کی کامیابی کے لئے افغانستان میں امن کا قیام بہت ضروری ہے۔
امینہ خان نے مزید بتایا کہ افغانستان میں دیرپا امن کے حصول کے لئے طالبان اور افغان حکومت، دونوں،کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اور وہ سمجھتی ہیں کہ راستے میں مزید رکاوٹیں آئیں گیں اور بین الافغان امن مذاکرات کئی مہنے جار رہ سکتے ہیں۔ تاہم دونوں فریقوں کو مذاکرات کا عمل جاری رکھنا چاہئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کو بھی دونوں فریقوں پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بہت پیجیدہ اور حساس عمل ہے اور جلد بازی میں ہونے والا معاہدہ زیادہ دیرپا نہیں رہ سکے گا اور یوں امن کی خاطر تمام کوششیں ضائع ہو جائیں گیں۔
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
