اہم خبریں
پردھان منترن فصل بیمہ یوجنا۔ پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں کی شرکت اور آگے کا راستہ
سودھانشو پانڈے
پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا (پی ایم ایف بی وائی) بھارت سرکار کی طرف شروع کیا گیا خطرے کو کم کرنے کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ اس کا مقصد فصلوں کے پورے سلسلے میں کسانوں کو تمام قدرتی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت کسانوں کو سب سے کم قسط ادا کرنی پڑتی ہے اور ان کی فصل کی سب سے زیادہ لاگت کا بیمہ ہوتا ہے۔ملک میں آئی آر ڈی اے آئی کے ساتھ رجسٹر شدہ بیمے کی تمام عام کمپنیاں، جن کی دیہی علاقوں میں کافی پہنچ ہے،اسکیم پر عمل درآمد کے لئے انہیں پینل میں شامل کرلیا گیا ہے۔ اس وقت آر آئی ڈی اے آئی کے ساتھ رجسٹر شدہ سب کی سب پانچ سرکاری اور 13 پرائیویٹ کمپنیاں پینل میں شامل ہیں۔
کمپنیوں کی تعداد میں اضافے کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ان کے مجموعی نیٹ ورک کو بڑھانا تھا تاکہ اسکیم پر عمل درآمد کے سلسلے میں پرائیویٹ سیکٹر کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔
یہ اسکیم عمل درآمد کے پانچویں سال میں ہے اور حال ہی میں اس میں نئی روح پھونکی گئی ہے تاکہ اسکیم پر ٹھیک طریقے پر عمل درآمد کے لئے چیلنجوں پر توجہ دی جاسکے۔ ان چیلنجوں میں تمام کسانوں کے لئے اسے رضا کارانہ بنانا اور اسکیم پر صحیح ڈھنگ سے عمل درآمد کے لئے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہے۔
اسکیم سے معمول سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے تعلق سے پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں اور بیمہ کمپنیوں کی شرکت کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے۔ اسکیم پر عمل درآمد کے پہلے تین برسوں کے سلسلے میں، جس کے اعداد و شمار فراہم ہیں، مجموعی طور پر تمام بیمہ کمپنیوں کی قومی سطح کی کلیم کی شرح مجموعی طور پر 89 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیمہ کمپنیاں قسط کے طور پر 100 روپے وصول کرتی ہے، ان میں سے 89 روپے بیمہ کمپنیوں کو کلیم کے طور پر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ بیمہ کمپنیاں عام طور پر ری انشورینس اور انتظامیہ اخراجات کے طور پر 10۔12 فیصد لاگت اٹھاتی ہیں۔اس لئے پہلے تین برسوں میں اچھے مانسون کے باوجود بیمہ کمپنیاں مشکل سے ہی ٹوٹی ہیں۔خطرات کو کم کرنے والے پروگرام کا اندازہ کم سے کم 5 سال کی مدت سے لگایا جاتا ہے اور یہ اندازہ قومی اوسط کی سطح سے لگایا جاتا ہے۔ یہ دلیل دینا کہ خاص کمپنیوں کو ایک خاص موسم / سال میں نقصان زیادہ یا کم ہوا، صحیح طریقہ نہیں ہے، جس سے کسی کمپنی کی کارکردگی کا یا اسکیم کا اندازہ لگایا جاسکے۔
خریف 2019 کا موسم فصل کے لئے خاص طور پر اچھا موسم تھا۔ اگرچہ دور دور تک ہونے والی غیر موسمی بارشوں نے کٹی ہوئی فصلوں کو نقصان پہنچایااور مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کی ریاستوں کو زیادہ کلیم دینے پڑے۔ کلیم کی یہ شرح بالترتیب 121 فیصد اور 213 فیصد تھی۔
کسانوں کو دیئے جانے والے کلیم کے لئے ضروری ہے کہ فصل کی حالت کے بارے میں ریاستوں کی طرف سے بیمہ کمپنیوں کو معلومات میں بروقت ساجھیداری کی جائے اور قسطوں کے بارے میں سبسڈی میں ریاستوں کا حصہ جاری کیا جائے۔ بعض مواقع پر فصلوں کے بارے میں صحیح اندازہ لگانے سے متعلق معلومات میں ساجھیداری کرنے میں اور ریاستوں کی طرف سے سبسڈی کے اجرا میں تاخیر ہوتی ہے جس کے سبب کسانوں کو کلیموں کی ادائیگی میں دیر ہوجاتی ہے۔
بیمہ کمپنیوں بشمول پرائیویٹ بیمہ کمپنیوں کی طرف سے کمائے جانے والے منافع اور کلیم کی کم ادائیگی کی شرح کے بارے میں نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے۔ اس کی وجہ نامکمل معلومات ہے، جس کے سبب اسکیم پر بیجا نکتہ چینی کی جاتی ہے۔
بعد میں جب موسم کے بارے میں پورے اعداد و شمار فراہم ہوئے تو ادا کئے جانے والے کلیموں کی رقموں میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا۔اعداد و شمار میں فرق کے مسئلے پر توجہ دینے کے لئے زراعت کی وزارت اب ہر ماہ اعداد و شمار جاری کررہی ہے تاکہ ماہرین تازہ ترین اعداد و شمار کی بنیاد پر اسکیم پر عمل درآمد کا تجزیہ کرسکیں۔
اسکیم پر عمل درآمد تین برسوں (17۔2016 سے 19۔2018) کے لئے سرکاری اور پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے سے، جس کے تعلق سے زیادہ تر اعداد و شمار فراہم ہوچکے ہیں، دعووں کی شرح سرکاری اور پرائیویٹ کمپنیوں کے لئے بالترتیب 98.5 فیصد اور 80.3 فیصد ہے۔
سال 2019 کی خریف کی فصل کے لئے فصلوں سے متعلق اعداد و شمار گجرات، جھارکھنڈ اور کرناٹک سے موصول نہیں ہوئے ہیں جبکہ ربیع کی فصل 20۔2019 کے اعداد و شماور آدھی درجن ریاستوں میں زیر التوا ہیں۔ 20۔2019 کے لئے پرائیویٹ کمپنیوں سمیت تمام کمپنیوں کے لئے دعووں کی شرح یقیناً اس وقت کافی زیادہ ہوجائے گی جب یہ زیر التوا اعداد و شمار موصول ہوجائیں گے۔
خریف 2020 کی فصل سے نظر ثانی شدہ اسکیم میں بیمہ کمپنیوں کو 3 سال کے لئے کام الاٹ کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے جو موسم کے دعووں کی زیادہ یا کم شرح کے معاملے میں کسی بھی اتار چڑھاؤ کی بھرپائی کرے گی اور بیمہ کمپنیوں کی طرف سے وصول کی گئیں قسطوں کے تعلق سے اسکیم کے تجزیئے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
فصلوں کی مقدار کے بارے میں اعداد و شمار جمع نہ کرنے اور اس میں انسانی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی خامیوں کے سبب قسطوں کے تعین میں مشکل پیش آتی ہے۔ صحیح صحیح حساب کتاب کے ذریعہ قسطوں کی شرحوں کو معقول بنانے اور اسکیم پر عمل درآمد میں ٹکنالوجی کا استعمال کیا جانا چاہئے جس میں سیٹلائٹ کے ذریعہ فصلوں کا اندازہ لگانے اور زمین کی نمی کا حساب کتاب رکھنے کا عمل بھی شامل ہونا چاہیے۔
وزارت زراعت نے بڑے پیمانے پر سرکاری ، بین الاقوامی اور پرائیویٹ تکنیکی ایجنسیوں سے کام لیا ہے اور امید ہے کہ اگلے ایک سے دو برسوں میں ٹکنالوجی پر مبنی فصل کا اندازہ لگایا جاسکے گا۔اس سے فصلوں کی بیمہ اسکیموں پر عمل درآمد میں تبدیلی پیدا ہوگی اور آنے والی طویل مدت کے لئے چھوٹی چھوٹی زمینیں رکھنے والے کسانوں کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے گا۔
*سکریٹری برائے محکمہ زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود نیز محکمہ سرکاری نظام تقسیم*
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا10 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان11 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا13 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر4 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر4 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
