تازہ ترین
بھارت اور خلیجی ممالک
2017 میں جب متحدہ عرب امارات کے ولیعہدشہزادہ محمد بن زائد آل نہیان نئی دلی میں اپنے جہازسے اترے تو وزیراعظم نریندر مودی نے پروٹوکول کو توڑتے ہوئے گرم جوشی کے ساتھ آگے بڑھ کر ان سے گلے ملے ۔دوسال بعد انہوں نے اسی طرح سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کا بھی خیر مقدم کیا ۔ یہ کوئی منفرد واقعات نہیں تھے بلکہ ان سے بھارت اور خلیجی ملکوں کے درمیان دنیا کی تبدیلی کا اظہار ہے ،جس کا خاکہ دوستی ، باہمی احترام اور اعتماد کی اعلیٰ سطح کا اظہار کرتا ہے ۔
تاریخی طورپر خلیجی ملکوں اور بھارت کے درمیان صدیوں پرانی بات چیت کا اظہار مشترکہ وراثت اور تہذیب سے ہوتا ہے جو عوام کی روز مرہ کی زندگی میں نمایاں طورپر پیوست ہے۔ اس حقیقت کے برعکس کہ مکہ اور مدینہ ، جو ہمارے بہت سے شہریوں کے لئے انتہائی مقدس مقامات ہیں، اس خطے میں واقع ہیں ، ہمارے اساطیری عقائد ، زبانیں ،مذاہب ، خوراک اورطرز تعمیر ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہیں کہ انہیں اب تک پوری طرح نہیں سمجھا گیا ہے یا ان کی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔
البتہ آج کے تعلقا ت محض تاریخی سند سے بہت آگےبڑھ چکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ پچھلے پانچ برسوں میں جتنے آگے بڑھے ہیں ، اتنے اس سے پہلے کبھی نہیں بڑھے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن کے تحت قیادت نے خلیج کے خطے کے ملکوں کے ساتھ اپنی ’’ مغرب نوا ز‘‘ پالیسی کے ذریعہ مستقل مزاجی کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا گیا ہے۔ان ملکوں میں سے کچھ ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات اسٹریٹجک ساجھیداری کی سطح تک پہنچ گئے ہیں جو باہمی تعلقات کے تئیں عہد بستگی سے اعلیٰ تر ہے او ر جس میں مختلف شعبوں میں باضابطہ اتحاد نہیں ہوتا اور اسٹریٹجک مذاکرات شامل ہوتے ہیں۔
نئی دلی اور ریاض نے ہمارے وزیراعظم اور سعودی ولیعہد کی سطح پر کلیدی ساجھیداری کونسل قائم کی ہے ۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اعلیٰ سطح وزارتی گروپوں کی قیادت میں اعلیٰ سطح پر کلیدی تعلقا ت کوفروغ دیا ہے ۔جامع تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ یعنی اشیا اور عوام ،دونوں سطح پر متعلقہ اعلیٰ لیڈروں کی ذاتی کوشش نے ان تعلقات کو موجودہ سطح تک پہنچادیا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بالترتیب تیسرے اور چوتھے سب سے بڑے تجارتی ساجھیدار ہیں۔ہمارے باہمی اقتصادی تعلقات میں سرمایہ کاری میں اہم اضافہ ہوا ہے جس کے اعلانات میں توانائی ، تیل صاف کرنے ، پیٹروکیمکل ، بنیادی ڈھانچہ ، زراعت ، معدنیات اور کانکنی کے شعبوں میں ریاض کے ذریعہ 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس دوران متحدہ عرب امارات بھارت میں ایف ڈی آئی کی آمد کا دسواں سب سے بڑا وسیلہ ہے۔
خلیج کے خطے میں بڑی تعداد میں بھارت نژاد افراد کی موجودگی ، جو ایک تخمینے کے مطابق85 لاکھ بھارتیوں سے زیادہ ہے، ہمارے باہمی تعلقات کے لئے ایک اہم رابطہ کے طورپر کام کرتے ہیں۔
ایک طرف وہاں رہنے والے بھارتیوں کے ذریعہ بھیجی گئی رقم سے ،جو 2018 کے ایک اندازے کے مطابق 50 ارب ڈالر کے قریب ہے ، بھارت کو فائدہ ہوتا ہے ، تودوسری جانب خلیج کے ممالک تربیت یافتہ افرادی قوت سے فیض حاصل کررہے ہیں۔اس کے نتیجے میں جی سی سی ملکوں کے طریقہ کار میں بھارت نژادافراد کے ثقافتی اور سماجی طریقہ کار کودیکھتے ہوئے اہم تبدیلی ہوئی ہے۔مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات میں ایک ہندومندرکی تعمیر کی اجازت اسی رجحان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
البتہ بھارت اور خلیجی ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد ہائیڈرو کاربن سیکٹر 20-2019 میں خطے کے ساتھ بھارت کی ہائیڈرو کاربن تجارت 62 ارب ڈالر تھی جو ہائیڈرو کاربن کی کل تجارت کا 36 فیصد ہے ۔
سعودی عرب اور یو اے ای بھارت میں اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو ( ایس پی آر ) پروگرام کے اگلے مرحلے میں ہمارے ساجھیدار ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ایک تاریخی سمجھوتے میں بھارت کی تیل کمپنیوں کے ایک کنسورشئیم کو ابوذہبی کے سمندر میں بنے نشیبی زکوم میں 10فیصد کی ساجھیداری فراہم کی ہے.
اگست 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم تھے ،جس کے بعد انہوں نے 2018 اور 2019 میں بھی دورہ کیا ۔ اپنے آخری دورے کے دوران انہیں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے صلے میں متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’ آرڈر آف زائد ‘‘ سے نوازا گیا۔ تین سال پہلے انہیں سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز ساش ایوارڈ سے نوازا گیا اور 2019 میں بحرین کے تیسرے سب سے بڑ ے سول اعزاز ’’کنگ حماد آر ڈر آف رینیساں ‘‘ سے نوازا گیا۔وزیر اعظم نریندر مودی نے خلیج کے خطے کی قوتوں کے ساتھ اعلیٰ تعلقات کو ترجیح دیتے ہوئے سعودی عرب ، قطر ،عمان ،ایران اور بحرین کے دورے کئے جس کے بعد خلیج کی اہم شخصیات نے بھی نئی دلی کے دورے کئے ۔
جب خلیج کے خطے کے عظیم لیڈروں میں سے ایک ، کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کاستمبر میں انتقال ہوا تو بھارتی حکومت نے پورے ملک میں ایک دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا ۔اس جذبے کی کویت میں زبردست ستائش کی گئی۔
اعلیٰ قیادت کے درمیان یہ ذاتی تعلقات بحران کے دوران ، جبکہ کووڈ-19 عالمی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، بہت مفید ثابت ہوئے ہیں۔
بھارت نے کسی رکاوٹ کے بغیر ادویات ، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی خلیجی خطے میں سپلائی کو یقینی بنایا اور ان کےشہریوں کی حفظان صحت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی خاطر لاک ڈاؤن کےدوران کئی خلیجی ملکوںمیں تقریباََ 6 ہزار بھارتی صحت کے ماہرین کو تعینات کیا۔اپریل 2020 میں بھارت نے کویت میں عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے صلاحیت سازی اور اپنے تجربے سے فیض پہنچانے کی خاطر 15رکنی ریپڈ ریسپانس ٹیم بھیجی تھی ۔ بھارت ایک عالمی فارمیسی کے طورپر ابھرا ہے جس نے خلیجی خطے کی ضروریات کو بھی پورا کیا ہے۔ اس کے بدلے میں متحدہ عرب امارات نے عالمی وبا کےدوران وزیر اعظم کے ذریعہ خط افلاس سے نیچے کے کنبوںکو مفت گیس کے سلنڈر بھروانے کی وزیر اعظم کی نئی اسکیم کے لئے ایل پی جی کی فوری ضرور ت کو پورا کرنے میں مدد دی ۔پچھلے چند مہینوں میں تمام خلیجی ملکوں نے اپنے ملک میں بھارتیوں کی زبردست دیکھ بھال کی اور ان لوگوں کو جو وبا کے پیش نظر اپنے وطن واپس آنا چاہتے تھے، ان کی واپسی کو یقینی بنایا۔
خلیج کا خطہ بھارت کے لئے توانائی کی کفالت کے لئے ایک بھروسے مند ساجھیدار ہے، جبکہ بھارت خطے میں خوراک کی فراہمی میں اضافہ کررہا ہے ۔ البتہ ہمارے تعلقات محض اقدار میں تبدیلی کے اظہار سے کافی آگے جاچکے ہیں۔ وزیر اعظم مودی اور خلیج کی قیادت ان تہذیبی رابطوں کو پھر سے مرتب کررہے ہیں ، جو گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ زنگ آلودہوگئے تھے۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا9 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان9 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا5 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا12 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا3 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا3 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر2 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا1 hour agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
