اہم خبریں
برطانیہ ویکسین استعمال کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا،دنیا میں کورونا اموات 15 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز
دنیا میں عالمی وبا کورونا وائرس کی پہلی ویکسین 90سال کی خاتون کو لگا دی گئی۔برطانیہ میں سیکورونا ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت دنیا میں کورونا وائرس کی پہلی ویکسین خاتون کو لگائی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس کی پہلی ویکسین شمالی آئرلینڈ کی 90 سالہ خاتون مارگریٹ کینان کو لگائی گئی ہے۔90 سالہ خاتون مارگریٹ کینان کو فائزر اور بایو این ٹیک کی کورونا ویکسین لگائی گئی ہے۔خیال رہے کہ امریکی اور جرمن دواساز کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی کورونا ویکسین کسی بھی نقصان کے بغیر 95 فیصد مؤثر ہے جب کہ برطانیہ نے گزشتہ ہفتے ویکسین کے وسیع پیمانے پر استعمال کی اجازت دی تھی۔
برطانوی محکمہ صحت کے حکام نے وسیع پیمانے پر آزمائش اور آزادانہ طور پر جائزہ لینے کے بعد منگل کے روز کووڈ۔19 ویکسین کی پہلی خوراک دے دی جس کے ساتھ ہی حفاظتی ٹیکوں کے عالمی پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے۔
پہلا شاٹ صبح سویرے ملک کے ایک ہسپتال دیا گیا جہاں برطانیہ کے پروگرام کے ابتدائی مرحلے کو’وی ڈے‘ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔صحت عامہ کے عہدیدار عوام سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ابتدائی مرحلے میں صرف انہی لوگوں کو قطرے پلائے جائیں گے جنہیں کووڈ۔19 کا زیادہ خطرہ ہے۔طبی عملہ اس سلسلے میں خود لوگوں سے رابطہ کرے گا اور پروگرام میں توسیع تک زیادہ تر لوگوں کو اگلے سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے چیف ماہر افسر شمعون اسٹیونس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے پاس ہر امکان موجود ہے کہ ہم منگل کے دن کو کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن موڑ کی حیثیت سے دیکھیں گے۔
جن خاتون کو پہلی مرتبہ ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی وہ اگلے ہفتے91سال کی عمر کو پہنچنے والی دادی مارگریٹ کینن ہیں اور انہیں یہ خوراک مقامی وقت کے مطابق صبح6بجکر 31 منٹ پر یونیورسٹی ہسپتال کوونٹری میں شاٹ دی گئی۔کیینن کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کو باعث اعزاز سمجھتی ہیں کہ وہ پہلی شخص ہیں جنہیں کووڈ۔19 کی ویکسین کا ٹیکہ لگایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سالگرہ سے قبل دیا گیا سب سے بہترین تحفہ ہے جس کی میں خواہش کر سکتی تھی کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نئے سال پر اپنے گھر پر خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزار سکتی ہوں۔ابتدائی 8 لاکھ خوراکیں نرسنگ ہوم کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ 80سال سے زائد عمر کے افراد کو دی جائیں گی جو یا تو ہسپتال میں داخل ہیں یا انہوں نے ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے وقت لیا ہوا ہے۔جن بزرگ افراد کو قطرے پلائیں جائیں گے ان میں نیو کاسل سے تعلق رکھنے والے ہری شکلا بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب مجھے ٹیلیفون کال موصول ہوئی تو میں بہت پرجوش تھا کہ مجھے اس عمل میں شامل ہونے اور اس میں حصہ لینے کا موقع ملا، لہٰذا ہم بہت خوش اور شکر گزار ہیں۔
بکنگھم پیلس نے ان خبروں پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ 94سالہ ملکہ الزبتھ دوم اور ان کے99 سالہ شوہر شہزادہ فلپ کو قطرے پلائیں جائیں گے تاکہ عوام کو یہ مثال دی جا سکے کہ یہ قطرے محفوظ ہیں۔
برطانیہ کی میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر جون رائن نے خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا مقصد مکمل طور پر آبادی کے ہر فرد کی حفاظت کرنا ہے یقیناً شاہی خاندان بھی اس کا حصہ ہے۔محکمہ صحت کے دیگر عہدیدار برطانیہ کی جانب دیکھ رہے ہیں کیونکہ وہ اس وبائی مرض کے خاتمے کے لیے اربوں لوگوں کو خوراک دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔اگرچہ برطانیہ کے پاس ویکسین کی فراہمی کے لیے ایک بہتر ترقی یافتہ انفراسٹرکچر موجود ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پوری آبادی کے بجائے اسکولوں کے بچوں یا حاملہ خواتین سمیت ترجیحی بنیادوں پر چند گروپس بنا کر ویکسی نیشن کی تیار کی ہے۔
برطانیہ نے 2 دسمبر کو امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمنی کی بایو ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کو ہنگامی بنیادوں پر اجازت دینے کے کے منصوبے کا آغاز کیا تھا۔امریکا اور یورپی یونین حکام ان کمپنیوں کے ساتھ ساتھ امریکی بائیوٹیکنالوجی کمپنی موڈرنا کی تیار کردہ حریف مصنوعات کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور منشیات ساز آسٹرا زینیکا کے باہمی تعاون سے ساتھ تیار کردہ ویکسین کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ہفتے کے روز روس نے ماسکو کے درجنوں مراکز پر ہزاروں ڈاکٹروں، اساتذہ اور دیگر کو اس کے اسپٹنک وی کی ویکسین سے ٹیکے لگانے شروع کردیے، اس پروگرام کو مختلف طور پر دیکھا جارہا ہے کیونکہ روس نے گزشتہ موسم گرما میں اسپوٹنک پن کو صرف چند درجن افراد پر تجربہ کرنے کے اجازت دی تھی۔
فائزر بائیو ٹیک کی پہلی کھیپ اتوار کے روز برطانیہ کے ہسپتالوں کے ایک منتخب گروپ کو پہنچا دی گئی۔ان میں سے لندن کے جنوب میں کروڈن یونیورسٹی ہسپتال کے عملے کے اراکین کو یہ ویکسین چھونے کا موقع تو نہیں ملا لیکن وہ انہیں عمارت میں رکھنے پر بہت خوش ہیں۔کروڈن ہیلتھ سروسز این ایچ ایس ٹرسٹ کے مشترکہ چیف فارماسسٹ، لوئس کوفلن نے کہا کہ مجھے بہت فخر ہے۔اس ویکسین کی آمد سے قبل برطانیہ میں 61ہزار سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے جو یورپ میں کسی بھی ملک میں مرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے جبکہ ملک میں 17لاکھ سے زیادہ کیسز موجود ہیں۔
ضرورت کے حساب سے دیکھا جائے تو 8لاکھ کی تعداد انتہائی کم ہے، حکومت نے ڈھائی کروڑ افراد کی ویکسی نیشن کا منصوبہ بنایا ہے جو کْل آبادی کا 40فیصد بنتا ہے اور ان افراد کو ترجیح دی جائے گی جن کو بیماری سے زیادہ خطرہ ہے۔
80 سال سے زیادہ عمر کے افراد اور نرسنگ ہوم کے کارکنوں کے بعد اس ویکسین کی سپلائی میں اضافہ کیا جائے گا اور اسے عمر رسیدہ افراد سے شروع کرتے ہوئے مختلف عمر کے افراد کو لگایا جائے گا۔انگلینڈ میں پروگرام کے پہلے مرحلے میں یہ ویکسین50 ہسپتالوں میں فراہم کی جائے گی اور جیسے ہی زیادہ ویکسین آئیں گی تو یہ مزید ہسپتالوں میں بھی فراہم کی جائے گی، شمالی آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز برطانیہ کے منحرف انتظامیہ کے تحت اپنے منصوبے بنا رہے ہیں۔
لاجسٹک ایشوز فائزر ویکسین کی تقسیم میں سست روی کا سبب بن رہے ہیں کیونکہ اسے منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ میں رکھنا پڑتا ہے۔انگلینڈ کی نیشنل ہیلتھ سروسز کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر اسٹیفن پووس نے بتایا کہ حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام سپرنٹ نہیں میراتھن ہو گا۔حکام بڑے پیمانے پر تقسیم کے نکات پر بھی توجہ دے رہے ہیں کیونکہ ویکسین کے ہر پیکیج میں 975 خوراکیں ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ضائع ہوجائے۔
برطانیہ نے سات مختلف پروڈیوسروں سے لاکھوں خوراک خریدنے پر اتفاق کیا ہے، دنیا بھر کی حکومتیں ادویہ تیار کرنے والے مختلف اداروں کے ساتھ معاہدے کر رہی ہیں تاکہ وہ وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے منظور کی جانے والء ادویہ کی فراہمی کا پہلے ہی معاہدہ کر لیں۔دنیا کا کوئی خطہ کورونا وائرس کی موذی وباء سے محفوظ نہیں، اس کے مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد6 کروڑ 79 لاکھ38 ہزار 995 تک جا پہنچی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے ہلاکتیں 15 لاکھ 50 ہزار263 ہو گئیں۔کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 1 کروڑ 93 لاکھ 65 ہزار157 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 1 لاکھ 6 ہزار130 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 4کروڑ70 لاکھ23 ہزار575 کورونا مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے کیسز اور اس سے اموات کے اعتبار سے 10 سرِ فہرست ممالک میں 33کروڑ سے زائد آبادی کا حامل امریکا پہلے نمبر پر ہے جہاں اس وائرس سے اب تک 2لاکھ90 ہزار 443افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا10 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان11 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا13 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا3 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر4 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر4 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
