تازہ ترین
علاقہ ترال کے آسمان علم کا سورج غروب ہوگیا
مصنف: الطاف جمیل ندوی
یہ کون چلا اک بستی سے جس کا جانا ٹھہرا غم
ہر سو ایک ہی آہ بلند ہم کو کے نقش کو دیکھیں گے
ہر روز کی طرح جمعہ کو بھی جوں ہی سوشل میڈیا کو دیکھا ایسا لگا کہ زبان خشک اور آنکھیں نم ہورہی ہیں جوں ہی یہ خبر جانکاہ دیکھی کہ علاقہ ترال کے سرکردہ عالم دین حضرت مولانا نور احمد ترالی رحمہ اللہ کا انتقال ہوگیا ہے مرنا تو ہر کسی کو ہے پر کسی کی موت سانحہ ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ عوام کو ان کی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کا اوڑھنا بچھونا خدمت خلق ہو وہ نقصان ہی کہلاتا ہے بہرحال ہونی کو ٹال دینا ہمارے بس میں نہیں وہ ہوکر ہی رہتی ہے یہی قانون قدرت ہے بس کسی کے غم جدائی میں آنکھیں از خود برستی ہیں تو کسی کی جدائی پر صرف آہ نکل جاتی ہے کیونکہ دل ہے ہی ایسا کہ جہاں اس کی وابستگی ہوجائے وہیں کا ہوکر رہتا ہے میرے لئے یہ خبر اس لئے بھی انتہائی پریشان کن تھی کیونکہ اب تسلسل کے ساتھ علماء کرام کا انتقال ہورہا ہے یہ کوئی عام سی بات نہیں ہے بلکہ ایک حساس بات ہے کہ اہل علم دنیا سے جارہے ہیں اور ہم جیسے جہلا ان کے پیچھے رہ گئے کیونکہ علماء کسی بھی معاشرے کا حسن اور وقار ہوتے ہیں۔
علماء کا وجود معاشروں کے لیے اس اعتبارسے انتہائی ضروری ہے کہ عوام الناس ان سے شرعی‘ دینی ‘ سماجی و دیگر معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں اور ان کے خطبات ‘ دروس‘ مجالس اور تحریروں کے ذریعے اپنے عقائد ‘ نظریات اور اعمال کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔
تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ہر دور میں پختہ علماء اور آئمہ کے ساتھ وابستہ رہی اور ان کے دروس اور خطبات کو نہایت جوش وخروش اور عقیدت واحترام کے ساتھ سنا جاتا رہا۔ پختہ اور سنجیدہ علما کے ساتھ تعلق ہونا یقینا ہر سنجیدہ اور باشعور شخص کے لیے باعث عزت وافتخار ہے۔ جید علماء کی رفاقت یقینا دین و دنیا کی بہتری کا ذریعہ ہوتا ہے‘ اسی طرح کسی بھی جید عالم کی رحلت یقینا بہت بڑا سانحہ ہوتی ہے اور اس کی وفات سے پیدا ہو جانے والا خلا مدت مدید تک پر نہیں ہوتااور انسان تادیر معاشرے میں ان کی کمی کو محسوس کرتا ہے۔ کسی بھی باعمل عالم کی رحلت پر ہر دین پسند انسان بہت زیادہ بے چینی اور غم کو محسوس کرتا ہے۔ اس لیے کہ اُس کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ علماء کی روحوں کے قبض ہوجانے سے انسان نہیں ‘بلکہ علم بھی اُٹھ رہا ہے‘جس طرح سنن ترمذی کی حدیث ہے کہ عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم اس طرح نہیں اُٹھائے گا کہ اُسے لوگوں کے سینوں سے کھینچ لے‘ لیکن وہ علم کو علماء کی وفات کے ذریعے اُٹھائے گا تو ایسا ہی اب ہورہا ہے کہ علماء دنیا سے اٹھ رہے ہیں اور ہم باقی رہ گئے تنہا اللہ نہ کرے کہ وہ زمانہ آجائے کہ علماء نہ ہوں اور دنیا مصائب و مشکلات میں بے یارومددگار رہ جائے
بہرحال بات ہو رہی ہے مولانا نور احمد ترالی مرحوم کی جن کا پرسوں ہی انتقال ہوگیا ہے میرے تب آنسو نکل پڑے جب ایک صاحب سے ان کے بارے میں استفسار کیا تو جواب میں انہوں نے فرمایا کہ
اب کی بار کون رولایاگا شب میں
سوچتے سوچتے ہم رو پڑے
شب قدر میں ان کے جاننے والے کہتے ہیں کہ مولانا رحمہ اللہ کی آواز میں سوز گداز جو تھا اسی سبب شب قدر میں ایک بڑا مجمعہ سامعین کا ہوتا جو رات کے کسی پہر اچانک پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے جب مولانا دعا کرتے اور مولانا کی بھی ہچکیاں سنی جاتی تھی شاید ہی اب ایسی مجالس دیکھنے کو ملیں گئیں مولانا اتحاد امت کے سلسلے میں کافی متحرک تھے وہ مسلکی منافرت کے بجائے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنے کے متمنی تھے اسی لئے اس کوشش میں اکثر اوقات تبلیغ کا سہارا لیتے فکر سید مودودی غالب تھی پر مجال ہے کہ دوسرے علماء سے چڑھتے یا ان کی برائی کرتے بلکہ ہمہ وقت ان کی مجالس کراتے ان سے ملاقاتیں کرتے اس کے لئے اپنے قائم کردہ مدرسہ میں بھی انہیں مدعو کیا کرتے
اور انہیں سنتے بھی اور ان سے درد مندانہ اقدام اٹھانے کی تلقین بھی کرتے فرقہ واریت اور مسلکی رسا کشی کے اس دور میں وہ داعی وحدت و اخوت تھا۔تفرقات کو صرفِ نظر کر کے اور مساویت کی بنیاد پر عالموں کا ایک ساتھ ملن اُن ہی کی بدولت دیکھنے کو ملتا تھا
آپ توحید کے داعی، نڈر، اللہ تعالی کی ذات کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہیں، علم و عمل کے پیکر، اخلاقیات سے پُر، داعیِ اتحاد اور سب سے بڑھکر امتِ مسلمہ کے خیر خواہ تھے۔نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو،رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز” جیسی صفات کی متحمل شخصیت تھے
مولانا کے بارے میں کچھ معلومات جو میں نے کل سے جمع کیں کچھ یوں ہیں کہ
مختصر تعارفی خاکہ
مولانا نور احمد ترالی کا تعلق کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ (ترال )سے تھا، وہ اپنے والد معروف عالم دین مولانا نور الدین ترالی قاسمی کے زیر تربیت پروان چڑھے، مولانا نور احمد ترالی جموں و کشمیر مجلس دعوت حق کے سربراہ تھے، وہ دارالعلوم نورالاسلام ترال کے سرپرست بھی تھے، جسکی بنیاد انکے والد مرحوم نے 1940ء میں عمل میں لائی تھی، مدرسہ تعلیم الاسلام ترال بائز و گرلز ونگ انہی کے زیرنگرانی فعال تھا، وہ مجلس اتحاد امت سے بھی وابستہ تھے، جموں و کشمیر میں اتحاد و اخوت بین المسلمین کے حوالے سے انہوں نے کئی کارنامے انجام دیئے، جن میں نمایاں کارنامہ انکی مشہور تصنیف ’’دعوت حق‘‘ ہے، ۲۰۰۲ ء سے وہ مجلس دعوت حق تعلیم الاسلام کی سربراہی کر رہے تھے اور جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف میں مختلف سیمیناز و کانفرنسز کا انعقاد بھی کراتے ایک صاحب کے تاثرات کچھ یوں تھے مولانا نور احمد ترالی کا فن خطابت موثر اور یکتا تھا۔ قرآن و حدیث کی تشریح کے دوران مولانا روم، علامہ اقبال اور شیخ نور الدین نورانی کے اشعار کا بروقت استعمال انکے تبحر علم کا آئینہ دار تھا۔ وہ بے باکی کے ساتھ کشمیر کے حالات کے پس منظر میں عالموں اور عوام کے رول پر بات کرتے تھے۔ جب کبھی بھی انکا خطبہ جمعہ یا عیدین سننے کا موقعہ ملا تو ذہن کے دریچے وا ہوئے۔نور احمد مرحوم ، گزشتہ صدی کے ولی کامل حضرت مولانا نور الدین ترالی کے فرزند تھے لہٰذا انہیں علم و حلم، فصاحت و بلاغت اور تدبر و حکمت ورثے میں ملی تھی۔انکے انتقال پر میرا آبائی علاقہ ترال ہی نہیں بلکہ پورا کشمیر سوگوار ہے۔ مجھے دور دور تک انکی سطح کا کوئی دینی عالم۔نظر نہیں آتا جنہیں عوام میں اتنی قبولیت حاصل ہو
مولانا مرحوم کے بارے میں انکے ایک چاہنے والے محترم منیب سلفی صاحب کہتے ہیں کہ
مولانا نور احمد ترالی رح کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے وادی کشمیر کے مایہ ناز عالم دین مولانا نور الدین ترالی رح کے بطن جلیل لائق و فایق جانشین تھے
مولانا نور احمد ترالی رح نہ صرف ایک داعی تھے بلکہ بذات خود ایک تحریک تھے سکھ برادری کے ساتھ
چھٹی سنگھ پورہ کا المناک واقعہ جب پیش آیا تو سکھ برادری ہجرت کرنے پر بہ ضد رہے تو مولانا نور احمد ہی وہ مرد غیور تھے جس نے انہیں دلاسہ دیا اور ان کا حوصلہ بنائے رکھا اور ہجرت کرنے سے روک دیا
شہر و گام جب بھی کوئی آفت آتی تھی تو مولانا آگے آگے ہوتے تھے
بات 2014کی ہے جب سیلاب نے پوری وادی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو مولانا میدان میں خود اتر آئے اور ہزاروں غریبوں،مفلوک الحال افراد کی بھر پور معاونت کی
2016میں جب نا مساعد حالات کے سبب لاکھوں افراد بے گھر ،بےسہارا ہورہے تھے تب ان کی بازآبادی کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے تھے اتنا ہی نہیں بلکہ کشمیر میں مزدوری کے پیشہ سے وابستہ مختلف ریاستوں کے لوگوں کے لئے بھی کھانے پینے کا انتظام کردیا بقول نور احمد رح ہماری جدوجھد پاک ہے ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں ہے یہ ہمارے مہمان ہیں
اب رہا مسلکی تشدد
ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی کہتے ہیں
یہ خبر سن کر بہت دکھ ہوا کہ مولانا نور احمد ترالی کا انتقال ہوگیا ہے ایک ایسی دینی شخصیت جو بے لوث مخلص اور اعلی پائے کی علمی حثیت رکھتی تھی دینی و دنیاوی تعلیم کے امتزاج کے داعی دعوت الی اللہ اور اصلاح بین المسلمین کے علمبردار علماء کے قدر دان اور اسلام پسند دانشوروں کے مربّی نور احمد ترالی اس زمانے میں ایک منفرد شناخت کے حامل تھے کم گو متقی اور سنجیدہ عالم دین ہونے کے باوجود بڑے بڑے دینی اجتماعات کا انعقاد کرنا ان کا معمول تھا تقریبا ہر سال ایک بڑی دینی تقریب کا اہتمام پابندی سے کرنا اور اس میں علماء کے ساتھ دانشوروں کو بھی مدعو کرنا آپ کی ایک قابل ستائش کوشش رہی ہے مجھے بھی ایسے بہت سارے پروگراموں میں شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی اور کتنی بار ترال کے مردم خیز علاقے کے دانشوروں اور علماء کے ان مشترکہ جلسوں سے خطاب کرنے کا موقعہ مرحوم نور احمد ترالی صاحب نے فراہم کیا ان جلسوں میں تمام مکاتیب فکر اور مسالک کے علماء کو بلا تفریق مدعو کیا جاتا رہا ہے اور ہر سال کوئی نیا عنوان سمیناروں کا اور جلسوں کا نور صاحب مرحوم تجویز فرماتے تھے ایسے جلسوں میں شمولیت کے وقت قیام و طعام کا بڑا اچھا انتظام ہوتا تھا اور مرحوم نور صاحب مہمانوں کے پاس بیٹھ کر اکثر ان کی مہمان نوازی کا پابندی سے اہتمام کرتے تھے خود اکثر روزہ سے ہوتے تھے مگر مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تکریم کا بھر پور خیال رکھتے تھے
اسی طرح جب میں اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کے ساتھ وابستہ تھا اس کے جلسوں میں ہم مرحوم ترالی صاحب کو بلاتے تھے اور آپ کئی بار ہماری دعوت پر تشریف لائے اور ہمیں اپنے زرین خیالات اور قیمتی مشوروں سے مستفید فرمائے
میرے پیارے بھائی زبیر ندوی صاحب کہتے ہیں
بڑی مدت بعد علاقہ ترال کے معروف و مشہور، عالم دین، اپنا خاص مدرس و معلم و مربی مولانا نور احمد ترالی دام ظلہ سے ان کے آشیانہ پرملاقات کا شرف حاصل ہوا
مولانا نے اپنے در پر مجھ کو دیکھتے ہی بڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اندر آنے کو کہا… اندر بیٹھ کر چند اہم امور پر گفت و شنید ہوئی….. مستقبل کے تئیں چند قیمتی نصائح سے بھی نوازا . تحریک اسلامی سے تعلق اور خدمت دین کرنے پر بھی مولانا نے بڑی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کلمات دعائیہ سے نوازا . ایک نصیحت جس کو میں اپنے تمام رفقاء تک پہنچا رہا ہوں تاکہ آپ بھی مستفید ہوں.. فرمایا
روح مخلوقِ رب نہیں ہے بلکہ امرِ رب ہے اس لئے روح کو حاکم بنایا جائے جسم کو محکوم…… دعوت الی اللہ کا فریضہ روح انجام دیتا ہے جبکہ جسم اس کا صرف ایک معاون کی حیثیت رکھتا ہے. روح کی طہارت و پاکیزگی کرنا لازمی ہے تب جا کے آپ دنیا کے کسی محاز پر دعوت الی اللہ کا فریضہ کما حقہ سر انجام دے پاؤ گے. قیامت میں آپ کے روح سے ہی پوچھ گچھ ہوگی. اس لئے روح کو پاک و صاف کر کے اللہ کا قرب حاصل کر کے رضا الہی کی فکر دامن گیر رہے گی .. ورنہ صرف جسم کا بناؤ سنگار کوئی مفید نہ ہو گا.
ان کی کچھ تالیفات بھی ہیں جن میں سے ہر کتاب اپنے اندر محبت و اخوت کا پیغام لئے ہوئے ہے اور نام کی طرح اندرون بھی علمی شاہکار ہیں جن میں سے ۱ ایمان مفصل ۲ فرائض و حقوق ۳ طریقہ حج ۴ پیر مرید ۵دعوت حق ۶ صلوتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۷ ماثور دعائیں
اس کے علاوہ محترم کا ایک انٹرویو اسلام ٹائمز نامی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جس میں سے دو اقتباسات آپ کی نظر کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ ان کا نظریہ محبت اور درس توکل کے ساتھ ساتھ ان کو سمجھنے میں آسانی ہو
نمبر ۱ ہمارے مادہ پرست مولوی حضرات سیاسی طور پر بالکل نابلد ہیں، وہ سیاست کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں، سیاسی شعور کا انکے اندر فقدان ہے، اسلئے وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ بظاہر اسلام کے لئے کام کرتے ہیں لیکن درحقیقت اسلام مخالف مہم کا حصہ ہیں، وہ اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں، دین کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور کا ہونا لازمی ہے، ہندوستان اور ہندوستانی سیاست برسوں سے اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کشمیر میں حقیقی اسلام باقی و زندہ نہ رہنے پائے، اسلام ناب یہاں پنپنے نہ پائے اور بھارت کی کوشش ہے کہ اسلام بھی یہاں وہی سطح و معیار اختیار کرے جو برھمن و ہندوں کا معیار ہے (نمبر ۲ ) بہت ضروری ہے کہ مسلمان منظم ہو جائیں، متحد ہو جائیں، اس وقت مغربی طاقتیں متحد ہو رہی ہیں اور اسلام کے خلاف ایک ہو کر سازشیں کر رہی ہیں، اب اپنے بچاو اور دفاع کے لئے مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا، تاکہ مسلمان مغربی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں، مسلمانوں کو اسلام کے تقدس کو بچانے کیلئے متحد ہونا ہی ہوگا، ایک کعبے کی پاسبانی کیلئے مسلمانوں کو متحد ہونا ہی پڑے گا، مسلمان چاہے مغرب میں ہوں یا مشرق میں ہوں، جنوب میں ہوں یا شمال میں ہوں ’’لا الہ الا اللّہ، محمد رسول اللہ‘‘ سب کی آواز ہے، سب کا نعرہ ہے، سب کا دستور العمل ہے، اللہ اور اللہ کے رسول (ص) نے تمام مسلمانوں کو متحد کر دیا اور ہمارے کلمہ توحید کا یہی تقاضا ہے، نماز کا بھی یہی تقاضا ہے، حج کا بھی یہی مطالبہ ہے اور قرآن مجید کا بھی یہی دستور ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ متحد ہو جائیں اور اسلام کی پرخلوص خدمت کریں اور مسلمان اسلام کا دفاع مل کر کریں، اسلام کے خلاف جو یلغار چلی آ رہی ہے، اس کو نیست و نابود کرنے کیلئے مسلمان متحد ہوجائیں، اتحاد بہت ضروری ہے، تاکہ ہم اسلام کا دفاع کرسکیں، اکیلے کوئی فرد یا کوئی ملک اسلام کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اسکے لئے سب مسلمانوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے
ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاقہ ترال اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت واقع ہوا کہ کہ انہیں مولانا جیسی ہمت جہت شخصیت کی سرپرستی میسر تھی جن کی کاوشوں کا اعتراف غیر مسلم بھی کر رہے ہیں آج علاقہ ترال اپنے ہمدرد اور آفتاب علم سے محروم ہوگیا میں ان کے ہی خانوادہ سے ہی نہیں بلکہ تمام علاقہ ترال کے عوام سے تعزیت کرتا ہوں کیونکہ ایسے صاحب بصیرت اور صاحب علم لوگ صرف ایک گھر کے نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذاتی ایک انجمن ہوتی ہے ایک روشن چراغ ہوتی ہے جس کی ضیاع پانی سے ہزار ہا لوگ استفادہ کرتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیتے ہیں اللہ تعالی علاقہ ترال کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے یوں مولانا مرحوم ہزاروں لوگوں کی معیت میں سفر آخرت پر روانہ ہوئے کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ان کے جنازے کے مناظر بتا رہے تھے کہ اک شخص نہیں اک انجمن تھی جو مدفن کی اور چلی جارہی ہے
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا21 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا19 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا4 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
ہندوستان2 hours agoپارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
-
جموں و کشمیر15 minutes agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
