تازہ ترین
علاقہ ترال کے آسمان علم کا سورج غروب ہوگیا
مصنف: الطاف جمیل ندوی
یہ کون چلا اک بستی سے جس کا جانا ٹھہرا غم
ہر سو ایک ہی آہ بلند ہم کو کے نقش کو دیکھیں گے
ہر روز کی طرح جمعہ کو بھی جوں ہی سوشل میڈیا کو دیکھا ایسا لگا کہ زبان خشک اور آنکھیں نم ہورہی ہیں جوں ہی یہ خبر جانکاہ دیکھی کہ علاقہ ترال کے سرکردہ عالم دین حضرت مولانا نور احمد ترالی رحمہ اللہ کا انتقال ہوگیا ہے مرنا تو ہر کسی کو ہے پر کسی کی موت سانحہ ہوتی ہے اس لحاظ سے کہ عوام کو ان کی سرپرستی کی ضرورت ہوتی ہے یا جن کا اوڑھنا بچھونا خدمت خلق ہو وہ نقصان ہی کہلاتا ہے بہرحال ہونی کو ٹال دینا ہمارے بس میں نہیں وہ ہوکر ہی رہتی ہے یہی قانون قدرت ہے بس کسی کے غم جدائی میں آنکھیں از خود برستی ہیں تو کسی کی جدائی پر صرف آہ نکل جاتی ہے کیونکہ دل ہے ہی ایسا کہ جہاں اس کی وابستگی ہوجائے وہیں کا ہوکر رہتا ہے میرے لئے یہ خبر اس لئے بھی انتہائی پریشان کن تھی کیونکہ اب تسلسل کے ساتھ علماء کرام کا انتقال ہورہا ہے یہ کوئی عام سی بات نہیں ہے بلکہ ایک حساس بات ہے کہ اہل علم دنیا سے جارہے ہیں اور ہم جیسے جہلا ان کے پیچھے رہ گئے کیونکہ علماء کسی بھی معاشرے کا حسن اور وقار ہوتے ہیں۔
علماء کا وجود معاشروں کے لیے اس اعتبارسے انتہائی ضروری ہے کہ عوام الناس ان سے شرعی‘ دینی ‘ سماجی و دیگر معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں اور ان کے خطبات ‘ دروس‘ مجالس اور تحریروں کے ذریعے اپنے عقائد ‘ نظریات اور اعمال کی اصلاح کرتے رہتے ہیں۔
تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد ہر دور میں پختہ علماء اور آئمہ کے ساتھ وابستہ رہی اور ان کے دروس اور خطبات کو نہایت جوش وخروش اور عقیدت واحترام کے ساتھ سنا جاتا رہا۔ پختہ اور سنجیدہ علما کے ساتھ تعلق ہونا یقینا ہر سنجیدہ اور باشعور شخص کے لیے باعث عزت وافتخار ہے۔ جید علماء کی رفاقت یقینا دین و دنیا کی بہتری کا ذریعہ ہوتا ہے‘ اسی طرح کسی بھی جید عالم کی رحلت یقینا بہت بڑا سانحہ ہوتی ہے اور اس کی وفات سے پیدا ہو جانے والا خلا مدت مدید تک پر نہیں ہوتااور انسان تادیر معاشرے میں ان کی کمی کو محسوس کرتا ہے۔ کسی بھی باعمل عالم کی رحلت پر ہر دین پسند انسان بہت زیادہ بے چینی اور غم کو محسوس کرتا ہے۔ اس لیے کہ اُس کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ علماء کی روحوں کے قبض ہوجانے سے انسان نہیں ‘بلکہ علم بھی اُٹھ رہا ہے‘جس طرح سنن ترمذی کی حدیث ہے کہ عبداللہ بن عمر وبن عاص ؓ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ علم اس طرح نہیں اُٹھائے گا کہ اُسے لوگوں کے سینوں سے کھینچ لے‘ لیکن وہ علم کو علماء کی وفات کے ذریعے اُٹھائے گا تو ایسا ہی اب ہورہا ہے کہ علماء دنیا سے اٹھ رہے ہیں اور ہم باقی رہ گئے تنہا اللہ نہ کرے کہ وہ زمانہ آجائے کہ علماء نہ ہوں اور دنیا مصائب و مشکلات میں بے یارومددگار رہ جائے
بہرحال بات ہو رہی ہے مولانا نور احمد ترالی مرحوم کی جن کا پرسوں ہی انتقال ہوگیا ہے میرے تب آنسو نکل پڑے جب ایک صاحب سے ان کے بارے میں استفسار کیا تو جواب میں انہوں نے فرمایا کہ
اب کی بار کون رولایاگا شب میں
سوچتے سوچتے ہم رو پڑے
شب قدر میں ان کے جاننے والے کہتے ہیں کہ مولانا رحمہ اللہ کی آواز میں سوز گداز جو تھا اسی سبب شب قدر میں ایک بڑا مجمعہ سامعین کا ہوتا جو رات کے کسی پہر اچانک پھوٹ پھوٹ کر رو دیتے جب مولانا دعا کرتے اور مولانا کی بھی ہچکیاں سنی جاتی تھی شاید ہی اب ایسی مجالس دیکھنے کو ملیں گئیں مولانا اتحاد امت کے سلسلے میں کافی متحرک تھے وہ مسلکی منافرت کے بجائے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنے کے متمنی تھے اسی لئے اس کوشش میں اکثر اوقات تبلیغ کا سہارا لیتے فکر سید مودودی غالب تھی پر مجال ہے کہ دوسرے علماء سے چڑھتے یا ان کی برائی کرتے بلکہ ہمہ وقت ان کی مجالس کراتے ان سے ملاقاتیں کرتے اس کے لئے اپنے قائم کردہ مدرسہ میں بھی انہیں مدعو کیا کرتے
اور انہیں سنتے بھی اور ان سے درد مندانہ اقدام اٹھانے کی تلقین بھی کرتے فرقہ واریت اور مسلکی رسا کشی کے اس دور میں وہ داعی وحدت و اخوت تھا۔تفرقات کو صرفِ نظر کر کے اور مساویت کی بنیاد پر عالموں کا ایک ساتھ ملن اُن ہی کی بدولت دیکھنے کو ملتا تھا
آپ توحید کے داعی، نڈر، اللہ تعالی کی ذات کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہیں، علم و عمل کے پیکر، اخلاقیات سے پُر، داعیِ اتحاد اور سب سے بڑھکر امتِ مسلمہ کے خیر خواہ تھے۔نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو،رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز” جیسی صفات کی متحمل شخصیت تھے
مولانا کے بارے میں کچھ معلومات جو میں نے کل سے جمع کیں کچھ یوں ہیں کہ
مختصر تعارفی خاکہ
مولانا نور احمد ترالی کا تعلق کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ (ترال )سے تھا، وہ اپنے والد معروف عالم دین مولانا نور الدین ترالی قاسمی کے زیر تربیت پروان چڑھے، مولانا نور احمد ترالی جموں و کشمیر مجلس دعوت حق کے سربراہ تھے، وہ دارالعلوم نورالاسلام ترال کے سرپرست بھی تھے، جسکی بنیاد انکے والد مرحوم نے 1940ء میں عمل میں لائی تھی، مدرسہ تعلیم الاسلام ترال بائز و گرلز ونگ انہی کے زیرنگرانی فعال تھا، وہ مجلس اتحاد امت سے بھی وابستہ تھے، جموں و کشمیر میں اتحاد و اخوت بین المسلمین کے حوالے سے انہوں نے کئی کارنامے انجام دیئے، جن میں نمایاں کارنامہ انکی مشہور تصنیف ’’دعوت حق‘‘ ہے، ۲۰۰۲ ء سے وہ مجلس دعوت حق تعلیم الاسلام کی سربراہی کر رہے تھے اور جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف میں مختلف سیمیناز و کانفرنسز کا انعقاد بھی کراتے ایک صاحب کے تاثرات کچھ یوں تھے مولانا نور احمد ترالی کا فن خطابت موثر اور یکتا تھا۔ قرآن و حدیث کی تشریح کے دوران مولانا روم، علامہ اقبال اور شیخ نور الدین نورانی کے اشعار کا بروقت استعمال انکے تبحر علم کا آئینہ دار تھا۔ وہ بے باکی کے ساتھ کشمیر کے حالات کے پس منظر میں عالموں اور عوام کے رول پر بات کرتے تھے۔ جب کبھی بھی انکا خطبہ جمعہ یا عیدین سننے کا موقعہ ملا تو ذہن کے دریچے وا ہوئے۔نور احمد مرحوم ، گزشتہ صدی کے ولی کامل حضرت مولانا نور الدین ترالی کے فرزند تھے لہٰذا انہیں علم و حلم، فصاحت و بلاغت اور تدبر و حکمت ورثے میں ملی تھی۔انکے انتقال پر میرا آبائی علاقہ ترال ہی نہیں بلکہ پورا کشمیر سوگوار ہے۔ مجھے دور دور تک انکی سطح کا کوئی دینی عالم۔نظر نہیں آتا جنہیں عوام میں اتنی قبولیت حاصل ہو
مولانا مرحوم کے بارے میں انکے ایک چاہنے والے محترم منیب سلفی صاحب کہتے ہیں کہ
مولانا نور احمد ترالی رح کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے وادی کشمیر کے مایہ ناز عالم دین مولانا نور الدین ترالی رح کے بطن جلیل لائق و فایق جانشین تھے
مولانا نور احمد ترالی رح نہ صرف ایک داعی تھے بلکہ بذات خود ایک تحریک تھے سکھ برادری کے ساتھ
چھٹی سنگھ پورہ کا المناک واقعہ جب پیش آیا تو سکھ برادری ہجرت کرنے پر بہ ضد رہے تو مولانا نور احمد ہی وہ مرد غیور تھے جس نے انہیں دلاسہ دیا اور ان کا حوصلہ بنائے رکھا اور ہجرت کرنے سے روک دیا
شہر و گام جب بھی کوئی آفت آتی تھی تو مولانا آگے آگے ہوتے تھے
بات 2014کی ہے جب سیلاب نے پوری وادی کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو مولانا میدان میں خود اتر آئے اور ہزاروں غریبوں،مفلوک الحال افراد کی بھر پور معاونت کی
2016میں جب نا مساعد حالات کے سبب لاکھوں افراد بے گھر ،بےسہارا ہورہے تھے تب ان کی بازآبادی کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے تھے اتنا ہی نہیں بلکہ کشمیر میں مزدوری کے پیشہ سے وابستہ مختلف ریاستوں کے لوگوں کے لئے بھی کھانے پینے کا انتظام کردیا بقول نور احمد رح ہماری جدوجھد پاک ہے ان بے چاروں کا کوئی قصور نہیں ہے یہ ہمارے مہمان ہیں
اب رہا مسلکی تشدد
ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی کہتے ہیں
یہ خبر سن کر بہت دکھ ہوا کہ مولانا نور احمد ترالی کا انتقال ہوگیا ہے ایک ایسی دینی شخصیت جو بے لوث مخلص اور اعلی پائے کی علمی حثیت رکھتی تھی دینی و دنیاوی تعلیم کے امتزاج کے داعی دعوت الی اللہ اور اصلاح بین المسلمین کے علمبردار علماء کے قدر دان اور اسلام پسند دانشوروں کے مربّی نور احمد ترالی اس زمانے میں ایک منفرد شناخت کے حامل تھے کم گو متقی اور سنجیدہ عالم دین ہونے کے باوجود بڑے بڑے دینی اجتماعات کا انعقاد کرنا ان کا معمول تھا تقریبا ہر سال ایک بڑی دینی تقریب کا اہتمام پابندی سے کرنا اور اس میں علماء کے ساتھ دانشوروں کو بھی مدعو کرنا آپ کی ایک قابل ستائش کوشش رہی ہے مجھے بھی ایسے بہت سارے پروگراموں میں شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی اور کتنی بار ترال کے مردم خیز علاقے کے دانشوروں اور علماء کے ان مشترکہ جلسوں سے خطاب کرنے کا موقعہ مرحوم نور احمد ترالی صاحب نے فراہم کیا ان جلسوں میں تمام مکاتیب فکر اور مسالک کے علماء کو بلا تفریق مدعو کیا جاتا رہا ہے اور ہر سال کوئی نیا عنوان سمیناروں کا اور جلسوں کا نور صاحب مرحوم تجویز فرماتے تھے ایسے جلسوں میں شمولیت کے وقت قیام و طعام کا بڑا اچھا انتظام ہوتا تھا اور مرحوم نور صاحب مہمانوں کے پاس بیٹھ کر اکثر ان کی مہمان نوازی کا پابندی سے اہتمام کرتے تھے خود اکثر روزہ سے ہوتے تھے مگر مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی تکریم کا بھر پور خیال رکھتے تھے
اسی طرح جب میں اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کے ساتھ وابستہ تھا اس کے جلسوں میں ہم مرحوم ترالی صاحب کو بلاتے تھے اور آپ کئی بار ہماری دعوت پر تشریف لائے اور ہمیں اپنے زرین خیالات اور قیمتی مشوروں سے مستفید فرمائے
میرے پیارے بھائی زبیر ندوی صاحب کہتے ہیں
بڑی مدت بعد علاقہ ترال کے معروف و مشہور، عالم دین، اپنا خاص مدرس و معلم و مربی مولانا نور احمد ترالی دام ظلہ سے ان کے آشیانہ پرملاقات کا شرف حاصل ہوا
مولانا نے اپنے در پر مجھ کو دیکھتے ہی بڑی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اندر آنے کو کہا… اندر بیٹھ کر چند اہم امور پر گفت و شنید ہوئی….. مستقبل کے تئیں چند قیمتی نصائح سے بھی نوازا . تحریک اسلامی سے تعلق اور خدمت دین کرنے پر بھی مولانا نے بڑی خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کلمات دعائیہ سے نوازا . ایک نصیحت جس کو میں اپنے تمام رفقاء تک پہنچا رہا ہوں تاکہ آپ بھی مستفید ہوں.. فرمایا
روح مخلوقِ رب نہیں ہے بلکہ امرِ رب ہے اس لئے روح کو حاکم بنایا جائے جسم کو محکوم…… دعوت الی اللہ کا فریضہ روح انجام دیتا ہے جبکہ جسم اس کا صرف ایک معاون کی حیثیت رکھتا ہے. روح کی طہارت و پاکیزگی کرنا لازمی ہے تب جا کے آپ دنیا کے کسی محاز پر دعوت الی اللہ کا فریضہ کما حقہ سر انجام دے پاؤ گے. قیامت میں آپ کے روح سے ہی پوچھ گچھ ہوگی. اس لئے روح کو پاک و صاف کر کے اللہ کا قرب حاصل کر کے رضا الہی کی فکر دامن گیر رہے گی .. ورنہ صرف جسم کا بناؤ سنگار کوئی مفید نہ ہو گا.
ان کی کچھ تالیفات بھی ہیں جن میں سے ہر کتاب اپنے اندر محبت و اخوت کا پیغام لئے ہوئے ہے اور نام کی طرح اندرون بھی علمی شاہکار ہیں جن میں سے ۱ ایمان مفصل ۲ فرائض و حقوق ۳ طریقہ حج ۴ پیر مرید ۵دعوت حق ۶ صلوتہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۷ ماثور دعائیں
اس کے علاوہ محترم کا ایک انٹرویو اسلام ٹائمز نامی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے جس میں سے دو اقتباسات آپ کی نظر کرنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ ان کا نظریہ محبت اور درس توکل کے ساتھ ساتھ ان کو سمجھنے میں آسانی ہو
نمبر ۱ ہمارے مادہ پرست مولوی حضرات سیاسی طور پر بالکل نابلد ہیں، وہ سیاست کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں، سیاسی شعور کا انکے اندر فقدان ہے، اسلئے وہ استعمال ہو رہے ہیں، وہ بظاہر اسلام کے لئے کام کرتے ہیں لیکن درحقیقت اسلام مخالف مہم کا حصہ ہیں، وہ اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں، دین کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور کا ہونا لازمی ہے، ہندوستان اور ہندوستانی سیاست برسوں سے اس کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ کشمیر میں حقیقی اسلام باقی و زندہ نہ رہنے پائے، اسلام ناب یہاں پنپنے نہ پائے اور بھارت کی کوشش ہے کہ اسلام بھی یہاں وہی سطح و معیار اختیار کرے جو برھمن و ہندوں کا معیار ہے (نمبر ۲ ) بہت ضروری ہے کہ مسلمان منظم ہو جائیں، متحد ہو جائیں، اس وقت مغربی طاقتیں متحد ہو رہی ہیں اور اسلام کے خلاف ایک ہو کر سازشیں کر رہی ہیں، اب اپنے بچاو اور دفاع کے لئے مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا، تاکہ مسلمان مغربی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں، مسلمانوں کو اسلام کے تقدس کو بچانے کیلئے متحد ہونا ہی ہوگا، ایک کعبے کی پاسبانی کیلئے مسلمانوں کو متحد ہونا ہی پڑے گا، مسلمان چاہے مغرب میں ہوں یا مشرق میں ہوں، جنوب میں ہوں یا شمال میں ہوں ’’لا الہ الا اللّہ، محمد رسول اللہ‘‘ سب کی آواز ہے، سب کا نعرہ ہے، سب کا دستور العمل ہے، اللہ اور اللہ کے رسول (ص) نے تمام مسلمانوں کو متحد کر دیا اور ہمارے کلمہ توحید کا یہی تقاضا ہے، نماز کا بھی یہی تقاضا ہے، حج کا بھی یہی مطالبہ ہے اور قرآن مجید کا بھی یہی دستور ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ متحد ہو جائیں اور اسلام کی پرخلوص خدمت کریں اور مسلمان اسلام کا دفاع مل کر کریں، اسلام کے خلاف جو یلغار چلی آ رہی ہے، اس کو نیست و نابود کرنے کیلئے مسلمان متحد ہوجائیں، اتحاد بہت ضروری ہے، تاکہ ہم اسلام کا دفاع کرسکیں، اکیلے کوئی فرد یا کوئی ملک اسلام کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اسکے لئے سب مسلمانوں کا متحد ہونا بہت ضروری ہے
ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاقہ ترال اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت واقع ہوا کہ کہ انہیں مولانا جیسی ہمت جہت شخصیت کی سرپرستی میسر تھی جن کی کاوشوں کا اعتراف غیر مسلم بھی کر رہے ہیں آج علاقہ ترال اپنے ہمدرد اور آفتاب علم سے محروم ہوگیا میں ان کے ہی خانوادہ سے ہی نہیں بلکہ تمام علاقہ ترال کے عوام سے تعزیت کرتا ہوں کیونکہ ایسے صاحب بصیرت اور صاحب علم لوگ صرف ایک گھر کے نہیں ہوتے بلکہ ان کی ذاتی ایک انجمن ہوتی ہے ایک روشن چراغ ہوتی ہے جس کی ضیاع پانی سے ہزار ہا لوگ استفادہ کرتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوار لیتے ہیں اللہ تعالی علاقہ ترال کو اس کا نعم البدل عطا فرمائے یوں مولانا مرحوم ہزاروں لوگوں کی معیت میں سفر آخرت پر روانہ ہوئے کہ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ان کے جنازے کے مناظر بتا رہے تھے کہ اک شخص نہیں اک انجمن تھی جو مدفن کی اور چلی جارہی ہے
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر7 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
