تازہ ترین
ہمیں جمہوریت پر بھروسہ ہے،آپکو ہم پر بھروسہ نہیں وہ الگ بات ہے:عمرعبد االلہ
لوگوں کی بڑی تعدادنے پھر ایک بار 5اگست کو فیصلے کو مسترد کیا
جمہوریت کی اگر واقعی جیت ہوئی ہے تو آپکو لوگوں کی بات سننی پڑے گی
خبراردو:-
سرینگر:جموں و کشمیر کے عوام کی بھاری اکثریت نے پھر ایک بار5اگست2019کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عوامی اتحاد برائے گپکار کو ووٹ دیا ہے ”ہمیں جمہوریت پر بھروسہ ہے لیکن آپکو ہم پر بھروسہ نہیں ہے وہ الگ بات ہے“ان باتوں کا اظہارجموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے نوائے صبح کمپلکس میں پارٹی ورکران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
انہوں نے کہا اگر واقعی جموں و کشمیر میں جمہوریت کی جیت ہوئی،تو آپکو یہاں کی لوگوں کی آواز کو سننا پڑے گا۔عمرنے کہا ان انتخابات میں بی جے پی حالت کو دیکھ کر جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا فلحال کوئی امکان نہیں ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ونیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے گپکار عوام اتحاد کی جانب سے کشمیر وادی اور جموں میں بڑے پیمانے پر جیت درج کرنے کے بعدسرینگر کے پارٹی ہیڈ کواٹر پر بدھ کے روز کہا ہے کہ‘میں کن کن کی طرف اشاروں کروں؟۔جو لوگ کل تک ہمارے جلسے میں زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے اور پھر موقعہ ملتے ہی ایلائنس کے خلاف کھڑا ہوئے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاسب کہتے ہیں کہ جمہوریت کی جیت ہوئی ہے ہم بار بار یہ سنتے ہیں کل سے ٹیلی ویژن چنلوں پر یہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ جمہوریت کی جیت ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا اگر اس طرح کے تنائج نہیں ہوتے تو وہ بڑی بڑی عمارتوں سے ڈنڈورا پیٹتے کہ،گپکار والے ہار گئے،ایلائنس کی ہار ہوئی،موقعہ پرست ہار گئے،پرو پاکستان وغیرہ ہار گئے۔اور اب انہیں ایلائنس کی جیت ہضم نہیں ہوتی تو آپ کہتے ہیں کہ جمہوریت جیت گئی۔سابق وزیر اعلیٰ نے بتایا ہم نے کب کہا ہمیں جمہوریت پر بھروسہ نہیں ہے؟۔
انہوں نے بتایا ”آپ کو ہم پر بھروسہ نہیں ہے وہ الگ بات ہے۔“عمر نے کہا ہم نے پہلے ہی دن سے کہا ہم اپنے حقوق کے لئے لڑے گئے جمہوری اور آئنی کے حدود میں۔انہوں نے کہا ہم اس ریاست کا ماحول کو خراب کرنے نہیں آئے ہیں بلکہ اسے بہتر بنانے کے لئے آئے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا اگر واقعی جمہوریت جیت گئی ہے تو آپ کو لوگوں کی آواز سننی پڑے گی۔وہ جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی انتخابات میں بڑے پیمانے پر جیت درج کرنے کے بعد بدھ کے روز پارٹی ہیڈ کواٹر نوائے صبح پر میں پارٹی لیڈران اور ورکران کے ساتھ بات کر رہے تھے۔انہوں نے کہا اور بھاری اکثریت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں 5اگست2019کا فیصلے کو مسترد کیا ہے،عمرنے کہا یہ میرا کہنا نہیں ہے بلکہ یہ یہاں کے لوگوں کا فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کل تک کہتے ہیں عمر عبد اللہ ہوا میں باتیں کر رہا ہے فاروق عبد اللہ کے پیچھے کوئی کھڑا نہیں ہے۔ایلائنس کو دو خاندانوں کا اتحاد کا نام دیا گیاہے۔
انہوں نے بتایا ہم نے انتخابات میں حصہ لے کرآپ کو بتایا کہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔اب کب تک لوگوں کو بتاتے رہو گے کہ جموں و کشمیر کی آبادی کو370سے کوئی لین دین نہیں ہے وہ5اگست کے فیصلے سے خوش ہیں۔عمر عبد اللہ نے کسی کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ اگر آپ کا دعویٰ سچ ہوتا تو آج آپکی یہ حالت نہیں ہوتی۔ اور نتیجے آپ کے سامنے ہیں ایک واحد جماعت جس کی جڑ کشمیر اور جموں میں بھی ہے،جس کے جڑ جموں کے نچلے اور پہاڑی علاقوں سے کرگل تک ہیں لوگ ہمارے ساتھ ہے۔
اس انتخاب نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ نیشنل کانفرنس کے مر مٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔عمر نے کہا اللہ تعالیٰ کے بعد یہاں کے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔انہوں نے کہا اپ نے سازشیں کی پرپاگنڈا چلایابتائیں لوگوں کو جھوٹ۔کبھی نہ کبھی آپ کا جھوٹ،جھوٹ ہی ثابت ہوگا۔لیکن ہمیں یہ مان کے چلنا ہوگا کچھ جگہوں میں ہمیں کمزوریاں تھی،چاہے اس میں ہمار گمنڈ یا غلط فہماں تھی،شائد ہم لوگوں سے تال میل بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہوتے۔
اب اسمبلی انتخابات جلدی نہیں ہوں گے کیوں کہ اس الیکشن میں بی جے پی کی جو حالت ہوئی ہے اس کو دیکھ کر وہ فلحال یہاں اسمبلی انتخابات نہیں کریں گے۔اس لئے ہمیں جماعت کو مذید مضبوط کرنا ہوگا۔اس لئے ہمیں اپنی کمزوریوں کو دن رات ایک کر کے کام کرنا ہوگا۔اسے قبل عمر عبداللہ نے کہاایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کی شاندار کارکردگی سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ”ہم صرف کشمیر نشین جماعتیں ہی نہیں بلکہ جموں میں بھی مقبول ہیں“۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کشمیر میں 3نشستوں پر جیت درج کرنے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے جبکہ جموں میں اْن کی 35نشستوں پر کامیابی کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔موصوف نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا”میں بی جے پی کی طرف سے کشمیر میں تین نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کو بڑھا چڑھا پیش کرنے کی کاوشوں کو سمجھتا ہوں لیکن جموں صوبے میں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کی 35 نشستوں پر کامیابی کو نظر انداز کیوں کیا جا رہا ہے؟“۔(کے این ایس)
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا21 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا18 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر19 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر19 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
