تازہ ترین
4 جی انٹرنیٹ کی بحالی اور نظربندوں کی رہائی ناگزیر بن گئی ہے:ڈاکٹر فاروق عبداللہ
پی اے جی ڈی نے جمہوریت پر اعتماد بحال کرنے پر لوگوں کا کیا شکرایہ، حکومت فیصلے کا احترام کریں
سرینگر:عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے جمہوریت پر اعتماد کرنے پر جموں و کشمیر کے لوگوں کا شکرایہ ادا کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ اس کا احترام کریں اور جمہوری نظام کو مزید مستحکم کرنے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
پی اے جی اے ڈی کے ترجمان سجاد غنی لون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے ووٹ ڈالے اور یہاں تک کہ ان لوگوں سے جنہوں نے جمہوریت پر اپنے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے بڑی تعداد میں ہمیں ووٹ نہیں دیا۔
اب جموں و کشمیر کے لوگوں نے بہت ساری دشواریوں کے باوجود اس ملک کی جمہوریت پر اپنا اعتماد بحال کرنے میں ایک قلیدی رول ادا کیا۔ کے این ایس نمائندے کے مطابق کہ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر ان کے اعتماد کی مکمل بحالی ان کا احترام کرنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی اور یقینی طور پر سب سے زیادہ ذمہ داری انتظامیہ پر ہی ہے۔
نمائندے کے مطابق سجاد لون کے ہمراہ سابق وزیر اعلی اور پی اے جی اے ڈی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ اور مشترکہ پلیٹ فارم کے دیگر بڑے لیڈران بھی تھے۔
نمائندے کے مطابق مسٹر لون نے کہا کہ میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ عوامی فیصلہ کے بعد جمہوریت میں مداخلت کے بارے میں کچھ پریشان کن خبریں آرہی ہیں جس میں آج کل کی حکومت کچھ لوگوں کے ذریعہ بالواسطہ یا براہ راست سہولیات فراہم کر کے ایک غلط تاثر پیدا کرنے پر عمل پیرا ہے اور زمینی سطح پر جو کچھ نظر آرہا ہے اسے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت حقیقت میں ان سارے معاملات میں حصہ دار بن رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ جس طرح سے جموں و کشمیر کے لوگوں نے اپنے ایک عظیم فیصلے کے تحت جمہوریت پر اپنے اعتماد اور بھروسہ کیا ہے اسکا بڑے پیمانے پر احترام کرنا چاہے نہ کہ عوامی فیصلے کی تذلیل ہونی چاہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ ان مثالوں کے ساتھ گواہ ہے کہ جو طاقتیں لوگوں کے فیصلوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ تباہی کا شکار ہوجاتے ہیں تاہم انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ ہم سب کو عوام کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے اور جمہوریت کے تقاضوں کے برعکس کام کرنا ہمیں سراسر ناقابل قبول ہوگا۔انہوں نے پی اے جی اے ڈی کے کچھ سیاسی رہنماؤں کو نظربند کرنے پر حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ سیاسی لیڈران کو نظر بند کرنے کے پیچھے کون سا جواز ہے؟ کیا یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے؟
حالیہ انتخابات مکمل طور پر امن طور ہوئے سب سے زیادہ عدم تشدد کے انتخابات کا اختتام کسی اچھے چیز کے ساتھ ہونا چاہئے تھا، لیکن اس کا اختتام احتیاطی نظربندی کے ساتھ ہوا میں واضح کردیتا ہوں کہ تشدد کی کمی کے لحاظ سے سیاسی لیڈران کی نظر بندی مکمل طور غیر اخلاقی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق سجاد غنی لون نے کہا کہ روایتی طور پر ہم نے پچھلے تین دہائیوں میں بہت زیادہ تشدد دیکھا ہے حکومت کو لوگوں کو حراست میں رکھنے کی ضرورت کیوں ہے۔ ہم ان تمام معاملات کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جمہوریت کی بہترین کارکردگی کے بعد ہمیں اس طرح کے تعاقب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور جو لوگ نظر بند ہیں انہیں فوری رہا کیا جانا چاہیے۔
اس دوران کے این ایس نمائندے کے مطابق کہ اس موقع پر پی اے جی ڈی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے کہا کہ پی اے جی ڈی پلیٹ فارم مستقبل میں بھی مزید متحدد اور مضبوط ہوگا تاہم انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں یہاں کے لوگوں کو بجلی اور پانی کے حوالے سے بے پناہ مسائل کا سامنا ہوتا ہے جبکہ 4 جی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے میں 4جی انٹرنیٹ کی بحالی اور لوگوں کے بنیادی مسائل کے حل کی گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو تھانوں میں بلاوجہ بند رکھا گیا ہے انہیں فوری رہا کیا جائے تب ہی جمہوریت کا احترام ہوگا۔(کے این ایس)
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا12 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا8 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا15 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان13 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا7 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر6 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا5 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر6 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
