اہم خبریں
زرنج پر طالبان قابض، چمن سپن بولدک راہداری بند، کابل میں سرکاری میڈیا ترجمان قتل،افغانستان میں کیا ہو رہا ہے؟
وائس آف امریکہ کی نامہ نگار، عائشہ تنظیم کی رپورٹ کے مطابق نمروز کے نائب گورنر حاجی نبی براہوی کے بقول، ”طالبان نے گورنر کے دفتر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ افغان سیکیورٹی فورسز پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ حکومتی افواج کی ایک گھنٹے تک طالبان کے ساتھ لڑائی جاری رہی۔ اِس وقت حکومتی افواج کو صرف چہار برجک ضلعے کا کنٹرول حاصل ہے”۔
انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے ہیں یا پسپائی اختیار کر لی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت طالبان کا صوبے کے پانچ میں سے تین اضلاع پر کنٹرول ہے۔
اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان سے متصل اہم سرحدی گزرگاہ چمن-اسپن بولدک کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب طالبان نے دارالحکومت کابل میں افغان میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
طالبان کی جانب سے قندھار کے لیے مقرر کیے گئے گورنر حاجی وفا کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاجر کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کو پاکستان میں داخلے سے روکنے کے اقدام کے ردِ عمل میں سرحدی گزر گاہ بند کی جا رہی ہے۔
طالبان کے اس اعلان کے بعد جمعے سے اس اہم گزر گاہ کے ذریعے دو طرفہ تجارتی سرگرمیاں اور پیدل آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی سرحدی گزر گاہ بند کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر طالبان کے حامی اکاؤنٹس سے طالبان کا مبینہ اعلامیہ بھی زیرِ گردش ہے۔
طالبان کے اس یک طرفہ اقدام پر اسلام آباد کا تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
اسٹریٹجک حوالے سے اہم اسپن بولدک کا علاقہ گزشتہ ماہ طالبان کے قبضے میں آیا تھا اس کے بعد سے اس سرحدی گزر گاہ پر افغانستان کی جانب طالبان تمام انتظامات دیکھ رہے ہیں۔
طالبان نے اسپن بولدک کی سرحدی گزر گاہ کی بندش کے بارے میں جاری بیان میں کہا ہے کہ جب تک رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو پاکستان آنے اور واپس جانے کی اجازت نہیں دی جاتی سرحدی گزر گاہ تجارت سمیت ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند رہے گی۔
د پاکستان له لوري د طالبانو د غوښتنو نه منلو په غبرګون کې احتجاجا د سپين بولدک لاره تړل شوې.. د طالبانو له لوري
اس بیان میں توقع کی گئی ہے کہ مسئلے کے حل تک افغان باشندے اور پاکستان کے شہری اس راستے سے سفر سے گریز کریں گے۔
چمن۔اسپن بولدک کی سرحدی گزر گاہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کا ایک اہم اور دوسرا مصروف ترین راستہ ہے۔ افغانستان کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس راستے سے یومیہ 900 ٹرکوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔
افغان امور کے ماہر طاہر خان نے وائس آف امریکہ کے نذر الاسلام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کی دوسری جانب چونکہ اب طالبان کا کنٹرول ہے اس لیے پاکستان کو خدشہ ہو گا کہ عام شہریوں کی شکل میں شدت پسند عناصر بھی سرحد پار آ سکتے ہیں۔
طاہر خان نے کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد میں آمد و رفت میں اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہے کہ مشتبہ افراد سرحد پار نہ آ سکیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چمن-اسپن بولدک پر افغان شہریوں کی آمد و رفت بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے، محض مہاجر کارڈ یا افغان شناختی کارڈ پر ہو رہی تھی۔ اب پاکستان طور خم کی سرحدی گزر گاہ کی طرح یہاں بھی ویزا اور پاسپورٹ لازمی کرنے جا رہا ہے۔
طالبان کے سرحد پر آمد و رفت بند کرنے پر انہوں نے کہا کہ حالیہ اقدام افغان شہریوں کی پاکستان آمد کو ویزے سے مشروط کرنے کی جانب پیش رفت کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
طاہر خان کے مطابق طالبان کا پاکستان کے فیصلے کے خلاف ردِ عمل اسلام آباد کو پیغام دینا ہے کہ وہ کوئی بھی جوابی اقدام کر سکتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ طالبان کا فیصلہ افغان عوام میں اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی گزر گاہ بند کرنے سے عام لوگوں کی آمد و ورفت کے ساتھ ساتھ تجارت کو بھی نقصان ہوگا۔
بلوچستان کے سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ یہ کہتے رہے ہیں کہ طالبان پر ان کا ماضی کی طرح اثر و رسوخ نہیں رہا البتہ یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے اس سرحدی گزرگاہ کو بند کرنے کا یک طرفہ اقدام کیا ہے جو کہ اسلام آباد پر دباؤ بڑھانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو میں صحافی شہزادہ ذوالفقار نے پاکستان کی جانب سے ویزے اور پاسپورٹ کی پابندی کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا ہے کہ کابل انتظامیہ یہ الزام لگاتی ہے کہ اسلام آباد نے طالبان کے لیے دروازے کھول رکھے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو سرحد کی دوسری طرف سے شدت پسند عناصر کے داخل ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ اگر سرحد کو ہر کسی کے لیے کھلا رکھنا ہے تو پھر پاکستان کو افغان بارڈر پر باڑ لگانے کی کیا ضرورت تھی۔
شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ سرحدی گزر گاہ کی زیادہ عرصہ بندش سے سرحد کے دونوں جانب عوام کو مشکلات ہوں گی ۔ ان کے بقول پاکستان اور طالبان کو بات چیت سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہیں اور زمینی راستے استعمال کرنے کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ موجود ہے۔
اسی معاہدے کے تحت افغانستان اپنا تجارتی سامان بھارت کو برآمد کر سکتا ہے جب کہ پاکستان کے لیے وسط ایشیائی ممالک تک راہداری تجارت کی سہولت موجود ہے۔
افغان میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر کابل میں قتل
افغانستان میں طالبان نے افغان میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر دوا خان مینہ پال کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل کے دارالامان روڈ پر دوا خان مینہ پال کو نشانہ بنایا گیا۔
افغان میڈیا اینڈ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر کا قتل ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند دن قبل دارالحکومت کابل میں افغان وزیرِ دفاع کے گھر کو بھی خود کش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے میں متعدد افراد ہلاکت ہوئے تھے۔ حملے کے وقت افغان وزیرِ دفاع گھر پر موجود نہیں تھے۔
یاد رہے کہ طالبان نے خبردار کیا تھا کہ وہ فضائی حملوں کے جواب میں افغان حکومت کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنائیں گے۔
دوا خان مینہ پال اس سے قبل افغان صدر ڈاکٹر محمد اشرف غنی کے نائب ترجمان کے طور پر کئی برس تک خدمات انجام دیتے رہے تھے۔
دوا خان مینہ پال باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر افغان حکومت کی پالیسی اور حکمت عملی کو کے حوالے سے بیانات جاری کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف ٹیلی وژن پروگراموں اور صحافیوں کو افغان حکومت کی کارروائیوں کے بارے میں بھی اطلاعات فراہم کرتے تھے۔
افغانستان کی قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے طالبان کی جانب سے دوا خان مینہ پال کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر انھوں نے ایک پیغام میں کہا کہ قتل و غارت، تشدد اور خون ریزی کے ذریعے افغان بحران کو حل نہیں کیا جا سکتا۔
I strongly condemn the targeted killing of Dawa Khan Meenapal by Taliban. My heartfelt condolences to his family & friends. Killing, violence, & bloodshed is not the way forward to resolve our crisis. May his soul rest in peace. pic.twitter.com/8r4C0jqEW0
— Dr. Abdullah Abdullah (@DrabdullahCE) August 6, 2021
واضح رہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔ اس وقت افغان حکومت اور طالبان کے درمیان صوبہ قندھار، ہرات اور ہلمند کے دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے۔ ایسے میں افغان حکام کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک نیا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
کابل میں مقیم تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت افغانستان کے تمام علاقوں میں لڑائی جاری ہے اور جہاں لڑائی مستقل بنیادوں پر جاری نہیں ہے وہاں ٹارگٹ کلنگ شروع ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پیغام بہت واضح ہے کہ ایسے تمام افراد کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے جو کہ ذرائع ابلاغ سے جڑے ہوں اورحکومتی پیغام مؤثر انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کر سکتے ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دواخان مینہ پال سرکاری میڈیا مشینری کی قیادت کر رہے تھے۔ یہی ان کی ہلاکت کا سبب بھی ہے۔ ان کے بقول اس وقت لڑائی کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کی جنگ بھی جاری ہے اور ہر فریق کی خواہش ہے کہ اس کے مؤقف کو موثر انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا22 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا20 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا5 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا5 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا5 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا4 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
