تازہ ترین
جہاں تنازعہ ، وہاںامریکہ
سمیرہ بی ریشی
اندھا ہونے کی سبب سے بدترین چیز یہ ہے کہ نظر ہونے کے باوجود بصارت نہیں ہے اور یہ شام کے 19ویں صدر بشارالاسد پر صادق آتا ہے۔ ماہر امراض چشم ہونے کے باوجود اسد اسی طرح اندھا ہے جس طرح اُلو، وہ اقتدار سے پرے کچھ نہیں دیکھ رہاہے۔ بشارالاسد کے دورِ اقتدار میں شام کا تنازعہ موجودہ وقت میں سب سے بڑا انسانی بحران بن گیا ہے۔ 8سالہ تنازعہ نے شام میں آبادی کی تباہی مچادی ہے۔ آثاریاتی شواہد کے مطابقکرہ ارض پر شامی تہذیب بہت پرانی تھی اور اسے لوینٹ (Levant)، جسے عربی میں الشام کہتے ہے،کے طور پر بھی جانا جاتا تھا لیکن یہ ماضی تھا۔ 2011سے شام نے تاریخ کی سب سے بدترین خانہ جنگی دیکھی ہے ، آج شام مکمل طور پر گڑبڑی کی لپیٹ میں ہے جس کے نتیجہ میں5لاکھ لوگ مارے گئے جبکہ 1کروڑ سے بھی افراد ہجرت کرگئے، 1کروڑ 35لاکھ شام کے اندر امداد کے منتظر ہیں، جن میں 60لاکھ سے زائد افراد ملک میں ہی ہجرت کرچکے ہیں۔ قریب 50لاکھ لوگوںنے ہمسایہ ممالک میں پناہ کی درخواست کی ہے۔
ذبح خانوے کے پہلے شکار مشرق وسطی میں تھے، یورپ میں نہیں اور یورپ ان ظلم و جبرکا بہت سے طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔ مشرقی غوطہ میں ہسپتالوں کے بستروں پرکی جانے والی بمباری کا اہلِ یورپ ٹیلی ویژن پر دیکھ رہے ہیں اور اس کے ردعمل میں ان کے Warlords اسد حکومت کی مذمت کرنے کیلئے اخباری بیان جاری کرتے ہیں۔ بشارا لاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے یورپ ناکام ہوا ہے ، سیاسی ماہروں کا ماننا ہے کہ اگر اہل مغرب نے وقت پر بشارالاسد پر دباﺅ ڈالا ہوتا تو آج حالات مختلف ہوتے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب ملوسوچ سلبڈان کو 1995میں ڈیٹان سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوا تھا تاکہ بوزنیا میں وسیع پیمانے پر کی جانے والی ظلم و جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں اور قتل و غارت گری کا خاتمہ کرسکے تاہم یہ شام میں 8سال سے جاری وحشیانہ خانہ جنگی کو بند کرانے میں ناکام رہا۔ 
اسد حکومت کے حامی اور مخالفین، کرد ترکوں کی حمایت کرنے والے، شیعہ اسلام کے ماننے والے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے والے اورجن کا شیرازہ بکھرچکا ہے، وہ اپنی موجوددکھانے کیلئے ، ان سب کی وجہ سے شام میں تباہی مچ رہی ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم کی آمد اور ابو ظہبی میںپہلے ہندو مندر کے افتتاح کے سلسلہ میں خلیجی ممالک مصروف تھے اور پاکستان سپُر لیگ کے کرکٹ بخار میں سرابور تھے اور وہ مکمل طور پر مسلم دنیا میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بے حس تھے۔ شام میں معصوم بچوں کی ہلاکت پاکستانی ذرائع ابلاغ کیلئے کوئی اہمیت نہیں تھی تاہم معروف اداکارہ سری دیوی کی وفات ان کیلئے سب سے برتر اہمیت تھی لیکن عرصہ دراز سے شام میں ہونی والی خون کی ہولی پر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔
8سال کا یہ مسلح تنازعہ مارچ 2011میںحکومت مخالف مظاہروں سے جنوبی شہر کے دیرا شہر میں اُس وقت شروع ہوا جب چند نوعمر لڑکوں نے سکول کی دیوار پر انقلابی نعرے تحریر کئے اور ان کی گرفتاری اور اذیت پہنچانے کے بعد وسیع پیمانے پر خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا۔ یہ بے چینی ملک بھر میں شروع ہوئی اور اس حکومت سے مستعفی ہونے کی مانگ کی۔ حکومت کے فوجی طاقت کے استعمال سے مظاہرین کے حوصلے پختہ ہوگئے اور جولائی 2011سے ہزاروں لاکھوں لوگ ملک کی سڑکوں پر نکل گئے۔
2011سے ہوئی اموات پر دنیا خاموش تماشائی بنا بیٹھا۔انکل سیم۔۔ امریکہ نے 2013میں ڈیل ہونے کا موقعہ اُس وقت گنوا دیا جب شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بعد اس نے کوئی سرخ لکیر نہیں کھینچی اور امریکہ کی ہچکچاہٹ کے سبب شام نے بشارالاسد کی حکومت بچانے کیلئے فوجی کارروائی شروع کی۔
نہ صرف امریکہ بلکہ برطانیہ بھی اسد حکومت پر دباو ڈالنے سے باز رہا تاہم فرانس 2013میںجنگی جہازوں کے استعمال کیلئے تیار تھا لیکن اسے ڈر تھا کہ وہ اکیلا ہی رہ جائیگا۔شام 2011سے افراتفری اور تباہی میں ہے اور جو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے جو کہ تشویشناک ہے۔
سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ نے استحکام لانے کیلئے عہد کیا لیکن حالیہ برسوں میں بیرونی دنیا سے عدم استحکام اور افراتفری نے یورپ کو گھیر لیا ہے۔ یورپ نے ایک وقت میں کہا تھا کہ وہ ماضی کونہیںدہرائے گالیکن یہ وعدہ نبھانے میں وہ ناکام رہا۔ یورپ آج ایک خاموش تماشائی اور برا ملٹری ایکٹر ہے۔ اس کے برعکس فرانس اور برطانیہ مشرق وسطی کے سابق نوآبادیاتی طاقتیں ہیں اور وہ آج موجودہ وقت میں غیر اہم ہے،کسی فالج زدہ کی طرح وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے لیکن کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔
رقہ کی ہار کے بعد شام میں بحران گہرا گیا اور جنگ جیسی صورتحال میں تبدیل ہوگیا، یہ اب داخلی تنازعہ نہیں رہا، اس میں علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں ( روس، ایران، ترکی اور امریکہ) الجھ گئیں اور اگر کھلے طور نہیں تو درپردہ طور پر ، یہ بڑے کردار شام کی مدد نہیں کررہے ہیں بلکہ علاقائی کنٹرول حاصل کرنے کیلئے لڑرہے ہیں۔
چند ماہرین اس کا لبنان کے 15سالہ تنازعہ سے جوڑ رہے ہیں اور اور شام اس درپردہ جنگ کے مرکز میں کھڑا ہے۔
روس اور ایران جیسے سپانسر کی مداخلت کی وجہ سے نام نہاد اسلامک سٹیٹ (IS)بکھر گئی ہے ، صدر بشارالاسد ابھی بھی حکمران ہیں اوربا غیوں کوشکست دینے میں روس کامیاب ہوگیا اوربشارالاسد کو بچالیا۔ ترکی بھی اب میدان میں کود پڑا ہے اوراس نے کردش جنگجوﺅںسے لڑنے کیلئے افواج سرحد پر بھیج دیئے۔ حریف روس کو مارنے کیلئے امریکہ فاتح بن گیا اور ایران و اسرائیل کے درمیان دیرینہ تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ابھی شام کے بحران سے چھٹکارا نہیں ملا ہے۔
یہ تنازعہ ہر گزرتے دن اور 8برسوں سے بڑھتا ہی جارہا ہے ، اندرونی تنازعہ نے شام کی ہر ایک انچ کو یرغمال بناکے رکھ دیا ہے ۔ شام میں جنگ کے شعلے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ کیوں کوئی چھٹکارا نہیں ؟ بے شک ، اس کا جواب خارجی کرداروں کے پاس ہے ، جن کا شام میں پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ صدر بشارالاسد کیخلاف اٹھنے والی مقامی شورش اب یہ جنگ اسد کے حامیوں اور مخالفین میں بدل گئی ہے۔ اب یہ فرقہ پرستی کے رنگوں میں ڈھل چکی ہے اوراکثریتی سنی فرقہ کوصدر کے شیعہ علوی فرقہ کے خلاف جبکہ علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی اس تنازعہ کا حصہ بن گئیں۔ جہادی گروپ اسلامک سٹیٹ کے وجود میں آنے سے اس کے پہلو میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اسلامک سٹیٹ کی شکست کے بعدشام کے مستقبل کے بارے میں بیرونی طاقتوں میںمزید دراڑیں پڑ گئی ہیں ۔سابق امریکہ کے سیٹٹ سیکریٹری ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ کردش کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی فوج تب تک قیام پذیر رہینگی جب تک آئی ایس کا خطرہ موجود ہے اور جنگ کا کوئی حل نہیں نکل آتا۔
شام میں کرد کے زیر قبضہ علاقوں میں امریکی افواج کی موجودگی سے ناٹو کے اتحادی ترکی آگ بگولہ ہوگیا۔ پیپلز پروٹکشن یونٹس (YPG)جیسے گروپ امریکہ کے شریک کو ترکی دہشت گرد مانتی ہے جو شام میں کردش ملیشیا ہے ۔ جس وقت ٹلرسن نے شام کیلئے منصوبے کا اعلان کیا، ترکی نے شمال ۔ مغرب شام میں وائی پی جی کے زیر کنٹرول عفرین میں افواج بھیج کر حملہ کیا تاہم عفرین میں امریکی فوج موجود نہیں ہے ، ترکی نے دھمکی دی ہے کہ وہ منبج کی طرف مارچ کرے گا۔ امریکہ کے یہ کہنے سے کہ ملک کو ISسے پاک کرنے تک وہی رہے گا، اس پر روس آگ بگولہ ہوگیا جو عفرین میں ترکی کے حملہ کرنے کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس طاقت کے کھیل میں شام میں حالات مزید دگرگوں ہوگئے ہیں۔
شام اب داخلی معاملہ نہیں رہا، آمرحکمران کیخلاف ایک اور عرب بہار شروع ہونے سے درپردہ جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا جس میں علاقائی اور عالمی طاقتیں نبردآزما ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا اثرورسوخ کو قائم کرے جبکہ اس تنازعہ کے ترکی، روس ، امریکہ اور ایران کردار ہیں۔
شام میں ایران کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے اور لبنان کی درپردہ حزب اللہ کے ذریعہ ہتھیاروں کی ترسیل سے وہ اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ مشرق وسطی اب طاقت کے کھیل کا میدان جنگ بن چکا ہے۔ حزب اللہ ایران کا پشت پناہی والا ملی ٹنٹ گروپ ہے جو اسرائیلی قبضہ میں گولان پہاڑیوں کے قریب ہیں۔ ایران اور اسرائیل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتے اور علاقہ میں ایران کے اثرورسوخ سے اسرائیل میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خارجہ کرداروں کے ذریعہ طاقت کا کھیل
شام میںمرکزی عناصر کی وجہ سے تنازعہ میں اضافہ ہوا ہے جو علاقائی اور عالمی طاقتوں کیلئے مداخلت کاسبب بن گیا ، جن میںایران، روس، سعودی عربیہ اور امریکہ قابل ذکر ہے۔حکومت اور حزب اختلاف کیلئے ان ممالک کی فوجی ، مالی اور سیاسی امداد سے جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور شام ایک درپردہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا۔
جہادی گروپوں کی تقسیم اور ان کے فروغ کے سبب جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔ ’حیات تحریر ال شام‘ جوالقاعدہ سے جڑا ’النصرت فرنٹ‘ کا اتحادی تھا، شمال مغربی کے زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول ہے ۔ متبرک شیعہ زیارتوں کی حفاظت کیلئے ہزاروں شیعہ ملیشیا ، جو ایران، لبنان، عراق، افغانستان اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں ، وہ شام کی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑرہی ہیں۔
بھیس بدل کر ہر ایک ملک اپنے دشمنوں سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اور شام ایک آزاد میدان جنگ ہے۔ تنازعہ شروع ہوتے ہی ایران اسد حکومت کا زبردست حامی ہے اور اسے پیسوں، ہتھیاروں اور خفیہ اطلاعات کی فراہمی سے مدد کررہاہے۔ شام میں ایران کی مداخلت کو شیعیت کی حفاظت کرنے کے طور پر پیش کی گئی ہے۔ ایران اسد کو حکومت میں برقرار رکھنے کے حق میں ہے تاکہ تہران شام کو لبنان میں حزب اللہ کی مدد جاری رکھ سکے۔ اسد کے حامیوں کی ایران سے اچھی بنتی ہے اور وہ سعودی عربیہ کے مقابلہ میں ایران کو علاقائی لیڈرشپ کے طرفدار ہیں۔حزب اللہ کو جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے سے اسرائیل میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ اسے شام میں’مورچہ بندی‘ کہہ رہا ہے اور اس کا توڑ کرنے کیلئے اسرائیل نے درجنوں ہوائی حملے کئے۔
اکھاڑے کے میدان میں ایک اور کردار 2015میں روس بھی شامل ہوگیا اور اسد مخالف قوتوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے مدد کی۔ مشرق وسطی میںروس اپنا اثرورسوخ رکھنے کیلئےاسد کو اقتدار میں رکھنا چاہتا ہے اوراس کے بدلے وہ مغربی صوبہ لٹاکیا میںاہم فوجی اڈہ اور بندرگاہ کے شہر ٹاٹرس میںبحری اڈے کو محفوظ رکھنے کا خواہاں ہیں ۔ ماسکو کا بڑا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطی میں روس کی ساخت کومضبوط کیاجائے۔
شام کے نزدیک ہونے سے سعودی عربیہ کے سیاسی نظام پر اثر پڑسکتا ہے ، سعودی عرب دنیا ویسا ہی جیسے باقی دنیا کیلئے امریکہ ۔۔مڈل ایسٹ انکل سام۔ یہ خاموش نہیں رہا بلکہ اس نے شامی حکومت کے مخالفین کو رقومات اور ہتھیار فراہم کئے اور امریکہ کی قیادت والی بین الاقوامی اتحاد کے حصہ رہا ہے۔
لوگوں کا یہ یقین ہے کہ موجودہ وقت میں مسلمانوں کا بچانے والا فقط ترکی ہے۔ مسلمانوں کے مسائل خصوصی طور پر روہنگیائی مسلمانوں کی بودھوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے مظالم اور حالت زار اور اب معصوم شامیوں کیلئے ترکی نے یہ مسائل زورشور سے اٹھائے۔ ترکی باغیوں کا پُرجوش حامی رہا ہے تاہم ہمدرد ہونے کی آڑ میں وہ ’کردش پاپولر پروٹکشن یونٹس‘ (YPG) کیخلاف طاقت کا استعمال کیا جنہیں وہ اپنی خودمختاری اور سالمیت کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ جب میدان جنگ میں چھوٹے کھلاڑی ہیں تو بڑے بھائی (امریکہ) کو یہ نہیں لگتا کہ وہ ہٹ جائیگا اور امریکہ خدا کی طرح قادر مطلق دکھنا چاہتا ہے۔
جہاں کہیں بھی تنازعہ ہوتا ہے ، وہاں امریکہ ہوگا۔ اس کا مرکزی مقصدشام میں ISکی تباہی اور دیگر سخت گیر گروپوں کا خاتمہ ہے۔ شامی حکومت کا مخالفین کیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے ہٹ کر ٹرمپ انتظامیہ اسد حکومت کے متعلق مشکوک ہے۔ جب تک خارجی عناصر طاقت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں، شام خون خرابے سے آزاد نہیں ہوگا۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا10 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
ہندوستان11 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا6 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا13 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا5 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا5 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر4 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر4 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا3 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
