جموں و کشمیر
طویل عرصے کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی جموں وکشمیر آمد میں اضافہ درج: منوج سنہا
سری نگر، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ امسال طویل عرصے کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی جموں وکشمیر آمد میں اضافہ درج ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یونین ٹریٹری میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 59 فیصد اضافہ درج ہوا ہے اوربعض ملکوں کی طرف سے عائد منفی ٹراول ایڈوئزری کی بھی جلد ختم ہونے کی امید ہے۔
موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز یہاں بخشی اسٹیڈیم میں یوم آزادی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘امسال اب تک ایک کروڑ 27 لاکھ سیاحوں نے جموں و کشمیر کی سیر کی ہے جن میں غیر ملکی سیاحوں کی ایک اچھی تعداد شامل ہے امسال غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 59 فیصد اضافہ درج ہوا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘امسال ماہ مئی کے اواخر میں سری نگر میں منعقدہ کامیاب جی ٹونٹی اجلاس سے جموں وکشمیر کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس میں شرکت کرنے والے 27 ممالک کے نمائندے ایک مثبت پیغام لے کر واپس اپنے اپنے ملک گئے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو ایک پر امن جگہ اور قدرتی خوبصورتی کی جگہ کے بطور تسلیم کیا گیا ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ امسال جاری شری امرناتھ یاترا میں نہ صرف ملک کے گوشہ و کنار کے یاتری بلکہ غیر ملکی یاتری حصہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘آج جموں وکشمیر کو ایک بدلے ہوئے جموں وکشمیر کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ وہ تبدیلی اور پر امن ماحول ہے جو یہاں گذشتہ چار برسوں سے قائم ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘مجھے امید ہے کہ بعض ممالک جنہوں نے منفی ٹراول ایڈوائزریاں عائد کی ہیں ان کو بہت جلد ہٹا دیں گے’۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ یہاں عام لوگ اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہماری کوشش ہے کہ یہاں کا ہر باشندہ اپنی مرضی کے مطابق، کسی بھی قسم کے دبائو یا پریشانی کے بغیر اپنی زندگی گذارے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جب میں نے تین سال قبل جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے اپنا عہدہ سنبھالا میں کوئی وعدہ نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ میں وعدوں کو پورا کرنے کے لئے آیا ہوں’۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری انتظامیہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ہم جموں و کشمیر کے امن، خوشحالی اور ترقی کے لئے پر عزم ہیں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر میں آج نئے روڈ، ریل لائنز، نئے بجلی پرجیکٹ ائیر پورٹ ٹرمنل، سنیما ہال، ریور فرنٹ بن رہے ہیں اور ابھی بھی کافی کچھ کرنا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ یونین ٹریٹری کے ایک کروڑ 30 لاکھ لوگوں کے مستقبل کو سنوارنے سنبھالنے کے کام میں مصروف عمل ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ سیکورٹی فورسز ملی ٹنسی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے اور اس کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کرنے کے لئے سخت کاوشوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ہماسیہ ملک کی مدد سے حمایت یافتہ دہشت گردی نے ہمارے معاشرے میں کینسر کا کام کیا اور ہم جموں وکشمیر کو دہشت گردی سے صاف پاک بنانے کے لئے پر عزم ہیں’۔
سرحدوں کی حفاظت کے دوران اپنی جانیں نچھاور کرنے والے سیکورٹی فورسز اہلکاروں کا خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے پہاڑ ہمارے جوانوں کی بیش بہا قربانیوں کے گواہ ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘میں آج شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کے اہلخانہ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پورا جموں و کشمیر اور قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے’۔
جموں و کشمیر میں رونما ہوئی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب تک امسال ایک کروڑ 27 لاکھ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی ہے۔
موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا پر امن طریقے سے جاری و ساری ہے۔
انہوں نے کہا: ‘امسال 34 برسوں کے بعد سری نگر میں روایتی سڑکوں پر محرم جلوس بر آمد کیا گیا کشمیر میں سیاحوں کے لئے ہوم سٹریز دستیاب ہیں، فلم پالیسی بن گئی ہے، اور جموں وکشمیر میں 300 نئے سیاحتی مقامات کو سامنے لایا جا رہا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مختلف میدانوں میں آگے بڑھنے کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی کا امرت کال جو سال 2047 میں ہوگا اس وقت جموں وکشمیر کو ملک کے بہتریں ترقی پذیر مقامات میں شمار کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں روزانہ 20 لاکھ ای ٹرانزیکشن ہوتے ہیں جو اسے ڈیجیٹل طور پر تبدیل شدہ جگہوں کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل کشمیر بھر میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات
سری نگر، 15 اگست کو یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر سری نگر اور وادیٔ کشمیر کے دیگر علاقوں میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سری نگر میں جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بخشی اسٹیڈیم میں قومی پرچم لہرائیں گے، سکیورٹی فورسز نے تقریب کے مقام اور اس سے متصل علاقوں میں سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس وی کے بردی نے منگل کو کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کو خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے نہ صرف مرکزی مقام بلکہ پورے شہر اور وادی کے مختلف اضلاع میں بھی وسیع سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
بردی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، 15 اگست کو سری نگر میں مرکزی تقریب منعقد ہونے والی ہے۔
اس کے لیے سکیورٹی انتظامات اور پریڈ کی تیاریاں جاری ہیں۔ مکمل لباس میں ریہرسل کی جا رہی ہیں تاکہ 15 اگست کی مرکزی تقریب سری نگر میں بخوبی منعقد کی جا سکے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے پوری وادی میں کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر پولیس نے نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ یہ انتظامات صرف تقریبات کے مقامات تک محدود نہیں ہیں بلکہ شہر کے اطراف بھی کیے گئے ہیں۔ اس بار بھی اسی طرح کے انتظامات کیے گئے ہیں۔‘‘
جنوبی کشمیر میں حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ دہشت گردانہ حملوں یا دیگر خطرات کے بارے میں کسی پیش رفت کے متعلق پوچھے جانے پر بردی نے کہا کہ معاملہ زیرِ تفتیش ہونے کی وجہ سے اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔ اس لیے میرے خیال میں ابھی اس کی تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
جب بھی ایسی کوئی بات ہوگی جسے آپ کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوگا، ہم مناسب وقت پر آپ کو اس سے آگاہ کریں گے۔‘‘
یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران عوام کے لیے پولیس کے پیغام کے بارے میں بردی نے کہا کہ یہ تقریب عوام کی ہے اور انہوں نے شہریوں سے بڑی تعداد میں تقریبات میں شرکت کرنے کی اپیل کی۔
آئی جی پی نے کہاکہ ’’دیکھیے، یہ عوام کی تقریب ہے۔ پولیس اس میں مددگار یا منتظم کا کردار ادا کرتی ہے۔ چونکہ یہ عوام کی تقریب ہے، اس لیے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں اور اسے کامیاب بنائیں۔‘‘
دریں اثنا، منگل کو سکیورٹی اداروں نے یومِ آزادی کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت سری نگر بھر میں تخریب کاری مخالف جانچ، علاقے میں غلبہ قائم کرنے کی کارروائیوں، نگرانی اور تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دیں۔
کئی چیک پوسٹوں پر دو پہیہ گاڑیوں کو روکا گیا اور سواروں کی شناخت کی تصدیق کے ساتھ ان کی تلاشی بھی لی گئی۔
یواین آئی۔ـظ ا
جموں و کشمیر
یومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
جموں، آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات کے پیش نظر آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے، سکیورٹی انتظامات کو مضبوط بنانے اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کو یقینی بنانے کے لیے جموں و کشمیر پولیس نے منگل کو سامبا ضلع کے سرحدی علاقوں میں طویل فاصلے کی گشت (ایل آر پی) اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کا انعقاد کیا۔
عہدیداروں کے مطابق اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی)، سامبا نے جموں-پٹھان کوٹ قومی شاہراہ پر جٹوال سے لالہ چک تک طویل فاصلے کی گشت کی۔
انہوں نے بتایا کہ گشت کے بعد سرحدی سڑک پر واقع بی پی پی لالہ چک میں فرضی مشق کی گئی، جس کا مقصد فرضی دہشت گردانہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے حصہ لینے والے اہلکاروں کی تیاری کا جائزہ لینا تھا۔ مشق کے دوران دو فرضی دہشت گردوں کو تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’فرضی خطرے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ایس او جی کے اہلکاروں نے علاقے کو مناسب طریقے سے گھیرے میں لے لیا اور دونوں فرضی دہشت گردوں کو کامیابی سے بے اثر کر دیا۔‘‘
عہدیداروں نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد ایس او جی سامبا اور بی پی پی لالہ چک کے حصہ لینے والے اہلکاروں کے ردعمل کے نظام، باہمی تال میل، حربی تیاری اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔
ایس ایس پی سامبا نے پولیس کی جانب سے مضبوط سکیورٹی انتظامات برقرار رکھنے اور عوام کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر آئندہ یومِ آزادی کی تقریبات اور جاری شری امرناتھ یاترا کے پیش نظر۔
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
-
دنیا23 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا22 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا4 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا21 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا19 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا4 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر21 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا4 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
