دنیا
مسلم ممالک غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کی بجائے اسرائیل سے تعلقات ختم کریں: ایرانی سپریم لیڈر
تہران، ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اسلامی ممالک سے کہا ہےکہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کے بجائے اسرائیل سے تعلقات ختم کریں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی ممالک کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ گمراہ کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو جنگ بندی کی وکالت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کے بس سے باہر ہے بلکہ تمام اسلامک ممالک کو وہ اقدام لینا چاہیے جو ان کے اختیار میں ہے۔
علی خامنہ ای کا کہنا تھاکہ اسلامی ممالک کو چاہیے کہ وہ صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کر لیں اور اس حکومت کی مدد نہ کریں۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے 25 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
صنعا، یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے الزام عائد کیا ہے کہ حوثی باغیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر المخا (موکا) اور وسطی شہر مارب کے رہائشی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کیے ہیں۔
یمنی فوج کے مطابق پیر کو کیے گئے ان حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ حملے حوثیوں کی جانب سے ایک روز قبل المخا اور اس کی بندرگاہ پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد ہوئے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے تھے۔ حملوں سے بندرگاہی علاقے کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی وسطی صوبے شبوا میں حوثیوں کے ڈرون حملے میں یمنی حکومت کے دو فوجی ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔
یمنی فورسز نے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی الجوف، شمال مغربی صعدہ اور وسطی مارب کے علاقوں میں حوثیوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
یمن میں فریقین کے درمیان حالیہ جھڑپوں کو کئی برسوں میں ہونے والی شدید ترین کشیدگی قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن کو اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد سے بڑے پیمانے پر دوبارہ جنگ چھڑنے کا سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی سے 2022 کی جنگ بندی سے حاصل ہونے والی پیش رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یمن ایک وسیع تر علاقائی تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے، جس کے ملک کے عوام کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
دنیا
آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
ویانا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی جانے والی نئی شرائط نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت پیر کو ایک فیصد سے زیادہ بڑھ گئی۔ تہران کے اس مؤقف نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اہم مراعات دیے جانے تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق صبح 7:30 بجے اکتوبر کے لیے برینٹ خام تیل کے فی بیرل مستقبل کے سودوں کی قیمت 84.11 ڈالر تھی، جو 0.7 فیصد زیادہ ہے۔
حالیہ اضافے کے بعد عالمی بینچ مارک کی قیمت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں قائم کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر نے الجزیرہ کو بتایا، ’’ٹھوس پیش رفت نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی معاہدے کی عملی تفصیلات سے متعلق سوالات اب بھی موجود ہیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں خطرے کا اضافی عنصر برقرار ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہر گزرتا دن جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوتی، تاجروں کو مزید محتاط بنا رہا ہے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک معاہدے کے قریب ہیں، تاہم واشنگٹن کی جانب سے تہران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور جنگی نقصانات کی تلافی سمیت بعض شرائط پوری کیے جانے تک یہ آبی گزرگاہ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی رسد آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، لیکن فروری کے اواخر میں تنازع شروع ہونے کے بعد سے اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت تقریباً مکمل طور پر رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں ریکارڈ شدہ تاریخ میں توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق 4، 5 اور 6 اگست کو آبنائے ہرمز سے صرف 8 سے 15 بحری جہاز گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔
ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اسے آبنائے میں بحری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کا حق حاصل ہے، حالانکہ بین الاقوامی بحری قانون میں سمندری راستوں سے آزادانہ آمدورفت کو بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے غیر منظور شدہ راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہفتے کے روز متحدہ عرب امارات نے تہران کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کی ملکیت والے ایک بحری جہاز پر میزائل حملہ کیا۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں تجارتی بحری جہازوں سے متعلق کم از کم 64 پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے زیادہ تر واقعات کا الزام ایران پر عائد کیا گیا ہے۔
توانائی کی منڈیوں میں دوبارہ بڑھتی ہوئی بے یقینی کے باوجود ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو تیزی دیکھی گئی۔ جاپان، جنوبی کوریا اور ہانگ کانگ کے اہم انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جاپان کے نکی 225 انڈیکس میں 2.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.65 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں یہ تیزی جمعے کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچنے کے بعد سامنے آئی۔
توقعات سے کمزور امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوئے ہیں۔
کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹم واٹرر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ اس بات پر مارکیٹ کے شکوک کی عکاسی کرتا ہے کہ مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے قابلِ عمل معاہدہ کتنی جلد طے کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اگر بالآخر کسی معاہدے کا اعلان بھی ہو جاتا ہے تو تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مفاہمتیں نازک ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’معاہدہ ہونے کے باوجود دوبارہ صورتحال بدل جانے کا جو خطرہ برقرار رہے گا، اس کے باعث سفارتی پیش رفت کی صورت میں بھی تیل کی قیمتوں میں کمی محدود رہنے کا امکان ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا18 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان23 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا23 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا17 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا17 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا15 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر16 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر16 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا7 minutes agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
