ہندوستان
جامع، اختراعی، ترقی یافتہ ہندوستان کی ضمانت کا بجٹ ہے: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2024-25 کے عبوری بجٹ کو جامع اور اختراعی قرار دیا اور کہا کہ بجٹ میں 2047 کے ترقی یافتہ ہندوستان کی ضمانت ہے۔
عبوری بجٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر مودی نے جمعرات کو کہا کہ آج کا یہ عبوری بجٹ ایک جامع اور اختراعی بجٹ ہے۔ اس بجٹ میں تسلسل کا یقین ہے۔ یہ بجٹ ترقی یافتہ ہندوستان کے چاروں ستونوں – نوجوان، غریب، خواتین اور کسانوں کو بااختیار بنائے گا۔ یہ بجٹ ملک کے مستقبل کی تعمیر کا بجٹ ہے۔ یہ بجٹ 2047 کے ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد کو مضبوط کرنے کا ضامن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں، نوجوان ہندوستان کی آرزوؤں کی، ہندوستان کی ینگ ایسپریشنز کی عکاسی ہے۔ بجٹ میں دو اہم فیصلے لیے گئے ہیں۔ ریسرچ اور انوویشن پر ایک لاکھ کروڑ روپے کا فنڈ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں اسٹارٹ اپس کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ کی توسیع کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس بجٹ میں مالی خسارہ کو قابو میں رکھتے ہوئے کیپٹل ایکسپینڈیچر کو 11 لاکھ 11 ہزار 111 کروڑ روپے کی تاریخی اونچائی عطا کی گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کی زبان میں کہیں تو یہ ایک طرح سے ’سویٹ اسپاٹ‘ ہے۔ اس سے ہندوستان میں 21ویں صدی کے جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ہی نوجوانوں کے لیے بے شمار روزگار کے نئے مواقع تیار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں وندے بھارت اسٹینڈرڈ کی 40 ہزار جدید بوگیاں بنا کر، انہیں عام مسافر ٹرینوں میں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے ملک کے الگ الگ ریل روٹ پر کروڑوں مسافروں میں آرامدہ سفر کا تجربہ بڑھے گا۔
مسٹر مودی نے کہا، ’’ہم ایک بڑا ہدف طے کرتے ہیں، اسے حاصل کرتے ہیں اور پھر اس سے بھی بڑا ہدف اپنے لیے طے کرتے ہیں۔ غریبوں کے لیے ہم نے گاؤوں اور شہروں میں 4 کروڑ سے زیادہ گھر بنائے ہیں۔ اب ہم نے 2 کروڑ مزید نئے گھر بنانے کا ہدف طے کیا ہے۔ ہم نے 2 کروڑ خواتین کو لکھ پتی دیدی بنانے کا ہدف طے کیا تھا۔ اب اس ہدف کو بڑھا کر 3 کروڑ لکھ پتی دیدی بنانے کا کر دیا گیا ہے۔ آیوشمان بھارت یوجنا نے غریبوں کی بہت مدد کی ہے۔ اب آنگن واڑی اور آشا ورکر، ان سب کو اس اسکیم کا فائدہ حاصل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں غریب اور متوسط طبقہ کو بااختیار بنانے، ان کے لیے آمدنی کے نئے مواقع بنانے پر بھی بہت زور دیا گیا ہے۔ روف ٹاپ سولر مہم میں ایک کروڑ خاندانوں کو سولر روف ٹاپ کے توسط سے مفت بجلی حاصل ہوگی۔ اتنا ہی نہیں، سرکار کو اضافی بجلی بیچ کر لوگوں کو 15 سے 20 ہزار سالانہ کی آمدنی بھی ہوگی اور یہ ہر فیملی کو ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ میں جس انکم ٹیکس رمیشن اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے، اس سے متوسط طبقہ کے قریب ایک کروڑ لوگوں کو بڑی راحت ملے گی۔ سابقہ حکومتوں نے عام لوگوں کے سر پر دہائیوں سے یہ بہت بڑی تلوار لٹکا رکھی تھی۔ آج اس بجٹ میں کسانوں کے لیے بھی بہت اہم اور بڑے فیصلے لیے گئے ہیں۔ نینو ڈی اے پی کا استعمال ہو، مویشیوں کے لیے نئی اسکیم ہو، پی ایم متسیہ سمپدا یوجنا کی توسیع ہو، اور آتم نربھر تلہن مہم ہو، اس سے کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور اخراجات میں کمی آئے گی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا21 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا19 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا17 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر19 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا2 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر18 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا2 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
