تازہ ترین
آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت ، کشمیر تجارتی نجمن
خبر اردو
وادی سے تعلق رکھنے والی تجارت و صنعت کی 27انجمنوں نے مشترکہ طور پر آرٹیکل 35Aکا دفاع کرنے کا عہد کرتے ہوئے کہا کہ اگر فورم کو ریاست کی خصوصی شناخت کے لیے گولیاں بھی کھانی پڑیں تو اس سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے معاملے کو برخواست کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے ریاست میں پہلے سے لگی آگ میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس موقعہ پر مشترکہ فورم نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے5اور 6اگست کو دی گئی ہڑتالی کال کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
آرٹیکل 35Aکے دفاع نے سوموار کو اُس وقت مزید رفتار حاصل کی جب کشمیر سے تعلق رکھنے والی تجارتی، صنعتی اور سیاحتی انجمنوں کی 27انجمنوں کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران ریاست کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی شق35Aکا تحفظ یقینی بنانے کا عہد کیا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران تجارتی انجمنوں کے نمائندوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ آرٹیکل 35Aکے کیس کو ہمیشہ کے لیے برخواست کریں بصورت دیگر ریاست میں حالات انتہائی خراب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر پہلے سے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور ہر سو خونین کھیل جاری ہے لہٰذا ایسے حالات میں ریاست کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی شق آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پہلے سے ہی حالات دگرگوں ہے لہٰذا سپریم کورٹ کو مذکورہ معاملے کو ہمیشہ کے لیے برخواست کرنا چاہیے تاکہ ریاست جموں وکشمیر مزید آگ کی نذر نہ ہوجائے۔
انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ انتہائی بھیانک نتائج بپا کرے گی جس کی ریاست متحمل نہیں ہے۔ اس موقعہ پر تجارتی انجمنوں کے نمائندوں نے مشترکہ مزاحمی قیادت کی جانب سے 5اور 6اگست کو دی گئی ہڑتالی کال کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات میں ریاست کے سبھی لوگوں کر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ریاست کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئینی شق کی حفاظت کے لیے سامنے آئے جس کے لیے 27انجمنوں کا یہ فورم مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتالی اور احتجاجی کال کی مکمل حمایت کا اعلان کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے تجارتی انجمنوں سے وابستہ ممبران ریاست کی آئینی حیثیت کے تحفظ کی خاطر مختلف سطحوں پر احتجاج کرے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران کشمیر ٹریڈرس اینڈ منوفیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر محمد یاسین خان نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کی آئینی شناخت کے تحفظ کی خاطر یہاں کی تجارتی انجمنیں گولیاں کھانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر نئی دہلی نے ریاست کی خصوصی حیثیت کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ عمل میں لائی تو ریاست کے خلاف عین جنگ ہوگا۔ ٹریڈ لیڈر نے بتایا کہ آرٹیکل 35Aکا دفاع ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دیے گئے احتجاجی پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد یاسین خان نے بتایا کہ وادی سے تعلق رکھنے والے تجار، ہوٹل مالکان اور ٹرانسپورٹ طبقہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئی دہلی مذموم طریقے سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی درپے ہیں لیکن ہم لوگ اس کی قطعی اجازت نہیں دیں گے۔
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا21 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا19 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا17 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر19 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر19 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
-
دنیا2 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا2 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
