تازہ ترین
پنچایتی انتخابات کے لئے 9مرحلوں پر مشتمل شیڈول جاری
خبراردو:
ریاست میں پنچایتی انتخابات کو منعقد کرانے کے حوالے سے چیف الیکٹورل آفیسر نے اتوار کو شیڈول جاری کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات 9مرحلوں میں مکمل کئے جائیں گے۔ سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکٹورل آفیسر شلین کبرا نے بتایا کہ 316بلاکس میں 4490پنچایتی حلقوں میں انتخابات 17نومبر سے11دسمبر کے دوران 9مرحلوں میں مکمل کئے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں گزشتہ پنچایتی انتخابات سال 2011میں منعقد کئے گئے تھے۔چیف الیکٹورل آفیسر نے بتایا کہ انتخابات سے متعلق شیڈول کو جاری کرنے کے ساتھ ہی ریاست جموں وکشمیر میں ضابطہ اخلاق کا اطلاق عمل میں آیا ہے جس کا نفاذ پنچایتی حلقہ انتخابات، اُمیدواروں، سیاسی پارٹیوں اور حکومت پر عائد ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے دوران بیلٹ بکس کا استعمال کیا جائے گا جس کے لیے صبح 8بجے سے دوپہر 2بجے تک ووٹنگ عمل جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ لوگ الیکشن کے دوران پنچ اور سرپنچ کے لیے الگ الگ ووٹ ڈال سکتے ہیں جس کے لیے پولنگ بوتھوں پر دو الگ الگ رنگوں کے بیلٹ بکس موجود ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ پنچایتی انتخابات کو احسن اور پرامن طریقے سے منعقد کرنے کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ بوتھوں کی نشاندہی ڈسٹرکٹ پنچایت الیکشن افسر کی مدد سے عمل میں لائی گئی ہے۔شلین کبرا نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ انتخابی عمل سے متعلق ادارے نے 58لاکھ12ہزار429پولنگ پرچیاں اردو اور انگریزی زبان میں چھاپی ہیں تاکہ ووٹ ڈالنے والوں کو بہ آسانی پولنگ سنٹروں سے متعلق تفصیلات سمجھ میں آجائیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران ووٹر شناختی کارڈ اپنے ساتھ لازمی رکھنا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات کو صاف اور شفاف بنیادوں پر منعقد کرنے کے لیے بڑی تعداد میں مشاہدہ کاروں کو تعینات کرے گی تاکہ کسی بھی جگہ دھاندلی کا کوئی واقع پیش نہ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ مشاہدہ کاروں کو اس حوالے سے سخت ہدایات کی جائیں گی تاکہ انتخابات کے دوران کسی بھی شخص کو ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت نہ دی جائے۔
انہوں نے بتایا کہ وادی سے باہر رہائش پذیر مائیگرنٹ پنڈتوں کے لیے بھی خصوصی طور پر پوسٹل بیلٹس کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ وہ بھی انتخابات میں اپنا رول اداکریں۔ انہوں نے بتایا کہ جموں، دہلی اور دیگر شہروں میں جہاں جہاں بھی مائیگرینٹ پنڈتوں کی آبادی رہائش پذیر ہے ان کے لیے وہاں پوسٹل بیٹلس کا خصوصی انتظام کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ9مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ بالترتیب 30اکتوبر، 2,5,8,10,13,16,19اور 22نومبر ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ پنچایتی انتخابات 9مرحلوں میں مکمل کی جائی گی جس کے لیے 17,20,24,27,29نومبر اور 1,4,8,11دسمبر طے کئے گئے ہیں۔شلین کابرا نے مزید بتایا کہ اسی روزکاؤنٹنگ کا عمل میں مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران تمام نازک واقعات کو عکس بند کیا جائے گا جس کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر وڈیو گرافروں کی تعداد مہیا کریں گے۔
ہندوستان
سندوش کمار نے نِرملا سیتارمن کے تبصرے راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمنٹ پی سندوش کمار نے وزیر خزانہ نِرملا سیتارمن کے ذریعہ پارلیمنٹ میں کمیونسٹ تحریک کے خلاف کیے گئے مبینہ قابلِ اعتراض تبصروں کو راجیہ سبھا کے ریکارڈ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے اس سلسلے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔
مسٹر کمار نے کہا کہ انکم ٹیکس (ترمیم) آرڈیننس 2026 کو منسوخ کرنے کے مطالبے پر ہونے والی بحث کے دوران وزیر خزانہ نے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس کے حوالے سے کمیونسٹوں کو “ٹوٹل کائر” بتاتے ہوئے پوری کمیونسٹ تحریک پر تبصرہ کیا۔ سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے ان تبصروں پر سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی اہانت یا کسی پوری سیاسی تحریک کی تذلیل تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کمیونسٹوں نے ملک کی جدوجہدِ آزادی میں حصہ لیا، جیل گئے اور انگریزی حکومت کے مظالم اور جبر کا سامنا کیا نیز جمہوریت، مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں اہم قربانیاں دیں۔
سی پی آئی کے رکنِ پارلیمنٹ نے چیئرمین سے پارلیمانی ضوابط اور قائم کردہ روایتوں کے مطابق قابلِ اعتراض تبصروں کو سرکاری ریکارڈ سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تلخ سیاسی بحث تو قابلِ قبول ہے لیکن کسی نظریے یا سیاسی تحریک کے خلاف ذاتی اہانت اور قابلِ اعتراض تبصرے مناسب نہیں ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا احتجاج
نئی دہلی، کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ نے چڑھاوا چوری اور طلبہ پر پولیس کارروائی کے معاملے پر حکومت سے جواب طلب کرنے کے اپنے مطالبات کی حمایت میں منگل کے روز پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا۔
مظاہرین ارکانِ پارلیمنٹ ہاتھوں میں بینرز اور تختیاں تھامے حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔ احتجاجی ارکانِ پارلیمنٹ وزیرِ داخلہ امت شاہ سے پولیس کارروائی پر جواب دینے اور چڑھاوا چوری کے معاملے کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بارش کی بوچھاڑوں کے درمیان احتجاج کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو، اودھیش پرساد، ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، شیو سینا (ادھو گروپ) اور دیگر کئی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ موجود تھے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا21 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا20 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا20 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
دنیا18 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا3 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
جموں و کشمیر19 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا3 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا3 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
جموں و کشمیر19 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
