تازہ ترین
امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ
تحریر رفیق احمد راتھر
ملک کے سابق وزیر داخلہ اور ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کو ان کی آٹھویں برسی کے موقع پر یاد کرنا محض ایک سیاسی رہنما کی یاد منانا نہیں، بلکہ ایک ایسی سیاست کا سنجیدہ محاسبہ کرنا ہے جو اقتدار کے بجائے امکان پر یقین رکھتی تھی۔ وہ امکان جو مکالمے، مفاہمت اور انسان دوستی سے جڑا ہوا تھا، مگر جس کی قیمت سیاسی نقصان، عوامی ناراضگی اور ذاتی تنقید کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ مفتی محمد سعید ان چند سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے آسان اور مقبول فیصلوں کے بجائے مشکل اور غیر مقبول راستے کا انتخاب کیا۔
جموں و کشمیر کی سیاست طویل عرصے سے تصادم، بداعتمادی اور طاقت کے استعمال کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مفتی محمد سعید نے سیاست کو محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ریاستی طاقت وقتی نظم تو قائم کر سکتی ہے، مگر پائیدار امن صرف عوامی اعتماد، مکالمے اور عزتِ نفس کے اعتراف سے ہی ممکن ہے۔ یہی سوچ ان کے سیاسی فلسفے کی بنیاد بنی۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا قیام اسی فکری پس منظر کا عملی اظہار تھا۔ مفتی محمد سعید نے ایک ایسی جماعت کی بنیاد رکھی جو دہلی اور کشمیر کے درمیان اعتماد کے پل بنانے کی بات کرتی تھی۔ Human” Approach،”
“Reconciliation” اور عوامی شمولیت جیسے تصورات اس وقت سیاست میں متعارف کرائے گئے جب سخت گیر رویّے اور طاقت کی زبان غالب تھی۔ یہ ایک مختلف اور جراتمندانہ بیانیہ تھا، جس نے عوام میں امید اور اعتماد کو جنم دیا۔
یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مفتی محمد سعید نے جموں و کشمیر میں ایک مضبوط اور نظریاتی سیاسی متبادل ایسے وقت میں کھڑا کیا، جب حکمران نیشنل کانفرنس کے خلاف بات کرنا بھی خود کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ طویل اقتدار، ادارہ جاتی اثر و رسوخ اور سیاسی اجارہ داری کے ماحول میں پی ڈی پی کا قیام دراصل کشمیری عوام کو ایک سیاسی استحصال سے نجات دلانے کی کوشش تھی۔ مفتی محمد سعید نے خوف کی سیاست کو چیلنج کیا اور عوام کو یہ احساس دلایا کہ متبادل سیاست نہ صرف ممکن ہے بلکہ ضروری بھی۔
2002 کا سال مفتی محمد سعید کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ محض سولہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود کانگریس کے ساتھ حکومت بنانا جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک انوکھا اور جراتمندانہ واقعہ تھا۔ عددی کمزوری کے باوجود یہ حکومت آج بھی ایک کامیاب، شفاف اور عوام دوست حکومت کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ اس دور میں پہلی بار عام شہری کو راست کاری، تعمیر و ترقی اور سب سے بڑھ کر جانی و مالی تحفظ کا حقیقی احساس ہوا۔ خوف کی فضا میں کمی، پولیس اور سکیورٹی نظام کو انسانی چہرہ دینا اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے کیے گئے اقدامات آج بھی ایک معیار سمجھے جاتے ہیں۔
اسی دور میں لائن آف کنٹرول کے آرپار روابط، بس سروس اور تجارتی امکانات کا آغاز ایک تاریخی پیش رفت تھی۔ ریاست کو آرپار جوڑنے کا یہ تصور محض سفری سہولت نہیں بلکہ بکھرے ہوئے خاندانوں، منقسم دلوں اور منجمد رشتوں کو جوڑنے کی ایک انسانی کوشش تھی۔ یہ وہ کارنامہ تھا جسے دہائیوں تک نیشنل کانفرنس سمیت بڑی جماعتیں اپنی طویل حکمرانی کے باوجود عملی شکل نہ دے سکیں۔ مفتی محمد سعید نے ثابت کیا کہ نیت ہو تو محدود مینڈیٹ بھی بڑے فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔
کانگریس کے ساتھ حکومت سازی کا یہ تجربہ مجموعی طور پر سودمند ثابت ہوا۔ اسی تجربے نے مفتی محمد سعید کو یہ اعتماد دیا کہ اگر نیت واضح ہو تو متضاد نظریات کے باوجود بھی حکومت کو عوامی مفاد میں چلایا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ مرکز میں اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بھی نسبتاً مثبت، متوازن اور سیاسی استحکام کا حامل تھا۔ واجپائی دور میں جموں و کشمیر کے حوالے سے مکالمے اور مفاہمت کی جو گنجائش موجود تھی، اس نے مفتی محمد سعید کے اس یقین کو تقویت دی کہ مرکز میں برسرِ اقتدار جماعت کے ساتھ شراکت ریاست کے لیے کچھ بہتر امکانات پیدا کر سکتی ہے۔ یہی پس منظر بعد کے برسوں میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی سوچ کا باعث بنا۔
تاہم بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی ان کے سیاسی سفر کا سب سے جراتمندانہ، متنازع اور تاریخی فیصلہ ثابت ہوا۔ نظریاتی طور پر یہ اتحاد آسان نہ تھا۔ ایک طرف بی جے پی کا سخت قومی بیانیہ، دوسری طرف پی ڈی پی کا نرم، انسان دوست اور کشمیر مرکز نقطۂ نظر’ یہ تضاد سب پر عیاں تھا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کے دو خطوں، جموں اور کشمیر، سے ملنے والے متضاد مینڈیٹ کی حقیقت بھی اس فیصلے میں شامل تھی۔ مفتی محمد سعید کے نزدیک اس مینڈیٹ کی قدر اور اس کا احترام ایک مشترکہ حکومت کے ذریعے ہی ممکن تھا۔
وہ بخوبی جانتے تھے کہ یہ فیصلہ ان کی جماعت اور ووٹرز کے لیے شدید ذہنی صدمے کا باعث بنے گا، مگر انہوں نے یہ قدم کسی اقتدار کی لالچ میں نہیں اٹھایا۔ وزیر اعلیٰ بننا ان کے لیے کوئی نیا یا غیر معمولی اعزاز نہیں تھا۔ اصل محرک یہ سوچ تھی کہ اگر مرکز میں طاقت کے اصل سرچشمے کے ساتھ براہِ راست سیاسی شراکت قائم ہو جائے تو شاید کشمیر کے لیے انسانی اور سیاسی ریلیف کا کوئی راستہ نکل سکے۔ ان کے نزدیک یہ اتحاد اقتدار کا نہیں بلکہ امکان کا انتخاب تھا۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس فیصلے کا پی ڈی پی کو بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ پارٹی کا نظریاتی تشخص مجروح ہوا، کارکنان بددل ہوئے اور عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگا۔ مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ مفاہمت، مصلحت میں بدل گئی ہے۔ مفتی محمد سعید کی ذات اور نیت پر بھی سوال اٹھائے گئے، مگر اس تمام دباؤ کے باوجود انہوں نے مکالمے کے دروازے بند نہیں کیے۔
بدقسمتی سے موجودہ مرکزی سرکار کے سخت گیر، غیر لچکدار اور طاقت پر مبنی رویّے نے اس مفاہمتی تصور کو کمزور کر دیا جس کی بنیاد پر مفتی محمد سعید نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ یوں یہ سیاسی تجربہ اپنی مکمل روح کے ساتھ کامیاب نہ ہو سکا، اور اس ناکامی کی قیمت سب سے زیادہ خود پی ڈی پی اور مفتی محمد سعید کو ادا کرنی پڑی۔
تاہم سیاست کو صرف کامیابی اور ناکامی کے سادہ پیمانے پر پرکھنا ایک محدود سوچ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے میں جرات تھی؟ اور جواب واضح ہے—ہاں۔ مفتی محمد سعید نے وہ راستہ اختیار کیا جس پر چلنے سے اکثر سیاست دان کتراتے ہیں۔
آج، جب جموں و کشمیر ایک بار پھر غیر معمولی سیاسی اور آئینی دور سے گزر رہا ہے، مفتی محمد سعید کی فکر پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔ ان کا ورثہ محض ایک جماعت یا ایک خاندان تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری معیار اور اخلاقی پیمانہ ہے۔ وہ اقتدار کے اسیر نہیں تھے، وہ امکان پر یقین رکھتے تھے—چاہے اس کی قیمت انہیں خود کیوں نہ چکانی پڑے۔ یہی ان کی اصل جرات تھی، اور یہی ان کی سیاست کا حقیقی حاصل۔
مصنف پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری ہیں اور اس سے قبل ٹریڈ یونین لیڈر اور تعلیمی ماہر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ہندوستان
ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدہ جلد مکمل ہونے کی امید: نرملا سیتارمن
نئی دہلی، مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے جمعہ کو امید ظاہر کی کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا جلد حتمی شکل اختیار کرنا دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات اور عالمی تجارت کے مفاد میں ہوگا۔ تھائی لینڈ کے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ”عالمی تجارت اور ہندوستان و امریکہ کے درمیان تجارت کے مفاد میں میری امید ہے کہ تجارتی معاہدہ جلد از جلد مکمل ہوگا۔” اس سے قبل وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا تھا کہ مجوزہ ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس کی قانونی دستاویزات تیار کرنے کا عمل جاری ہے۔ چین کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستانی برآمد کنندگان کو چینی بازار تک رسائی حاصل کرنے میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی برسوں سے جاری رابطوں کے باوجود بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن اور ہندوستانی مصنوعات پر پابندیاں اہم تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چین میں جنیرک ادویات، مویشیوں کا گوشت، سبزیوں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا سمیت متعدد مصنوعات کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے، تاہم اس معاملے میں پیش رفت محدود رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر محصولاتی رکاوٹیں ہندوستان اور چین کے درمیان تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، جن میں نباتاتی صحت سے متعلق اقدامات اور دیگر پابندیاں شامل ہیں۔ محترمہ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستان اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی عدم توازن دور کرنے کے لیے سزا دینے والے محصولات کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے، چاہے سفارتی اور تجارتی بات چیت میں کافی وقت کیوں نہ لگے۔ برکس کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اس گروپ کو کسی ملک یا اتحاد کے خلاف محاذ کے طور پر نہیں بلکہ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور عوام کی فلاح و بہبود بہتر بنانے کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برکس کا مقصد کسی دوسرے فریق کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ اس کے ارکان کے درمیان شراکت داری کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برکس دنیا کی تقریباً 40 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینے اور نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔ توسیع کے بعد اس گروپ میں 11 سے 12 ممالک فعال طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، جو عالمی تجارت کا تقریباً 45 فیصد ہیں۔ ہندوستان کی اقتصادی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے باوجود ملک نے مضبوط اقتصادی ترقی برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وبا کے بعد کے عرصے سمیت گزشتہ چار سے پانچ برسوں میں ہندوستان بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت رہا ہے۔ انہوں نے اقتصادی لچک کی وجہ جامع ترقی، وسائل تک بہتر رسائی، نوجوانوں میں ہنر مندی کے فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کو قرار دیا۔ وزیر خزانہ نے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بنیادی ڈھانچے پر اخراجات کے اہم کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے میں سرکاری سرمایہ کاری، اتنی ہی رقم براہ راست عوام میں منتقل کرنے کے مقابلے میں زیادہ وسیع اقتصادی اثر پیدا کرتی ہے، جبکہ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور وسیع تر اقتصادی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
یوکرین کے پاس پیٹریاٹ میزائل ختم، ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
کیف/واشنگٹن، یوکرین کے پاس امریکہ کے تیار کردہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے، جس سے ملک روس کے بیلسٹک میزائل حملوں کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ صورت حال سے واقف ایک ذریعے نے یہ اطلاع دی۔
سی این این نے مذکورہ ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ میزائلوں کی قلت بدھ کی رات روس کے حملے کے دوران خاص طور پر نمایاں ہوئی، جب ضروری انٹرسیپٹر میزائل دستیاب نہ ہونے کے باعث روس کے داغے گئے بیشتر بیلسٹک میزائلوں کو روکا نہیں جا سکا۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذریعے نے کہا، ”گزشتہ حملے میں داغے گئے تقریباً تمام بیلسٹک میزائلوں کو انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کے باعث روکا نہیں جا سکا۔”
روسی حملوں میں کیف کے تین بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ خارکیف کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی حملے کیے گئے۔ ان حملوں میں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 25 زخمی ہو گئے۔ موسم سرما کی آمد کے پیش نظر ان حملوں نے یوکرین کے فضائی دفاع کو درپیش چیلنجوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
پیٹریاٹ دفاعی نظام ان چند ہتھیاروں میں شامل ہے جو روس کے بیلسٹک میزائلوں، بشمول اسکندر-ایم، کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، انٹرسیپٹر میزائل مہنگے ہیں اور عالمی سطح پر ان کی فراہمی محدود ہے، جس کے باعث کیف کے لیے اپنے ذخائر کو فوری طور پر دوبارہ بھرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ان میزائلوں کی امریکی دفاعی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن تیار کرتی ہے۔ کمپنی نے جولائی میں کم لاگت والے پی اے سی-3 اے سی ای میزائل کا نیا ورژن متعارف کرایا تھا، جس کی ابتدائی پیداوار اگلے 36 ماہ کے اندر شروع ہونے کی توقع ہے۔ موجودہ پی اے سی-3 انٹرسیپٹر میزائلوں کی قیمت تقریباً 40 لاکھ ڈالر فی میزائل ہے، جس سے روس کے مسلسل حملوں کے دوران فضائی دفاعی کارروائیوں کو برقرار رکھنے کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
زیلنسکی مغربی اتحادیوں سے اضافی فضائی دفاعی نظام اور گولہ بارود فراہم کرنے کی بارہا اپیل کر چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما سے قبل یوکرین کے شہروں اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے زیادہ مضبوط دفاعی انتظامات ضروری ہیں۔
جمعہ کو ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ ملاقات کے دوران زیلنسکی نے روسی حملوں کے خلاف یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا، ”فضائی دفاع ہماری اولین ترجیح ہے، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع اور ان تمام وسائل کی فراہمی جو جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد ڈرونوں کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔” روس ان ایرانی ساختہ حملہ آور ڈرونوں کا استعمال کرتا ہے۔
میزائلوں کی قلت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فوجی حکمت عملی اور جنگ کے خاتمے کے امکانات کے معاملے پر ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعرات کو نیوز میکس کو انٹرویو دیتے ہوئے زیلنسکی کو ایسا شخص قرار دیا جس کے ساتھ امریکہ کے لیے معاملات طے کرنا مناسب نہیں اور کہا کہ انہیں روسی صدر ولادیمیر پوتن کے مقابلے میں یوکرینی صدر کے ساتھ مذاکرات کرنا زیادہ مشکل لگتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ”میرے خیال میں زیلنسکی کے ساتھ معاملات طے کرنا پوتن کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہے۔”
ٹرمپ نے ماسکو کے ساتھ سمجھوتے کے لیے زیلنسکی کی آمادگی پر سوال اٹھائے ہیں اور کیف پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی ریفائنریوں پر حملے روک دے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے ایندھن کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
حوثی حملوں کی مذمت پر سعودی عرب کا سلامتی کونسل سے اظہارِ تشکر
ریاض، سعودی عرب نے مملکت کے خلاف حوثی باغیوں کے حملوں، جن میں شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور بحیرۂ احمر و آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں کو دھمکیاں دینا شامل ہے، کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مذمت کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ حوثیوں کو ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تعاون کی سلامتی کونسل کی اپیل کا خیرمقدم کرتی ہے۔
وزارت نے کہا، ”ہم شہریوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کا مقابلہ کرنے میں سلامتی کونسل کی یکجہتی کو سراہتے ہیں۔”
سلامتی کونسل کے ارکان نے جمعرات کو سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی ”سخت ترین الفاظ میں” مذمت کی اور مملکت کے ”فطری حقِ دفاع” کی توثیق کی۔
کونسل کے صدارتی بیان میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 10 اور 11 اکتوبر کو ہونے والے مہلک حملوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا، جن میں بیان کے مطابق 14 افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعرات کو بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی یکم اکتوبر سے اب تک ہوائی اڈے پر 20 حملے کر چکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان نے مملکت کے دیگر ہوائی اڈوں اور سعودی آرامکو کی تنصیبات پر متعدد حملوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں شہری ہوابازی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
سلامتی کونسل کا یہ بیان بڑھتے ہوئے بحران پر اس کے پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ صدارتی بیانات کے لیے کونسل کے تمام 15 ارکان کا اتفاقِ رائے ضروری ہوتا ہے اور انہیں عوامی اجلاس میں باضابطہ ریکارڈ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔
سلامتی کونسل کے تازہ بیان میں 7 اگست اور 18 ستمبر کو جاری کیے گئے سابقہ بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں حوثیوں سے فوجی کشیدگی اور شہریوں و شہری تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے کی اپیل کی گئی تھی۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
-
ہندوستان1 week agoانڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
