ہندوستان
غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان
نئی دہلی، پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے مسٹر مان نے منگل کو اس معاملے کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے سامنے اٹھانے کے بعد یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، “آج دہلی میں ہم نے صدرجمہوریہ کے سامنے ملک میں ہونے والے ‘جمہوریت کے قتل’ کے خلاف اپنی آواز پرزور طریقے سے اٹھائی ہے غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا اور ای ڈی و سی بی آئی جیسی مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے بی جے پی کی ‘واشنگ مشین’ میں داغدار لیڈروں کو پاک صاف کرنا، ہمارے جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “پنجاب میں ‘آپریشن لوٹس’ کی گھٹیا چالیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔ ہمارے ایم ایل اے لاکھوں پنجابیوں کی آواز ہیں اور پنجابی کبھی بھی غداری برداشت نہیں کرتے۔ آپ کے ‘جن سیوک’ کے طور پر، میں ہر پنجابی کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم عوام کے مینڈیٹ اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی آخری سانس تک لڑیں گے۔”
اس سے قبل ‘عآپ’ چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے اراکین پارلیمنٹ راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں الزام لگایا کہ پارٹی چھوڑنے کے بعد پنجاب حکومت سرکاری مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ مسٹر چڈھا نے کہا، “ہم نے صدر کو بتایا کہ کس طرح عام آدمی پارٹی (عآپ) کی پنجاب حکومت ریاستی مشینری کا غلط استعمال کر کے ہمیں نشانہ بنا رہی ہے، جبکہ دو تہائی اراکین پارلیمنٹ نے بی جے پی میں انضمام کا انتخاب کیا ہے۔ وہ پارٹی جو کبھی انتقامی سیاست کا ڈھونگ رچاتی تھی، اب اپنا گھناونا روپ دکھا رہی ہے۔ صدر نے ہمیں آئینی حقوق کے تحفظ کا یقین دلایا ہے۔” انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا کہ ‘عآپ’ ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے جس کا انجام بھی خطرناک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ‘عآپ’ کے پاس ایک ریاست کی پولیس ہے لیکن بی جے پی کے پاس 21 ریاستوں کی پولیس ہے۔ پنجاب کے افسران کو اس خطرناک کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ پنجاب کی حکومت تھوڑے دنوں کی ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات اہم : جے شنکر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے موجودہ دور میں ہندوستان اور لگژمبرگ کے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
مسٹر جے شنکر نے ہندوستان کے دورے پر آئے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کے ساتھ پیر کے روز یہاں بات چیت کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور لوگوں کے باہمی آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد میں وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا ، ” نئی دہلی میں آج لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کا خیرمقدم کیا۔
ہندوستان اور لگژمبرگ کے درمیان قابل اعتماد شراکت داری عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے دور میں اہم ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی پیش رفت اور کثیر جہتی تعاون پر بھی غور و خوض ہوا۔ ہند-لگژمبرگ شراکت داری اور ہندوستان-یورپی یونین تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم کی حمایت قابل ستائش ہے۔ ” مسٹر بیٹل کا منگل کے روز چنئی جانے کا پروگرام ہے۔
یو این آئی ۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
ستیہ نکیتن عمارت حادثہ: مہلوکین کی تعداد 7 ہوئی، ایم سی ڈی کے 5 افسران معطل، مالک حراست میں
نئی دہلی، جنوب مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے واقعہ میں مہلوکین کی تعداد بڑھ کر 7 ہو گئی ہے، جبکہ 5 افراد زخمی ہیں۔
واقعہ کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) نے جنوبی زون کے ڈپٹی کمشنر سمیت 5 افسران کو معطل کر دیا ہے۔ 24 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی راحت اور بچاؤ مہم اب ختم کر دی گئی ہے۔ دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ملبے میں اب کوئی شخص پھنسا ہوا نہیں ہے۔
معطل افسران میں جنوبی زون کے ڈپٹی کمشنر راکیش کمار، محکمہ تعمیرات کے ایگزیکٹو انجینئر للت کمار گوئل، اسسٹنٹ انجینئر سنیل چوہان اور جونیئر انجینئر آشیش کمار شامل ہیں۔ پانچویں معطل افسر کا نام فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکا۔
ایم سی ڈی کے ویجی لینس محکمہ نے میونسپل کمشنر سنجیو کھیروار کی ہدایت پر دہلی میونسپل کارپوریشن سروس (کنٹرول اینڈ اپیل) ضوابط، 1959 کے تحت معطلی کے احکامات جاری کیے۔ احکامات پر ویجی لینس محکمہ کے ڈپٹی لا افسر نند کشور نے دستخط کیے ہیں۔
معطل افسران کو فوری اثر سے معطل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ضوابط کے تحت انہیں گزارہ الاؤنس دیا جائے گا۔ اسی دوران، دہلی پولیس نے عمارت کے مالک ہری رام گپتا کو راجستھان کے بھیواڑی سے گرفتار کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ گپتا کی اہلیہ ارمیلا اور بیٹے مہیش کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس ڈپٹی کمشنر ابھیمنیو پوسوال نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق پولیس نے صرف گپتا کو گرفتار کیا تھا، کیونکہ اسی کو پی جی کا مالک اور منیجر سمجھا گیا تھا۔
مزید تفتیش میں پتہ چلا کہ بجلی کا کنکشن ہری رام کے نام پر تھا، لیکن کاغذات میں جائیداد کی اصل مالکن ان کی اہلیہ ارمیلا تھیں۔ ان کا بیٹا مہیش گپتا انتظامی امور سنبھالتا تھا، جس کی وجہ سے اسے بھی گرفتار کیا گیا۔
عمارت منہدم ہونے کے بعد مبینہ طور پر رابطے سے باہر ہونے پر پولیس نے اس کے خلاف لک آؤٹ سرکلر جاری کیا تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ گپتا کو بھیواڑی میں پکڑا گیا ہے اور واقعہ کے حالات کی جانچ کے تحت اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
بی جے پی حکومت میں حادثات کے بعد بھی طے نہیں ہوتی جوابدہی: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے یہاں ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کے واقعے پر مرکز اور دہلی حکومت پر حادثات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پیر کو کہا کہ حادثہ کے بعد بیان بازی ہوتی ہے اور چھوٹے حکام پر ذمہ داری ڈال کر اصل ذمہ داروں کو جوابدہی سے بچایا جاتا ہے۔
مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ ستیہ نکیتن میں طلباء سے بھری عمارت کا گرنا کوئی تنہا المیہ نہیں ہے۔ گزشتہ چار مہینوں میں سید العجائب میں ایسے ہی المئے میں چھ لوگوں کی موت ہوئی، جبکہ ہوض رانی میں آگ لگنے سے 22 لوگوں کی جان چلی گئی۔ ہر بار زندگیاں، خواب اور ارمان ملبے میں دبتے ہیں، لیکن کارروائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ جوابدہی مانگنے والوں کو وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے ‘دماغی نکسل’ اور ‘ناراض پھوپھا’ جیسے توہین آمیز تمغے دیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد سوال پوچھنے والوں کو شرمندہ، بدنام اور خاموش کرانا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ 12 سال سے حکومت دنیا بھر کی باتیں کر کے لوگوں کو ‘گول گول گھما’ رہی ہے، لیکن اصل معاملے پر بات نہیں کرتی۔ انہوں نے سوال کیا، ”دہلی میں ‘ٹریپل انجن’ حکومت ہے، تو اب کس بات سے لاچار ہے؟“ مسٹر گاندھی نے خود ہی سوال کا جواب دیا اور کہا، ”لاچاری ہے نیت کی، کیونکہ جہاں نیت نہیں ہوتی، وہاں جوابدہی بھی نہیں ہوتی۔“
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر3 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر6 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا6 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر3 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا6 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر7 days agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران کے ساتھ لین دین کرنے والے بینک پر پابندیاں عائد کرے گا – بیسنٹ
