ہندوستان
جی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
نئی دہلی، ‘گلوبل ٹریڈ اینڈ ٹیکنالوجی کونسل (انڈیا)’ (جی ٹی ٹی سی آئی) نے ‘شری دھرمک لیلا کمیٹی’ کے اشتراک سے، نئی دہلی میں تاریخی لال قلعے کے احاطے میں واقع مادھو داس پارک میں ‘عالمی یومِ خوراک 2026’ منایا۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد غذائی تحفظ، خوراک کی حفاظت اور سب کے لیے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی کو یقینی بنانے کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ اس تقریب نے ممتاز سفارت کاروں، بین الاقوامی نمائندوں اور منتظم کمیٹیوں کے اراکین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ انہوں نے خوراک سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ اقدام بین الاقوامی اہمیت کے حامل مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں ہندوستان کی بھرپور ثقافتی روایات کے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
‘شری دھرمک لیلا کمیٹی’ جو گزشتہ 103 سالوں سے تاریخی لال قلعے میں روایتی ‘رام لیلا’ کا اہتمام کرتی آ رہی ہے – نے اس موقع کے لیے ایک بامعنی ثقافتی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ‘عالمی یومِ خوراک’ کے پیغام کو ہندوستان کی ایک دیرینہ ثقافتی روایت سے جوڑ کر، اس اقدام نے یہ واضح کیا کہ کس طرح ثقافتی ورثہ، عوامی شمولیت اور بین الاقوامی تعاون، غذائی تحفظ کے بارے میں عوامی شعور بیدار کرنے اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ ‘شری دھرمک لیلا کمیٹی’ کے جنرل سکریٹری شری دھیرج دھر گپتا اور جی ٹی ٹی سی آئی (GTTCI) کے بانی صدر ڈاکٹر گورو گپتا نے تقریب میں موجود سفارت کاروں اور معزز مہمانوں کا استقبال اور اعزاز کیا۔ مہمانوں کے سامنے ایک ایسا پیغام پیش کیا گیا جس میں حکومتوں، اداروں، برادریوں اور افراد کی اس اجتماعی ذمہ داری پر زور دیا گیا کہ وہ غذائی تحفظ کو فروغ دیں اور ایک ایسے مستقبل کی جانب کام کریں جہاں ہر شخص کو محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک تک رسائی حاصل ہو۔ اس تقریب میں جمہوریہ چاڈ کے سفیر، یونین آف کوموروس کے اعزازی قونصل جنرل، چین، یونان، نائجر اور نکاراگوا کے سفارت خانوں کے سفارت کاروں کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں یونیسکو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر بینو بوئر نے شرکت کی۔
انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر کے جی سریش بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایتھوپیا، ایران اور زیمبیا سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن برادریوں کے ارکان نے بھی اس تقریب میں حصہ لیا، جس سے اس کی بین الاقوامی حیثیت مزید مستحکم ہوئی اور یہ سب کے لیے ‘غذائی تحفظ’ کے مشترکہ مقصد پر مبنی عالمی یکجہتی اور ثقافتوں کے مابین رابطے کی عکاسی کرتا ہے۔ ‘شری دھرمک لیلا کمیٹی’ کے سیکرٹری پردیپ شرن نے کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ معزز مہمانوں کا اعزاز کیا اور شریک سفارتی نمائندوں کا خیرمقدم کیا۔ ان کی موجودگی کمیٹی کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ نہ صرف بھارت کے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کوشاں ہے، بلکہ عصری عالمی مسائل پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
جی ٹی ٹی سی آئی کے بورڈ ممبران، جناب کپل کھنڈیلوال اورمسٹر سمیت ورما نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ عالمی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے سفارتی مشنز، صنعتی رہنماؤں اور ثقافتی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے اپنے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ‘عالمی یومِ خوراک’ جو ہر سال 16 اکتوبر کو منایا جاتا ہے، ہمیں غذائی نظاموں کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ کو بہتر بنانے، غذائی عدم تحفظ کو کم کرنے، اور خوراک کی پیداوار و تقسیم کے لیے پائیدار طریقے اپنانے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ لال قلعہ کے میدان میں منعقدہ اس تقریب نے ان اہداف کے حصول کے لیے اجتماعی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس مشترکہ اقدام کے ذریعے، جی ٹی ٹی سی آئی اور ‘شری دھرمک لیلا کمیٹی’ نے یہ دکھایا کہ کس طرح بھارت کے ثقافتی پلیٹ فارمز عالمی ترقیاتی ترجیحات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس تقریب میں بھارتی روایات کی لازوال اقدار کو یکجہتی کے عالمی پیغام کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا۔ اس نے مختلف اقوام اور برادریوں کے لوگوں کو ایک ساتھ مل کر ایسی دنیا تعمیر کرنے کی ترغیب دی جہاں ہر فرد کو محفوظ، غذائیت سے بھرپور اور کافی مقدار میں خوراک تک رسائی حاصل ہو۔ یہ تقریب اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ بیداری پیدا کی جائے، بین الاقوامی افہام و تفہیم کو مضبوط کیا جائے، اور سب کے لیے غذائی تحفظ کے مشترکہ مقصد کو آگے بڑھایا جائے۔
یو این آئی۔ ظ ا۔ م الف
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی کی خودنوشت کتاب کا اجراء’بیلونگنگ: اے جرنی آف لو’ 10 نومبر کو عمل میں آئیگا۔
محترمہ گاندھی کی یہ کتاب باضابطہ طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر بھی پیش کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ محترمہ گاندھی نے بھی انسٹاگرام پر اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
محترمہ گاندھی نے اپنی کتاب کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ محبت، فرض، جدائی اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کتاب کو سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔
محترمہ گاندھی نے انسٹاگرام پر لکھا، ”نمسکار، آپ سب کے ساتھ یہ لمحہ شیئر کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میری کتاب کی پہلی جھلک ہے۔ یہ محبت، فرض، کھونے کے درد اور اپنائیت کی تلاش کی کہانی ہے۔ میں اسے آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”
شیئر کی گئی ریل میں محترمہ گاندھی کافی خوش نظر آ رہی ہیں۔ وہ اپنی کتاب کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس میں کئی تصاویر بھی شامل ہیں۔ ریل میں کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا بھی دکھائی دیتی ہیں، جو سونیا گاندھی کو مٹھائی کھلاتی نظر آ رہی ہیں۔
کتاب میں اٹلی میں ان کے بچپن، راجیو گاندھی سے ملاقات، شادی اور ہندوستانی سیاست میں ان کی آمد تک کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ان کی نجی زندگی، خاندانی رشتوں اور ہندوستان میں ان کے طویل سیاسی سفر کی جھلک پیش کرے گی۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ محترمہ گاندھی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ یہ کتاب 10 نومبر کو جاری کی جائے گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا5 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
