تازہ ترین
8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم
عاصم محی الدین
آٹھ فروری کو پاکستان میں جنرل الیکشن منعقد کے گے۔ جس میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے مسلم لیگ نواز کو کامیاب قرار دیا گیا جس نے آخری نتائج آنے تک محض 75 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے ابھی تک 91 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ یہ چناؤ پاکستان میں کافی کنٹرووتشل رہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام دنیا کے ممالک اور میڈیا نے اسے جعلی انتخابات قرار دیا۔ پاکستان کے لوگوں اور بین لاقوامی میڈیا کے مطابق اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804 یعنی عمران خان نے دو تہائی سے زیادہ اکسریت حاصل کی جبکہ نواز شریف کی مسلم لیگ جسے ملٹری اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ے کو ہر ممکن سہولت فراہم کرکے جتانے کی کوشش کی گی۔
تاہم نہ یہ منڈیٹ کی چوری پاکستان کے لوگ تسلیم کرنے کے لے تیار ے اور نہ ہی د نیا کا کوئی ملک۔
یہاں تک کہ امریکہ میں جو بایڈن کو بتایا گیا کہ جب تک نہ پاکستان کے الیکشن پراسس پر لگاے گے الزام کلیر ہو جاتے ے تب تک کسی بھی بننے والی حکومت کو تسلیم نہ کیاجائے ۔
دراصل یہ الیکشن عمران خان جسے لوگوں کی حمایت حاصل ے اور پاکستان کی فوج کے درمیان تھا جس میں عمران خان نے فوج کو بری طرح سے شکست دے دی اور اب راولپنڈی میں مزید سازشے کی جارہی ے کہ عمران خان کو اقتدار سے باہر کیسے رکھا جاے۔ مبصرین اس فوج کی سازش اور چناؤ میں ہونے والی دھاندلی کو 1971 کے ہونے والے الیکشنز کے ساتھ جھوڈ رہے ے جب پاکستان کی فوج نے بنگالیوں پر ظلم کی انتہا کردی اور پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔
میں 1971 کے واقعات آپکے سامنے رکھتا ہوجسے آپ اندازہ لگا سکتے ے کہ 1971 اور 2024 کے الیکشنز میں کیا یکسانیت ے اور کس طرح سے پاکستان کی فوج نے اپنا ملک توڈدیا۔
علحیدہ ملک بننے کے بعد 1970 میں پہلی بار پاکستان میں جنرل الیکشنز کراےگے۔ اس الیکشن میں دو سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ تھا۔ ایک طرف سے مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ جس کے ساتھ پورا ایسٹ پاکستان تھا وہی دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی جس کی سربراہی ذولفقار علی بھٹو کررہےتھے ۔ الیکشنز کا نتیجہ جب سامنے آیا عوامی لیگ نے 167 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ ذولفقار علی بھٹو کو محض 86نشستے اس الیکشن میں حاصل ہوئی۔ بنگالی لیڈر کی اس شاندار کامیابی پر پورے ویسٹ پاکستان میں ماتم چھاگیا اور فوج کو ان کہ یہ جیت بلکل ہضم نہیں ہوئی ۔
فوج نے پاکستان کے الیٹ سیاست دانوں کے ساتھ مل کر یہ طے کرلیا کہ بنگالیوں کے ہاتھوں میں اقتدار نہیں دیا جاسکتا۔ صادق سالک جو ایک فوجی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دانشور تھے نے اپنی کتاب میں ایک فوجی افسر کو کوٹ کرتے ہوے لکھا
Don’t worry we will not allow these black bastards to rule over us.
ویسٹ پاکستان کے لوگ خصوصاً پنجابی جن کی اکثریت اور دبدبہ فوج میں تھا بنگالیوں کو کم ضرف سھمجا کرتے تھے۔
جس طرح سے آج پاکستان کی فوج عمران خان کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتی ے اسی طرح اس وقت مجیب الرحمٰن جو عمران خان کی طرح سلاخوں کے پھیچے تھا کو اقدار نہیں دیا گیا اس کے باوجود پاکستان کے چالیس فیصد ووٹ انہوں نے حاصل کے جبکہ بھٹو کو صرف اٹھارہ فیصد ووٹ ملے تھے۔
نیشنل اسمبلی کا اجلاس مارچ میں ڈھاکا میں ہونے جارہا تھا اور لوگوں سے ریجیکشن پانے کے باوجود بھٹو بھی نواز شریف کی طرح پاور میں آنا چاہتے تھے اور موقعے کا فایدہ اٹھا کر انہوں نے فوج کے ساتھ ہاتھ ملایا۔ فوج کی حمایت ملنے کے بعد بھٹو کے تیور بدلنے لگے اور تمام ان منتخب امیدوارو کو دھمکی دی کہ وہ ڈاکھہ میں ہونے والے اجلاس میں حصہ نہ لے۔
یہ رساکشی ایک بہت بڈے سیاسی افراتفری میں تبدیل ہونے جارہی تھی۔ وہی دوسری جانب پاکستان کی فوج نے ملک میں ایک بڈا پروپگنڈا کھڈا کیا اور کہا کہ ایسٹ پاکستان میں بنگالی لوگوں کی مزاہمت کے پھیچے بھارت ے جبکہ اس مزاحمت کی وجہ سے پاکستان اندرونی معاشی اور سیاسی بحران کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی کو بھی خطرہ ے۔ اور اس کے ساتھ ہی ایسٹ پاکستان میں 15 مارچ کو آپریشن سرچ لایٹ لانچ کیا گیا۔
آپریشن کے دوران پاکستان کی فوج نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف درندگی کی سارے حدہے پار کر دی اور انسانی حقوق کی یہ شدید پامالیوں کی گونج پوری دنیا کے سفارتکاروں تک ڈاکہ میں مقیم پہنچنے لگی۔ امریکہ کے سفارتکاروں نے اس شدید بربریت کو اپنے حکام تک پہانچا دیا اور زور دیا کہ پاکستان کی فوج کو اب روک دیا جاے۔ پاکستان کی بربریت کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے بچے، خواتین کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے طلباء تھے۔
جس طرح سے آج پاکستان میں ہونے والے جعلی انتخابات کو لیکر امریکہ کے کی سارے ادارے اپنے صدر جو بائیڈن کو وارن کررہے ے اسی طرح اس وقت کے صدر ریچیرڈ نکسن کو بھی بیشتر اداروں نے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج کو ایسٹ پاکستان میں عام لوگوں کی قتل و غارت کرنے سے روک دیا جاے۔
لیکن پاکستان کی فوج نے سویت یونین، جس میں بھارت بھی شامل تھا کے خلاف بھڈتے اثر و رسوخ کے خلاف امریکہ کا کیمپ جوائن کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف امریکہ نے اس قتل و غارت کے خلاف آنکھے بند کی بلکہ پاکستان کی فوج کو سپورٹ بھی کیا۔
اس کے بعد صدر نیکسن نے اپنے تمام اداروں کو ایک آفیشل کمینیکیشن جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا ۔ To all hands: Don’t squeeze Yahya at this time.
پاکستان کے سفارتکار آگاہ ہلالی نے اس آپریشن سرچ لایٹ کو جواز بنا کر امریکہ میں کہا کہ پاکستان کے لے ایک بہت بڈی مصیبت آگی تھی جس کی وجہ سے ان لوگوں کو مارنا ضروری تھا تاکہ ملک کو ٹوٹنے سے بچایا جاسکے۔
اس آپریشن سرچ لایٹ میں پاکستان کی فوج نے ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں کو ایسٹ پاکستان میں قتل عام کیا اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی گی۔
دوسری جانب ذولفقار علی بھٹو نے بلکل اس درندگی کو نظر انداز کرتے ہوے پاکستانی فوج کی کاروائی کا جواز ٹھہرایا ۔ اقوام متحدہ میں اسی سال کے آخر میں بھارت کی طرف سے پاکستان کی ایسٹیرن ونگ کی فوجی تنصیبات پر اٹیک کرنے کو وجہ بناتے ہوے انہوں نے جارحانہ طریقے سے تقریر کی۔ کھچہ کاغزات کو پھاڈتےہوے بھٹو نے اس اٹیک کو بھارتی جارحیت قرار دے دیا اور اجلاس سے باہر چلے گے۔
اس تقریر کے بعد پاکستان میں بھٹو نے اپنی جگہ بنا لی اور اکثر لوگ ان کی اصلیت بھول گے۔ پاکستان کی فوج نے بھی اسے اس جارحانہ بیان کے لے سراہا اور اس طرح سے جمہوری میدان میں شکست زدہ بھٹو اب پاکستان کا نیشنل لیڈربن گیا۔
وہا دوسری جانب بھارت کے سامنے ایسٹ پاکستان میں 16 دسمبر کو پاکستان کی فوج نے ہتھیار ڈال دے۔ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد اب تک یہ کسی بھی فوج کا سب سے بڈا سرینڈر مانا جاتا ے جس میں 91000 فوجیوں نے اپنے ہتھیار ڈال دے۔ اور اس طرح سے بنگلہ دیش وجود میں آگیا۔
اب اگر موجود ہ صورتحال کو دھیکینگے تو آپ سمجھ جاینگے کہ حالات میں کوئی بدلاؤ نہیں آچکا ے اور جس طرح سے ایک سب سے بڈے جمہوری لیڈر مجیب الرحمٰن کو پاکستان کی فوج نے دیوار کے ساتھ لگایا اسی طرح عمران خان کو بھی سیاسی نقشے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ے۔ لیکن مجیب الرحمٰن کی قبولیت صرف بنگالیوں کے دلوں میں تھی جبکہ عمران خان ابھی تک پاکستان کی سیاست کا واحد لیڈر ے جس نے تمام پنجابی ، پختون، سندھی اور بلوچ کو ایک ہی صف میں فوج کے خلاف کھڈا کردیا ے جسے ایسا لگ رہا ے کہ پاکستان کی فوج کو ہار ماننے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا ے۔
دنیا
بنگلہ دیش میں ڈینگی وبا میں اضافہ، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بلند ترین سطح پر
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں ڈینگی مچھر کی کا وبا میں تیزی آئی ہے، امسال اب تک 42,590 افراد اس مرض کے باعث ہسپتالوں میں زیرِ علاج لیے گئے ہیں اور 117 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں، جبکہ ستمبر میں تیز اضافہ ہسپتالوں پر دباؤ ڈال رہا ہے اور خدشہ ہے کہ مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی یہ بیماری آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم چار مریض ڈینگی بیماری سے انتقال کر گئے اور 1,558 افراد ہسپتالوں میں داخل کیے گئے، جو اس سال اب تک کی بلند ترین یومیہ تعداد ہے۔
یہ بیماری بخار، شدید سر درد اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے اور حالیہ ہفتوں میں اس کے پھیلاؤ میں تیز ی آئی ہے، جس نے 2023 کے بنگلہ دیش کے مہلک ترین ڈینگی وبا کے بعد خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ یہ وبا صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے جو پہلے ہی پورے ملک میں پھیلے خسرے کے وبا سے نبردآزما ہے، جس نےامسال تقریباً 1,000 بچوں کی جان لی ہے۔
صحت کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ اگست میں سال کا سب سے زیادہ ماہانہ کیس ریکارڈ ہوا، ستمبر اس سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طبی حشراتِ شناس پروفیسر کبیرالبشار نے کہا کہ ان کے نگرانی اور پیشن گوئی والے ماڈل کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو اس ماہ ہسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد 30,000 سے تجاوز کر سکتی ہے، اور موسم کی صورتحال اکتوبر تک منتقلی کا خطرہ دے رہی ہے۔
پروفیسر بشار نے کہا: “عروج ابھی نہیں پہنچا۔ اگر موجودہ رفتار جاری رہی تو ستمبر سال کے لیے ڈینگی بخار کا برا ترین مہینہ ثابت ہو سکتا ہے۔”
32 سالہ زاہد حسن کے لیے یہ وبا ذاتی دکھ میں بدل گئی جب اس کے چار سالہ بیٹے کو تیز بخار ہوا اور اس میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی۔
جب بچے کی حالت بگڑ گئی تو حسن اسے تین سرکاری ہسپتال لے گئے لیکن خالی بیڈ نہ مل سکا۔
حسن نے کہا “میں خوفزدہ تھا۔ ایک باپ کے طور پر اپنے بچے کو بگڑتے دیکھنا اور یہ نہ جاننا کہ اسے کہاں داخل کروایا جائے، ناقابلِ برداشت تھا” ۔
آخر کار ایک رشتہ دار کی مدد سے انہیں ایک نجی ہسپتال میں بیڈ ملا۔ ان کے بیٹے کو سات بیگ خون اور پلازما دیے گئے جس کے بعد وہ تندرست ہوا۔
“وہ دن ہمارے لیے ایک ڈراؤنے خواب جیسے تھے۔ ہم مسلسل ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اس کے ساتھ کچھ نہ ہو جائے،” حسن نے کہا۔ ان کا بیٹا تا حال کافی لاغر ہے اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہا ہے۔
ڈینگی کے مریضوں کی طبیعت بخار ختم ہونے کے بعد تیزی سے خراب ہو سکتی ہے اور وہ پلازما کا رساؤ، کم بلڈ پریشر، صدمہ اور شدید خونریزی جیسی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، لہٰذا بخار کے بعد کے اہم مرحلے کے دوران قریب سے نگرانی ضروری ہے۔
ڈھاکہ میں ڈینگو کے مریضوں کا علاج کرنے والے معالج پروفیسر طارق عالم نے کہا: “مریض ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، اور پیٹ درد، چکر آنا اور غیر معمولی سستی جیسی انتباہی علامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔”
بشار نے کہا کہ ڈینگی مچھر کا پھیلاؤ ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں سے باہر ضلعوں اور دیہی علاقوں تک ہو رہا ہے، جو انفیکشن میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ اب تک تمام 64 اضلاع میں ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
حکومت نے جیسے جیسے وبا بدتر ہوئی احتیاطی تدابیر تیز کر دی ہیں۔ وزیرِ اعظم طارق رحمان نے ملک گیر صفائی مہم اور بیداری مہمات کے احکامات جاری کیے ہیں، عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ٹہرے پانی اور دیگر مچھر پیدا ہونے والی جگہوں کی صفائی کریں اور کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
خلیج فارس میں فوجی موجودگی پر ایران کی جنوبی کوریا کووارننگ
تہران، ایران نے پیر کے روز جنوبی کوریا کو خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی شمولیت کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
ایران نے کہا کہ اس طرح کے کسی بھی اقدام کو حملہ آور کی براہ راست حمایت کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کے “سنگین نتائج” ہو سکتے ہیں۔ اس نے امریکہ پر تنازع کے نتائج کی ذمہ داری سے بچتے ہوئے دنیا پر اس کی قیمت تھوپنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کوریائی زبان میں کی گئی ایک پوسٹ میں یہ بات کہی۔ انہوں نے تہران اور سیول کے درمیان طویل عرصے سے قائم سفارتی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
مسٹر بقائی نے کہا کہ ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان 64 سال سے زائد عرصے سے باہمی احترام پر مبنی سفارتی تعلقات ہیں اور ایران جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں کسی دوسرے ملک کی خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا آپریشنل سرگرمی کو حملہ آور کی براہ راست حمایت کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت امریکی جارحیت اور ایرانی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم سے اپنا دفاع کر رہا ہے۔ مسٹر بقائی نے کہا کہ کسی بھی ذمہ دار خودمختار ملک کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کے لیے امریکی دباؤ یا زبردستی کے آگے نہیں جھکنا چاہیے۔
مسٹر بقائی نے ایک اور پوسٹ میں امریکہ پر تنازع شروع کرنے اور اب اس کے نتائج کا بوجھ بین الاقوامی برادری پر ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز “پوری طرح کھلا” تھا اور اسی دن امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ مسٹر بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے خطے میں “غیر قانونی اور بربرانہ” جنگ چھیڑنے کے بعد تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی، جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا، “آبنائے ہرمز 28 فروری تک پوری طرح کھلا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ امریکہ نے خطے میں ایک غیر قانونی اور بربرانہ جنگ چھیڑی اور تجارتی جہازوں کی عام آمد و رفت متاثر کر دی۔ ٹینکرز رکے ہوئے ہیں، تجارت متاثر ہے اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔”
انہوں نے امریکہ پر تنازع کے نتائج کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ مسٹر بقائی نے کہا، “امریکہ اب اپنی ہی پیدا کردہ مشکل کا بل پوری دنیا کے سامنے رکھنے اور اس پر ایران کا نام لکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
مسٹر بقائی نے امریکہ کے اس مبینہ بیانیے کی بھی مذمت کی، جس میں ایران کو موجودہ بحران کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ مسٹر بقائی نے کہا، “امریکہ نے جنگ شروع کی، لیکن چاہتا ہے کہ پوری دنیا اس کی قیمت چکائے، جب کہ ایران کو اس افراتفری کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ پوری طرح بے تکا ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات اہم : جے شنکر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے موجودہ دور میں ہندوستان اور لگژمبرگ کے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
مسٹر جے شنکر نے ہندوستان کے دورے پر آئے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کے ساتھ پیر کے روز یہاں بات چیت کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور لوگوں کے باہمی آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد میں وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا ، ” نئی دہلی میں آج لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کا خیرمقدم کیا۔
ہندوستان اور لگژمبرگ کے درمیان قابل اعتماد شراکت داری عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے دور میں اہم ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی پیش رفت اور کثیر جہتی تعاون پر بھی غور و خوض ہوا۔ ہند-لگژمبرگ شراکت داری اور ہندوستان-یورپی یونین تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم کی حمایت قابل ستائش ہے۔ ” مسٹر بیٹل کا منگل کے روز چنئی جانے کا پروگرام ہے۔
یو این آئی ۔ این یو۔ م الف
-
جموں و کشمیر3 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر6 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا6 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر3 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر7 days agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
دنیا6 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
دنیا1 week agoنیپال میں سرنگوں میں پھنسے افراد نے سیلاب متاثرین کی تلاش و امداد مشکل بنا دی، 900 سے زائد ہلاک، تقریباً 5 ہزار لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoکاس گنج سڑک حادثہ میں چھ عقیدتمندوں کی موت، 20 زخمی
