تازہ ترین
کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام
فلسطین اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ اگر کوئی جگہ دنیا میں ے جہاں پر مزاہب پروان چھڈے ے تو وہ کشمیر ے۔ اس کی تاریخ پر نظر ڈالی جاے تو آپکو پتا چلے گا کہ دنیا کے تین بڈے مزاہب یہاں پر پروان چھڈے ے جن میں ہندواعظم، بدھمت اور اب اسلام ے۔
یہ سرزمین ان مزاہب کو پھیلانے اور اپنانے کے لے کافی زرخیز رہ چکی ے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں پر عیسایت کو لوگوں نے قبول کیوں نہیں کیا باوجود اسکے کہ یورپ سے آے ہوے عیسایوں نے یہاں آکر کافی سارے سماجی کاموں میں حصہ لیااور ایسا انفراسٹرکچر تیار کیا جسے آج تک لوگ فایدہ اٹھا رہے ے۔ ان سب چیزوں پر ہم آج بات کرینگے اور آپکو یہ بھی بتاینگے کہ پہلی بار کب اور کونسے عیسائیوں نے کشمیر کی سرزمین پر قدم رکھا اور آخر یہ یہاں پر عیسایت کو پھیلانے میں ناکام کیوں ہوے۔
1854 میں پہلی بار کرشچن مشینری کے لوگوں نے کشمیر کی سرزمین پر اپنا قدم رکھا جب ریٹائرڈ کرنل مارٹن پشاور سے اور روبوٹ کلرک دو مزید پنجابی عیسائیوں کے ساتھ کشمیر وارد ہوے۔ اور اسکے بعد پھر کرشچن برادری سے مزید لوگ 1862 میں کشمیٖر آے۔ تاہم کرشچن مشینری کا پرمیننٹ مشن 1864 میں کشمیر میں شروع ہوا جس کی شروعات کے ساتھ ہی مہاراجہ رنبیر سنگھ نے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی سے ایک آرڈر پاس کروایا جس کے تحت تمام ان سیاحوں کو جو یورپ سے تعلق رکھتے ے کو انتباہ کیا گیا کہ وہ سردیاں شروع ہوتے ہی کشمیر کو چھوڈ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے لے چار مخصوص راستوں کو منتخب کیا گیا جہاں سے وہ کشمیر کے اندر داخل ہوسکتے تھے۔
مہاراجہ کو ان لوگوں پر پہلے سے ہی شک تھا کہ ان کا کشمیر میں آنا جانا کسی نہ کسی طرح سے مشینری کام کے ساتھ منسلک ے۔ اگر چہ ان کے تعلقات انگریزوں کے ساتھ بہتر تھے تاہم وہ بلکل بھی اس بات سے خوش نہیں تھے کہ ان یورپی لوگوں کا آنا جانا کشمیر میں رے۔ اسی لے انہوں نے ان کی آمد پر ان کے گھومنے اور کام کاج پر اپنی سیکورٹی اور انٹلیجنس کے لوگوں کو تعینات کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رکنے کے لے شہر سے باہر کھچہ مخصوص جگے رکھی گی اور انتباہ کیا گیا کہ وہ مقامی لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز کرے۔
اسی پابندی کی وجی سے کشمیٖر میں ہاوسبوٹز کا قیام بھی آیا۔ اس پر میں نے ایک تفصیلی ویڈیو بنائی ے جس کا لنک آپکو ڈیسکرپشن میں ملے گا۔
مشینری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی برصغیر میں عیسائیت کو پھیلانے کے لے کشمیر کا چناو اس کی جغرافیہ اور لوگوں کی معاشی حالات کو دھیک کر کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کشمیر میں پڈاو رکھ کر یہ آسانی سے پورے برصغیر میں اپنے مزہب کو پھیلا سکتے ےاور کشمیر کے لوگ جو لا چاری، غربت اور بنیادی سہولیات کے مارے ہوئے ے کو مفت میڈیکل فیسلٹیز، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے یہ آسانی سے عیسایت کو قبول کرینگے۔ اور یہ اندازہ ان کا کی نہ کی سچ بھی نکلا۔ مور کرافٹ جب انویسی صدی کے آغاز میں کشمیر آگے تو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا، میں مطمئن ہو پورے برصغیر میں کشمیر جییسی جگہ کی نہیں مل سکتی ے جہاں سے عیسایت کا پرچار موثر انداز میں کیا جاسکتا ے۔
اگر چہ مہاراجہ زاتی طور پر کشمیر میں مشینری مشن کے خلاف تھے تاہم مقامی لوگوں نے ان کے ساتھ تعلق خود بخود بھڈانا شروع کیا۔ حکومت کی بندشوں کے باوجود مشینری کے لوگوں نے 1864 میں پہلا مکان سرینگر میں فرنچ شوال مرچنٹس کے زریعے کرایا پر لیا۔ اس گھر میں جب روبوٹ کلرک اور اور ان کی اہلیہ داخل ہونے لگے تو لگبگ 1500 لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہوگیا اور اس مکان کو نظر آتش کر نے لگے اور پھر اس مکان پر پھتر بازی بھی کردی گی۔ لیکن ہار نہ ماننے والے روبوٹ نے اسی سال سرینگر میں کرشچن مشینری اسکول کو قایم کیا , سرکار نے پولیس کے زریعے لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر کوئی بچہ اس اسکول میں داخلہ لے رہا ے تو اس کے والدین کو گلگت کی طرف جلاوطن کیا جاے گا۔ اسی سال کے می مہینے میں روبوٹ کلرک نے ایک ڈسپنسری سری نگر میں قایم کی۔ اس ڈسپنسری پر سرکار کی بندشوں کے باوجود لوگ قطاروں میں نظر آنے لگے ۔ اس بنیادی ڈھانچے کو قایم کرنے کے بعد مشینری کے لوگوں نے راحت کی سانس لی اور اپنی سرگرمیاں مختلف سطح پر شروع کردی۔ مشینری کی طرف سے تعلیم اور طبعی سہولیات لوگوں کو مفت فراہم کر نے کے بعد انہوں نے کشمیریوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ تاہم مہاراجہ کے لےیہ چیز پریشانی کا باعث بننے لگی جسکی وجہ سے سرکار نے پہلی ڈسپنسری عام لوگوں کے لے 1870 میں کھول دی۔
مشینری کی مقبولیت بھڈتی گی اور مہاراجہ بھی اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ اب تھوڈا نرمی اختیار کرنے لگا اور 1874 میں مشن اسپتال کے لے رستم گھڈی میں جگہ کا انتخاب کرکے ایک اسپتال بنایا گیا جسے درگجن ہوسپٹل کے نام سے پھر جانا جاتا تھا اسکے علاوہ ان کی سروسز کو دیکھ کر سالانہ وظیفہ اور تمام سہولیات اس اسپتال کو مہاراجہ کی طرف سے ملنی شروع ہوگی۔
1864 تک کشمیر میں چار لوگوں نے عیسائیت کو قبول کیا تھا جن میں سے ایک کو اسکول میں ٹیچر کے طور پر تعینات بھی کیا گیا۔ سی ایم ایس اسکول کے قایم کرنے کے بعد اس کے پرنسپل ٹینڈل بسکو نے ایک سوشل ورکرز سٹوڈنٹس کاڈر کی تشکیل دی جو اسکول اور شہر کی سڈکوں ، کوچو اور عوامی جگہوں کی والنٹری بنیادوں پر صاف صفائی کا کام کیا کرتے تھے۔ ہندو برادری کے لوگ یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے اور ٹنڈل بسکو پر الزام لگایا گیا کہ یہ برہمن زاتی کے بچوں کو گندے کام کرنے پر مجبور کررہا ے جو سراسر توحین ے۔ اس کے تو ڈ کے لے سرکار نے ایک ہندو اسکول بلکل اس کے سامنے کھڈاکیا ۔ یہ اسکول انی بیسنت نے قایم کیا جو تھیوسپکل سوسائٹی آف انڈیا کی صدر تھی۔ اس اسکول کے قایم ہونے کے بعد صرف پندرہ دنوں میں 300 طلباء نے سی ایم ایس کو چھوڈ دیا لیکن بسکو نے ہمت نہ ہاری اور کچھ وقت کے بعد یہ تمام بچے اس اسکول میں داخلہ کے لے واپس آگے۔ اس دوران اس اسکول میں ایک طلباء نے یہاں پر عیسایت قبول کی جس کا نام سایمل بکال رکھا گیا۔ جب یہ خبر لوگوں تک پہنچ گی تو سینکڑوں لوگوں نے ڈی ایم ایس اسکول کا محاصرہ کیا اور کہا کہ مزہب تبدیل کر نے پر اس نوجوان کو ان کے حوالے کیا جاے تاہم نہ انہوں نے ہار مان لی اور نہ ہی اسکول اتھارٹی نے انہیں لوگوں کے حوالے کیا۔
بےشمار خدمات اور ماڈرن ایجوکیشن کی بنیاد رکھنے کے باوجود مشینری کے لوگ کشمیر میں عیسائیت کو پوری طرح سے پھیلانے میں ناکام رہے ۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ اور مقامی مزہبی ادارے جس میں ہندو اور مسلمانان شامل ے نے جی توڈ کوشش کی کہ مشینری کا مشن کشمیر میں ناکام رہے۔ ہندو سبھا اور مسلم انجمنوں کا قیام بھی اسی لے عمل میں لایا گیا۔ اور تمام ان ہندوں اور مسلمانوں کو جنہوں نے عیسائیت قبول کہ تھی کو اپنی برادری کے لوگوں نے پرازیکوٹ کیا جسے عام لوگوں نے ان مشینری اداروں سے دوری بنانا شروع کردیا۔
اس سب کے باوجود اگر کشمیر کی معیشت کی بات کرے تو یورپی ممالک سے آنے والے لوگوں کا اس پر کافی اثر پڈا اور سرینگر شہر میں رہنے والے لوگوں نے بھی اپنے دکانوں اور کاروباری اداروں کے نام عیسایت اور یورپی نام رکھنا شروع کردیا جسے یہ عیسای لوگ ان اداروں پر جاکر خریداری کرنا پسند کرتے تھے ۔ ان ناموں میں ابھی بھی بہت ساری مشہور دکانیں سرینگر میں موجود ے۔ جیسا کہ Suffering mosses, Sunshine Ally, Anemeda, Buckingham Palace وغیرہ جیے شامل ے۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
