تازہ ترین
ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔
نئی دہلی، 02 مارچ (یو این آئی) ہندوستان اور اٹلی نے آج اپنے دوطرفہ تعلقات کو قابل تجدید توانائی، دفاعی پیداوار، گرین ہائیڈروجن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹر، ٹیلی کام، خلائی اور اسٹارٹ اپس کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا۔
یہ فیصلے وزیر اعظم نریندر مودی اور اٹلی کے وزیر اعظم جارجیا میلونی کے درمیان یہاں ہونے والی دو طرفہ میٹنگ میں کئے گئے۔ میٹنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے چھ دستاویزات پر دستخط کیے گئے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں اپ گریڈ کرنے سے متعلق اعلامیہ، ہند-بحرالکاہل خطے میں سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیمی تعاون، امیگریشن اور مائیگریشن، انڈیا اٹلی اسٹارٹ اپ برج کے ساتھ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ثقافت، آیوش اور یوگا میں تعاون کے معاہدے شامل ہیں۔
ملاقات میں اطالوی وزیر اعظم نے یوکرین اور روس کے معاملے پر بھی بات چیت کی جس پر وزیر اعظم مودی نے ہندوستان کے موقف کو دہرایا۔
اپنے میڈیا بیان میں مسٹر مودی نے وزیر اعظم میلونی اور ان کے وفد کا ہندوستان کے پہلے دورہ پر خیرمقدم کیا اور ان کے ساتھ پچھلی ملاقاتوں کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری بات چیت بہت معنی خیز اور بہت مفید رہی۔ اس سال ہندوستان اور اٹلی اپنے باہمی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اور اس موقع پر ہم نے ہندوستان-اٹلی شراکت داری کو ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ ہماری میک ان انڈیا اور ‘خود کفیل ہندوستان’ مہم ہندوستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع کھول رہی ہے۔ ہم نے قابل تجدید توانائی، گرین ہائیڈروجن، آئی ٹی، سیمی کنڈکٹرز، ٹیلی کام اور خلا جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی زور دیا۔ ہم ہندوستان اور اٹلی کے درمیان اسٹارٹ اپ برج قائم کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
دنیا
بنگلہ دیش میں ڈینگی وبا میں اضافہ، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بلند ترین سطح پر
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں ڈینگی مچھر کی کا وبا میں تیزی آئی ہے، امسال اب تک 42,590 افراد اس مرض کے باعث ہسپتالوں میں زیرِ علاج لیے گئے ہیں اور 117 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں، جبکہ ستمبر میں تیز اضافہ ہسپتالوں پر دباؤ ڈال رہا ہے اور خدشہ ہے کہ مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی یہ بیماری آنے والے ہفتوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم چار مریض ڈینگی بیماری سے انتقال کر گئے اور 1,558 افراد ہسپتالوں میں داخل کیے گئے، جو اس سال اب تک کی بلند ترین یومیہ تعداد ہے۔
یہ بیماری بخار، شدید سر درد اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے اور حالیہ ہفتوں میں اس کے پھیلاؤ میں تیز ی آئی ہے، جس نے 2023 کے بنگلہ دیش کے مہلک ترین ڈینگی وبا کے بعد خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ یہ وبا صحت کے نظام پر مزید دباؤ ڈال رہی ہے جو پہلے ہی پورے ملک میں پھیلے خسرے کے وبا سے نبردآزما ہے، جس نےامسال تقریباً 1,000 بچوں کی جان لی ہے۔
صحت کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگرچہ اگست میں سال کا سب سے زیادہ ماہانہ کیس ریکارڈ ہوا، ستمبر اس سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طبی حشراتِ شناس پروفیسر کبیرالبشار نے کہا کہ ان کے نگرانی اور پیشن گوئی والے ماڈل کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو اس ماہ ہسپتالوں میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد 30,000 سے تجاوز کر سکتی ہے، اور موسم کی صورتحال اکتوبر تک منتقلی کا خطرہ دے رہی ہے۔
پروفیسر بشار نے کہا: “عروج ابھی نہیں پہنچا۔ اگر موجودہ رفتار جاری رہی تو ستمبر سال کے لیے ڈینگی بخار کا برا ترین مہینہ ثابت ہو سکتا ہے۔”
32 سالہ زاہد حسن کے لیے یہ وبا ذاتی دکھ میں بدل گئی جب اس کے چار سالہ بیٹے کو تیز بخار ہوا اور اس میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی۔
جب بچے کی حالت بگڑ گئی تو حسن اسے تین سرکاری ہسپتال لے گئے لیکن خالی بیڈ نہ مل سکا۔
حسن نے کہا “میں خوفزدہ تھا۔ ایک باپ کے طور پر اپنے بچے کو بگڑتے دیکھنا اور یہ نہ جاننا کہ اسے کہاں داخل کروایا جائے، ناقابلِ برداشت تھا” ۔
آخر کار ایک رشتہ دار کی مدد سے انہیں ایک نجی ہسپتال میں بیڈ ملا۔ ان کے بیٹے کو سات بیگ خون اور پلازما دیے گئے جس کے بعد وہ تندرست ہوا۔
“وہ دن ہمارے لیے ایک ڈراؤنے خواب جیسے تھے۔ ہم مسلسل ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں اس کے ساتھ کچھ نہ ہو جائے،” حسن نے کہا۔ ان کا بیٹا تا حال کافی لاغر ہے اور آہستہ آہستہ صحت یاب ہو رہا ہے۔
ڈینگی کے مریضوں کی طبیعت بخار ختم ہونے کے بعد تیزی سے خراب ہو سکتی ہے اور وہ پلازما کا رساؤ، کم بلڈ پریشر، صدمہ اور شدید خونریزی جیسی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، لہٰذا بخار کے بعد کے اہم مرحلے کے دوران قریب سے نگرانی ضروری ہے۔
ڈھاکہ میں ڈینگو کے مریضوں کا علاج کرنے والے معالج پروفیسر طارق عالم نے کہا: “مریض ہسپتالوں کا رخ کر رہے ہیں، اور پیٹ درد، چکر آنا اور غیر معمولی سستی جیسی انتباہی علامات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔”
بشار نے کہا کہ ڈینگی مچھر کا پھیلاؤ ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں سے باہر ضلعوں اور دیہی علاقوں تک ہو رہا ہے، جو انفیکشن میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ اب تک تمام 64 اضلاع میں ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
حکومت نے جیسے جیسے وبا بدتر ہوئی احتیاطی تدابیر تیز کر دی ہیں۔ وزیرِ اعظم طارق رحمان نے ملک گیر صفائی مہم اور بیداری مہمات کے احکامات جاری کیے ہیں، عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ٹہرے پانی اور دیگر مچھر پیدا ہونے والی جگہوں کی صفائی کریں اور کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
خلیج فارس میں فوجی موجودگی پر ایران کی جنوبی کوریا کووارننگ
تہران، ایران نے پیر کے روز جنوبی کوریا کو خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی شمولیت کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
ایران نے کہا کہ اس طرح کے کسی بھی اقدام کو حملہ آور کی براہ راست حمایت کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس کے “سنگین نتائج” ہو سکتے ہیں۔ اس نے امریکہ پر تنازع کے نتائج کی ذمہ داری سے بچتے ہوئے دنیا پر اس کی قیمت تھوپنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کوریائی زبان میں کی گئی ایک پوسٹ میں یہ بات کہی۔ انہوں نے تہران اور سیول کے درمیان طویل عرصے سے قائم سفارتی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
مسٹر بقائی نے کہا کہ ایران اور جنوبی کوریا کے درمیان 64 سال سے زائد عرصے سے باہمی احترام پر مبنی سفارتی تعلقات ہیں اور ایران جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے دوستانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں کسی دوسرے ملک کی خلیج فارس یا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی یا آپریشنل سرگرمی کو حملہ آور کی براہ راست حمایت کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت امریکی جارحیت اور ایرانی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم سے اپنا دفاع کر رہا ہے۔ مسٹر بقائی نے کہا کہ کسی بھی ذمہ دار خودمختار ملک کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے کے لیے امریکی دباؤ یا زبردستی کے آگے نہیں جھکنا چاہیے۔
مسٹر بقائی نے ایک اور پوسٹ میں امریکہ پر تنازع شروع کرنے اور اب اس کے نتائج کا بوجھ بین الاقوامی برادری پر ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز “پوری طرح کھلا” تھا اور اسی دن امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ مسٹر بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے خطے میں “غیر قانونی اور بربرانہ” جنگ چھیڑنے کے بعد تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی، جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا، “آبنائے ہرمز 28 فروری تک پوری طرح کھلا تھا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ امریکہ نے خطے میں ایک غیر قانونی اور بربرانہ جنگ چھیڑی اور تجارتی جہازوں کی عام آمد و رفت متاثر کر دی۔ ٹینکرز رکے ہوئے ہیں، تجارت متاثر ہے اور توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔”
انہوں نے امریکہ پر تنازع کے نتائج کی ذمہ داری ایران پر ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ مسٹر بقائی نے کہا، “امریکہ اب اپنی ہی پیدا کردہ مشکل کا بل پوری دنیا کے سامنے رکھنے اور اس پر ایران کا نام لکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
مسٹر بقائی نے امریکہ کے اس مبینہ بیانیے کی بھی مذمت کی، جس میں ایران کو موجودہ بحران کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ مسٹر بقائی نے کہا، “امریکہ نے جنگ شروع کی، لیکن چاہتا ہے کہ پوری دنیا اس کی قیمت چکائے، جب کہ ایران کو اس افراتفری کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ پوری طرح بے تکا ہے۔”
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
ہندوستان
عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات اہم : جے شنکر
نئی دہلی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور سپلائی چینز میں رکاوٹوں کے موجودہ دور میں ہندوستان اور لگژمبرگ کے تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
مسٹر جے شنکر نے ہندوستان کے دورے پر آئے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کے ساتھ پیر کے روز یہاں بات چیت کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور لوگوں کے باہمی آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ بعد میں وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں ہند-لگژمبرگ تعلقات انتہائی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا ، ” نئی دہلی میں آج لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ زیویئر بیٹل کا خیرمقدم کیا۔
ہندوستان اور لگژمبرگ کے درمیان قابل اعتماد شراکت داری عالمی غیر یقینی صورتحال اور رکاوٹوں کے دور میں اہم ہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، مالیاتی ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپ، کلین ٹیکنالوجی، خلائی شعبہ، صحت، تعلیم اور آمد و رفت سمیت دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی پیش رفت اور کثیر جہتی تعاون پر بھی غور و خوض ہوا۔ ہند-لگژمبرگ شراکت داری اور ہندوستان-یورپی یونین تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے لگژمبرگ کے نائب وزیر اعظم کی حمایت قابل ستائش ہے۔ ” مسٹر بیٹل کا منگل کے روز چنئی جانے کا پروگرام ہے۔
یو این آئی ۔ این یو۔ م الف
-
جموں و کشمیر3 days agoبڈگام انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پرہوئی
-
جموں و کشمیر6 days agoیاسین ملک کا سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار، کہا وہ بے قصور تھیں
-
دنیا6 days agoامریکہ-ایران جنگ: لڑائی میں شدت کے ساتھ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز سے اردن اور بحرین کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں کے مضافات میں پتنگ کی ’مانجھا‘ ڈور نے سابق فوجی کی جان لے لی
-
دنیا1 week agoایرانی فوج نے متحدہ عرب امارات کے المِنہاد فضائی اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا
-
جموں و کشمیر3 days agoاین سی بی نے جموں و کشمیر میں ہیروئن سپلائی کے دو راستوں کا انکشاف کیا، ایک مہینے میں تقریباً سات کلوگرام ہیروئن ضبط
-
ہندوستان1 week agoدفاعی شعبے کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے راج ناتھ
-
دنیا6 days agoمصر کے سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر7 days agoای او ڈبلیو کشمیر نے زمین پر قبضے کے دس سال پرانے معاملے میں فردِ جرم داخل کی
-
دنیا6 days agoٹرمپ نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کردیا، تہران کو ’’مکمل فوجی شکست‘‘ دینے کا دعویٰ
-
ہندوستان6 days agoجے رام رمیش نے 7.8 فیصد جی ڈی پی نمو کے دعوے کو چیلنج کیا، سابق فنانس سکریٹری کے 2.6 فیصد تخمینے کا حوالہ دیا
-
دنیا1 week agoامریکہ ایران کے ساتھ لین دین کرنے والے بینک پر پابندیاں عائد کرے گا – بیسنٹ
