جموں و کشمیر
بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل
8 جنوری کو جب پہ ڈی پی پریزیڈنٹ محبوبہ مفتی اپنے والد اور صابقہ وزیر اعلیٰ جموں وکشمیر مفتی محمد سید کی آخری آرام گاہ پر پہنچ گی جہا پر رسمی طور پر انہوں نے ایک پروگرام بھی منعقد کیا تھا تو محبوبہ مفتی کے ماما سرتاج مدنی جو پی ڈی پی کی پارلیمنٹری کمیٹی کے چیرمین بھی ے سے کھچہ لوگ مخاطب ہوے اور کہا کہ اگر بیگ صاحب اور ان کی اہلیہ کو یہا ں آنا تھا تو ہمیں کیو نہیں بتایا گیا۔ دراصل آپ لوگوں نے ہم سے یہ حقیقت چھپائی ہوئی تھی اور ہم اس سے بلکل بھی خوش نہیں ہوے۔ان لوگوں نے مدنی کو آڈے ہاتھوں لیا اور سرتاج مدنی کے پاس اس کا کوئی خاطر خواہ جواب بھی نہیں تھا۔
حقیقت یہ ے کہ جو پی ڈی پی کے پاس بھچا کھچا کاڈر ے وہ اس جماعت کا حقیقی کاڈر ے اور انہوں نے اس جماعت کا ساتھ تب نہیں چھوڑا جب پی ڈی پی کو لیڈران ایسے چھوڈ رہے تھے جیسے خزاں میں چنار کے پیڈ سے پتے لہرا تے ہوے گر رہے ہوتے ے۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پی ڈی پی واحد ایسی جماعت ے جس نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔ بھاجپا جیسی جماعت کا مقابلہ کرنے کے لے جس نے پورے ملک میں بڈی بڈی سیاسی جماعتوں کو ناخن کے چنے چھباے پی ڈی پی صدر اکیلا ہی مقابلہ کررہی تھی۔ اس دوران اس جماعت کے پاس پریس کانفرنس دینے کے لے کوئی بھی سینیر لیڈر موجودد نہیں تھا اور جماعت کے دوسری یا پھر تیسری لیر کے لوگ میڈیا کے سامنے آکر اپنا معقف رکھا کرتے تھے۔
اس صورتحال کے دوران محبوبہ مفتی اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ ساتھ اپنے جماعت کے باغی لیڈران سے بھی لڈ رہی تھی اور یہ باغی لیڈران اس جماعت کے توڈ کے بھیچے محبوبہ مفتی کی تلخ کلامی اور اشتعال انگیز بیانہ کو ہی زمہدار ٹھہرا رہے تھے۔ دراصل اس بغاوت کا ٹریگر کہی اور تھا اور مقامی سیاست دان بندروں کی طرح اس ڈمرو کے بجنے پر ناچنے کے سوا کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس کے پھیچے سب سے بڈی وجہ یہ تھی کہ نہ تو ان کا دامن صاف تھا اور نہ ہی یہ کوئی نظریاتی سیاست کرتے تھے۔ اگر کوئی کشمکش تھی وہ صرف پاور میں آنے کی۔
مظفر حسن بیگ بھی پی ڈی پی کے ایک بانی ممبران میں سے تھےاور ان کی خود علحیدگی اور پھر ان کی اہلیہ سفینہ بیگ کا باقی تنظیموں میں شمولیت اختیار کرنا پی ڈی پی کے لے ایک بہت بڈا دھچکا تھا۔یہا ں تک کہ سب سے زیادہ مخالفت اگر پی ڈی پی کے باغی لیڈران میں سے محبوبہ مفتی کی کسی نے کی ان میں مظفر حسن بیگ ایک نمایا کردار تھا۔
ایک بار پریس کانفرنس میں بیگ نے یہ بھی کہا کہ آرٹیکل 370 محبوبہ مفتی کے ایک بیان کی وجہ سے ہٹایا گیا جس میں انہوںں نے یہ کہا تھا کہ 370 کے ہھٹنےکے بعد کشمیر میں کوئی بھی ترنگا نہیں اٹھائے گا۔
ایک دفعہ آل پارٹی میٹنگ میں بھی بیگ نے 370 پر ہر کسی کو بات کرنے سے روکا اور کہا کہ ایسا سھمجا جاے کہ یہ اب ہمیشہ کے لے دفن ہوچکا ے۔ جس کے بعد پھر پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون نے بھی ان سے دوری اختیار کر لی۔
اب پی ڈی پی میں بیگ کی خود واپسی جماعت کے لے ایک بڈا چلینج بن چکا ے۔ ایک لابی یہ چاہتی ے کہ بیگ کو پی ڈی پی میں واپس جگہ ملنی چاہیے کیونکہ اس وقت ان کے پاس کوئی نمایا کردار نہیں ے جسے یہ شمالی کشمیر میں لوک سبھا نشست کے لے کھڈا کرسکتے ے کیونکہ نیشنل کانفر س نہ تو پی اے جی ڈی کے تحت الیکسن میں حصہ لینا چاہتی ے نہ ہی وہ انڈیا الائنس کے تحت کوئی سیٹ کشمیر میں پی ڈی پی کو دینا چاہتی ے۔ نیسشنل کا نفرنس مطمئن ے کہ وہ اس بار الیکشن میں سب سے بڈی جماعت ابھر کر آیگی۔
وہی دوسری جانب ایک اور لابی یہ سوچ رہی ے کہ دفعہ 370 پر جو پی ڈی پی کی پوزیشن ے وہ بیگ کے آنے کے ساتھ بہت حد تک کمپرومایز ہوسکتی ے ۔ یہا تک کہ بیگ جماعت میں ہوتے ہوے کسی بھی پارٹی بیان کی مزمت یہ نکار سکتے ےجسے پی ڈی پی پر الیکشن کے دوران اثر پڈ سکتا ے۔
وجہ کوئی بھی ہو بیگ کشمیر کی سیاست میں ایک ایسی حقیقت ے جیسے ہر روز مشرق سے سورج اگتا ے۔ اس بیگ خاندان نے ہمیشہ سے طوفان کی طرف مہ کرکے حالات کو اپنے قابو میں لیا لیکن کھبی بھی کشمکش اور نظریاتی سیاست پر یقین نہیں رکھا۔ آپ بیگ سے نفرت کرے یا محبت لیکن یہ جموں کشمیر کی سیاست میں ایسے گھسے ے کہ آپ انہیں کسی بھی حال میں نظر انداز نہیں کرسکتے ۔
جموں و کشمیر
جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی
جموں، ملک بھر میں 28 اگست کو رکشا بندھن کا تہوار منایا جائے گا۔ اس موقع سے قبل اسکولی طالبات نے جموں کی بین الاقوامی سرحد پر تعینات بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھ کر تہوار منایا۔
رکشا بندھن بھائی اور بہن کے درمیان محبت کے رشتے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔
جموں میں ہند-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر بھی اس تہوار کی خوشیاں دیکھنے کو ملیں، جہاں اسکولی طالبات نے سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری اور اپنی ڈیوٹی کی وجہ سے یہ بہادر اہلکار اس دن اپنے گھروں کو واپس نہیں جا پاتے اور تہوار نہیں منا سکتے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ جموں میں بھارت-پاکستان بین الاقوامی سرحد پر تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے مختلف اسکولوں کی طالبات کے ساتھ یہ مقدس تہوار منایا۔
طالبات صبح مٹھائیاں اور راکھیاں لے کر سرحدی چوکیوں پر پہنچیں اور وہاں تعینات اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی۔
اپنے گھروں سے دور رہنے والے جوانوں نے جب ان کم عمر اسکولی طالبات سے راکھیاں وصول کیں تو ان کے چہروں پر خوشی اور اطمینان کے جذبات نمایاں تھے۔
طلبہ نے کہا کہ بی ایس ایف اہلکار اپنے خاندانوں سے دور رہ کر ملک کی سلامتی کے لیے سرحد پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔
طالبات نے کہاکہ ’’جس دن ہر بھائی اپنی بہن کے ساتھ رکشا بندھن مناتا ہے، اس دن یہ بہادر اہلکار ملک کی حفاظت کے لیے سرحد پر تعینات رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ بہادر جوانوں کو اپنی بہنوں کی کمی محسوس نہ ہونے دیں، اسی لیے وہ سرحد پر پہنچیں اور ان کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منایا۔
یواین آئی۔ط ا
جموں و کشمیر
حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ مودی حکومت کی سب سے بڑی خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے ملک کے نوجوانوں کو روایتی ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت سے آگے بڑھانے کے لیے شعوری کوشش کی ہے اور اس مقصد کے لیے کاروبار، اختراع، خود روزگاری اور روزگار پیدا کرنے کے مختلف مواقع فراہم کیے ہیں۔
جموں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) میں قومی یومِ کھیل 2026 کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی نوجوانوں پر مرکوز اسکیموں نے ہندوستانی نوجوانوں کی امنگوں اور ان کے لیے دستیاب مواقع کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا ذکر کیا اور ایسے وقت میں اسٹارٹ اَپ انڈیا پالیسی شروع کی جب ملک میں اسٹارٹ اَپ کا تصور ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ آج ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور ملک میں 2.30 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ اسٹارٹ اَپس موجود ہیں۔
آئی آئی ایم جموں میں وزارتِ نوجوان امور و کھیل کے تحت میرا یوا بھارت کی جانب سے منعقدہ ’’کھیلو انڈیا سمواد – کھیل کی بات، پی ایم کے ساتھ‘‘ پروگرام میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران مدرا یوجنا، سوانِدھی یوجنا اور وشوکرما یوجنا جیسی نوجوانوں پر مرکوز کئی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، تاکہ نوجوان دوسروں پر انحصار کیے بغیر اپنا ذریعہ معاش پیدا کرسکیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس پروگرام سے خطاب کیا اور ملک کے مختلف حصوں سے شریک نوجوانوں سے بات چیت کی۔ ملک گیر سطح کا یہ پروگرام نوجوانوں کی قیادت، فٹنس اور ملک کی تعمیر جیسے موضوعات پر مرکوز تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے یاد دلایا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعے کی فصیل سے ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا، اسٹینڈ اَپ انڈیا‘‘ کا اعلان کرکے کاروباری سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا اور اس کے بعد اسٹارٹ اَپ انڈیا مہم شروع کی، اس وقت ہندوستان میں اسٹارٹ اَپ کلچر ابھی ابتدائی دور میں تھا۔
ڈاکٹر سنگھ نے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں آنے والی تبدیلیوں، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علمی کے دور میں ہمہ جہت اور متوازن ترقی ایک صحت مند، نظم و ضبط کے پابند اور پراعتماد نوجوان نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جاری۔یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی اطلاع پر 15 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان اور جنوبی کشمیر و سری نگر میں اس کی تصاویر والے پوسٹر چسپاں کیے جانے کے بعد 22 سالہ محمد لطیف بٹ وادی کے انتہائی مطلوب افراد میں شامل ہوگیا ہے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بٹ اس وقت کشمیر میں سرگرم واحد زندہ مقامی عسکریت پسند ہے، جبکہ سکیورٹی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ سے وابستہ 20 سے 30 پاکستانی شہری اور آپریٹو اب بھی وادی کے گھنے جنگلات میں چھپے ہوئے ہیں۔
پوسٹر میں کہا گیا ہے، ’’مذکورہ شخص کے ٹھکانے کے بارے میں قابل اعتماد اطلاع رکھنے والے کسی بھی شخص سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی فورسز سے رابطہ کرے۔‘‘
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے کھریوان چدر گاؤں کا رہنے والا بٹ مبینہ طور پر 2025 میں عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق وہ اس سال 2 جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا، جب اسے شوپیاں میں ایک نگرانی والے کیمرے میں لشکر کے ایک اور آپریٹو ذاکر احمد گنائی کے ساتھ دیکھا گیا۔
اس کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے مشترکہ کارروائی شروع کی، جس میں گنائی مارا گیا، جبکہ بٹ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس نے بٹ پر گزشتہ ماہ جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اسپیشل آپریشنز گروپ کے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کو 22 جولائی کو اننت ناگ کے ایک مصروف بازار میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔
نو دن بعد کولگام کے کِلم گاؤں میں ایک اینٹ بھٹے پر دو غیر مقامی مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ گزشتہ سال جولائی میں پہلگام حملے کے بعد وادی میں یہ پہلے عسکری حملے تھے جن کی اطلاع ملی۔
پولیس ہیڈ کانسٹیبل کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں 3500 سے زائد مشتبہ بالائے زمین کارکنوں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کو حراست میں لیا گیا۔
بٹ نے اشموجی کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں تعلیم حاصل کی، جس کے بعد اس نے بیچلر ڈگری کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج، کولگام میں داخلہ لیا۔
تاہم، اس نے اپنی تعلیم مکمل نہیں کی۔ 2025 کے اوائل میں انڈرگراؤنڈ جانے سے قبل اس نے مختصر عرصے تک شیشے لگانے والے کاریگر (گلیزیئر) کے طور پر کام کیا تھا۔
تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ گنائی نے بٹ کو عسکریت پسندی میں شامل ہونے کے لیے آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نومبر 2025 میں خود کو کشمیر ریوولیوشنری آرمی (کے آر اے) کہنے والی ایک تنظیم نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ بٹ اس کی صفوں میں شامل ہوگیا ہے۔
تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ کے آر اے دراصل لشکر طیبہ کا استعمال کیا جانے والا ایک فرضی نام یا پراکسی تنظیم ہے، بالکل اسی طرح جیسے دی ریزسٹنس فرنٹ (ٹی آر ایف) کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
