جموں و کشمیر
اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی
جموں، جموں و کشمیر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کے روزیوتھ سروسیز اینڈ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 10 جون کو نوٹیفائی کردہ سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین کھلاڑیوں کے انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطح اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا۔
یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب بی جے پی رہنماؤں نے کئی مستحق اور کامیاب کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے محروم کیے جانے کے خلاف احتجاج کرنے والے کھلاڑیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔
پارٹی کے قومی سکریٹری اور جموں ساؤتھ کے رکن اسمبلی ڈاکٹر نریندر سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کے وفد نے، جس میں باہو کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا، جموں ایسٹ کے رکن اسمبلی یودھویر سیٹھی، جموں ویسٹ کے رکن اسمبلی اروند گپتا، مڑھ کے رکن اسمبلی سریندر بھگت اور جے اینڈ کے بی جے پی کے ترجمان زورا ور سنگھ جاموال شامل تھے، احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں انصاف کے مطالبے میں پارٹی کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وفد نے جے اینڈ کے بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا کے رکن ستپال شرما نیز قائد حزب اختلاف اور رکن اسمبلی سنیل شرما کی ہدایت پر احتجاجی کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔
احتجاجی کھلاڑیوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نریندر سنگھ نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو ان کی شکایتوں کو دور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا اور انتظامیہ پر الزام لگایا کہ کھلاڑیوں کے کئی دنوں سے احتجاج کے باوجود اس نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا، “ہم نے لیفٹیننٹ گورنر کو حالیہ بھرتی میں جموں و کشمیر کے نمایاں کھلاڑیوں کے ساتھ ہوئی مبینہ ناانصافی کے بارے میں تمام معاون دستاویزات کے ساتھ ایک تفصیلی خط سونپا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا انتخاب کے عمل کے دوران مستحق کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا، “ہمیں منتخب ہونے والے امیدواروں سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن یہ قائم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ جانچ ضروری ہے کہ آیا تمام مستحق امیدواروں پر منصفانہ غور کیا گیا تھا۔”
سنگھ نے دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ گورنر نے بی جے پی وفد کو یقین دلایا ہے کہ اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کچھ مستحق کھلاڑیوں کو فہرست سے مبینہ طور پر کیوں باہر رکھا گیا۔
اپنے اپنے خطاب میں بی جے پی رہنماؤں نے احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں کو دور کرنے میں کھیل کی وزارت کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کھیل کے وزیر کا تعلق جموں سے ہونے کی وجہ سے انہیں مداخلت کرنی چاہیے تھی اور احتجاجی کھلاڑیوں سے ملنا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، “کھیل کے وزیر کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کا اختیار ہے۔ دیگر مستحق امیدواروں کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، لیکن وزیر نے ان نوجوان کھلاڑیوں سے ملاقات تک نہیں کی ہے۔”
بی جے پی رہنماؤں نے مزید الزام لگایا کہ انتخاب کے عمل نے معذور کھلاڑیوں سمیت دیگر کھلاڑیوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے اور دعویٰ کیا کہ کچھ کھلاڑی اپنی شکایتوں پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرتے کرتے بیمار پڑ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کھلاڑیوں کے انتخاب میں جو کچھ ہوا ہے اس سے عمل پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ جن لوگوں نے جموں و کشمیر اور ملک کا نام روشن کیا ہے وہ اعتراف اور انصاف کے مستحق ہیں۔”
بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر انتخابی فہرست کا جائزہ لے اور شفاف اندازے کے بعد تمام واقعی اہل اور مستحق کھلاڑیوں کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ موجودہ پالیسی کے نتیجے میں مستحق کھلاڑی باہر ہو گئے ہیں اور انہوں نے نمایاں کھلاڑیوں کی فہرست میں کسی بھی قسم کی خامی کی نشاندہی کے لیے انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے سوال کیا، “ایک ہی ضلع اور مبینہ طور پر ایک ہی کھیل سے 72 افراد کو کیسے ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ دیگر واقعی باصلاحیت افراد کو مبینہ طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتخاب کے معیار اور پالیسی کے نفاذ کو عوام کے سامنے معائنے کے لیے رکھا جائے۔
بی جے پی رہنماؤں نے الزام لگایا کہ یہ تنازعہ علاقائی عدم توازن کے ایک بڑے مسئلے کی عکاسی کرتا ہے اور نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت پر جموں کے نوجوانوں کی امنگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
بی جے پی رہنماؤں نے کہا، “یہ صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں ہے۔ اس سے یہ سنگین سوالات اٹھتے ہیں کہ آیا علاقائی تعصب نے اس عمل پر اثر ڈالا ہے۔ ہمارے کھلاڑی جموں و کشمیر کا فخر اور مستقبل ہیں، اور ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جا سکتی۔”
بی جے پی نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے تمام واقعی کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور جب تک معاملہ حل نہیں ہو جاتا ان کے خدشات کو اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت احتجاجی کھلاڑیوں کی شکایتوں پر کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو یہ مسئلہ ایک وسیع تر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا5 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
