تازہ ترین
ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے
عاصم محی الدین
مجوزہ آئین (ستائیسویں ترمیم) ایکٹ 2025 کو ایک معمولی قانونی اصلاح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ ترمیم آئین کے چند نکات میں وضاحت لانے اور عدالتی امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ہے۔ لیکن اگر اس پردے کو ہٹا کر دیکھا جائے تو ایک مختلف اور کہیں زیادہ سنگین حقیقت سامنے آتی ہے۔ یہ بل دراصل ایک خاموش آئینی قبضہ ہے، جو اصلاحات کے نام پر عدلیہ میں فوجی اثر و رسوخ کو قانونی حیثیت دینے جا رہا ہے۔
مارشل لا سے قانون کی حکمرانی تک کا بدلتا چہرہ
پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے وقت کے ساتھ یہ سیکھ لیا ہے کہ براہِ راست اقتدار پر قبضہ اب پہلے جیسا ممکن نہیں رہا۔ مارشل لا، اسمبلیوں کی تحلیل، یا آئین کی معطلی جیسے اقدامات اب داخلی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کرتے ہیں۔ دنیا اب یہ منظر قبول نہیں کرتی کہ کوئی جنرل دن دہاڑے بندوق کے زور پر اقتدار سنبھال لے۔ چنانچہ اب طریقہ کار تبدیل ہو گیا ہے۔ اب اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے ٹینکوں کے بجائے ترمیمی بل استعمال کیے جاتے ہیں۔ اب قبضہ بندوق سے نہیں، بلکہ قلم اور پارلیمنٹ کے دستخط سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو یہ اسی خاموش اور بتدریج پیش قدمی کا آخری مرحلہ ہوگی۔
وفاقی آئینی عدالت — ایک نیا ادارہ، ایک نیا نظام
اس ترمیم کا سب سے اہم پہلو ایک نئے ادارے، وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کا قیام ہے۔ اس کے تحت آئین کی کئی اہم دفعات میں “سپریم کورٹ” کی جگہ “وفاقی آئینی عدالت” کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔ ان دفعات میں آرٹیکل 63اے، جو اراکینِ پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق ہے، آرٹیکل 68 جو عدالتی ضابطہ بیان کرتا ہے، اور آرٹیکل 42 جو صدرِ مملکت کے حلف سے متعلق ہے، شامل ہیں۔
یہ آخری تبدیلی بظاہر معمولی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ اس کے بعد صدرِ مملکت ریاستِ پاکستان کے بجائے “وفاقی آئینی عدالت” کے سامنے وفاداری کا حلف اٹھائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صدر کی وفاداری ایک مخصوص عدالتی ادارے کی جانب منتقل ہو جائے گی، جو ابھی تشکیل ہی کے مرحلے میں ہے۔ گویا ریاست کا سربراہ آئینی طور پر ایک ایسے ادارے کے تابع قرار پائے گا جس کے خدوخال ابھی طے ہی نہیں ہوئے۔ یہ ایک علامتی نہیں بلکہ بنیادی سیاسی تبدیلی ہے، جو آئینی وفاداری کے توازن کو ہی بدل ڈالے گی۔ اگر اس عدالت کے ججوں کا تقرر ایسے طریقہ کار سے کیا گیا جو انتظامیہ یا اسٹیبلشمنٹ کے زیرِ اثر ہو، تو یہ ادارہ ایک ایسے عدالتی نظام کی بنیاد رکھے گا جو عوام یا آئین کے نہیں بلکہ طاقت کے تابع ہوگا۔
سپریم کورٹ کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی
یہ ترمیم ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ نے پچھلے چند برسوں میں بعض حساس معاملات پر ریاستی اداروں کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ انتخابات کے التوا، شہریوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات، جبری گمشدگیوں اور شہری بالادستی جیسے معاملات میں عدالت نے بعض اوقات ریاستی دباؤ کے باوجود آواز اٹھائی۔ اسٹیبلشمنٹ کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ قبول ہے۔ ماضی کی طرح براہِ راست تصادم یا عدالت کی تحلیل ممکن نہیں، کیونکہ اس سے اندرونِ ملک مزاحمت اور بیرونی دباؤ دونوں کا سامنا ہوگا۔ اس لیے اب راستہ بدل دیا گیا ہے — سپریم کورٹ کو ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے اختیارات کو بانٹ کر غیر مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ آئینی تشریح اور حتمی اختیار ایک نئے ادارے کے پاس منتقل ہو جائے، جو زیادہ “قابلِ اعتماد” اور “قابلِ کنٹرول” ہو۔
پاکستان کی آئینی تاریخ میں یہ طرزِ عمل نیا نہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی آٹھویں ترمیم ہو یا جنرل مشرف کے پروویژنل آئینی احکامات (PCO)، ہر دور میں طاقتور طبقے نے آئین میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں متعارف کرائیں اور پھر انہیں پارلیمانی توثیق کے ذریعے قانونی حیثیت دے دی۔ ستائیسویں ترمیم بھی اسی سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے، البتہ اس بار یہ عمل زیادہ مہذب، خاموش اور قانونی انداز میں کیا جا رہا ہے۔
اصلاحات یا اختیار کا نیا چہرہ
ترمیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ وفاقی آئینی عدالت عدالتی سیاست کو کم کرے گی، آئینی تنازعات کے حل کو بہتر بنائے گی، اور سپریم کورٹ پر مقدمات کا بوجھ کم کرے گی۔ مگر حقیقت میں یہ دلیل محض ایک تکنیکی جواز ہے۔ پاکستان میں “غیرسیاسی بنانا” ہمیشہ سے جمہوری احتساب کو کمزور کرنے کے مترادف رہا ہے۔ اگر حکومت کا مقصد واقعی عدلیہ کی کارکردگی میں بہتری ہوتا تو وہ سپریم کورٹ کے ڈھانچے میں بہتری، ججوں کی تعداد میں اضافہ یا عدالتی نظام میں جدید اصلاحات کرتی۔ لیکن ایک بالکل نیا ادارہ قائم کرنے کی تجویز اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل مقصد اصلاح نہیں بلکہ کنٹرول ہے۔ جب کسی ادارے کو قابو میں نہیں لایا جا سکتا، تو اس کے متوازی ایک نیا ادارہ بنا دیا جاتا ہے جو پہلے ہی تابع ہو۔
آئینی ڈھانچے میں طاقت کا نیا مرکز
یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں لائی گئی ہے جب ملک میں سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں تناؤ ہے۔ عدلیہ واحد فورم ہے جہاں اب بھی ریاستی طاقت پر کبھی کبھار سوال اٹھایا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں عدلیہ کی آزادی محدود کرنا ناگزیر سمجھا گیا ہے۔ آئین کے مختلف حصوں میں “وفاقی آئینی عدالت” کا ذکر شامل کر کے اس ادارے کو محض عدالتی دائرے تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ ریاست کے تقریباً تمام آئینی معاملات میں دخیل کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ عدالت ایک مرکزی آئینی قوت بن جائے گی، جو پارلیمنٹ، حکومت اور صدر کے بیچ نئے طاقت کے توازن کو تشکیل دے گی۔ یوں عدلیہ، جو آئین کی محافظ تھی، ریاستی طاقت کا ایک تابع حصہ بن جائے گی۔
آمریت کا نیا انداز
یہ سب کچھ پاکستان میں پہلی بار نہیں ہو رہا، مگر اس بار طریقہ زیادہ باریک اور پُراثر ہے۔ ماضی میں مارشل لا یا آئینی معطلی کے ذریعے قبضہ کیا جاتا تھا، آج وہی مقصد قانونی اصطلاحات اور ترامیم کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی قبضہ ہے، مگر اب اسے “قانون سازی” کہا جا رہا ہے۔ دنیا کی نظروں میں کھلے عام اقتدار پر قبضہ کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے اب “قانون کے ذریعے قبضہ” یعنی Lawfare نیا حربہ بن چکا ہے۔ جب جنرل قانون بناتے ہیں اور سیاست دان ان پر دستخط کرتے ہیں، تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ماضی میں مارشل لا سے حاصل ہوتا تھا — بس اس بار بغیر شور شرابے کے۔
انجام اور خطرات
اگر یہ ترمیم منظور ہو گئی تو اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔ عدلیہ کی آزادی محدود ہو جائے گی، سپریم کورٹ محض رسمی ادارہ بن کر رہ جائے گی، اور فوجی اثر و رسوخ کو آئینی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ یوں آئینی نظام کے اندر طاقت کے ایک ایسے مستقل توازن کی بنیاد رکھ دی جائے گی جو جمہوری اصولوں کے منافی ہوگا۔ اس کے نتیجے میں عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوگا، کیونکہ جب عدالتیں انصاف کے بجائے طاقت کی تابع نظر آئیں تو شہری جمہوری عمل سے منہ موڑ لیتے ہیں — اور یہی کسی غیرجمہوری نظام کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔
اختتامیہ: قانون کے پردے میں اختیار
ستائیسویں ترمیم محض ایک قانونی مسودہ نہیں بلکہ ایک سیاسی منصوبہ ہے۔ یہ پاکستان میں فوجی بالادستی کو آئین کا حصہ بنانے کی ایک تدریجی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے ریاست کی وہ قانونی بنیادیں تبدیل کی جا رہی ہیں جن پر عوامی خودمختاری قائم تھی۔ اسٹیبلشمنٹ اب اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے مارشل لا نافذ نہیں کرے گی، بلکہ آئین ہی کو اس طرح بدلے گی کہ قانون خود اس کے اختیار کو جائز قرار دے دے۔ سیاسی طبقات شاید اسے ایک وقتی مصالحت سمجھیں، مگر تاریخ کا سبق واضح ہے: جب کوئی ریاست اپنے آئین میں اطاعت درج کر دیتی ہے، تو پھر نہ قانون باقی رہتا ہے، نہ جمہوریت۔
آج پاکستان میں قبضہ بندوق سے نہیں بلکہ شقوں، ذیلی دفعات اور بلوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ اور یہی قبضہ سب سے خطرناک ہے، کیونکہ یہ قانونی دکھائی دیتا ہے۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا5 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا5 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا5 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
