ہندوستان
وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن آج پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے پیش کریں گی
نئی دہلی، مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن آج پارلیمنٹ میں اقتصادی سروے آف انڈیا پیش کریں گی۔ یہ سروے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔ اقتصادی سروے وزارتِ خزانہ کے اقتصادی شعبے کی جانب سے چیف اکنامک ایڈوائزر کی نگرانی میں تیار کیا گیا ہے، جس میں ملک کی معیشت سے متعلق اہم رجحانات، چیلنجز اور حاصل شدہ کامیابیوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔
سروے میں نہ صرف موجودہ معاشی حالت کا تجزیہ شامل ہے، بلکہ آئندہ مالی سال کے لیے مستقبل پر مبنی خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں ممکنہ پالیسی سمتوں، تخمینوں اور اندازوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ اقتصادی سروے کے بعد یکم فروری کو وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن مرکزی بجٹ 2026-27 پیش کریں گی۔
دوسری جانب شہری ہوابازی کے مرکزی وزیرِ مملکت مرلی دھر موہول، ایئرپورٹس اکنامک ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (اے ای آر اے) سے متعلق دستاویزات پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ اس کے علاوہ ایئرپورٹس اکنامک ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا، نئی دہلی کے کام کاج سے متعلق سال 2024-25 کی جائزہ رپورٹ بھی ایوان میں رکھی جائے گی۔ ایجنڈے کے مطابق ایوان کی کارروائی کا آغاز وقفہ سوالات سے ہوگا، جس کے بعد مرکزی کابینہ کے اراکین مختلف وزارتوں سے متعلق دستاویزات ایوان کی میز پر رکھیں گے۔ نرملاسیتا رمن وزارتِ خزانہ سے متعلق جبکہ مرلی دھر موہول وزارتِ شہری ہوابازی سے متعلق کاغذات پیش کریں گے۔ دن کے ایجنڈے میں ان آٹھ بلوں کو باضابطہ طور پر ایوان میں پیش کرنا بھی شامل ہے، جنہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے اور بعد ازاں صدرِ جمہوریہ کی منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی 13ویں رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جائے گی، جسے کرن رجیجو اور کوڈی کنّل سریش پیش کریں گے۔ بجٹ اجلاس کا دورانیہ مجموعی طور پر 65 دنوں میں 30 نشستوں پر مشتمل ہوگا اور یہ اجلاس 2 اپریل کو اختتام پذیر ہوگا۔ پارلیمنٹ 13 فروری کو وقفے کے لیے ملتوی ہوگی اور 9 مارچ کو دوبارہ اجلاس شروع ہوگا، تاکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں مختلف وزارتوں اور محکموں کے گرانٹس مطالبات کا جائزہ لے سکیں۔ بجٹ اجلاس سے قبل منگل کے روز وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ایک کل جماعتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اجلاس کے دوران اٹھائے جانے والے امور پر تبادلۂ خیال کیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اس کل جماعتی اجلاس میں وزرا سمیت 39 سیاسی جماعتوں کے 51 رہنماؤں نے شرکت کی۔ رہنماؤں کو آگاہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 2026 بدھ 28 جنوری 2026 سے شروع ہوا ہے اور سرکاری کام کاج کی ضرورت کے تحت جمعرات 2 اپریل 2026 کو اختتام پذیر ہوگا۔ اجلاس کے دوران دونوں ایوان 13 فروری 2026 کو وقفے کے لیے ملتوی ہوں گے اور 9 مارچ 2026 کو دوبارہ کارروائی کا آغاز ہوگا۔ بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں 13 اور دوسرے مرحلے میں 17 نشستیں ہوں گی، یوں مجموعی طور پر اجلاس 30 نشستوں پر مشتمل ہوگا۔
یو این آئی۔ ایس اے۔
ہندوستان
مرکز نے امپلائز پینشن اسکیم کے تحت ماہانہ اجرت کی حد 15,000 روپے مقرر کی
نئی دہلی، مرکزی حکومت نے امپلائز پینشن اسکیم (ای پی ایس)، 2026 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم ضابطہ کے تحت ماہانہ اجرت کی بالائی حد 15,000 روپے مقرر کر دی ہے، جس نے اس پہلے سے موجود نظام کی جگہ لے لی ہے جس کے تحت یہ رقم مرکزی حکومت کی طرف سے الگ سے طے کی جانی تھی۔
گزٹ آف انڈیا کے مطابق، وزارت محنت و روزگار کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن ‘جی ایس آر 890 (ای)’ کے ذریعے کی گئی یہ ترمیم 17 ستمبر سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت، حکومت نے اسکیم کے پیراگراف 4 کے سب پیراگراف (2) میں الفاظ “ایسی رقم جو مرکزی حکومت کی طرف سے طے کی جائے” کو “پندرہ ہزار روپے ماہانہ تک کی اجرت” سے تبدیل کر دیا ہے۔
اس تبدیلی سے اس ضابطہ کے تحت لاگو اجرت کی حد کی پوری طرح سے وضاحت کر دی گئی ہے، جس سے مرکزی حکومت کی طرف سے الگ سے رقم طے کرنے کے سابقہ حوالے کو ختم کر دیا گیا ہے۔
ایک الگ ترمیم میں، حکومت نے اسی سب پیراگراف کی پہلی شرط سے الفاظ “اور مرکزی حکومت” کو بھی حذف کر دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مارکو روبیو اور جے شنکر کی ملاقات پر راہل گاندھی کا مودی پر طنز، وزیرِ خارجہ کو ‘ملازم’ قرار دیا
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ممبئی میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ہندوستان کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے درمیان مجوزہ ملاقات پر وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کیا ہے۔ انہوں نے بظاہر وزیرخارجہ کو امریکی عہدیدار کا “ملازم” قرار دیتے ہوئے سفارتی معاملے کو سنبھالنے پر حکومت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے کہا، “مسٹر روبیو نے اپنے ملازم کو ممبئی طلب کیا ہے۔ مودی جی! آپ کی وزارتِ خارجہ کے حکام الجھن کا شکار ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ آپ خود وضاحت کرنا چاہیں گے؟ یا پھر آپ چاہتے ہیں کہ میں ہی اس کی وضاحت کروں؟”
کانگریس رہنما کے ان تبصروں کا مقصد مجوزہ ملاقات کے حالات پر سوال اٹھانا تھا، جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزارتِ خارجہ کے افسران ان پیش رفت کے بارے میں غیر واضح ہیں۔ جے شنکر کو بظاہر روبیو کا “ملازم” قرار دینا ایک سیاسی طنز تھا، جس کے ذریعے ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات میں عدم توازن کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔
وزیر اعظم مودی کو اس صورتحال کی وضاحت کرنے کا براہ راست چیلنج دیتے ہوئے راہل گاندھی نے حکومت کو دفاعی موقف پر لانے کی کوشش کی، ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر حکومت ناکام رہتی ہے تو اپوزیشن اس پر اپنا موقف پیش کر سکتی ہے۔ یہ بیانات مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی تعلقات پر جاری سیاسی رسہ کشی کے درمیان سامنے آئے ہیں۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ایئر انڈیا نے سعودی عرب کے لیے 20 اکتوبر تک کی پروازیں منسوخ کیں
نئی دہلی، ٹاٹا گروپ کی ایئر لائن کمپنی ایئر انڈیا نے سعودی عرب میں جنگ کی صورتحال کے پیشِ نظر وہاں کے لیے 20 اکتوبر تک کی اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
ایئر انڈیا کی مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی جمعہ کے روز 20 اکتوبر تک کے لیے سعودی عرب سے آنے اور جانے والی اپنی تمام پروازوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل انڈیگو اور اکاسا ایئر نے جمعرات کی رات سعودی عرب کی پروازوں کی منسوخی کی مدت میں توسیع کا اعلان کیا تھا۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں اور ان میں ہوائی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد چاروں ہندوستانی ایئر لائن کمپنیوں نے وہاں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ایئر انڈیا کی جانب سے آج جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ریاض، دمام اور جدہ کے لیے 20 اکتوبر تک کی اس کی تمام پروازیں منسوخ رہیں گی، جن میں دونوں طرف کی پروازیں شامل ہیں۔ ایئر لائن نے کہا ہے کہ ان پروازوں کی دوبارہ بحالی کے لیے فی الحال حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ منسوخ کرانے پر مکمل ریفنڈ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی دمام، جدہ اور ریاض کی اپنی تمام پروازیں 20 اکتوبر تک منسوخ رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ مسافر سفر کی تاریخ میں بلا معاوضہ تبدیلی کر سکتے ہیں یا پھر ٹکٹ منسوخ کرا کے پورا ریفنڈ حاصل کر سکتے ہیں۔
انڈیگو نے جمعرات کو بتایا تھا کہ ریاض، جدہ، دمام اور مدینہ کی اس کی پروازیں 24 اکتوبر تک کے لیے منسوخ رہیں گی۔ جبکہ اکاسا ایئر نے ریاض کی پروازیں 24 اکتوبر تک اور جدہ کی پروازیں 21 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں۔
یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoوزیر اعظم مودی نے یوم فضائیہ پر جانبازوں کو سلام پیش کیا، ہندوستان کے آسمان کی حفاظت میں ان کی بہادری کو سراہا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے ایس آئی آر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا جموں و کشمیر پہلے ہی انتخابی ‘ہیرا پھیری’ دیکھ چکا ہے
-
دنیا1 week agoروس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں کم از کم 38 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی
-
دنیا1 week agoوائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو ایران پر حملوں کے لیے اختیارات تیار کرنے کی ہدایت دی: رپورٹ
-
ہندوستان6 days agoدفاعی شعبے میں خود انحصاری اور دوست ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون ضروری: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoفورٹ ہُڈ حملے کے مجرم کو ‘فائرنگ اسکواڈ’ سے دی جانے والی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی: پینٹاگن
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے شخص کی لاش نیوزی لینڈ سے واپس لانے کی کوششیں جاری: جتیندرسنگھ
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
-
جموں و کشمیر6 days agoسوپور کے جنگلات سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کا بڑا ذخیرہ برآمد
-
فن و ادب1 week agoنانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
-
جموں و کشمیر6 days agoسی ای سی اور بی جے پی حکومت کے خلاف سری نگر میں انڈیا اتحاد کا مشترکہ احتجاج
-
ہندوستان1 week agoجنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت کے تعلق سے یوتھ کانگریس کی عرضی پر جمعہ کو سماعت
