تازہ ترین
کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام
فلسطین اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ اگر کوئی جگہ دنیا میں ے جہاں پر مزاہب پروان چھڈے ے تو وہ کشمیر ے۔ اس کی تاریخ پر نظر ڈالی جاے تو آپکو پتا چلے گا کہ دنیا کے تین بڈے مزاہب یہاں پر پروان چھڈے ے جن میں ہندواعظم، بدھمت اور اب اسلام ے۔
یہ سرزمین ان مزاہب کو پھیلانے اور اپنانے کے لے کافی زرخیز رہ چکی ے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں پر عیسایت کو لوگوں نے قبول کیوں نہیں کیا باوجود اسکے کہ یورپ سے آے ہوے عیسایوں نے یہاں آکر کافی سارے سماجی کاموں میں حصہ لیااور ایسا انفراسٹرکچر تیار کیا جسے آج تک لوگ فایدہ اٹھا رہے ے۔ ان سب چیزوں پر ہم آج بات کرینگے اور آپکو یہ بھی بتاینگے کہ پہلی بار کب اور کونسے عیسائیوں نے کشمیر کی سرزمین پر قدم رکھا اور آخر یہ یہاں پر عیسایت کو پھیلانے میں ناکام کیوں ہوے۔
1854 میں پہلی بار کرشچن مشینری کے لوگوں نے کشمیر کی سرزمین پر اپنا قدم رکھا جب ریٹائرڈ کرنل مارٹن پشاور سے اور روبوٹ کلرک دو مزید پنجابی عیسائیوں کے ساتھ کشمیر وارد ہوے۔ اور اسکے بعد پھر کرشچن برادری سے مزید لوگ 1862 میں کشمیٖر آے۔ تاہم کرشچن مشینری کا پرمیننٹ مشن 1864 میں کشمیر میں شروع ہوا جس کی شروعات کے ساتھ ہی مہاراجہ رنبیر سنگھ نے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی سے ایک آرڈر پاس کروایا جس کے تحت تمام ان سیاحوں کو جو یورپ سے تعلق رکھتے ے کو انتباہ کیا گیا کہ وہ سردیاں شروع ہوتے ہی کشمیر کو چھوڈ دے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے لے چار مخصوص راستوں کو منتخب کیا گیا جہاں سے وہ کشمیر کے اندر داخل ہوسکتے تھے۔
مہاراجہ کو ان لوگوں پر پہلے سے ہی شک تھا کہ ان کا کشمیر میں آنا جانا کسی نہ کسی طرح سے مشینری کام کے ساتھ منسلک ے۔ اگر چہ ان کے تعلقات انگریزوں کے ساتھ بہتر تھے تاہم وہ بلکل بھی اس بات سے خوش نہیں تھے کہ ان یورپی لوگوں کا آنا جانا کشمیر میں رے۔ اسی لے انہوں نے ان کی آمد پر ان کے گھومنے اور کام کاج پر اپنی سیکورٹی اور انٹلیجنس کے لوگوں کو تعینات کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رکنے کے لے شہر سے باہر کھچہ مخصوص جگے رکھی گی اور انتباہ کیا گیا کہ وہ مقامی لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز کرے۔
اسی پابندی کی وجی سے کشمیٖر میں ہاوسبوٹز کا قیام بھی آیا۔ اس پر میں نے ایک تفصیلی ویڈیو بنائی ے جس کا لنک آپکو ڈیسکرپشن میں ملے گا۔
مشینری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بھی برصغیر میں عیسائیت کو پھیلانے کے لے کشمیر کا چناو اس کی جغرافیہ اور لوگوں کی معاشی حالات کو دھیک کر کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کشمیر میں پڈاو رکھ کر یہ آسانی سے پورے برصغیر میں اپنے مزہب کو پھیلا سکتے ےاور کشمیر کے لوگ جو لا چاری، غربت اور بنیادی سہولیات کے مارے ہوئے ے کو مفت میڈیکل فیسلٹیز، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے یہ آسانی سے عیسایت کو قبول کرینگے۔ اور یہ اندازہ ان کا کی نہ کی سچ بھی نکلا۔ مور کرافٹ جب انویسی صدی کے آغاز میں کشمیر آگے تو انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا، میں مطمئن ہو پورے برصغیر میں کشمیر جییسی جگہ کی نہیں مل سکتی ے جہاں سے عیسایت کا پرچار موثر انداز میں کیا جاسکتا ے۔
اگر چہ مہاراجہ زاتی طور پر کشمیر میں مشینری مشن کے خلاف تھے تاہم مقامی لوگوں نے ان کے ساتھ تعلق خود بخود بھڈانا شروع کیا۔ حکومت کی بندشوں کے باوجود مشینری کے لوگوں نے 1864 میں پہلا مکان سرینگر میں فرنچ شوال مرچنٹس کے زریعے کرایا پر لیا۔ اس گھر میں جب روبوٹ کلرک اور اور ان کی اہلیہ داخل ہونے لگے تو لگبگ 1500 لوگوں کا ہجوم اکھٹا ہوگیا اور اس مکان کو نظر آتش کر نے لگے اور پھر اس مکان پر پھتر بازی بھی کردی گی۔ لیکن ہار نہ ماننے والے روبوٹ نے اسی سال سرینگر میں کرشچن مشینری اسکول کو قایم کیا , سرکار نے پولیس کے زریعے لوگوں کو دھمکی دی کہ اگر کوئی بچہ اس اسکول میں داخلہ لے رہا ے تو اس کے والدین کو گلگت کی طرف جلاوطن کیا جاے گا۔ اسی سال کے می مہینے میں روبوٹ کلرک نے ایک ڈسپنسری سری نگر میں قایم کی۔ اس ڈسپنسری پر سرکار کی بندشوں کے باوجود لوگ قطاروں میں نظر آنے لگے ۔ اس بنیادی ڈھانچے کو قایم کرنے کے بعد مشینری کے لوگوں نے راحت کی سانس لی اور اپنی سرگرمیاں مختلف سطح پر شروع کردی۔ مشینری کی طرف سے تعلیم اور طبعی سہولیات لوگوں کو مفت فراہم کر نے کے بعد انہوں نے کشمیریوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی۔ تاہم مہاراجہ کے لےیہ چیز پریشانی کا باعث بننے لگی جسکی وجہ سے سرکار نے پہلی ڈسپنسری عام لوگوں کے لے 1870 میں کھول دی۔
مشینری کی مقبولیت بھڈتی گی اور مہاراجہ بھی اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ اب تھوڈا نرمی اختیار کرنے لگا اور 1874 میں مشن اسپتال کے لے رستم گھڈی میں جگہ کا انتخاب کرکے ایک اسپتال بنایا گیا جسے درگجن ہوسپٹل کے نام سے پھر جانا جاتا تھا اسکے علاوہ ان کی سروسز کو دیکھ کر سالانہ وظیفہ اور تمام سہولیات اس اسپتال کو مہاراجہ کی طرف سے ملنی شروع ہوگی۔
1864 تک کشمیر میں چار لوگوں نے عیسائیت کو قبول کیا تھا جن میں سے ایک کو اسکول میں ٹیچر کے طور پر تعینات بھی کیا گیا۔ سی ایم ایس اسکول کے قایم کرنے کے بعد اس کے پرنسپل ٹینڈل بسکو نے ایک سوشل ورکرز سٹوڈنٹس کاڈر کی تشکیل دی جو اسکول اور شہر کی سڈکوں ، کوچو اور عوامی جگہوں کی والنٹری بنیادوں پر صاف صفائی کا کام کیا کرتے تھے۔ ہندو برادری کے لوگ یہ دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے اور ٹنڈل بسکو پر الزام لگایا گیا کہ یہ برہمن زاتی کے بچوں کو گندے کام کرنے پر مجبور کررہا ے جو سراسر توحین ے۔ اس کے تو ڈ کے لے سرکار نے ایک ہندو اسکول بلکل اس کے سامنے کھڈاکیا ۔ یہ اسکول انی بیسنت نے قایم کیا جو تھیوسپکل سوسائٹی آف انڈیا کی صدر تھی۔ اس اسکول کے قایم ہونے کے بعد صرف پندرہ دنوں میں 300 طلباء نے سی ایم ایس کو چھوڈ دیا لیکن بسکو نے ہمت نہ ہاری اور کچھ وقت کے بعد یہ تمام بچے اس اسکول میں داخلہ کے لے واپس آگے۔ اس دوران اس اسکول میں ایک طلباء نے یہاں پر عیسایت قبول کی جس کا نام سایمل بکال رکھا گیا۔ جب یہ خبر لوگوں تک پہنچ گی تو سینکڑوں لوگوں نے ڈی ایم ایس اسکول کا محاصرہ کیا اور کہا کہ مزہب تبدیل کر نے پر اس نوجوان کو ان کے حوالے کیا جاے تاہم نہ انہوں نے ہار مان لی اور نہ ہی اسکول اتھارٹی نے انہیں لوگوں کے حوالے کیا۔
بےشمار خدمات اور ماڈرن ایجوکیشن کی بنیاد رکھنے کے باوجود مشینری کے لوگ کشمیر میں عیسائیت کو پوری طرح سے پھیلانے میں ناکام رہے ۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ اور مقامی مزہبی ادارے جس میں ہندو اور مسلمانان شامل ے نے جی توڈ کوشش کی کہ مشینری کا مشن کشمیر میں ناکام رہے۔ ہندو سبھا اور مسلم انجمنوں کا قیام بھی اسی لے عمل میں لایا گیا۔ اور تمام ان ہندوں اور مسلمانوں کو جنہوں نے عیسائیت قبول کہ تھی کو اپنی برادری کے لوگوں نے پرازیکوٹ کیا جسے عام لوگوں نے ان مشینری اداروں سے دوری بنانا شروع کردیا۔
اس سب کے باوجود اگر کشمیر کی معیشت کی بات کرے تو یورپی ممالک سے آنے والے لوگوں کا اس پر کافی اثر پڈا اور سرینگر شہر میں رہنے والے لوگوں نے بھی اپنے دکانوں اور کاروباری اداروں کے نام عیسایت اور یورپی نام رکھنا شروع کردیا جسے یہ عیسای لوگ ان اداروں پر جاکر خریداری کرنا پسند کرتے تھے ۔ ان ناموں میں ابھی بھی بہت ساری مشہور دکانیں سرینگر میں موجود ے۔ جیسا کہ Suffering mosses, Sunshine Ally, Anemeda, Buckingham Palace وغیرہ جیے شامل ے۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
