دنیا
ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں، ناکام سفارت کاری کا نتیجہ ہے موجودہ جنگ
تہران، ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اسے امریکہ یا امریکی قیادت میں ہونے والے سفارتی مذاکرات پر قطعی اعتماد نہیں ہے۔ ایران نے اپنے اس موقف کے حق میں سفارتی مذاکرات کی ناکامی اور اس کے بعد فوجی تصادم شروع ہونے کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو امریکہ پر کسی بھی طرح کا اعتماد کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے امن قائم کرنے کے مقصد سے ہونے والے گزشتہ تین ادوار کے ناکام مذاکرات کا ذکر کیا۔
عراقچی نے کہا، ”امریکی فریق کے ساتھ ہماری کئی ادوار میں بات چیت ہوئی، لیکن ان سب کا اختتام بالآخر ہمارے ملک کے خلاف جنگ مسلط کرنے کی کوششوں پر ہوا۔”
اس سے قبل ستمبر میں عراقچی نے کہا تھا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا۔ تاہم، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران میں فوجی ٹھکانوں پر حملے شروع کیے تھے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کی۔ جون کے وسط میں ایران اور امریکہ نے دشمنی ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، لیکن اس کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں فریقوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کا اب تک کوئی حل نہیں نکل سکا ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
دنیا
ایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار
تہران/واشنگٹن، ایران نے بدھ کو خبردار کیا کہ اس کے خلاف کسی بھی فوجی حملے کا جواب مساوی یا اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ دیا جائے گا۔ دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات کو ”انتہائی مشکل” قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز، بحری سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
روبیو نے تہران کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچنے میں درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس وقت تک اقتصادی دباؤ جاری رکھے گا، جب تک ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا بند نہیں کرتا۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اس اہم بحری راستے سے محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جائے اور ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکا جائے۔
دوسری جانب، ایران نے خبردار کیا ہے کہ مزید فوجی کارروائی کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ اس دھمکی سے خطے میں وسیع تر تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر بچھائی گئی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد تیل کے دو ٹینکروں میں آگ لگ گئی۔
آئی آر جی سی کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘سپاہ نیوز’ کے مطابق، ان جہازوں نے اس اہم بحری گزرگاہ سے ایسے راستے کے ذریعے گزرنے کی کوشش کی تھی جسے تہران نے ”غیر قانونی” قرار دیا ہے۔
آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ بارودی سرنگوں سے متاثرہ بحری راستے پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، جن میں ان کے اثاثوں کی تباہی بھی شامل ہے۔ تاہم، اس واقعے سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
آئی آر جی سی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی فضائی دفاعی فورسز نے آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے۔ اس نے کہا کہ ایرانی فورسز اس بحری گزرگاہ کی نگرانی جاری رکھیں گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران اپنے خلاف کسی بھی فوجی حملے کو جواب دیے بغیر نہیں جانے دے گا۔
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بقائی نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ ایران امریکی حملوں کے جواب میں کارروائی سے گریز کرسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ”حملہ کرو اور فرار ہوجاؤ” کا دور ختم ہوچکا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان خبروں کو بھی مسترد کردیا کہ واشنگٹن نے ایران کے جوہری پروگرام سے مبینہ طور پر منسلک مقام ‘پکیکس ماؤنٹین’ کو نشانہ بنانے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس سے قبل اشارہ دے چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کی کوششوں کے تحت اس مقام کو نشانہ بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن مزید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔تاہم، تہران کا اصرار ہے کہ اس کی قومی سلامتی اور خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کا مرکز تیزی سے آبنائے ہرمز بنتی جارہی ہے۔ یہ ایک اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔
ایران نے حملوں کی دھمکیوں کے درمیان اس آبنائے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بڑی حد تک روک دی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
تہران کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا اور ایران کے مطالبات پر توجہ نہیں دیتا، اس وقت تک یہ بحری راستہ دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ ایران کے مطالبات میں جنگ کا خاتمہ اور نقصانات کا معاوضہ شامل ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان اور قطر سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ تاہم، بحری سلامتی، فوجی کارروائیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
امریکہ کی جانب سے دباؤ برقرار رکھنے اور ایران کی مزید حملوں کے خلاف جوابی کارروائی کی وارننگ کے باعث آبنائے ہرمز علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں کے لیے ایک اہم فلیش پوائنٹ بنی ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کے اپنے اپنے موقف پر قائم رہنے کے سبب مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات فی الحال غیر یقینی ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
واشنگٹن، امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
امریکہ وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نقل مکانی پالیسیوں میں سختی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور صدر ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر چُکے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے 10 اگست کو جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے اب تک 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کئے جا چکے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نقل مکانی کی سخت نگرانی اور ملک بدری کی کاروائیوں کا مقصد امریکہ کی داخلی سلامتی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
تاہم حقوقِ انسانی کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قانونی کاروائی کے بنیادی اصولوں اور آزادیٔ اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں بالخصوص نسلی اقلیتوں کے لیے ایک غیر محفوظ ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اقلیتی گروہوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں نسل کی بنیاد پر لوگوں کی نگرانی اور ان کی فہرست سازی کا عمل فروغ پا سکتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ”تاریخ کی کسی بھی دوسری انتظامیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اور کہیں زیادہ تعداد میں ویزے منسوخ کر رہی ہے۔”
پگٹ نے اس بات پر زور دیا ہےکہ” انتظامیہ ، ویزے کی بنیاد پر ملک میں مقیم ایسے غیر ملکیوں کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، دھوکہ دہی میں ملوث ہوتے ہیں یا ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔”
ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی نقل مکانی روکنے کا وعدہ کیا اور اس کے ساتھ ہی امریکی حکومت نے امریکہ آنے کے قانونی طریقوں کو بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان اقدامات میں بعض مخصوص ورک ویزوں پر بھاری فیسیں عائد کرنا بھی شامل ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے بعض وزارتِ خارجہ دستاویزات کے جائزے کے بعد جاری کردہ خبر میں توقع ظاہر کی ہے کہ وزارت 2016 سے 2026 کے درمیان جاری کردہ ‘ بی ون’ (B1) اور ‘بی ٹو’ (B2) ویزے ان افراد سے واپس لے لے گی جنہوں نے ماضی میں پناہ کی درخواست دی تھی یا جو اس وقت پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ یہ کارروائی وزارتِ داخلہ سلامتی کے ساتھ مربوط شکل میں انجام دے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں
واشنگٹن، امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
امریکہ وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت نقل مکانی پالیسیوں میں سختی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور صدر ٹرمپ اپنی دوسری صدارتی مدت میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر چُکے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے 10 اگست کو جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 میں ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے اب تک 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کئے جا چکے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نقل مکانی کی سخت نگرانی اور ملک بدری کی کاروائیوں کا مقصد امریکہ کی داخلی سلامتی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
تاہم حقوقِ انسانی کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے قانونی کاروائی کے بنیادی اصولوں اور آزادیٔ اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں بالخصوص نسلی اقلیتوں کے لیے ایک غیر محفوظ ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اقلیتی گروہوں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں نسل کی بنیاد پر لوگوں کی نگرانی اور ان کی فہرست سازی کا عمل فروغ پا سکتا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ”تاریخ کی کسی بھی دوسری انتظامیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اور کہیں زیادہ تعداد میں ویزے منسوخ کر رہی ہے۔”
پگٹ نے اس بات پر زور دیا ہےکہ” انتظامیہ ، ویزے کی بنیاد پر ملک میں مقیم ایسے غیر ملکیوں کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، دھوکہ دہی میں ملوث ہوتے ہیں یا ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔”
ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی نقل مکانی روکنے کا وعدہ کیا اور اس کے ساتھ ہی امریکی حکومت نے امریکہ آنے کے قانونی طریقوں کو بھی مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان اقدامات میں بعض مخصوص ورک ویزوں پر بھاری فیسیں عائد کرنا بھی شامل ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے بعض وزارتِ خارجہ دستاویزات کے جائزے کے بعد جاری کردہ خبر میں توقع ظاہر کی ہے کہ وزارت 2016 سے 2026 کے درمیان جاری کردہ ‘ بی ون’ (B1) اور ‘بی ٹو’ (B2) ویزے ان افراد سے واپس لے لے گی جنہوں نے ماضی میں پناہ کی درخواست دی تھی یا جو اس وقت پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزارتِ خارجہ یہ کارروائی وزارتِ داخلہ سلامتی کے ساتھ مربوط شکل میں انجام دے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا7 days agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان7 days agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان7 days agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
