تازہ ترین
سری لنکا، مسلمانوں کی لاشیں جلانے پر کشیدگی
سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے پندرہ مسلمانوں کو دفنانے کی بجائے، اہل خانہ کی مرضی اور اسلامی روایات کے برخلاف ،جلانے پر مسلم برادری شدید برہم ہے۔
سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے افرادکی میتیں اہل خانہ کو لوٹانے کی بجائے محکمہ صحت کے حکام بضد ہیں کہ ایسے تمام افراد کی لاشیں جلا دی جائیں۔ دوسری جانب مسلمان مُردوں کو جلانے کی بجائے اسلامی روایات کے مطابق دفنانے پر زور دے رہے ہیں۔
سب مردے جلائے جائیں
بااثر بدھ بکھشوؤں کی جانب سے اس مہم کے بعد کہ کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے افراد کو اگر دفن کیا گیا، تو اس سے زیر زمین پانی آلودہ ہو جائے گا اور وائرس پھیل جائے گا، رواں برس اپریل میں مُردوں کو جلانے کے ضوابط لاگو کیے گئے تھے۔
سری لنکا کے اٹارنی جنرل نے گزشتہ ہفتے 19 مسلمانوں کی لاشیں بھٹی میں ڈال کر خاکستر کرنے کا احکامات جاری کیے تھے۔ ان میں شیخ نامی اس بچے کی لاش بھی شامل ہے، جو اپنی پیدائش کے فقط بیس روز بعد فوت ہو گیا تھا۔ اس بچے کی لاش کو اس کے والدین کی مرضی کے خلاف جلا دیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق پہلے اس بچے کی تدفین کی بجائے اسے جلانے کے لیے ان پر زبردست دباؤ ڈالا گیا، تاہم جب انہوں نے ماننے سے انکار کیا، تو کسی بھی رشتہ دار کی موجودگی کے بغیر ہی بچے کی لاش جلا دی گئی
مسلمانوں کا احتجاج
مسلمان میتیں جلائے جانے پر احتجاج فقط سری لنکا ہی میں نہیں بلکہ دیگر مسلم ممالک میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سری لنکا کے ہم سایہ ملک مالدیپ نے سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے مسلمانوں کو اپنے ہاں دفنانے کی پیش کش کی ہے۔
مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح اپنی حکومت کے عہدیداروں سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ سری لنکا میں فوت ہونے والے مسلمانوں کی اسلامی طرز پر آخری رسومات کی ادائیگی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں مالدیپ کے وزیرخارجہ عبداللہ شہید نے کہا ہے کہ مالدیپ اس سلسلے میں سری لنکا کی مدد کے لیے تیار ہے۔
57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی مسلمانوں کی لاشیں جلانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سری لنکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوت ہو جانے والے افراد کی میتیں ان کے اہل خانہ کے سپرد کرے تاکہ کہ وہ اپنے اعتقاد کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔
او آئی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، “اسلام میں حرام قرار دیے گئے، اس عمل کے خلاف او آئی سی مطالبہ کرتی ہے کہ تدفین کی اسلامی اقدار کا احترام کیا جائے۔”
برطانوی پارلیمان کے رکن اور لیبر پارٹی کے رہنما افضل خان کی جانب سے ملکی وزیرخارجہ کو ایک مراسلہ تحریر کیا گیا ہے، جس میں سری لنکا میں مسلم اور مسیحی برداری کے تدفین کے حق کی پامالی کی مذمت کی گئی ہے اور یہ مدعا اٹھانے پر زور دیا گیا ہے۔
فضل خان ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھتے ہیں”سری لنکا میں مسلم اور مسیحی برادری کو تدفین کا حق نہیں دیا جا رہا ۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تدفین کی واضح اجازت موجود ہے جب کہ اس خلاف ورزی کے خلاف سری لنکا کی حکومت کوئی قدم اٹھانے میں ناکام ہے۔ میں نے آج وزیر خارجہ ڈومینک راب کو خط تحریر کیا ہے کہ وہ سری لنکا میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہوں۔”
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مسلمانوں کو تدفین کا حق نہ دینے پرسری لنکا پر تنقید کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں ایمسنٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا بیراج پٹنیک نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں حکام مختلف برداریوں میں مزید خلیج پیدا کرنے کی بجائے ان کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ ایمنسٹی نے کولمبو حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کو اپنی مذہبی اقدار کے مطابق آخری رسومات کی اجازت دے۔
تکلیف دہ تصویر
سوئے ہوئے نومولود شیخ کی تصویر سری لنکا میں مسلم برادری کے تشخص اور حالت کی علامت بن گئی ہے۔ کئی حلقے اس تصویر کے تناظر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مسلم افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو غیرانسانی تک قرار دے رہے ہیں۔
سری لنکا میں سابق مسلم قانون ساز علی ظاہر مولانا نے نومولود بچے کی لاش کو جلائے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں #StopForcedCremations کے ساتھ یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں، “میں تکلیف اور صدمے سے نڈھال ہو۔ ہمیں اور کتنا ظلم اور بربریت برداشت کرنا ہو گی؟ ”
علی ظاہر مولانا ایک اور ٹوئٹ میں میں لکھتے ہیں، “کل شب میں بوریلا شمشان گھاٹ کے پاس سے لوگوں کی غیرمعمولی حمایت دیکھنے کے لیے گزرا۔ جب میں جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ پولیس اہلکاروں کا ایک گروپ پی ٹی کٹس کے ساتھ اس شمشان گھاٹ کے دروازے کے قریب موجود ہے۔ وہاں جبری خاک گری کے خلاف سینکڑوں سفید ربن موجود تھے۔”
مقامی رہنماؤں کے مطابق اختتام ہفتہ پر اس شمشان گھاٹ کے مرکزی دروازے اور بیرونی آہنی جنگلے کی دیوار پر ہزاروں افراد نے سفید پٹیاں باندھ دیں تھیں، جنہیں پیر کے روز حکام نے اتار دیا۔
سری لنکا کے سابق وزیرخزانہ منگالا سماراویرا نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، “شمشان گھاٹ کے حکام نے پچھلی شب مرکزی گیٹ سے سفید ربن اتارے، جو اس نومولود بچے کی یاد میں وہاں باندھے گئے تھے، جس کی لاش کو اس کے والدین کی مرضی کے خلاف جلا دیا گیا۔”
کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ
جزیرہ ریاست سری لنکا میں اکتوبر سے اب تک کووِڈ انیس کے کیسز میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس وقت تک یہاں گو کہ مصدقہ ہلاکتیں تو 152 ہوئی ہیں، تاہم کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تینتیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سری لنکا کی مسلم کونسل کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، گو کہ وہ 21 ملین آبادی کے ملک سری لنکا میں فقط دس فیصد ہیں۔ کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اب اس خوف سے طبی مدد لینے سے احتراز برت رہے ہیں کہ مبادا انہیں انتقال پر کہیں جلا نہ دیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تدفین میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں شمولیت کے قریب
اسلام آباد، سعودی عرب کی جانب سے فوری اجلاس کی درخواست کے بعد پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ فوجی سربراہان ریاض پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری جنگ کے سعودی سرزمین تک پھیلنے کے درمیان ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک اب بھی اپنی ممکنہ فوجی شمولیت کی حد کے معاملے میں محتاط ہیں۔
ترک وزارت دفاع نے جمعہ کو تصدیق کی کہ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بھی جلد ریاض پہنچنے کی توقع ہے، تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے ان کی روانگی کی تصدیق نہیں کی۔
یہ پیش رفت سعودی عرب کی جانب سے ترکی اور پاکستان سے فوجی سربراہان کا اجلاس بلانے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔ سعودی سرزمین پر کئی ہفتوں سے حوثی ملیشیا کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کو سعودی اہداف پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا، جن میں ریاض میں ایک ‘حساس ہدف’ اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی شامل ہے۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے طائف اور ینبع کی جانب آنے والے چھ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ مکہ، جدہ اور ینبع کے لیے ہنگامی انتباہات جاری کیے گئے۔
7 اگست کو طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی یا پاکستان میں سے کسی ایک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کے اجلاس کا اعلان 24 ستمبر کو نیویارک میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی ملاقات کے بعد کیا گیا۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے طریقوں پر غور کے لیے فوجی سربراہان کی فوری ملاقات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی عرب نے مکہ اور شہری و اقتصادی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق پر زور دیا۔
تاہم پاکستان نے اسی ملاقات کے بارے میں نسبتاً محتاط مؤقف اختیار کیا۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔
ترکی نے بھی نیویارک ملاقات کو معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے جاری ‘تکنیکی مذاکرات’ کا جائزہ قرار دیا۔
اس کے برعکس ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے چند روز قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کا معاہدہ ‘اتحادی عزم’ پر مشتمل ہے اور ترکی اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو بعض تکنیکی شعبوں میں فوجی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے اور ترکی کو اسے پورا کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کا محتاط رویہ حوثیوں کی جانب سے براہ راست دھمکیوں سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔
حوثی سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے رواں ہفتے عراقی ٹی وی کو بتایا کہ اگر پاکستان اور ترکی جنگ میں داخل ہوئے تو انہیں ‘آہنی مٹھی’ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے سینئر ایسوسی ایٹ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر تغرل یامین نے کہا کہ معاہدے کے دونوں فریقوں کو عملی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی فوج اندرونی و بیرونی خطرات کے باعث پہلے ہی کئی محاذوں پر مصروف ہے، جبکہ ترکی کے لیے بھی سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا فیصلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسے نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں اور شام کے ساتھ اپنی سرحدی صورتحال کو بھی دیکھنا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
تنگ دھر میں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ میں فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے مریضوں سے ملاقات کی
سری نگر، فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے جمعہ کو کپواڑہ کے تانگدھر میں آپریشن درشٹی کے تحت منعقدہ 10ویں آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپ کے دوران مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے جراحوں نے تنگ دھر میں زیر زمین آپریشن تھیٹر میں 220 ایسے جراحی کے عمل انجام دیے جن سے مریضوں کی بینائی بحال ہوئی۔ تانگدھر کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے ساتھ واقع ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر گولہ باری کا خطرہ رہتا ہے۔
زیادہ تر آپریشن موتیا کے تھے، جب کہ بعض مریضوں کے ریٹینا سے متعلق جراحی کے عمل اور کم تکلیف دہ گلوکوما کے آپریشن بھی کیے گئے۔
دو روزہ کیمپ کے دوران فوجی سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ نے کیمپ کا دورہ کیا، مریضوں سے ملاقات کی اور انہیں دوائیں اور تحائف تقسیم کیے۔
مسلح افواج کی طبی خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ایئر مارشل سندیپ تھریجا نے بھی کیمپ کا دورہ کیا اور جراحوں اور مقامی ٹیم کی غیر معمولی مہارت اور کوششوں کی تعریف کی۔
اس کیمپ کی قیادت آرمی ہسپتال (ریسرچ اینڈ ریفرل)، دہلی چھاؤنی کے شعبہ چشم کے سربراہ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا نے کی۔ ان کی ٹیم نے دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے جدید فیکو ایمولسیفیکیشن، وٹریوریٹینل اور گلوکوما کے علاج کے آلات کیمپ تک پہنچائے۔
خواوارپورہ، تانگدر، ٹڈ، باگبیلا، ینگدر اور آس پاس کے دیہات سے مریض جانچ اور ریڈیو روحِ کرناہ پر نشر ہونے والی اطلاع کے بعد کیمپ پہنچے۔ ہندوستانی فوج نے ہر مریض کی آمد سے لے کر صحت یابی تک رہنمائی کی۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی ہدایت پر مسلح افواج کی طبی خدمات کی جانب سے منعقد کیے جا رہے آنکھوں کے بڑے جراحی کیمپوں کے سلسلے میں اب تک 1.50 لاکھ سے زیادہ مریضوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ 10 شہروں میں 3,500 سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔
اس سلسلے کا 11واں کیمپ 27 سے 29 ستمبر تک سری نگر میں منعقد ہوگا۔ اس کیمپ کی اختتامی تقریب 30 ستمبر کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں منعقد ہوگی۔
یو این آئی۔ م س۔ م الف
جموں و کشمیر
مقامی بی جے پی قیادت ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف، عمر کا الزام؛ کہا قرارداد ملک مخالف نہیں
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو الزام عائد کیا کہ مقامی بی جے پی قیادت جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی کا اعتراض اس معاملے پر ووٹنگ سے بچنے کی کوشش ہے۔
ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پیش کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ قرارداد صرف ریاستی درجہ بحال کرنے تک محدود ہے اور اس کا مقصد خودمختاری سمیت ماضی میں ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کو دوبارہ کھولنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قراردادیں ’’ایوان کی ملکیت‘‘ ہیں اور تازہ قرارداد الگ سے مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے اور حکومت ہند تک اسمبلی کا موقف پہنچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی جانب سے قرارداد کو ’’ملک مخالف‘‘ قرار دیے جانے کو بھی مسترد کرتے ہوئے سوال کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ ملک مخالف کیسے ہو سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا، ’’اس میں ملک مخالف کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں آئین کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے اور اس میں صرف جموں و کشمیر کے مکمل ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں سابقہ قراردادوں کا حوالہ صرف یہ واضح کرنے کے لیے دیا گیا ہے کہ نئی قرارداد ان کے علاوہ ہے اور ان کی جگہ لینے یا ان کی اہمیت کم کرنے کی کوشش نہیں کرتی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’اگر بی جے پی ان قراردادوں کو تبدیل کرنا چاہتی ہے تو اسے ایک قرارداد پیش کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اس معاملے کا فیصلہ ایوان میں ووٹنگ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے 29 ارکان اسمبلی ریاستی درجہ بحال کرنے کی قرارداد پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں اور پارٹی کے اعتراضات کو اس معاملے پر اپنا موقف اختیار کرنے سے بچنے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کے ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ وہ بحث میں حصہ لیں اور اپنی تقریروں اور ووٹ کے ذریعے اپنا موقف واضح کریں۔
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ریاستی درجہ کے حق میں ہیں تو ہاں کہیں۔ اگر وہ ریاستی درجہ کے خلاف ہیں تو نہیں کہیں۔ عوام کو معلوم ہو جائے گا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کا معاملہ کسی خاص حکومت، سیاسی جماعت یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر سے متعلق ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’ریاستی درجہ حکومت کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ میرے خاندان کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے بارے میں نہیں ہے۔ ریاستی درجہ پورے جموں و کشمیر کے بارے میں ہے۔‘‘
جب ان سے کہا گیا کہ جموں و کشمیر کابینہ پہلے ہی ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق قرارداد بھیج چکی ہے تو انہوں نے کہا کہ قانون ساز ادارہ سیاسی رائے کے زیادہ وسیع دائرے کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ کابینہ حکمران فریق کی نمائندگی کرتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کو تقریباً 2 سال گزر چکے ہیں اور قرارداد کا مقصد منتخب جموں و کشمیر اسمبلی کی آواز نئی دہلی تک پہنچانا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی انتخابی مہم اور منشور کا بھی حوالہ دیا اور الزام عائد کیا کہ ریاستی درجہ بحال کرنا پارٹی کے اہم وعدوں میں شامل تھا۔ انہوں نے موجودہ وقت میں قرارداد کی مخالفت پر سوال اٹھایا۔
بی جے پی نے سابقہ خودمختاری کی قرارداد کے حوالے پر اعتراض کیا ہے، جبکہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے معاملے پر اپنے موقف کو برقرار رکھا ہے۔ تاہم عمر عبداللہ نے کہا کہ تازہ قرارداد میں خودمختاری یا آرٹیکل 370 پر دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے، بلکہ اس کا مقصد خاص طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنا ہے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے قرارداد پیش کی۔ اس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا۔
وزیر اعلیٰ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے، ’’26 جون 2000 اور 6 نومبر 2024 کو اس ایوان کی جانب سے منظور کی گئی قراردادوں کے علاوہ، یہ ایوان حکومت ہند سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ فوری اور ترجیحی بنیاد پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قرارداد حکومت ہند کو بھیجی جائے۔‘‘
یو این آئی۔ م س۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر7 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
دنیا5 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
