پاکستان
عمران خان چھ سال بعد پارلیمنٹ حملہ کیس میں باعزت بری
پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے وزیرِ اعظم عمران خان کو چھ سال بعد پارلیمنٹ حملہ کیس میں باعزت بری کر دیا ہے۔ اس دوران تصادم میں ہلاکتوں پر سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے یا نہ کرنے سے متعلق فیصلہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہے۔
عدالت نے منگل کو جاری کردہ اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صدر عارف علوی کا کیس صدارتی استثنیٰ کے باعث داخل دفتر ہی رہے گا جب کہ وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، پرویز خٹک اور اسد عمر پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 12 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے پہلے سے محفوظ کردہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔
فیصلے کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان کی درخواست پر اُنہیں بری کرتے ہوئے صوبائی وزیر علیم خان اور شوکت یوسف زئی جب کہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو آئندہ سماعت پر طلب کیا ہے۔
عدالت نے پاکستان عوامی تحریک کے مبشر علی کو بھی بری کر دیا جب کہ عدالتی فیصلے میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو بدستور اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے تحریری دلائل میں کہا گیا تھا کہ اُنہیں جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت ہیں نہ کسی گواہ نے ان کے خلاف بیان دیا۔ یہ سیاسی مقدمہ ہے جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں اس لیے اُنہیں بری کیا جائے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پارلیمنٹ حملہ کیس میں اشتہاری رہ چکے ہیں اور بریت کے فیصلے سے قبل وہ ضمانت پر تھے۔
اس کیس میں استغاثہ نے بھی عمران خان کی بریت کی درخواست کی حمایت کی تھی۔
یاد رہے کہ 31 اگست 2014 کو تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب مارچ کیا تھا۔ اس دوران شاہراہ دستور پر دونوں جماعتوں کے کارکنان کی پولیس سے رات بھر جھڑپیں ہوتی رہیں۔پولیس کی طرف سے شدید آنسو گیس فائر کی گئی جب کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، ڈنڈوں سے پولیس کو نشانہ بنایا۔
پراسیکیوشن کے مطابق دھرنے کے دوران تین افراد ہلاک، 26 زخمی ہوئے جب کہ 60 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پولیس نے دھرنے کے دوران تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پارٹی رہنماؤں ڈاکٹر عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، اعجاز چوہدری اور دیگر کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان کی ہلاکت پر شاہ محمود قریشی کی مدعیت میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم مقدمے کے تفتیشی افسر نے نواز شریف کو کلین چٹ دے دی تھی۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے کئی بار شاہ محمود قریشی سے جواب طلب کیا تھا۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے منگل کو سماعت کے دوران کہا کہ نواز شریف کے خلاف درج مقدمہ خارج ہو گا یا نہیں اس پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل شاہد نسیم گوندل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے نواز شریف کے خلاف اخراجِ مقدمہ کی رپورٹ بناتے وقت قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے مدعی کو نوٹس ہی نہیں کیا جس پر جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیے کہ یہ جوڈیشل نہیں بلکہ ایڈمنسٹریٹو آرڈر ہے۔ آپ کو سن لیا ہے آئندہ ہفتے فیصلہ کر دیں گے۔
پاکستان
بلوچستان میں خوفناک حادثہ، مسافر بس کھائی میں گرنے سے 39 افراد جاں بحق
کوئٹہ،بلوچستان کے ضلع ژوب میں خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں بس گہری کھائی میں گرنے سے 39 مسافر جاں بحق ہو گئے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے رفیق ژوب مطابق حادثہ شیرانی کے علاقے دانہ سر میں اس وقت پیش آیا، جب موڑ کاٹتے ہوئے تیز رفتاری کے باعث بس کے بریک فیل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بس گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ضلع انتظامیہ اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
حادثہ اتنا سنگین تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور بس کے حصوں کو کاٹ کر لاشوں اور زخمیوں کو نکالنا پڑا۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام نے لاشوں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال پہنچایا، جہاں کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
ڈی سی ژوب حضرت ولی کاکڑ کے مطابق حادثے میں 16 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے جب کہ باقی افراد نے امدادی سرگرمیوں اور اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے، 29 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان نے افغانستان کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں کی ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں پاکستان کی سرحد کے اندر ہونے والے مہلک حملوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ کاروائیوں کے نتیجے میں 29 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ “پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی درست فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا ہے”۔ تارڑ کے مطابق یہ فضائی حملے ایک وسیع آپریشن کا حصہ تھے جس میں پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
انہوں نے کہا ہےکہ اس آپریشن کا ہدف جماعت الاحرار تھا جسے عموماً تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا ہےکہ رات کے وقت کی جانے والی یہ کارروائی کراچی میں ہفتے کے روز ہونے والے اور تین نیم فوجی اہلکار وں کی ہلاکت کا سبب بننے والےحملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے سرحدی صوبوں میں حالیہ پُرتشدد واقعات بھی اس کارروائی کا سبب بنے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اتوار کے روز پاکستان۔افغانستان سرحد پر خفیہ معلومات کی بنیاد پر زمینی آپریشن کیا جس کے بعد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر “انتہائی درست حملے” کیے گئے، جن میں 29 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ پاکستان نے رواں مہینے کے آغاز میں کئے گئے حملے سمیت حالیہ مہینوں میں افغانستان کے اندر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد اکتوبر میں تشدد میں اضافے کے بعد سے بڑی حد تک بند ہےاور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا
اسلام آباد،جمعہ کو امریکہ اور ایران میں ’’اسلام آباد معاہدے‘‘ کی میزبانی پاکستان کرے گا پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں اور تیسری عالمی جنگ کے بادل چھٹ گئے، پاکستان جمعہ 19 جون 2026، کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی امن معاہدے کی دستخطی تقریب کی میزبانی کرے گا وزیر اعظم شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ تقریب میں شرکت کریں گے، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا، عظیم کامیابی پر مؤرخ پاکستان کا نام سنہرے حروف سے لکھے گا۔
شہباز شریف نے پیر کے روز کہا ہم بالآخر آنے والے جمعہ کو جنیوا میں امن معاہدے پر دستخط ہوتے دیکھنے جا رہے ہیں۔
انھوں نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل اور گہری مذاکراتی کوششوں کے بعد ایک معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان 8 اپریل کو جنگ بندی کرانے میں کامیابی کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور اب فریقین کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت الیکٹرانک طور پر دستخط بھی ہو گئے ہیں، اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی بھی ختم کر دی ہے جس کے سبب ایرانی تیل بردار بحری جہاز گزرنا شروع ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
